وجود

... loading ...

وجود

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

جمعه 13 فروری 2026 ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

سلمان علی

عالمی استعماری ادارے ورلڈ بینک کے ماہرین کی جانب سے افغان معیشت پر تیار کردہ ماہ نومبر اور دسمبر 2025کی تجزیاتی رپورٹ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ افغان معیشت مستقل مثبت سمت پیش رفت کر رہی ہے ۔ ہم نے ویب سائٹ سے رپورٹ لے کر نمبرز کو اردو میں پیش کیا ہے ۔ورلڈ بینک اپنے کارکنان دنیا بھر میں پھیلا کر رکھتا ہے اور وہ کسی سے ڈرتا یا سازش نہیں کرتا ، ہر چیز اپنی ویب سائٹ پر جاری کرتا ہے ۔ ہم نے صرف نمبروں کے تضادات کو نمایاں کیا ہے باقی سب نمبرز ہیں۔
بظاہر مغربی میڈیا میں پیش کیے گئے بدترین حالات میں بھی شرح نمو کا مثبت رہنا غیر معمولی بات ہے ۔ ورلڈ بینک اب یہ تو نہیں کہتا کہ افغانستان میں فاقہ کشی یا بے روزگاری بڑھ رہی ہے ،لیکن سطح غربت میں اضافہ کا جو دعویٰ کرتا ہے اس کو ہم اُسی تجزیہ میں دیے گئے اعداد و شمار سے غلط ثابت کرتے ہیں۔ورلڈ بینک اقرار کرتا ہے کہ افغانستان میں قیمتیں مستحکم ہیں۔ دولت افزائی (سرمایہ کاری) کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور حکومتی محصولیاتی وسائل بڑھ رہے ہیں۔
نومبر 2025 میں صارفین کا قیمتی اشاریہ (سی پی آئی) صرف 1.2فیصد بڑھا۔ گوشت، دودھ، سبزیوں، شکر اور مشروبات کی قیمتوں میں بالکل اضافہ نہیں ہوا جبکہ خوردنی تیل کی قیمتیں پانچ فیصد کم ہوئیں۔غیر خوردنی تورم کی شرح نمو 0.8فیصد رہی۔ مواصلاتی قیمتیں 0.3 فیصد کم ہوئیں۔ کپڑوں کی قیمتوں میں 2 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اور گھریلو استعمال کی اشیا میں بھی 2 فیصد کمی ہوئی۔ دواؤں کی قیمتوں میں (جس کی وجہ پاکستانی پابندیاں ہیں) 4 فیصد اور دوائیوں کی ترسیلی لاگت میں اضافہ ہوا۔2025 میں افغانی کی بین الاقوامی شرح تبدل میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی ایک وجہ افغانستان کا اپنے تجارتی ساتھیوں (ایران، پاکستان ، بھارت اور امریکا) کے مقابلہ میں کم شرح افراط زر رہا۔ دسمبر 2025 میں اوسطاً 66 افغانی ایک ڈالر کے برابر رہا۔2025میں افغانستان کے تجارتی خسارہ میں 14فیصد اضافہ ہوا۔اس کی وجہ پاکستانی پابندیوں کے باعث درآمدات کی ترسیلی اخراجات میں اضافہ رہا ہے ۔ درآمدات اب نسبتاً طویل اور دشوار گزار راستوں سے حاصل کی جاتی ہیں۔ افغانستان کی درآمداتی حد میں اضافہ بھی تجارتی خسارہ کے بڑھنے کا ایک سبب رہا ہے ۔
پاکستانی پابندیوں سے افغان برآمدات بھی متاثر ہوئی۔ 2025 میں افغان درآمدات 3 فیصد بڑھیں۔ خوردنی درآمدات اور مجموعی افغان درآمدات کا 84 فیصد بنتی ہیں۔ برآمدات 60 فیصد گریں۔ کوئلے کی برآمدات صفر رہیں۔پاکستانی پابندیوں کے نتیجہ میں بھارت کی گرفت افغان تجارت پر بہرحال بڑھ رہی ہے اور یہ بھی کوئی سازش نہیں قومی ریاست کے اپنے مفاد ہوتے ہیں ، عالمی منڈیو ں میں داخلے کے بعد سب اپنے ملک کی معیشت کی بہتری چاہتے ہیں۔ دسمبر 2025میں صرف 2فیصد افغان برآمدات پاکستان کو حاصل ہوئیں جب کہ بھارت کو افغان برآمدات میں 61فیصد حاصل ہو گیا۔ اب بھارت افغانستان کا سب سے بڑا برآمدی خریدار ملک بن گیا ہے۔ افغان تجارتی راستے بند کرنے سے خیبر پختون خوا معیشت کو کئی بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔پاکستانی بندشوں سے افغان درآمدات متاثر نہیں ہوئیں ۔ افغانستان متبادل درآمدی راستوں کی تلاش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ 2025میں افغان درآمدات 5فیصد بڑھیں۔ مشینری اور بجلی کے سامان کی برآمدات 35فیصد بڑھیں اور معدنی برآمدات میں 30فیصد اضافہ ہوا۔ 2025میں صنعتی خام مال افغان برآمدات کا 50فیصد رہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ افغانستان کی پیداواریت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہاں صنعت کاری میں اضافہ جاری ہے ۔
ایران افغانستان کا سب سے بڑا درآمداتی شریک کار ہے ۔ اس کا حصہ افغان مجموعی درآمدات میں 2025میں 31فیصد رہا۔ متحدہ عرب امارات نے 18 فیصد افغانی درآمدات حاصل کر سکا۔ چین کا حصہ 8فیصد رہا۔ 2025میں بندشوں کے باوجود پاکستان 10فیصد درآمدات حاصل کر سکا۔ بھارت افغانی اشیا کا خریدار ہے ۔2025میں افغانستان کی حکومت کی مجموعی آمدنی میں 18 فیصد اضافہ ہوا جو ٹیکس وصولیابی کی انتظامی صلاحیت اور بڑھتے ہوئے عوامی تعاون کا مظہر ہے ۔ ٹیکس محصولات میں 2025 میں 25 فیصد اضافہ ہوا جو ٹیکس انتظامیہ کی کارکردگی کا نتیجہ رہا۔ 2025 میں کسٹمز محصولات میں 12 فیصد اضافہ ہوا۔ کسٹمز انتظامیہ کی کارکردگی میں بہت تیزی آئی۔غیر ٹیکس محصولات 2025 میں 10 فیصد بڑھے ۔
2025 میں حکومتی اخراجات صرف صفر اعشاریہ تین فیصد بڑھے ۔ اس کے باوجود مراعاتی اخراجات میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ امدادی رقوم شہدا کے وارثین، جو لوگ زلزلوں سے متاثر ہوئے ہیں اور معذور افراد کو دی گئیں۔ سرکاری ملازمین کی پنشنوں میں بھی اضافہ کیا گیا اور حکومت نے اپنے سابقہ زری ادائیگیوں کے ضمن میں ایک ملین ادا کیے ۔ حکومتی ترقیاتی اور دولت افزائی کے اخراجات میں 46 فیصد کا اضافہ ہوا۔ مجموعی حکومتی اخراجات اور وصول یابیوں میں توازن قائم رہا۔ یہ سب بغیر کوئی بیرونی یا اندرونی سول قرضہ کے حکومت نے کیا۔ نہایت نامساعد حالات میں کرپشن کی پوزیشن انتہائی پست سطح پر آئی ہے ، جس کی وجہ سے عوام کااعتبار اور تعاون حاصل ہو رہا ہے ۔


متعلقہ خبریں


مضامین
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری وجود جمعه 13 فروری 2026
پاکستان ازبکستان تعلقات ۔۔۔ ابھرتی ہوئی شراکت داری

ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت وجود جمعه 13 فروری 2026
ورلڈ بینک کی رپورٹ اور افغان معیشت

ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے! وجود جمعه 13 فروری 2026
ہمارا سماج اندر سے مر رہا ہے!

پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ وجود جمعه 13 فروری 2026
پنجاب میں کارکردگی کا پیمانہ

پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر