... loading ...
محمد آصف
عالمی سیاست اور جنگی حکمتِ عملی تیزی سے بدل رہی ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت نے جنگ کے انداز کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا ہے ۔ آج کی جنگ صرف میدانِ جنگ میں ہتھیاروں کے استعمال تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ معلومات، ڈیٹا، کمیونیکیشن اور ٹیکنالوجی کی جنگ بن چکی ہے ۔ حالیہ مبینہ واقعہ جس میں کہا گیا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مصنوعی ذہانت کے ذریعے ٹارگٹ کیا گیا، اس حقیقت کی ایک واضح مثال پیش کرتا ہے کہ مستقبل کی جنگیں کس قدر پیچیدہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہوں گی۔ اطلاعات کے مطابق اس کارروائی میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے نظام استعمال کیے گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی ایف-35 طیارہ جب ایرانی فضائی حدود میں داخل ہوا تو صرف ساٹھ سیکنڈ کے اندر حملہ مکمل کر کے واپس نکل گیا۔ یہ محض روایتی فوجی طاقت کا مظاہرہ نہیں تھا بلکہ جدید ڈیجیٹل انٹیلیجنس، ڈیٹا اینالیسس اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج کا نتیجہ تھا۔ ایسی کارروائیوں میں امریکہ اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی
کمپنیوں کے جدیدا ے آئی ٹولز استعمال ہونے کی خبریں بھی سامنے آئیں، جن کے ذریعے بڑی مقدار میں ڈیٹا کا فوری تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔
اس مبینہ آپریشن میں مصنوعی ذہانت نے بنیادی کردار ادا کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایران میں نصب ہزاروں کیمروں کی فوٹیجز کو چند لمحوں میں اکٹھا کیا گیا اور پھر ان میں سے صرف وہ ویڈیوز الگ کی گئیں جن میں آیت اللہ خامنہ ای کی نقل و حرکت کا ریکارڈ موجود تھا۔ چھ ماہ تک کی نقل و حرکت کا تجزیہ کرکے ان کی سکیورٹی روٹین، ملاقاتوں اور رہائش کے مقامات کا مکمل ڈیٹا تیار کیا گیا۔ اس کے علاوہ ان کے ذاتی محافظوں کے موبائل فون نمبرز، کال ریکارڈز اور لوکیشن سگنلز بھی ٹریس کیے گئے تاکہ ان کی نقل و حرکت کا درست اندازہ لگایا جا سکے ۔
اس ڈیٹا کے تجزیے کے بعد ان تین مقامات کی نشاندہی کی گئی جہاں سکیورٹی خدشات کی وجہ سے وہ اکثر اپنی رہائش یا قیام تبدیل کرتے تھے ۔ بعد ازاں بیک وقت ان تینوں مقامات پر تقریباً تیس پریسیژن گائیڈڈ میزائل فائر کیے گئے ۔ اس حملے میں ایرانی فوج کی اعلیٰ کمان کے کئی افراد کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ جدید جنگ میں معلومات اور ڈیٹا کی طاقت ہتھیاروں سے بھی زیادہ اہم ہو چکی ہے ۔
یہ صورتحال صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بڑا سبق ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس سے پہلے بھی مختلف ممالک میں فوجی کارروائیوں سے قبل طویل عرصے تک جاسوسی اور ڈیٹا جمع کرنے کا عمل جاری رکھا ہے ۔ ایران نے بھی گزشتہ برسوں میں اس کے ردعمل میں مبینہ طور پر موساد، را اور ایم آئی 6 کے کئی ایجنٹوں کو گرفتار یا ہلاک کیا اور بعض کو پھانسی بھی دی۔ یہ سب کچھ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید دنیا میں جنگ صرف میزائلوں اور ٹینکوں سے نہیں بلکہ معلومات اور انٹیلیجنس کے ذریعے لڑی جاتی ہے ۔
اس پس منظر میں پاکستان کے لیے بھی کئی اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستان کب اپنے سرچ انجنز تیار کرے گا؟ ہم کب تک گوگل، میٹا اور دیگر عالمی کمپنیوں پر انحصار کرتے رہیں گے ؟ پاکستان میں کب مقامی سطح پر تیار کردہ موبائل فون عام استعمال میں آئیں گے ؟ کب ہم اپنی کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو مکمل طور پر خود مختار بنا سکیں گے ؟
دنیا کے کئی ممالک اس سمت میں تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ چین نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، سرچ انجنز، موبائل ایپس اور کمیونیکیشن سسٹمز تیار کر کے ایک خود مختار ڈیجیٹل نظام قائم کر لیا ہے ۔ اسی طرح وہ اپنی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر چپس بھی خود تیار کر رہا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف دنیا اب کوانٹم پروسیسرز اور جدید کمپیوٹنگ کے دور میں داخل ہو چکی ہے ۔ پاکستان کو بھی اس حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ قومی سلامتی اب صرف فوجی طاقت سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ ڈیجیٹل خودمختاری، ڈیٹا سکیورٹی اور ٹیکنالوجی میں خود کفالت بھی اتنی ہی اہم ہیں۔ اگر کسی ملک کا ڈیٹا، کمیونیکیشن اور سوشل میڈیا بیرونی کمپنیوں کے کنٹرول میں ہو تو وہ ملک معلوماتی جنگ میں ہمیشہ کمزور رہتا
ہے ۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور میسجنگ ایپس تیار کرے ۔ واٹس ایپ یا دیگر غیر ملکی ایپس کی طرز پر مقامی ایپس بنائی جا سکتی ہیں جن میں پاکستانی صارفین کا ڈیٹا ملک کے اندر محفوظ رہے ۔ اسی طرح ایک محفوظ قومی انٹرنیٹ ڈیٹا بیس اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا ڈیٹا بیرونی انٹیلیجنس اداروں کی دسترس سے محفوظ رہ سکے ۔ دوسری طرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی بھی عالمی سیاست میں نئے موڑ لے رہی ہے ۔ حالیہ دنوں میں امریکی حملوں کا پیٹرن مختلف نظر آیا ہے ۔ اس بار ایرانی کردستان کو کھل کر نشانہ بنایا گیا جبکہ ماضی میں زیادہ تر حملے تہران پر مرکوز ہوتے تھے ۔ ساتھ ہی آذربائیجان کی جانب سے ایرانی سرحد کی طرف فوجی نقل و حرکت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ایران پر شمالی اور داخلی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کی جا رہی ہے ۔لیکن بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صرف بمباری کے ذریعے کسی ملک کو شکست دینا آسان نہیں ہوتا۔
جنگ میں اصل فیصلہ کن عنصر حکمت عملی ہوتی ہے ۔ اس کی مثال ایسے دی جا سکتی ہے جیسے کسی کے پاس جدید فیراری کار ہو اور دوسرے کے پاس سادہ ٹریکٹر۔ اگر مقابلہ ہموار سڑک پر ہو تو فیراری جیت سکتی ہے ، لیکن اگر میدان کیچڑ، کھیتوں اور ندی نالوں سے بھرا ہو تو ٹریکٹر زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے ۔ یہی فرق اسلحہ اور حکمت عملی کے درمیان ہوتا ہے ۔ ایران نے بھی گزشتہ دو دہائیوں میں اپنی جنگی حکمت عملی کو اسی اصول پر ترتیب دیا ہے ۔ 2005 کے بعد اس نے ایک decentralised asymmetric war کی ڈاکٹرائن تیار کی جس میں فوج کو چھوٹے خود مختار یونٹس میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس حکمت عملی کے تحت اگر مرکزی کمان تباہ بھی ہو جائے تو بھی مقامی یونٹس
اپنی سطح پر لڑائی جاری رکھ سکتے ہیں۔ اسی لیے ایران نے روایتی اور مہنگی ایئرفورس پر زیادہ انحصار نہیں کیا بلکہ کم خرچ مگر مؤثر ہتھیاروں جیسے ڈرون ٹیکنالوجی کو ترجیح دی۔ شاہد ڈرون اس حکمت عملی کی ایک مثال ہیں جو کم لاگت کے ساتھ بڑی تعداد میں تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح دشمن کی مہنگی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں سادہ مگر مؤثر ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔
بعض امریکی مبصرین کا خیال ہے کہ مسلسل بمباری کے نتیجے میں ایران کے میزائل لانچرز ختم ہو جائیں گے اور وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی ملک مقامی سطح پر سینکڑوں ڈرون تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو تو راکٹ لانچرز جیسے سادہ ہتھیار تیار کرنا اس کے لیے مشکل نہیں ہوتا۔
یہ جنگ دراصل شطرنج کی طرح کھیلی جا رہی ہے ۔ امریکہ اسے چیکرز گیم کی طرح زیادہ سے زیادہ مہرے مار کر جیتنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ ایران شطرنج کی طرح اسٹریٹیجک پوائنٹس پر قبضہ کرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے ۔ آبنائے ہرمز اس کھیل کا سب سے اہم وینٹیج پوائنٹ ہے ۔ اگر یہ راستہ بند ہو جائے تو عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی سپلائی، شدید متاثر ہو سکتی ہے ۔خلیج میں کسی بڑی کشیدگی کی صورت میں خوراک اور فیول کا عالمی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے ۔ اسی لیے بہت سے ممالک اس خطے کی صورتحال کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔
ان تمام حالات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مستقبل کی جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، ڈیٹا، معیشت اور حکمت عملی کے امتزاج سے لڑی جائیں گی۔ پاکستان سمیت دنیا کے تمام ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ٹیکنالوجی میں خود کفالت حاصل کریں اور اپنی ڈیجیٹل خودمختاری کو مضبوط بنائیں۔
اگر پاکستان بروقت اس سمت میں قدم اٹھاتا ہے تو نہ صرف اپنی قومی سلامتی کو مضبوط بنا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر ایک باوقار اور خود مختار مقام بھی حاصل کر سکتا ہے ۔ بصورت دیگر آنے والے دور میں معلوماتی اور تکنیکی جنگوں میں کمزور ممالک کے لیے اپنی خودمختاری برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
٭٭٭