وجود

... loading ...

وجود

کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ

جمعه 10 اپریل 2026 کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ

ریاض احمدچودھری

بھارت کے غیرقانونی طورپر زیر قبضہ جموں وکشمیر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤنے سنگین رخ اختیارکیا ہے جہاں ساڑھے 13لاکھ سے زائد افراد اس لعنت کا شکار ہیں جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔حالیہ برسوں میں علاقے میں منشیات کے عادی افراد کی تعداد تقریباً دوگنی ہو گئی ہے جو 2022 میں تقریباً 6لاکھ سے بڑھ کر اب ساڑھے 13لاکھ تک پہنچ گئی ہے جس سے صحت عامہ اورسماج کی سنگین صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی منشیات ہیروئن ہے اور وادی کشمیر میں تقریباً 90 سے 95 فیصد افراد اسی کا استعمال کرتے ہیں۔ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نشے کے عادی افراد کی ایک بڑی تعداد اب منشیات کے انجکشن کا سہارا لیتی ہے اور آلودہ سرنجوں کے استعمال کی وجہ سے انہیں ہیپاٹائٹس سی اور ایچ آئی وی جیسی خون سے لگنے والی مہلک بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار چرس، نشہ آورادویات اورشراب سمیت دیگر منشیات کے پھیلاؤ کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے جرائم سے بھی بحران کی سنگینی ظاہر ہوتی ہے۔
نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق انسداد منشیات کے قانون کے تحت درج ہونے والے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور سالانہ سینکڑوں کیسز درج کیے جاتے ہیں۔ 2022 سے لے کر اب تک حکام نے مقبوضہ علاقے میں منشیات سے متعلق 32ہزار سے زیادہ مقدمات درج کیے ہیں۔مبصرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ منشیات کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافے کو الگ تھلک کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ کئی کشمیری سیاسی رہنماؤں، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور تجزیہ کاروں نے بارہا کہا ہے کہ کشمیری معاشرے کے سماجی تانے بانے کو کمزور کرنے اور خاص طور پر نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بھارتی فورسز ایک سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت علاقے میں منشیات کے پھیلاؤ میں سہولت فراہم کررہی ہیں۔اگست 2019 کے بعد علاقے میں بھارتی فوجیوں کی تعداد میں اضافے اوربڑھتے ہوئے سیاسی جبر کے ساتھ ہی منشیات کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ کشمیری نوجوانوں کو حق خود ارادیت کی جدوجہد سے دوررکھنے اور انہیں نشے اور سماجی تنزل کی طرف دھکیلنے کے لیے منشیات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔یہ مسئلہ خاص طور پر سرینگر، اسلام آباد، پلوامہ اور بارہمولہ جیسے اضلاع میں سنگین رخ اختیارکرگیاہے جہاں اکثر ہیروئن اوردیگر منشیات پکڑی جاتی ہیں۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں قابض فورسز کی سرپرستی میں منظم نیٹ ورکس اس کے پھیلاؤ میں ملوث ہیں۔
مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی پولیس کے منشیات کی اسمگلنگ اور فروخت میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ حالیہ واقعے میں جموں میں منشیات کے گروہ میں ملوث بھارتی پولیس کانسٹیبل کو ہیروئن فروخت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے، یہ حیرت انگیز بات ہے کہ منشیات کا یہ گروہ جموں کے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اسپتال سے آپریٹ کر رہا تھا۔ منشیات کے انسداد کے ادارے کے حکام نے انکشاف کیا ہے کہ گرفتار پولیس اہلکار ایک ایسے گروہ کا حصہ تھے جو نوجوانوں کو نشے کا عادی بنا کر فائدہ اٹھا رہا ہے، جس سے علاقے میں زیادہ مقدار لینے کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں۔ وادی کشمیر میں آج اْسی قوم کے جوانوں کو منشیات کا عادی بنایا جارہا ہے جن پر ہماری اْمیدیں وآبستہ تھیں کہ کل کو یہ جوان ہماری قوم کے قائد بنیں گے۔ مگر یہ نوجوان منشیات کی لت میں اس طرح پھنس گئے ہیں کہ کسی کو بھی نہیں معلوم کہ یہ کب اور کس جگہ نشے کی حالت میں اپنی جان گنوا بیٹھیں گے۔کشمیری نوجوانوں میں منشیات کا استعمال بڑی تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ اگر اس کا تدراک بروقت نہ کیا گیا تو مستقبل قریب میں اس کا اثر پورے سماج کو دیکھنا پڑے گا۔ اور بعد میں ہمیں پچھتانے کے سوا کچھ حاصل نہیں پو گا۔
نوجوانوں میں منشیات کا اثر اس قدر سرایت کرچکا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں ایسے نوجوان ہیں جو افیون، چرس، ہیروئین، کوکین، بھنگ، براؤن شوگر،گوند،رنگ پتلا کرنے والے محلول اور دوسرے معلوم اور نامعلوم نشہ آور مرکبات استعمال کرنے کے نتیجے میں جسمانی نفسیاتی اور جذباتی امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ ایسے نوجوانوں کی تعدادبھی کثرت سے ملتی ہیں جو فارما سیوٹیکل ادویات کو بھی اب نشے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔اور یہ عمل دوسری ادویات یا منشیات استعمال کرنے سے زیادہ خطرناک ہے۔
کشمیر کے بعض علاقوںمیں جان بوجھ کروہاں کی نوجواں نسل کوبربادکرنے کے لئے بھارتی فورسز منشیات کے پھیلائوکا حربہ استعمال کر رہی ہیں تاکہ نوجوان نسل کومنشیات کی لت پڑے اوروہ اسی میں لگے رہیںانہیں اپنی اوراپنے قوم کی فکر دامن گیر نہ رہے اوروہ اس طرف دیکھنے یاسوچنے کے قابل نہ رہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بعض علاقوں میںحالات کا جبر،بڑھتی ہوئی بے روزگاری اورروزافزوں مہنگائی بھی اس کا باعث بن رہی ہے،جبکہ منشیات کے استعمال کی ایک اہم اور بنیادی وجہ دین سے دوری اورتعلیمات دین پرمشتمل نسخہ ہائے کیمیاسے اجتناب اور نشہ آور اشیا کے استعمال کے نقصانات اور وعیدوں سے بے خبری ہے۔ لیکن سب سے افسوس سناک امریہ ہے کہ اس وقت منشیات کے استعمال کے بارے میں ہم بعض افسوس ناک مخمصوں میں مبتلا ہیں۔کشمیر پولیس کاکہنا ہے کہ وادی کشمیر میں حریت مجاہدین کی جانب سے منشیات کو فروغ دیا جارہا ہے۔جبکہ مجاہدین نے الزام پولیس پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ایجنسیاں کشمیری نوجوانوں کو ایک ”خاص مقصد سے” منشیات کا عادی بنانا چاہتی ہیں۔حالیہ دنوں میں پولس نے منشیات سمگلروں کے کئی گروہوں کو بے نقاب کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے انکے تار مجاہدین کے ساتھ جوڑنے کی کوششیں تک کی ہیں تاہم شمالی کشمیر کی ایک نامور کراٹے چمپئین کا یہ الزام بھی تازہ ہے کہ پولس اور منشیات اسمگلروں کا ساز باز ہے۔ مذکورہ نے پولیس پر انکے چھوٹے بھائی کو منشیات کا عادی بنانے والے مجرموں کو تحفظ دینے تک کا الزام لگایا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست وجود جمعه 10 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست

کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ وجود جمعه 10 اپریل 2026
کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ

اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟

عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر