وجود

... loading ...

وجود

پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

جمعرات 12 فروری 2026 پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

حمیداللہ بھٹی

اگر یہ کہا جائے کہ پاک قازق تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں توبے جا نہ ہوگا ،اِن کے مابین ماضی میں بھی ہمیشہ اچھے اور دوستانہ تعلقات رہے مگر نوعیت محدود رہی، اب کچھ وسعت آئی ہے جوکہ ایک ایسی اچھی پیش رفت ہے ،جس سے وسط ایشیائی ریاستوں سے تاریخی روابط مزید گہرے اور مضبوط ہوسکتے ہیں۔
پاک قازق سوچ مقامی اور عالمی حوالے سے یکساں ہے۔ مضبوط ثقافتی اور مذہبی رشتوں سے منسلک ہونے کی بناپراِن میں اشتراکِ کار بہت آسان ہے ،کیونکہ ثقافت اور طرزِ زندگی میں بھی کچھ زیادہ فرق نہیں، لیکن تعاون کے وسیع امکانات و مواقع کے باوجود اعلیٰ سطحی روابط کا فقدان سمجھ سے بالاتر ہے۔ اِ س حوالے سے حائل رکاوٹیں دور کرنا دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایووف 23برس کی طویل مدت کے بعدرواں ماہ کے پہلے عشرے پاکستان آئے اِتنی طوالت سے دوستی کاتاثر جنم نہیں لیتا ۔قازقستان وسطی ایشائی ممالک میں رقبے کے لحاظ سے نہ صرف سب سے بڑا ملک ہے بلکہ اِس کی معیشت بھی خطے میں سب سے بڑی ہے۔ یہ ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، جن میں تیل وگیس یورنیئم اور دیگروسیع معدنی ذخائر شامل ہیں ۔پاکستان نے قازقستان کو1991 میں آزاد ملک تسلیم کرتے ہوئے سفارتی تعلقات قائم کیے مگر آج بھی تعلقات میں عملی گرمجوشی کم ہے ۔قازق صدرکاحالیہ دورہ باہمی تعلقات کی مضبوطی میں اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان اہداف حاصل کرنے پر توجہ دے وگرنہ ماضی کی طرح موجودہ معاہدے بھی محض کاغذات کا پلندہ ثابت ہوںگے۔
موجودہ صدی جیوپالیٹکس کی نہیں بلکہ جیواکنامکس کی ہے، جس سے اسلحہ ذخائر کی اہمیت کم ہوئی ہے۔ اب ریاستوں کی طاقت اور ترقی کا پیمانہ تجارتی راہداریاں اور معاشی اتحاد ہیں۔ اِس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے، مگر تجارتی صورتحال دن بدن مخدوش ہوتی جارہی ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پاکستان نئی تجارتی منڈیوں کی تلاش پر توجہ دے اور چند بڑے ممالک پر انحصار نہ کرے، بلکہ تجارت کومتنوع بنائے اور نئے شراکت داروں سے تعاون کو فروغ دے۔ خوش قسمتی سے وسط ایشیائی ممالک کا پاکستان کی طرف جھکائو ہے، جسے فطری بھی کہہ سکتے ہیں۔ وہ پاکستان سے تجارت اورا سٹریٹجک شراکت داری کے خواہاں ہے۔ اب یہ پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ دستیاب مواقع سے فائدہ اُٹھاکر اپنی تجارتی و معاشی بنیادیں مستحکم کرے ،سستی اور تاخیر کی صورت میں یہ ممالک کسی اور طرف دیکھ سکتے ہیں۔
پاکستان کا محل وقوع بہت اہم ہے، گرم پانیوں کی بندرگاہیں لینڈ لاکڈ ممالک کے لیے پُرکشش ہیں ۔اِن تک رسائی دیکر وسط ایشیائی ریاستوں سے راہدای محصولات کی مدمیں نہ صرف خطیر رقوم حاصل کی جاسکتی ہیں ،بلکہ تجارت کو بھی فروغ دیاجا سکتا ہے کیونکہ راہداری دینے سے وسط ایشیائی ریاستوں کا پاکستان پر انحصار بڑھے گا ۔قازق صدر کا دورہ اسلام آباد میں پاکستان کو قابلِ اعتماد دوست اورا سٹریٹجک شراکت دار کہنا ثابت کرتا ہے کہ وہ پاکستان سے تعلقات بڑھانے میں سنجیدہ ہیں۔ انھوں نے پاکستان کی دفاعی شعبے کی کامیابیوں کا بھی برملا اعتراف کیا ۔یہ ایک بڑی سفارتی اور دفاعی کامیابی ہے۔ اب فائدہ اُٹھانے کی حکمت عملی ترتیب دینا پاکستانی قیادت کی ذمہ داری ہے کیونکہ سُستی اور کاہلی سے راغب قومیں رُخ تبدیل بھی کر سکتی ہیں، عدم توجہی کی لاغر معاشی حالت مزید متحمل نہیں ہو سکتی۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ قازق صدر کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران دونوں ممالک نے ایک پانچ سالہ تجارتی روڈ میپ کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دوبرس میں دوطرفہ تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جایا جائے گا، جسے کم ترین ہدف کہناہی قرین انصاف ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک میں تعاون کے وسیع مواقع ہیں اوردونوں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اُٹھا کر دفاع اور معیشت بہتر بنا سکتے ہیں۔ ماہرین دوسالوں میں ایک ارب ڈالر تجارت کے ہدف کو مایوس کُن قرار دیتے ہیں ۔اگر تجارت میں حائل رکاوٹیں دورکی جائیں تو اقتصادی تعاون کی صلاحیت پندرہ ارب ڈالر تک باآسانی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ دونوں ممالک تجارت کے ساتھ مشترکہ پیداوار کے امکانات تلاش کریں ۔پاکستان اپنی دفاعی پیدوار سے قازقستان کادفاع مضبوط ترکر سکتا ہے تو قازقستان صنعتی و زرعی تعاون سے پاکستان کو خوراک میں خود کفالت اورصنعتی حوالے سے مدد دے سکتاہے ۔قازق صدر کے حالیہ دورے کے دوران تجارت،صنعتی سرمایہ کاری،توانائی ، تعلیم، صحت، کھیل، ریلوے ،مصنوعی زہانت اورڈیجیٹل ترقی سمیت مزید کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے 37 کے لگ بھگ معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے جوکہ دورے کا مثبت پہلو ہے لیکن یادرکھیں عملدرآمد کے بغیر معاہدے اور یاداشتیں بے معنی ہوتی ہیں۔
پاکستان کویقین ہے کہ سمندرتک رسائی کے لیے وسطی ایشیا اسلام آباد کی طرف دیکھ رہا ہے۔ یہ بات بڑی حدتک درست ہے کیونکہ وسطی ایشیا ایک ایسا خطہ ہے جس کی سرحدیں سمندرسے نہیں لگتیں ۔مزیدیہ کہ چین ،روس ایران اور ترکیہ جیسے بڑے ممالک اِس کے ہمسائے ہیں ۔پاکستان کے اِس لیے بھی وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارتی اور دفاعی تعاون ناگزیر ہے کہ پاکستان ہی وسط ایشیائی ریاستوں کے لیے جنوبی ایشیا تک رسائی کا آسان اور مختصر راستہ ہے تو وسطی ایشیائی ریاستوں سے تعاون بڑھا کر پاکستان بھی یوریشیا تک رسائی حاصل کر سکتاہے لیکن اِس کے لیے لازم ہے کہ تجارتی راستے محفوظ ،آسان اور بہتر ہوں مگر ابھی تک تمام منصوبے محض کاغذوں تک محدودہیں، کسی ایک منصوبے پر بھی عملی پیش رفت کا آغاز نہیں ہوسکا۔بھارت کے چاہ بہارسے نکلنے کافائدہ اُٹھاناہی دانشمندی ہے۔
قازق صدر کے حالیہ دورے کا سب سے اہم پہلو جنوبی اور وسطی ایشیا کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے کے لیے ریل منصوبہ کاجائزہ لینا اور حتمی شکل دینا ہے۔ اِس منصوبے کی لاگت کا تخمینہ سات ارب ڈالر ہے ۔یہ منصوبہ قازقستان اور ترکمانستان کو براستہ افغانستان پاکستانی بندرگاہوں سے ملائے گا جس کی تکمیل بظاہر تاخیر کا شکار ہو سکتی ہے کہ افغانستان میں امن و امان کی صورتحال نہایت مخدوش ہے لیکن تھوڑی سی توجہ دینے سے یہ قابلِ عمل منصوبہ خطے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کا باعث بن سکتا ہے۔ اِس طرح نہ صرف چار ممالک ایک دوسرے سے براہ راست منسلک ہو جائیں گے اور مسلم بلاک کی تشکیل سہل ہوگی بلکہ باہمی تجارتی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ روزگار اور صنعت کو فروغ ملے گا، یوں خطے میں معاشی انقلاب کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات وجود جمعرات 12 فروری 2026
پاک قازق تعاون کے امکانات واثرات

بونوں کا راج وجود جمعرات 12 فروری 2026
بونوں کا راج

مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق وجود جمعرات 12 فروری 2026
مشرقی ایشیا سے پاکستان کیلئے اسباق

نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے! وجود بدھ 11 فروری 2026
نالائق کوئی نہیں، صرف توجہ کی کمی ہے!

وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی وجود بدھ 11 فروری 2026
وزیراعلیٰ آسام کی دریدہ دہنی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر