وجود

... loading ...

وجود

کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش

بدھ 01 اپریل 2026 کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش

ریاض احمدچودھری

غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت ہندوتوا حکومت کشمیریوں کے ہرشعبہ زندگی کو نشانہ بنارہی ہے۔ نئی دہلی کی مسلط کردہ بی جے پی انتظامیہ نے آبادکاری کی اسرائیلی پالیسی پر عمل پیراہوکر ہرطرح کے کشمیر دشمن اور ظالمانہ اقدامات کئے ہیں جن کا مقصد کشمیری مسلمانوں کی ثقافت، زبان، ڈیموگرافی اور مذہبی شناخت کو ختم کرنا ہے۔ 5اگست 2019 کو دفعہ370اور 35Aکی منسوخی غیر قانونی تھی جو بندوق کی نوک پر کی گئی۔ ان دفعات کی منسوخی کے بعد علاقے میںناانصافیوں کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔ترجمان نے ہندوتوا تنظیموں کے دبائو میں ریاسی میں وشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کی بندش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام نے بی جے پیـآر ایس ایس کے کشمیر دشمن ایجنڈے اور نفرت کی پالیسیوں کو بے نقاب کردیا ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ ایک متنازعہ علاقہ ہے اورکسی بھی طرح کے یکطرفہ اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہیں۔ترجمان نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت مہذب اقوام سے اپیل کی کہ وہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے بھارت پر دبائوڈالیں۔غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام نے بنیاد پرستی کو روکنے کی آڑ میں جیلوں میں ظالمانہ اقدامات اورکشمیری نظربندوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ تیز کردیا ہے اوران کی نگرانی مزید سخت کردی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کہنا ہے کہ یہ اقدامات سیاسی اختلاف کو دبانے اور مزاحمت کو جرم قراردینے کی وسیع تر بھارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ قابض حکام نے کشمیری اور غیر ملکی قیدیوں کو ایک دوسرے سے الگ کرنا شروع کردیا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے کشمیری سیاسی قیدیوں کو نشانہ بنایا جارہاہے۔بھارتی ایجنسیوں نے جیلوں کے اندر اچانک چھاپوں اورتلاشی کارروائیوں،گشت اورنگرانی کا سلسلہ تیز کردیا ہے جبکہ اشیائے ضروریہ فراہم کرنے والے دکانداروں کی کڑی نگرانی کی جارہی ہے۔کشمیری سول سوسائٹی نے نئے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں جیلوں کو طویل عرصے سے ہراساں کرنے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدامات کشمیریوں کی سیاسی آواز دبانے کے لیے بھارت کی نئی حکمت عملی کی نشاندہی کرتے ہیں اور اختلاف رائے کو بین الاقوامی برادری کے سامنے دہشت گردی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے اقدامات سے قیدیوں اور ان کے اہل خانہ میں خوف ودہشت پھیل رہاہے اور انصاف کی راہیں مزید مسدود ہورہی ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنوں سمیت کشمیری قیدیوں کے انسانی حقوق کی منظم خلاف ورزی جاری ہے جس سے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں اجتماعی سزا کی قابض حکام کی وسیع تر پالیسی کی عکاسی ہوتی ہے۔ہندوستان نہتے کشمیریوں پر جتنا چاہے ظلم کر لے، لیکن وہ ان سے آزادی کا پیدائشی حق کبھی نہیں چھین سکتا۔نہتے کشمیریوں پر بھارتی قابض افواج کے بد ترین ظلم و ستم پر عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے۔اقوام عالم کے منہ کو آج تالے لگے ہوئے ہیں۔ انہیں توفیق نہیں ہوئی کہ کشمیری عوام کے حق کیلئے بات کرتے۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی فلسطین اور کشمیر کے حوالے سے خاموشی بدترین زیادتی اور سراسر نا انصافی ہے۔ ہندوستان جانتا اورمودی کو سرسے پاؤں تک احساس ہے کہ اگر پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا تو پاکستان کی بہادر افواج اور قوم وہ آنکھ نکال کر پاؤں تلے روند دیں گی۔ ایک طرف کشمیر میں دن رات خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے ، دوسری طرف بدقسمتی سے چند عناصر قوم کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔14اگست 1947ء کو برصغیر ہند کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تو پہلی پاکستان آزاد مسلم ریاست وجود میں آئی۔ آزادی کو ایک برس بھی نہیں ہوا تھا کہ بھارت نے کشمیر کے حوالے سے پاکستان پر جنگ مسلط کر دی۔اس وقت کے بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے جنگ بندی اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حوالے سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دو قرار دادیں پیش کیں، جو متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔کشمیروہ واحد عالمی تنازع ہے، جس کے لئے 1948ء سے لے کر 1957ء تک یکے بعد دیگرے 5قرار دادیں منظور کی گئیں،جن پر بھارتی قائدین کے دستخط بھی ثبت ہیں۔ پاکستان نے تو ان قراردادوں کو من و عن تسلیم کیا، لیکن بھارت نے قراردادوں کی پاسداری کے بجائے کشمیری عوام پرظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے اور کشمیر کو اٹوٹ انگ کہہ کر عالمی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی پر تلا ہوا ہے۔
کشمیریوں کے پیدائشی اور بنیادی انسانی حق خود ارادیت کے لئے پاکستان نے دنیا کے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کی۔ سارک سے لے کر اقوام متحدہ تک اس مسئلے کو لے کر گیا۔ کشمیریوں کے حوصلے مزید بلند ہو گئے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
تسبیح خواں وجود بدھ 01 اپریل 2026
تسبیح خواں

کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش وجود بدھ 01 اپریل 2026
کشمیریوں کی شناخت ختم کرنے کی سازش

انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟ وجود بدھ 01 اپریل 2026
انصاف کا قتل کب تک ہوتا رہے گا ؟

ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر