وجود

... loading ...

وجود

مریم ،نسیم اورعزیزی

جمعه 03 اپریل 2026 مریم ،نسیم اورعزیزی

بے لگام / ستار چوہدری

بائیس جون 1632۔۔۔۔۔
ایک بوڑھا سائنسدان عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہے ۔ سر جھکا ہوا، الفاظ دبے ہوئے اورسچ زنجیروں میں جکڑا ہوا۔۔ گلیلیو گلیلی۔
وہ شخص جس نے آسمان کو دیکھا مگر وہ نہیں دیکھا جو صدیوں سے لوگوں کو دکھایا جا رہا تھا بلکہ وہ دیکھا جو حقیقت تھی۔اس کا جرم کیا تھا؟ صرف اتنا کہ اس نے کہا زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔لیکن مسئلہ سچ کا نہیں تھا۔ مسئلہ اختیار کا تھا۔ چرچ نے کہا ” زمین ساکن ہے ، یہی سچ ہے ، یہی ایمان ہے ” ۔گلیلیو نے کہا ” نہیں،زمین حرکت میں ہے ” اور یہی ” نہیں ” اس کا سب سے بڑا گناہ بن گیا۔عدالت لگی، دباؤ بڑھا، ایمان، سزا، جلاوطنی، موت ، سب اس کے سامنے رکھ دیے گئے اور آخرکار ایک عظیم دماغ کو جھکا دیا گیا۔وہ بولا، اس نے معافی مانگی، اپنے نظریے سے دستبرداری اختیار کی،الفاظ اس کے تھے مگر یقین اس کا نہیں تھااور پھر جب وہ عدالت سے نکلا،ہونٹوں پرایک سرگوشی آئی ۔۔
” Eppur si muove”(اورپھر بھی یہ گھوم رہی ہے )۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا،یہ سچ کی آخری ہچکی تھی۔ جو جھک تو گئی مگر مری نہیں۔
صدیاں گزر گئیں۔لباس بدل گئے ۔ عدالتیں بدل گئیں ۔ مگر مزاج نہیں بدلا۔ آج بھی سچ وہی ہے ۔ اور طاقت کا رویہ بھی وہی ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج ”گلیلیو ” کے ہاتھ میں دوربین نہیں، ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے اور آج کا چرچ اقتدار ہے ۔ کرکٹر نسیم شاہ۔ایک ٹویٹ۔ ایک رائے ۔ ایک تنقید۔ اور پھر؟ دوکروڑ جرمانہ۔فیصلہ ہوگیا۔رقم ادا بھی ہوجائے گی۔لیکن سوال وہی کھڑا ہے ۔کیا جرمانہ سچ کو جھوٹ بنا دیتا ہے ؟ کیا سزا حقیقت کا رخ موڑ دیتی ہے ؟ کیا دباؤ زمین کو روک سکتا ہے ؟نہیں ،ہرگز نہیں۔ٹویٹ واپس لے لیا گیا،الفاظ مٹادیے گئے، کیا وہ احساس، وہ سوچ، وہ حقیقت بھی ختم ہوجائے گی ؟ نہیں ” وہ اب بھی گھوم رہی ہے ”۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ غلط ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم غلطی ماننے کو تیار نہیں، ہم سچ سننا نہیں چاہتے ، ہم سچ کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئینہ ہمیں ویسا دکھائے جیسا ہم ہیں۔ نہیں ۔ جیسا ہم خود کو دیکھنا چاہتے ہیں۔اوراگر آئینہ سچ دکھا دے ، تو ہم آئینہ توڑ دیتے ہیں۔ ہم خود کو نہیں بدلتے ، ہم سچ بولنے والوں کو بدلنے پرمجبور کرتے ہیں۔ یہی وہ معاشرہ ہے جہاں غلطی کرنے والا باعزت رہتا ہے اور نشاندہی کرنے والا مجرم بن جاتا ہے ۔
ہمارا سب سے بڑی المیہ کیا ہے ؟ ہم برہنہ کھڑے ہیں لیکن ہمیں شرم اپنی حالت پر نہیں بلکہ اس پر آتی ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ کیوں رہا ہے۔ ہم کپڑے نہیں پہنتے ، ہم دوسروں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ہمیں باوقار کہیں۔ ہم حقیقت کو درست نہیں کرتے ہم بیانیہ درست کرتے ہیں۔ ہم کردار نہیں سنوارتے ۔ ہم خبروں کو سنوارتے ہیں۔ گلیلیو ہار گیا تھا،عدالت جیت گئی تھی، لیکن تاریخ نے فیصلہ الٹ دیا۔ آج گلیلیو سچ ہے ، اوراس کے مخالف۔ایک غلطی۔ سوچنے کی بات یہ نہیں کہ نسیم شاہ نے کیا کہا، سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے کیا سنا اور کیوں برداشت نہ کر سکے ۔ کیونکہ سچ کی ایک عادت ہوتی ہے ، وہ عدالتوں سے نہیں ڈرتا، وہ جرمانوں سے نہیں رکتا، وہ بیانات سے نہیں بدلتا، وہ بس وقت کے ساتھ ثابت ہو جاتا ہے اور پھر کسی کونے میں کھڑا کوئی شخص آہستہ سے کہتا ہے ”اورپھر بھی یہ گھوم رہی ہے ”۔
اسی بیچ ایک اور بحث چل رہی ۔اداکار سہیل احمد کے ایک جملے کی،جو انہوں نے مقبولیت کا دیا،مسئلہ صرف ایک جملہ نہیں تھا۔مسئلہ الفاظ کا تھا۔ وزن کا تھا اور حق و باطل کے فرق کا تھا۔اچھے اور برے کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جاتااور تاریخ کبھی غیرجانبدار نہیں ہوتی۔ وہ فیصلہ سناتی ہے مگر سوال وہی ہے ، کیا سہیل احمد کے کہنے سے حقیقت بدل جائے گی؟ کیا الفاظ سچ کا مقام طے کرتے ہیں؟ یا سچ اپنی جگہ خود قائم رہتا ہے ؟ جس طرف اشارہ تھا۔وہ اپنی جگہ موجود ہے اور جس سچ کی بنیاد کربلا میں رکھی گئی، وہ آج بھی زندہ ہے ۔بالکل ویسے ہی جیسے نسیم شاہ کے جرمانے سے ٹویٹ کی روح نہیں بدلتی اور ویسے ہی جیسے گلیلیو کے بیان سے زمین رک نہیں گئی تھی۔ سچ کو نہ جرمانے بدلتے ہیں نہ جملے ۔سچ کو وقتی طور پر جھکایا جا سکتا ہے ، مگر اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ جرمانے ، بیانات اور وضاحتیں، یہ سب کاغذی دیواریں ہیں،حقیقت ان سے ٹکرا کر نہیں رکتی۔ وقت گزرے گا۔ شور تھم جائے گا،مگر سچ اپنی جگہ کھڑا رہے گا کیونکہ زمین کو نہ عدالتیں روکتی ہیں نہ حکم نامے اور تاریخ ہر بار یہی لکھتی ہے ”اور پھر بھی یہ گھوم رہی ہے ”!!!
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام وجود جمعه 03 اپریل 2026
بھار ت کے فالس فلیگ آپریشن ناکام

مریم ،نسیم اورعزیزی وجود جمعه 03 اپریل 2026
مریم ،نسیم اورعزیزی

بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا وجود جمعرات 02 اپریل 2026
بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا

مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے! وجود جمعرات 02 اپریل 2026
مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے!

ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟ وجود جمعرات 02 اپریل 2026
ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر