وجود

... loading ...

وجود

جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی

اتوار 08 مارچ 2026 جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی

محمد آصف

 

عالمی سیاست اور جنگی حکمتِ عملی تیزی سے بدل رہی ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت نے جنگ کے انداز کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے ۔ آج کی جنگ صرف میدانِ جنگ میں ہتھیاروں کے استعمال تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ معلومات، ڈیٹا، کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی کی جنگ بن چکی ہے ۔ حالیہ مبینہ واقعہ جس میں کہا گیا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹارگٹ کیا گیا، اس حقیقت کی ایک واضح مثال پیش کرتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں کس قدر پیچیدہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں گی۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے نظام استعمال کیے گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی ایف-35 طیارہ جب ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوا تو صرف ساٹھ سیکنڈ کے اندر حملہ مکمل کر کے واپس نکل گیا۔ یہ محض روایتی فوجی طاقت کا مظاہرہ نہیں تھا بلکہ جدید ڈیجیٹل انٹیلیجنس، ڈیٹا اینالیسس اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج کا نتیجہ تھا۔ ایسی کارروائیوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی
کمپنیوں کے جدیدا ے آئی ٹولز استعمال ہونے کی خبریں بھی سامنے آئیں، جن کے ذریعے بڑی مقدار میں ڈیٹا کا فوری تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔
اس مبینہ آپریشن میں مصنوعی ذہانت نے بنیادی کردار ادا کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایران میں نصب ہزاروں کیمروں کی فوٹیجز کو چند لمحوں میں اکٹھا کیا گیا اور پھر ان میں سے صرف وہ ویڈیوز الگ کی گئیں جن میں آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت کا ریکارڈ موجود تھا۔ چھ ماہ تک کی نقل و حرکت کا تجزیہ کرکے ان کی سکیورٹی روٹین، ملاقاتوں اور رہائش کے مقامات کا مکمل ڈیٹا تیار کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے ذاتی محافظوں کے موبائل فون نمبرز، کال ریکارڈز اور لوکیشن سگنلز بھی ٹریس کیے گئے تاکہ ان کی نقل و حرکت کا درست اندازہ لگایا جا سکے ۔
اس ڈیٹا کے تجزیے کے بعد ان تین مقامات کی نشاندہی کی گئی جہاں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے وہ اکثر اپنی رہائش یا قیام تبدیل کرتے تھے ۔ بعد ازاں بیک وقت ان تینوں مقامات پر تقریباً تیس پریسیژن گائیڈڈ میزائل فائر کیے گئے ۔ اس حملے میں ایرانی فوج کی اعلیٰ کمان کے کئی افراد کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ جدید جنگ میں معلومات اور ڈیٹا کی طاقت ہتھیاروں سے بھی زیادہ اہم ہو چکی ہے ۔
یہ صورتحال صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا سبق ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس سے پہلے بھی مختلف ممالک میں فوجی کارروائیوں سے قبل طویل عرصے تک جاسوسی اور ڈیٹا جمع کرنے کا عمل جاری رکھا ہے ۔ ایران نے بھی گزشتہ برسوں میں اس کے ردعمل میں مبینہ طور پر موساد، را اور ایم آئی 6 کے کئی ایجنٹوں کو گرفتار یا ہلاک کیا اور بعض کو پھانسی بھی دی۔ یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید دنیا میں جنگ صرف میزائلوں اور ٹینکوں سے نہیں بلکہ معلومات اور انٹیلیجنس کے ذریعے لڑی جاتی ہے ۔
اس پس منظر میں پاکستان کے لیے بھی کئی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان کب اپنے سرچ انجنز تیار کرے گا؟ ہم کب تک گوگل، میٹا اور دیگر عالمی کمپنیوں پر انحصار کرتے رہیں گے ؟ پاکستان میں کب مقامی سطح پر تیار کردہ موبائل فون عام استعمال میں آئیں گے ؟ کب ہم اپنی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر خود مختار بنا سکیں گے ؟
دنیا کے کئی ممالک اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ چین نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، سرچ انجنز، موبائل ایپس اور کمیونیکیشن سسٹمز تیار کر کے ایک خود مختار ڈیجیٹل نظام قائم کر لیا ہے ۔ اسی طرح وہ اپنی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر چپس بھی خود تیار کر رہا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف دنیا اب کوانٹم پروسیسرز اور جدید کمپیوٹنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے ۔ پاکستان کو بھی اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ قومی سلامتی اب صرف فوجی طاقت سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ ڈیجیٹل خودمختاری، ڈیٹا سکیورٹی اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ اگر کسی ملک کا ڈیٹا، کمیونیکیشن اور سوشل میڈیا بیرونی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہو تو وہ ملک معلوماتی جنگ میں ہمیشہ کمزور رہتا
ہے ۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میسجنگ ایپس تیار کرے ۔ واٹس ایپ یا دیگر غیر ملکی ایپس کی طرز پر مقامی ایپس بنائی جا سکتی ہیں جن میں پاکستانی صارفین کا ڈیٹا ملک کے اندر محفوظ رہے ۔ اسی طرح ایک محفوظ قومی انٹرنیٹ ڈیٹا بیس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا ڈیٹا بیرونی انٹیلیجنس اداروں کی دسترس سے محفوظ رہ سکے ۔ دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی بھی عالمی سیاست میں نئے موڑ لے رہی ہے ۔ حالیہ دنوں میں امریکی حملوں کا پیٹرن مختلف نظر آیا ہے ۔ اس بار ایرانی کردستان کو کھل کر نشانہ بنایا گیا جبکہ ماضی میں زیادہ تر حملے تہران پر مرکوز ہوتے تھے ۔ ساتھ ہی آذربائیجان کی جانب سے ایرانی سرحد کی طرف فوجی نقل و حرکت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ایران پر شمالی اور داخلی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے ۔لیکن بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صرف بمباری کے ذریعے کسی ملک کو شکست دینا آسان نہیں ہوتا۔
جنگ میں اصل فیصلہ کن عنصر حکمت عملی ہوتی ہے ۔ اس کی مثال ایسے دی جا سکتی ہے جیسے کسی کے پاس جدید فیراری کار ہو اور دوسرے کے پاس سادہ ٹریکٹر۔ اگر مقابلہ ہموار سڑک پر ہو تو فیراری جیت سکتی ہے ، لیکن اگر میدان کیچڑ، کھیتوں اور ندی نالوں سے بھرا ہو تو ٹریکٹر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے ۔ یہی فرق اسلحہ اور حکمت عملی کے درمیان ہوتا ہے ۔ ایران نے بھی گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی جنگی حکمت عملی کو اسی اصول پر ترتیب دیا ہے ۔ 2005 کے بعد اس نے ایک decentralised asymmetric war کی ڈاکٹرائن تیار کی جس میں فوج کو چھوٹے خود مختار یونٹس میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس حکمت عملی کے تحت اگر مرکزی کمان تباہ بھی ہو جائے تو بھی مقامی یونٹس
اپنی سطح پر لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے ایران نے روایتی اور مہنگی ایئرفورس پر زیادہ انحصار نہیں کیا بلکہ کم خرچ مگر مؤثر ہتھیاروں جیسے ڈرون ٹیکنالوجی کو ترجیح دی۔ شاہد ڈرون اس حکمت عملی کی ایک مثال ہیں جو کم لاگت کے ساتھ بڑی تعداد میں تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح دشمن کی مہنگی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں سادہ مگر مؤثر ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔
بعض امریکی مبصرین کا خیال ہے کہ مسلسل بمباری کے نتیجے میں ایران کے میزائل لانچرز ختم ہو جائیں گے اور وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی ملک مقامی سطح پر سینکڑوں ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو راکٹ لانچرز جیسے سادہ ہتھیار تیار کرنا اس کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔
یہ جنگ دراصل شطرنج کی طرح کھیلی جا رہی ہے ۔ امریکہ اسے چیکرز گیم کی طرح زیادہ سے زیادہ مہرے مار کر جیتنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران شطرنج کی طرح اسٹریٹیجک پوائنٹس پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے ۔ آبنائے ہرمز اس کھیل کا سب سے اہم وینٹیج پوائنٹ ہے ۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی سپلائی، شدید متاثر ہو سکتی ہے ۔خلیج میں کسی بڑی کشیدگی کی صورت میں خوراک اور فیول کا عالمی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے ۔ اسی لیے بہت سے ممالک اس خطے کی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
ان تمام حالات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، ڈیٹا، معیشت اور حکمت عملی کے امتزاج سے لڑی جائیں گی۔ پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ٹیکنالوجی میں خود کفالت حاصل کریں اور اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنائیں۔
اگر پاکستان بروقت اس سمت میں قدم اٹھاتا ہے تو نہ صرف اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور خود مختار مقام بھی حاصل کر سکتا ہے ۔ بصورت دیگر آنے والے دور میں معلوماتی اور تکنیکی جنگوں میں کمزور ممالک کے لیے اپنی خودمختاری برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار وجود پیر 09 مارچ 2026
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا! وجود پیر 09 مارچ 2026
عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود اتوار 08 مارچ 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

سب ہارگئے ۔۔۔۔ وجود اتوار 08 مارچ 2026
سب ہارگئے ۔۔۔۔

جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی وجود اتوار 08 مارچ 2026
جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر