وجود

... loading ...

وجود

ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال!

منگل 31 مارچ 2026 ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال!

امریکہ سے
۔۔۔۔۔۔
جاوید محمود

اسرائیل کو نقل مکانی کی ایک اہم بے مثال لہر کا سامنا ہے، جنگی تھکاوٹ سیاسی انتشار اور معاشی تناؤ کی وجہ سے 2024سے لے کر اب تک 150,000اسرائیلی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور ہر آنے والا دن اسرائیلیوں کو ملک چھوڑنے پہ مجبور کر رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اصرار کیا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے پر مذاکرات کر رہا ہے لیکن تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران بات چیت کا اعتراف کرنے سے خوفزدہ ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ انہیں اپنے ہی لوگ مار ڈالیں گے تو پھر کس پر یقین کیا جائے؟ کیا امن بس آنے ہی والا ہے یا دونوں فریق ایک مہنگی اور طویل جنگ کے لیے تیار ہو رہے ہیں، جس سے توانائی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی رہیں گی اور پوری دنیا کو گرمیوں تک متاثر کرے گی ۔اشارے یہ بتاتے ہیں کہ ہم اب ایک ایسی صورتحال میں داخل ہو رہے ہیں جو روس یوکرین جنگ کے خاتمے پر پیدا ہونے والے تعطل سے زیادہ مختلف نہیں ۔دونوں فریقین کہتے ہیں کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنی اپنی شرائط پر یہ صورتحال دونوں کے لیے قابل قبول شرائط سے بہت دور ہے، جب یہ جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تو واشنگٹن اور یروشلم کو اس بات کی امید تھی کہ ایران کے مقابلے میں ان دونوں ممالک کی زبردست فوجی برتری اسلامی جمہوریہ کے خاتمے کا سبب بنے گی ۔اگر ایسا بھی ہوتا تو پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کے شکار ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جاتا اور وہ امریکہ کی شرائط پر امن کی درخواست کرتا ،ایسا نہیں ہوا۔ لہذا امریکہ اور اسرائیل جو چاہتے ہیں ضروری نہیں کہ انہیں حاصل ہو کیونکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایرانی حکومت اپنے قیام کے ساتھ خود کو مزید مضبوط کرتی چلی جا رہی ہے۔ اسرائیل کے چینل 12 نیٹ ورک کی جانب سے شائع امریکی 15 نکاتی منصوبے کی تفصیلات میں ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا خاتمہ یمن میں حوثیوں اور لبنان میں حزب اللہ جیسی پراکسی ملیشیاؤں کی حمایت کا خاتمہ شامل ہے۔ اس کے برعکس ایران نے جنگ کے خاتمے کے لیے جنگی ہرجانے کی ادائیگی، آبنائے ہرمزپر ایران کے مکمل اختیار کو تسلیم کرنے سمیت آئندہ ایران پر حملہ نہ کرنے کی ضمانت جیسی شرائط رکھی ہیں۔
ایران کا ماننا ہے کہ خطے کا سب سے بڑا ملک ہونے کے ناطے جس کی آبادی نو کروڑ سے زیادہ ہے اور خلیج میں سب سے طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے، اسے نگہبان یا پولیس مین کے طور پر اپنا جائز کردار ادا کرنے دیا جانا چاہیے ،ایک ایسا کردار جو اسے شاہ کے دور حکومت میں حاصل تھا جو 1979کے اسلامی انقلاب کے ساتھ ختم ہو گیا ۔ایران چاہتا ہے کہ امریکی بحریہ کا پانچواں بیڑا جس کا صدر دفتر بحرین میں ہے وہ خطے سے نکل جائے تاکہ ایران اپنے اتحادیوں روس چین اور شمالی کوریا کی حمایت سے خلیج میں سب سے بڑی فوجی طاقت بن سکے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اسے امریکہ پر اعتماد کرنے میں شدید مسئلہ ہے کیونکہ دو مرتبہ پہلے 2025میں اور پھر دوسری مرتبہ رواں سال فروری میں وہ مذاکرات کے لیے رضامندی ظاہر کر چکا تھا مگر اس کے باوجود امریکہ دوسری مرتبہ نہ صرف مذاکرات سے پیچھے ہٹا بلکہ اس نے ایران کے خلاف طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حملے شروع کر دیے، اب تک جو کچھ ہوا ہے اور جو ہو رہا ہے خلیجی عرب ممالک اس کی وجہ سے سخت پریشان ہیں۔ انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام سے کوئی خاص لگاؤ تو نہیں تھا لیکن اس تنازع سے پہلے وہ اس کے ساتھ ایک غیر یقینی مگر قابل عمل مفاہمت تک پہنچ چکے تھے ۔اب وہ خوفزدہ ہیں اور ایسے میں خطے کی صورتحال کو دیکھ رہے ہیں کہ جہاں امریکہ نے اس جنگ میں اپنی پوری کوشش کی لیکن ایرانی حکومت کو گرانے میں ناکام رہا ہے اور اس پر یہ کہ امریکہ نے ایران کو ایسے نقصانات پہنچائے ہیں کہ جس کے بعد وہ شدید غصے کی حالت میں ہے جس کے اثرات خلیج کے اس پار ایران کے ہمسایہ ممالک پر پڑ رہے ہیں، جنہیں ڈرونز اور میزائلوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واشنگٹن اور امریکی سینٹر کمانڈ کی مایوسی کے برعکس ایران اب ایک ماہ پہلے کے مقابلے میں اسٹریٹیجک طور پر کہیں زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے، کیونکہ اس نے اہم آبی تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمزپر عملاً کنٹرول قائم کر رکھا ہے، اس سے تہران کو عالمی توانائی کی منڈی پر بے پناہ اثر رسوخ حاصل ہو گیا ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ ان کے اختیارات کو محدود کر دے گا۔ مثال کے طور پر خلیجی ریاستیں چاہتی ہیں کہ حالات ایک ماہ پہلے جیسے ہو جائیں لیکن اب بہت کچھ بدل چکا ہے اور ایران اب پیچھے ہٹنے والا نہیں۔ ٹرمپ کے اختیا رات میں ممکن ہے اضافہ ہو جائے کیونکہ تقریباً 5000امریکی میرینز کی خطے میں آمد اس کے ساتھ امریکی 82 ایر بورڈویژن کے پیرا ٹروپرز بھی شامل ہیں لیکن اس سب میں خطرات بھی موجود ہیں ان افواج کو مختلف مقامات پر تعینات کیا جا سکتا ہے ۔ایران کے تیل کے برآمدی ٹرمینل خارگ جزیرہ سے لے کر صوبہ ہرمزگان میں ایران کے ساحل تک یا بحیرۂ احمر کے جنوبی مرکزی دروازے بابل المندب کے اہم آبی راستے تک یا پھر انہیں صرف تہران پر مزید سفارتی دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن کسی بھی زمینی کارروائی میں امریکی جانی نقصان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے تہران کو اندرونی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس سے امریکہ ایک ایسے تنازع میں مزید گہر ائی تک اُلجھ سکتا ہے، جسے بہت سے لوگ وار اف چوائس یا ایسی جنگ جس کا انتخاب کیا گیا ہو قرار دے رہے ہیں ۔اسلامی جمہوریہ ایران میں نظام کا مسلسل برقرار رہنا اس کے رہنماؤں اور اس کے مطالبات کو مزید حوصلہ دے رہا ہے، اسے یقین ہے کہ وقت اور جغرافیہ دونوں اس کے حق میں ہیں جتنا زیادہ وائٹ ہاؤس دنیا کو یہ بتاتا ہے کہ ایران کسی معاہدے کے لیے بے تاب ہے، اتنا ہی کم ایران اس کی طرف مائل ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں ایران امریکہ اور عرب ممالک کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کے کھڑا ہے اور ایران اس وقت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال ہے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال! وجود منگل 31 مارچ 2026
ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال!

بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر