... loading ...
جہانِ دیگر
زرّیں اختر
۔۔۔۔۔۔
آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان ١٩٧٣ء کے آرٹیکل ٩ کے مطابق:
”صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب اور برخاست کرنا: گورنر وقتاََ فوقتاََـ
(الف)صوبائی اسمبلی کا اجلاس ایسے وقت اور مقام پر طلب کرسکے گاجسے وہ مناسب خیال کرے اور
(ب) صوبائی اسمبلی کا اجلاس برخاست کرسکے گا۔
تشریح:
(الف ) جس طرح قومی اسمبلی کا اجلاس طلب اور برخاست کرنے کا حق صدر ِ مملکت کو حاصل ہے اسی طرح آئین نے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے اور برخاست کرنے کا حق بھی گورنر کو دیا ہے۔ ہنگامی صورتِ حال کو پیش ِ نظر رکھتے ہوئے اگر صوبائی اسمبلی کے ارکان کی ایک چوتھائی اکثریت اسمبلی کا اجلاس بلانا چاہے تو ان کو تحریری طور پر گورنر کو اس جانب متوجہ کرنا پڑے گا۔
(ب) گورنر کو صوبائی اسمبلی کا اجلاس برخاست کرنے کا اختیار بھی حاصل ہے۔ ”
گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری کا آرٹیکل ١٠٩ (ب) کا حکم نامہ جاری کرنے کے بعد اب اور مکمل تیاری کے ساتھ آرٹیکل ١١٠ پر عمل کرنا ہے ۔
”آرٹیکل ١١٠ـگورنر کا صوبائی اسمبلی سے خطاب کرنے کا اختیار: گورنر صوبائی اسمبلی سے خطاب کرسکے گااور اس مقصد کے لیے ارکان کی حاضری کا حکم دے سکے گا۔
تشریح: گورنر کو صوبائی اسمبلی سے خطاب کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اس ضمن میں گورنر تمام ارکانِ اسمبلی کو خطاب کے دوران میں حاضررہنے کا حکم بھی دے سکتاہے ۔ہنگامی صورتِ حال کے پیشِ نظر بھی گورنر اسمبلی سے خطاب کرسکتاہے۔”
سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئر مین ڈاکٹر قادر مگسی نے وفاقی حکومت سے گورنر سندھ کو فوری ہٹانے کا مطالبہ کیاہے ۔
جماعتِ اسلامی کے پر اتنی جلدی جلتے ہیں،زیرِعتاب تحریک انصاف سے بھی جہاں جہاں کردار ادانہیں کریں گے وہاں وہاں شکایت تو ہوگی۔
کراچی کو الگ صوبہ بنائے جانے کے مطالبے کو انتظامی بنیادوں پر دیکھے جانے کی توقع عبث ہے کہ یہاں اب تک ہر مسئلہ لسانی ہو کہ فرقہ ورانہ سیاست کی گودمیں ہی جاکر بیٹھتاہے۔ کراچی سندھ میں ہے ،اس کا حصہ ہے ، اس کو اٹھا کر خلا میں لے جانے کی بات یا مطالبہ نہیں ،یہ سندھ کا حصہ رہتے ہوئے الگ صوبہ کیوں نہیں بن سکتا؟ اگر انتظامی طور پر نہیں سنبھل رہا ،حالات دگرگوں ہیں ، الگ صوبے کا مطالبہ اگر وزیراعلیٰ سندھ جوکراچی کے بھی وزیراعلیٰ ہیں توانہیں اس کی بہتری و ترقی کیوں منظور نہیں؟ یہ کیوں اسے سندھ کے خلاف سمجھتے ہیں اور پھر ہم کراچی والے ،کراچی میں پیدا ہونے والے ،یہاں پلنے بڑھنے والے ،بچپن سے اس کو ترقی کرتے کے بجائے مستقل تنزل کی طرف جاتا ہوتا دیکھ رہے ہیں،اس مطالبے کو آپ وزیرِ اعلیٰ صاحب ،سندھ کے خلاف ثابت کرنا چاہ رہے ہیں۔
پاکستان تحریک ِ انصاف، جماعت ِ اسلامی ،سندھ ترقی پسند پارٹی ۔۔۔سب کو ملالیں ۔ آئندہ کراچی کا مئیر وہ بنے جو کراچی کو الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ رکھتا ہواور اس سے ایک قدم پیچھے نہ ہٹے ، یہاں وہ ہٹے وہاں کراچی کے عوام اس کا ساتھ چھوڑ دیں ، دوبارہ موقع نہ دیں ۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کو افسوس ہے کہ سندھ کے خلاف باتیں ہورہی ہیں اور میڈیا خاموش ہے ۔ کراچی گرے ،جلے یہ سب منظور اور کراچی کی بہتری کے لیے انتظامی حل نامنظور ۔۔۔ہم سندھ کے خلاف ہیں یا آپ ہمارے خلاف ہیں؟
ہم جمہوریت مخالف، ہم آئین مخالف، ہم تاریخ سے نابلد،ہم سندھ مخالف۔۔۔ہمیں آپ نے اپنا مخالف سمجھا ہے ، ہم کسی کے مخالف نہیں ، ہمارے حقوق کی آوا ز کو آپ کا سیاسی بیانیہ کیا کیا نام دے رہاہے؟ اصل میں تو آپ ہمیں اپنا مخالف سمجھتے ہیں اور بنا رہے ہیں۔نہ آپ سے کچھ بنتاہے ،نہ آپ سے کچھ سنبھلتاہے ( میں عوام کی بات کررہی ہوں ) آپ کا اپنا سب کچھ سنبھلا ہوا ہے اور بن رہاہے ، اپنی حالات کے سدھار کے لیے آپ ہماری آواز کو دبانا اور اس کا گلاگھونٹنا چاہتے ہیں، آپ ہمیں غدار بھی قرار دے سکتے ہیں، اپنے خطبات میں آئین دشمن ، جمہوریت دشمن اور سندھ دشمن کے خطابات سے بھی نواز سکتے ہیں،تو آ پ بھی سوچ لیں کہ آپ ہمیں کس سمت دھکیل رہے ہیں؟
ہم اپنی تاریخی غلطیوں ، سیاسی غلطیوں کے اعتراف کے ساتھ اور ان سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں،لیکن کہیں آپ کی مخالفت کچھ اور رنگ نہ لے آئے ۔ہمارے سیاست دان ہی ہیں جو کہ دوسروں کی نہیں بلکہ اپنے رہنمائوں اور لیڈروں کی غلطیوں سے کچھ سیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔نہ ملک دو ٹکڑے ہونا یا کرنا انہیں کچھ سکھا سکا نہ بلوچستان کو ان حالات تک پہنچا کر وہاں اٹھنے والی سیاسی بیداری اور شعور سے انہوں نے کوئی سبق حاصل کیا۔
کراچی کو بلوچستان کامقام ”سوئی” سمجھیں گے تو دوبارہ ٹھوکر کھائیں گے،شیخ مجیب کو مغربی پاکستان کی سڑکوں سے پٹ سن کی خوشبو آتی تھی ،کسی کو اسلام آبادکی روشنیوں میں کراچی نظر آتاہے جو کبھی خود روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا،بلوچستان میں علاقہ سوئی کی عورتیںاب تک لکڑیاں پھونک رہی ہیں ،آپ کیا سمجھتے ہیں ،عوام کو ان کی زمین سے نکلنے والے سوئی ،سونے سے محروم رکھ کر آپ اپنے محلوں میں پناہ لے سکیں گے؟
عوام کا فنڈ اور بجٹ عوام پر خرچ کرتے ہوئے آپ سب کی جان جاتی ہے ۔ پہلے مرکز سے صوبوں کو ملنا دوبھر تھا ،اب صوبوں سے بلدیاتی اداروں تک پہنچنادشوار ، کھائو ،پر کچھ لگا بھی دو۔ جو ملتاہے پنجاب کی سڑکوں کی حالت کا موازنہ کراچی کی سڑکوں سے کرتاہے، پنجاب کی ترقی کامقابلہ سندھ کے حالات سے کرتاہے ۔
کہیں پڑھا تھا کہ جاگیر دار اور صنعت کار کے طرز عمل میں فرق ہوتاہے ، جاگیر دار پسماندگی کو ختم کرنے کی سوچ نہیں رکھتا ،وہ سمجھتا ہے کہ اس کی حکومت کا استحکام کا عوام کے پسماندہ رہنے میں ہے، صنعت کار ایسا نہیں سوچتا ،وہ سمجھتاہے کہ کاریگر، صنعت کا ملازم خوش ہوگا تو صنعت ترقی کرے گی ، کراچی میں تو صنعتیں بند ہورہی ہیں ، بنگلہ دیش برآمد ہورہی ہیں ۔وزیرِ اعلیٰ صاحب مریم نواز سے کچھ سیکھ لیں ، ان سے تو اندرون سندھ بھی نہیں بنا، ترقی کی پالیسی اپنائیں تو آپ یقین کریں آپ سڑکوں کے اشتہار بنیں ،آپ آٹے کی بوریوں پر چھپیں ،ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
٭٭٭