وجود

... loading ...

وجود

عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟

جمعه 10 اپریل 2026 عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟

حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم

حالیہ برسوں میں روایتی جیو پولیٹیکل دانشمندی یہ رہی ہے کہ عالمی نظام طاقت کے تین مراکز کی طرف بڑھ رہا ہے ۔اس نظریہ میں کہا گیا ہے کہ طاقت بنیادی طور پر اقتصادی پیمانے اور فوجی استعداد سے ابھرتی ہے۔ اب طاقت کا پیمانہ یہ نہیں رہا۔عالمی طاقت کا چوتھا مرکز تیزی سے اُبھر رہا ہے اور وہ ایران ہے۔ایران اقتصادی اور فوجی لحاظ سے باقی تین طاقتوں کا حریف نہیں ہے۔ اس کے بجائے ایران نے اپنی طاقت عالمی معیشت میں توانائی کے سب سے اہم پوائنٹ آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول سے حاصل کی ہے۔
آبنائے ہر مز طویل عرصے سے بین الاقوامی گزرگاہ رہی ہے جس کے ذریعہ تمام ممالک کے جہاز سفر کرسکتے تھے لیکن اس سال امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ مہم نے ایران کو مجبور کیا کہ وہ اپنی مرضی سے فوجی رکاوٹ پیدا کرے۔دنیا کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً20 فی صد فراہمی آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے۔ مستقل قریب میں ان سپلائی روٹس کا کوئی حقیقی متبادل نہیں ہے۔اگر آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول مہینو ں یا برسوں برقرار رہتا ہے تو عالمی نظام کی دوبارہ تشکیل ہوگی جس سے امریکہ کو نقصان ہو گا۔
بہت سے تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت عارضی ہے۔ یہ توقع عام کی جارہی ہے کہ امریکہ اور اتحادی بحری فوجیں جلد ہی صورتحال میں استحکام پیدا کریں گی اور تیل کی پہلے کی طرح فراہمی دوبارہ شروع ہوجائے گی۔اس توقع میں یہ خرابی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کئے بغیر اسے کنٹرول کر سکتا ہے۔آج آبنائے ہرمز ٹینکروں کیلئے کھلی ہے۔جب سے جنگ شروع ہوئی ہے ، تیل کی ٹریفک90 فی صد رک گئی ہے اس لئے نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں داخل ہونے والے ہر جہاز کو ڈبو رہا ہے بلکہ اس لئے کہ حملے کے خطرہ کے پیش نظر انشورنس کرنے والوں نے جنگ کے خطرہ کا تحفظ واپس لے لیا ہے یا اس کی دوبارہ قیمت مقرر کردی ہے۔ہر چند روز بعد مال بردار جہاز کو نشانہ بنانے سے خطرہ نا قابل قبول ہو جاتا ہے۔
توانائی کا یہ بحران دنیا کو بدل کر رکھ دے گا
سری لنکا اور میانمار ایندھن کی راشننگ کر ہے ہیں۔فلپائن نے گیس اور بجلی کو بچانے کیلئے کام کا ہفتہ چار دن کا کردیا ہے۔ بنگلہ دیش نے مختصر عرصے کیلئے اپنی یونیورسٹیوں کو بند کردیا ہے تاکہ گھروں اور کاروبار کیلئے بجلی بچائی جا سکے۔بھارت بھر میں گھر اور ریستوران گیس کی کمی کی وجہ سے پکوان لکڑی کی آگ پر پکا رہے ہیں۔ائیر لائنیں اپنی پروازیں منسوخ کر رہے ہیں۔بھارت، انڈونیشیا اور ویت نام زیادہ کوئلہ جلا کر گیس کی زیادہ قیمتوں کا جواب دے رہے ہیں۔ لیکن طویل مدت میں یہ بحران خاص طور پر ایشیا اور یوروپ میں زیادہ صاف ٹیکنالوجیز کی طرف لے جائے گا۔یہ تیل کا پہلا بحران ہے جس میں تیل اور گیس کے صاف متبادل سستے اور بڑے پیمانے پر دستیاب ہیں۔ ان صاف متبادل میں سولر پینلز،ونڈ ٹربائنز،الیکٹرک وہیکلز اور بیٹریز شامل ہیں۔
جب24مارچ کو فلپائن نے توانائی کی قومی ایمرجنسی نافذ کی تو منیلا کے کار شاپرز چینی کار میکرBYD کے شورومز میں جمع ہو رہے تھے اور الیکٹرک وہیکلز خرید رہے تھے۔ جرمن گاہکوں میں سولر وینڈرز اور اور انسٹالرز کیلئے دلچسپی میںاچانک اضافہ ہو رہا ہے ۔ برطانیہ میں ہیٹ پمپ کی تنصیبات میں اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان میں الیکٹرک رکشائوں کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔بھارت میں انڈکشن کْکٹاپس کی آن لائن فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ویتنام ملک کا سب سے بڑا مائع قدرتی گیس سے چلنے والے بجلی گھر کا منصوبہ ترک کرنا چاہتا ہے اور اس کی بجائے تجدید نو اور بیٹری اسٹوریج منصوبہ شروع کرنا چاہتا ہے۔
پاکستان میں صورتحال
چین سے سستے سولر پینلز کے سیلاب کے بعد پاکستان کا توانائی کا نظام بدل گیا ہے اور مائع قدرتی گیس کی حالیہ قلت سے تحفظ دلانے میں مدد کی ہے۔سولر اب اس کی بجلی کا30 فی صد پیدا کرتا ہے۔یہ شرح2020 میں محض3 فی صد تھی۔سینٹر برائے ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ائیر نے تخمینہ لگایا ہے کہ سولر کی اچانک ترقی سے پاکستان کو اس سال قدرتی ایندھن کی درآمد میں7 ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔یہ پاکستان کو حقیقی درد سے بچائے گا۔حالیہ امریکی تاریخ نے یہ بات واضح کردی ہے کہ تیل اور گیس پر انحصار کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔توانائی کا صحیح تحفظ زیادہ صاف اور الیکٹریفائیڈ مستقبل کی طرف تیزی سے ترقی کرنے میں ہے۔
ٹرمپ ایران کی جنگ کا کنٹرول کھو چکے ہیں!
اس جنگ میں مرکزی سوال کبھی یہ نہیں رہا کہ آیا ایران کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے۔سوال یہ تھا کہ آ یا درد اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتا ہے؟ تاہم اب تک ایران نے شکست قبول نہیں کی ہے۔ شہادت اور مزاحمت کے کلچر نے ایرا ن کی قیادت کو اقتدار میں رکھاہوا ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست وجود جمعه 10 اپریل 2026
مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں عالمی سیاست

کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ وجود جمعه 10 اپریل 2026
کشمیریوں کو منشیات کا عادی بنانے کا بھارتی حربہ

اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
اصل فاتح کون ۔۔۔ ؟

عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟ وجود جمعه 10 اپریل 2026
عالمی طاقت کا چوتھا مرکز کون؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر