وجود

... loading ...

وجود

بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

هفته 28 فروری 2026 بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

ریاض احمدچودھری

بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امریکا، آسٹریلیا اور یورپ سمیت کئی ممالک سخت ایکشن لینے پر مجبور ہو گئے۔ ان ممالک نے ویزا قوانین مزید سخت کرنے، نگرانی بڑھانے اور سمگلنگ نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کے اقدامات شروع کر دیے ہیں۔دنیا بھر میں انسانی سمگلنگ کے مکروہ دھندے میں بھارتی سمگلرز ملوث نکلے، بھارتی سمگلرز اور جرائم پیشہ افراد عالمی سطح پر انسانی سمگلنگ، جعلی ڈگری نیٹ ورکس اور دہشتگردی کی واضح علامت بنتے جا رہے ہیں جبکہ امریکی محکمہ انصاف نے بھارتی سمگلرز کی منظم جرائم پیشہ سرگرمیوں کا پردہ چاک کر دیا۔
امریکی محکمہ انصاف کے مطابق انسانی سمگلنگ کے جرم میں ملوث ایک اور بھارتی شہری کو امریکی عدالت سے سزا سنا دی گئی۔ بھارتی سمگلر شیوم لنو درجنوں افراد کو غیر قانونی طور پر امریکا داخل کرانے میں ملوث رہ چکا ہے۔ بھارتی سمگلر گذشتہ برس انسانی سمگلنگ کے کئی غیرقانونی آپریشنز کا حصہ رہا، بھارتی شہریوں کی جانب سے انسانی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ گذشتہ دو سال کے دوران ایک لاکھ سے زائد بھارتی شہری امریکا میں غیرقانونی داخلے کے دوران گرفتار ہوئے۔بھارتیوں کی غیرقانونی امیگریشن کا بڑھتا رجحان عالمی سکیورٹی کیلئے خطرے کی گھنٹی بن چکا ہے، نااہل مودی کی ناقص اور ناکام پالیسیوں نے ہزاروں بھارتی شہریوں کو قانون شکن راستے اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ماہرین کا کہنا تھابھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن، منشیات سمگلنگ اور دہشتگردی سے جڑے نیٹ ورکس عالمی سلامتی کیلئے خطرہ بنتے کا رہے ہیں۔ بھارتی شہریوں کے میزبان ممالک میں بڑھتے جرائم نے مودی کے نام نہاد ترقی اور خوشحالی کے فریب زدہ بیانیے کی حقیقت دنیا کے سامنے رکھ دی۔ بھارت ہمیشہ سے منشیات کی سمگلنگ کا مرکز رہا ہے مگر سمگلنگ کے راستے اور طریقے مزید جدید ہو گئے۔اقوام متحدہ کی اینٹی ڈرگ ایجنسی UNODC کے مطابق “بھارت غیر قانونی منشیات اور کیمیکل کی سمگلنگ کا بڑا مرکز، میانمار سے وسطی امریکہ اور افریقہ تک فراہمی جاری”۔حال ہی کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت سے غیر قانونی افیون کی ترسیل ہزاروں زندگیاں تباہ کر کے صحت عامہ کے بحران کو بڑھا رہی ہیں، بھارت بین الاقوامی سطح پر وسطی افریقہ کو غیر قانونی منشیات فراہم کرتا ہے۔
نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی (NDLEA) نے 2023 میں بھارت سے سپلائی ہونے والی 100 ملین ڈالر سے زائد مالیت کی افیون ضبط کیں، نائیجیریا کی منشیات کنٹرول ایجنسی نے غیر قانونی (ٹراماڈول) ضبط کر لیے جو نشہ آور ادویات کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ نائیجیریا میں 40 لاکھ سے زائد افراد، بھارت سے سمگلنگ افیون استعمال کر رہے ہیں،گھانا کا شہر تمالی بھی بھارت سے سمگل شدہ افیون کا سب سے بڑا شکار ہے۔ بھارت سے آنے والی افیونی ادویات نائیجیریا میں بڑا مسئلہ بن چکی ہیں، 2018 میں حکومت نے غیر قانونی افیونی ادویات کی فروخت اور بھارت سے درآمد پر پابندی بھی لگائی۔تب سے اب تک سرحدپارسے مزیدافیونی ادویات کی سمگلنگ جاری ہے، بھارت سے افیون گھانا سمگل کی جاتی ہیں اور پھر گھانا کی سرحد سے نائیجیریا پہنچتی ہیں۔اقوام متحدہ کے یو این او ڈی سی کی 2024ء کی رپورٹ کے مطابق بھارت غیرقانونی شپمنٹس کا ایک بڑا مرکز بن گیا ہے اور بھارتی صنعتوں سے پریکرسر کیمیکلز میتھ لیبارٹریز تک پہنچ رہے ہیں۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو عالمی سیکیورٹی کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔امریکی حکام کے جاری کردہ اعداد و شمار کی ٹائمز آف انڈیا نے بھی تصدیق کر دی ہے۔امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق سال 2025 میں 23,830 بھارتی شہری غیر قانونی طور پر امریکی سرحد عبور کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے۔ جبکہ 2024 میں یہ تعداد کہیں زیادہ رہی اور امریکی حکام نے 85,119 بھارتی شہریوں کو غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے کے دوران حراست میں لیا تھا۔گرفتار ہونے والے بیشتر افراد بہتر روزگار اور زیادہ تنخواہ کے حصول کے لیے غیر قانونی راستوں کے ذریعے امریکہ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص معاشی اور امیگریشن پالیسیوں نے ہزاروں بھارتی شہریوں کو غیر قانونی ذرائع اختیار کرنے پر مجبور کیا ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق بھارتی اسمگلرز نے سخت نگرانی والے لاطینی امریکی راستوں کے بجائے کم استعمال شدہ، زیادہ خطرناک اور غیر محفوظ راستوں کا انتخاب کیا، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع اور منظم جرائم میں اضافہ ہوا۔عالمی سیکیورٹی اداروں اور ماہرین نے بھارتی شہریوں کی غیر قانونی امیگریشن، انسانی اسمگلنگ، جعلی ڈگریوں کے نیٹ ورکس اور منظم جرائم کو بین الاقوامی سلامتی کے لیے واضح خطرہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مایوسی کے باعث یہ رجحان مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے ہیوسٹن، ٹیکساس میں انسانی اسمگلنگ کا ایک بڑا نیٹ ورک چلانے کے الزام میں ایک بھارتی شہری اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا ہے، جن پر دستاویزات میں جعل سازی اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی قیام کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔اس سے قبل جنوری 2026 میں بھی بھارتی نڑاد موٹل آپریٹرز کوشا اور ترون شرما کو منشیات کی فروخت اور جنسی اسمگلنگ کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا، جبکہ نومبر 2025 میں دکشت کمار پٹیل اور کیتن طلاتی نامی بھارتی شہریوں پر خواتین کی بین ریاستی اسمگلنگ اور جسم فروشی کو فروغ دینے کے الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔ امریکی حکام کے مطابق انسانی حقوق کی پامالی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ان گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا عمل مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ انسانی تکالیف سے فائدہ اٹھانے والے ان عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں وجود هفته 28 فروری 2026
بیرون ملک بھارتیوں کی غیر قانونی سرگرمیاں

گراوٹ ہی گراوٹ وجود جمعه 27 فروری 2026
گراوٹ ہی گراوٹ

بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر وجود جمعه 27 فروری 2026
بھارت ، منشیات کا عالمی سپلائر

تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز وجود جمعه 27 فروری 2026
تشکیلِ کردار کے اصول اور عصرِ حاضر کے سماجی چیلنجز

بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر