وجود

... loading ...

وجود

شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پیر 09 فروری 2026 شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

ریاض احمدچودھری

چین نے بھارتی وزارت خارجہ کے کشمیر کی وادی شکسگام سے متعلق دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکسگام چین کا علاقہ ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے شکسگام وادی میں چین کے انفرااسٹرکچر منصوبوں پر بھارتی تنقید سے متعلق سوال کیا تو چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ چین کو اپنی سرزمین پر تعمیراتی سرگرمیاں انجام دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔ جس علاقے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ چین کا حصہ ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ شکسگام وادی بھارتی علاقہ ہے اور نئی دہلی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ بھارت نے 1963 میں ہونے والے نام نہاد چین پاکستان سرحدی معاہدے کو کبھی تسلیم نہیں کیا اور اس معاہدے کو غیر قانونی اور کالعدم سمجھتا ہے۔ نئی دہلی نام نہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتی۔بھارت کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر اور لداخ کے تمام یونین ٹیریٹریز بھارت کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہیں اور یہ مؤقف پاکستانی اور چینی حکام کو متعدد بار واضح طور پر بتایا جا چکا ہے۔ بھارت شکسگام وادی میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوششوں پر مسلسل احتجاج کرتا رہا ہے۔چینی ترجمان نے بھارتی مؤقف کے جواب میں کہا کہ چین اور پاکستان نے 1960 کی دہائی میں سرحدی معاہدے پر دستخط کیے تھے اور دونوں ممالک نے اپنی سرحدوں کی حد بندی کی تھی جو خودمختار ریاستوں کا حق ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری ایک اقتصادی تعاون کا منصوبہ ہے جس کا مقصد مقامی سماجی و اقتصادی ترقی اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ چین پاکستان سرحدی معاہدہ اور سی پیک، کشمیر کے مسئلے پر چین کے مؤقف کو متاثر نہیں کرتے اور اس حوالے سے چین کا مؤقف بدستور برقرار ہے۔
یاد رہے کہ بھارت اور چین کے درمیان طویل عرصے سے سرحدی تنازعات چلے آ رہے ہیں، تاہم 2024 میں دونوں ممالک نے ہمالیائی سرحد پر فوجی کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک اہم معاہدہ کیا تھا، جہاں 2020 میں جھڑپ کے دوران بھارت کے 20 اور چین کے چار فوجی ہلاک ہوئے تھے۔2024 کے معاہدے کے بعد دونوں ممالک نے تعلقات بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے، جن میں براہ راست پروازوں کی بحالی اور سرمایہ کاری و تجارت میں اضافہ شامل ہے۔اس کے باوجود چین اور بھارت کے درمیان اروناچل پردیش سمیت مختلف علاقوں پر تنازع برقرار ہے، جسے بیجنگ زانگنان کہتا ہے اور جنوبی تبت کا حصہ قرار دیتا ہے جبکہ بھارت ان دعووں کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے۔بیجنگ کی جانب سے اس شمال مشرقی ہمالیائی ریاست میں مقامات کے نام تبدیل کرنے پر بھی نئی دہلی کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آتا رہا ہے۔
بھارت کو چین سے ملحقہ سرحد پر ایک اور دھچکا لگا، چین نے لداخ کے اہم حصے اپنے نام کرلیے، بیجنگ نے ہوتان پریفیکچر میں لداخ کے کچھ حصے شامل کر کے دو نئی کاؤنٹیز کے قیام کا اعلان کردیا، نئی پیش رفت پر مودی حکومت سیخ پا ہوگئی۔ چینی خبر رساں ادارے شنوا نے رپورٹ کیا ہے کہ چینی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی کونسل کی منظوری کے بعد ہوتان پریفیکچر میں ہیان کاؤنٹی اور ہیکانگ کاؤنٹی کے قیام کا اعلان کردیا۔ہیان کی کاؤنٹی کا سیٹ ہونگلیوٹاؤن شپ ہے، جبکہ ہیکانگ کی کاؤنٹی کا سیٹ زیڈولا ٹاؤن شپ ہے، ان کاؤنٹیوں میں اکسائی چن کے علاقے کا ایک بڑا حصہ شامل ہے، جس پر بھارت چین پر غیر قانونی طور پر قبضے کا الزام لگاتا ہے۔چین کی جانب سے یہ اعلان 5 سال بعد سرحدی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے چند دن بعد کیا گیا، بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے گزشتہ ماہ بیجنگ کا دورہ کرکے سرحدی علاقوں پر مذاکرات بھی کئے تھے۔ چینی دفاعی ترجمان نے کہا تھا کہ سرحدی علاقوں میں امن برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششوں کے لیے تیار ہیں۔بھارتی وزارت خارجہ نے بیجنگ کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایا تھا، یہ پہلا موقع تھا کہ جب بھارت اور چین نے ہمالیائی سرحدی تنازع پر کھلے الفاظ میں اعتراض کیا۔یاد رہے کہ 2020 میں لداخ میں سرحدی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں میں کئی بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع پر نئی پیش رفت خطے میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتی ہے، چین کبھی بھی ایسا قدم نہیں اٹھاتا جس میں اسے کوئی شک و شبہ ہو لہٰذا اب بھارت کے لیے مشکلات بڑھیں گی۔دفاعی ماہرین کے مطابق بھارت کی وزارت خارجہ کی جانب سے واویلا دراصل خطے میں اس کی بالادستی کے خواب کو لگے دھچکے کارد عمل ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر غیر قانونی قبضہ جمارکھا ہے اوراب چین کے ہاتھوں اس کیساتھ بھی وہی ہوا ہے۔
٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر