وجود

... loading ...

وجود

حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے!

جمعرات 26 فروری 2026 حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے!

اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ

فریڈرک نطشے(Friedrich Nietzsche)کی کتاب Thus Spoke Zarathustra محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ انسانی شعور کی گہرائیوں میں اترنے والی نفسیاتی چیخ، سیاسی بغاوت اور فلسفیانہ اعلانِ آزادی ہے۔
یہ کتاب اس لمحے کی نمائندہ ہے جب انسانی تاریخ ایک عظیم خلا کے سامنے کھڑی تھی: خدا مر چکا ہے۔ مگر یہ جملہ الحاد کا نعرہ نہیں بلکہ تہذیبی بحران کی تشخیص ہے۔ ہزاروں برس تک انسان نے اپنی اخلاقیات، سیاست اور نفسیات کو مابعد الطبیعاتی سہاروں پر تعمیر کیا—مصر کی دیومالائی بادشاہتوں سے لے کر قرونِ وسطیٰ کے عیسائی یورپ تک، جہاں زمین پر اقتدار آسمان کی مرضی کا عکس سمجھا جاتا تھا۔ جب جدیدیت آئی، سائنسی شعور نے آسمان کو خاموش کر دیا، تو انسان پہلی بار اپنی تنہائی سے آشنا ہوا۔ نطشے اسی تنہائی کا فلسفی ہے۔نفسیاتی اعتبار سے زرتشت دراصل انسانی باطن کا استعارہ ہے۔ وہ پہاڑ سے اترتا ہے جیسے شعور لاشعور کی گہرائی سے ابھرتا ہے۔ اس کا پیغام”Übermensch”دراصل نفسِ امّارہ پر فتح کی دعوت ہے۔ یہ کسی نسلی یا جسمانی برتری کا تصور نہیں بلکہ اپنی کمزوریوں، خوفوں اور وراثتی اخلاقیات پر قابو پانے کی داخلی جدوجہد ہے۔ انسانی تاریخ میں ہر بڑی پیش رفت—چاہے وہ یونانی المیہ ہو، نشاةِ ثانیہ ہو یا روشن خیالی—اسی خود عبوری (selfـovercoming) کا نتیجہ رہی ہے۔ مگر نطشے کہتا ہے کہ جدید انسان اس مقام پر پہنچ کر رک گیا ہے؛ وہ ”آخری انسان” بن گیا ہے، جو صرف آرام اور تحفظ چاہتا ہے، جو خطرہ مول لینے سے ڈرتا ہے، جو زندگی کو شدت کے بجائے سہولت میں گزارنا چاہتا ہے۔ یہ نفسیاتی جمود دراصل جدید تہذیب کی بیماری ہے۔ سیاسی سطح پر یہ کتاب طاقت کی نئی تعریف پیش کرتی ہے۔”ارادہ قوت” دوسروں پر غلبے کا نام نہیں بلکہ خود پر غلبے کا نام ہے۔ نطشے ریاستی ہجومیت اور اخلاقی بھیڑ چال کا سخت ناقد ہے۔ انسانی تاریخ میں اکثر سیاسی نظام—رومی سلطنت سے لے کر جدید قومی ریاست تک—اجتماعی شناخت کے نام پر فرد کو جذب کرتے رہے ہیں۔ نطشے اس جذب ہونے سے انکار کرتا ہے۔ وہ فرد کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنے اندر اقدار تخلیق کرے، نہ کہ انہیں محض وراثت میں قبول کرے۔ یہی بات بعد میں غلط تعبیرات کا شکار ہوئی، حتیٰ کہ اس کی بہن Elisabeth Forsterنے اس فکر کو قوم پرستانہ رنگ دینے کی کوشش کی، حالانکہ نطشے کی اصل جنگ ہجومیت اور غلامانہ اخلاقیات کے خلاف تھی، نہ کہ کسی خاص قوم یا نسل کے حق میں۔فلسفیانہ طور پر”ابدی بازگشت” انسانی آزادی کا کڑا امتحان ہے۔ اگر تمہیں اپنی زندگی بارہا جینی ہو تو کیا تم اسے اسی طرح جیو گے یہ سوال وجودیت کی بنیاد بن جاتا ہے۔ قدیم یونانیوں کے ہاں تقدیر ایک ناگزیر قوت تھی؛ عیسائیت میں نجات ایک مابعد الطبیعی وعدہ؛ مگر نطشے کہتا ہے کہ نہ تقدیر تمہیں بچائے گی نہ نجات کا وعدہ۔ تمہیں اپنی زندگی کو اس طرح جینا ہے کہ تم اسے دہرانا چاہو۔ یہی”amor fati”ہے—تقدیر سے محبت—جو انسان کو شکایت سے تخلیق تک لے جاتی ہے۔
انسانی تاریخ کے وسیع منظرنامے میں یہ کتاب اس موڑ کی علامت ہے جہاں انسان کو پہلی بار مکمل آزادی ملی—اور اس آزادی کا بوجھ بھی۔ قرونِ وسطیٰ میں انسان خدا کے سائے میں محفوظ تھا؛ جدید دور میں وہ تنہا ہے۔ اس تنہائی سے یا تو نِہلزم جنم لیتا ہے یا تخلیق۔ نطشے کی آواز تخلیق کی آواز ہے۔ وہ کہتا ہے کہ زندگی خوبصورت بھی ہے اور سفاک بھی، اور سچا انسان وہ ہے جو دونوں کو گلے لگائے۔زرتشت کی ہنسی—”بلندیوں کی ہنسی درحقیقت اس شعور کی ہنسی ہے جو کائنات کی بے معنویت کو جان کر بھی زندگی کی تائید کرتا ہے۔ یہ کتاب ہمیں کوئی تیار شدہ اخلاقی ضابطہ نہیں دیتی؛ یہ ہمیں خود اپنا ضابطہ بنانے پر مجبور کرتی ہے۔ یہی اس کی نفسیاتی شدت، سیاسی بغاوت اور فلسفیانہ عظمت ہے۔ یہ انسان کو کہتی ہے: تم حیوان اور دیوتا کے درمیان بندھی رسی ہو؛ گرنے کا خطرہ ہمیشہ موجود ہے؛ مگر اسی خطرے میں تمہاری شان ہے۔ زندگی کو اس طرح جیو کہ تم اسے ابد تک دہرانے پر آمادہ رہو—اور یہی انسانی تاریخ کی سب سے جرات مند دعوت ہے۔Friedrich Nietzsche کی Thus Spoke Zarathustra اگر یورپ کی روحانی و تہذیبی بحران کی داستان ہے تو اسے پاکستان کی سیاسی و نفسیاتی تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو یہ ایک حیران کن مماثلت دکھاتی ہے۔
نطشے نے جس ”خدا کی موت” کو تہذیبی زلزلہ کہا تھا، پاکستان کی تاریخ میں وہ لمحہ کسی مذہبی انکار کی صورت میں نہیں بلکہ معنوی انتشار کی صورت میں ظاہر ہوا۔ یہاں مسئلہ خدا کا انکار نہیں بلکہ اقدار کی صداقت کا بحران رہا ہے۔1947 میں وجود میں آنے والی ریاست نے خود کو ایک نظریے کے نام پر قائم کیا۔ مگر نظریہ جب عملی سیاست میں داخل ہوتا ہے تو اسے طاقت، مفاد اور خوف کے پیچیدہ کھیل سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نطشے کا”ارادہ قوت” پاکستانی سیاسی نفسیات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ طاقت یہاں خود پر غلبہ نہیں بلکہ دوسروں پر کنٹرول کے طور پر سمجھی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سیاسی تاریخ بارہا عسکری مداخلتوں، نظریاتی کشمکش اور جمہوری کمزوریوں سے گزری۔ ریاستی بیانیہ اکثر اجتماعی شناخت کے نام پر فرد کو جذب کرتا رہا، اور فرد کی تخلیقی خودی دبتی رہی۔نفسیاتی سطح پر پاکستان کا سماج ایک مسلسل اضطراب میں رہا ہے۔ ایک طرف مذہبی و اخلاقی یقین کی خواہش، دوسری طرف جدیدیت اور عالمی سیاست کا دباؤ۔ یہی وہ کشمکش ہے جسے نطشے ”نِہلزم” کی طرف بڑھتا ہوا مرحلہ کہتا ہے: اقدار موجود ہیں مگر ان پر اعتماد کمزور ہو چکا ہے۔ عوامی شعور میں ایک طرح کی دوہری زندگی جنم لیتی ہے—اعلانیہ اخلاقیات اور عملی سیاست کے درمیان فاصلہ۔ یہی فاصلہ مایوسی، سازشی سوچ اور اجتماعی بے یقینی کو جنم دیتا ہے۔نطشے کا”آخری انسان” وہ ہے جو صرف تحفظ اور سہولت چاہتا ہے، خطرہ مول نہیں لیتا۔ اگر پاکستانی سماج کو دیکھیں تو بارہا ایسا مرحلہ آیا جب عوام نے استحکام کو آزادی پر ترجیح دی، وقتی سکون کو طویل مدتی تبدیلی پر۔ یہ نفسیاتی رجحان تاریخ کے ہر بحران میں نمایاں رہا ہے: چاہے وہ مارشل لا کا زمانہ ہو یا معاشی بدحالی کے ادوار۔ خطرہ مول لینے والی تخلیقی قیادت اور سماجی جرات کم دکھائی دی، جبکہ وقتی نجات دہندگان کو بارہا قبول کیا گیا۔مگر اسی تاریخ میں نطشے کے”Übermensch”کا امکان بھی موجود ہے—نسلی یا سیاسی برتری نہیں بلکہ خودی کی تخلیق۔ اقبال نے جس ”خودی”کی بات کی، وہ کسی حد تک اسی خود عبوری کا عکس ہے: فرد اپنی تقدیر کا خالق بنے، بھیڑ کی نفسیات سے اوپر اٹھے، اور خوف کی سیاست کو رد کرے۔ پاکستان کی تاریخ میں جب بھی فرد نے داخلی طاقت سے اجتماعی اقدار تخلیق کرنے کی کوشش کی—چاہے وہ ادبی تحریکیں ہوں، طلبہ سیاست، یا سماجی اصلاح کی کوششیں—وہی لمحے حقیقی زندگی کے لمحے تھے۔”ابدی بازگشت” کے تصور کو اگر پاکستانی تناظر میں رکھیں تو سوال یہ بنتا ہے: کیا ہم اپنی تاریخ کو اسی طرح بارہا دہرانا چاہیں گے؟ بار بار سیاسی عدم استحکام، نظریاتی تقسیم، معاشی بحران؟ اگر جواب نفی میں ہے تو نطشے کا چیلنج یہی ہے کہ تاریخ کو کوسنے کے بجائے اس کی تخلیقی تعبیر کی جائے۔”amor fati”یعنی تقدیر سے محبت، یہاں تقدیر کی مجبوری نہیں بلکہ اس کے اندر تخلیقی امکان تلاش کرنا ہے۔پاکستان کی سیاسی نفسیات میں سب سے بڑا مسئلہ شاید یہ ہے کہ طاقت کو داخلی اخلاقی قوت کے بجائے بیرونی کنٹرول کے طور پر سمجھا گیا۔ نطشے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے، اقدار کی تخلیق میں ہے، نہ کہ محض اقتدار کے حصول میں۔ جب تک سماج اپنے اندر یہ خود عبوری پیدا نہیں کرے گا، وہ بھیڑ کی نفسیات اور وقتی نجات دہندگان کے چکر میں گھومتا رہے گا۔اس تناظر میں”زرتشت” پاکستان کے لیے کوئی مذہبی یا سیاسی اوتار نہیں بلکہ ایک استعارہ ہے: ایک ایسی آواز جو کہتی ہے کہ زندگی کو شکایت کی بجائے تخلیق کی آنکھ سے دیکھو۔ تاریخ کے زخموں کو محض یادگار نہ بناؤ، انہیں نئی معنویت دو۔ ریاست اور سماج دونوں کو یہ سوال پوچھنا ہوگا: کیا ہم اپنی زندگی اور اپنی تاریخ کو ابدی طور پر دہرانا قبول کریں گے اگر نہیں، تو ہمیں اپنی اقدار خود تخلیق کرنی ہو گی۔ یہی نطشے کا پیغام ہے اور شاید یہی پاکستان کی نفسیاتی و سیاسی نجات کا پہلا قدم بھی۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
بھارت کے بھوکے مہمان وجود جمعرات 26 فروری 2026
بھارت کے بھوکے مہمان

سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
سانحہ کنن پوش پورہ ، 35 برس بیت گئے!

حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے! وجود جمعرات 26 فروری 2026
حقیقی قوت خود پر قابو پانے میں ہے!

ریڈ لائن منصوبہ ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش وجود جمعرات 26 فروری 2026
ریڈ لائن منصوبہ ایک نہ ختم ہونے والی آزمائش

ہم خود قیامت تھے وجود بدھ 25 فروری 2026
ہم خود قیامت تھے

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر