وجود

... loading ...

وجود

پروفیسر شاداب احمد صدیقی

پیر 09 فروری 2026 پروفیسر شاداب احمد صدیقی

منظر نامہ

ٹرمپ مودی تجارتی معاہدہ کامیابی یا زرعی سمجھوتہ؟
گزشتہ کئی دنوں سے بھارت ٹرمپ کی مخالفت کا سامنا کر رہا تھا، کیونکہ امریکی صدر مسلسل ٹیرف بڑھا رہا تھا جس سے بھارتی معیشت پر دباؤ بڑھ رہا تھا۔ اس دوران مودی حکومت ٹرمپ کی خوشامد میں مصروف رہی، جبکہ ٹرمپ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دے رہا تھا۔ تاہم اچانک سامنے آنے والے ٹرمپ مودی معاہدے نے مودی سرکار کو وقتی طور پر خوش کر دیا اور اس نے نہ صرف داخلی دباؤ کم کیا بلکہ عالمی سطح پر اپنی پوزیشن بھی مستحکم کرنے کا موقع حاصل کر لیا۔ٹرمپ مودی تجارتی معاہدہ اعتماد، خدشات اور بھارتی معیشت کا امتحان ہے . بھارت کی سیاسی اور معاشی فضا میں اچانک اس وقت ہلچل مچ گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کے اعلان کا کریڈٹ لیا۔ اعلان کے فوراً بعد بھارتی اسٹاک مارکیٹس اور کرنسی میں وقتی استحکام دکھائی دیا، جسے حکومتی حلقوں نے مثبت اشارہ قرار دیا، مگر اس ابتدائی تاثر کے نیچے ایک گہری بے چینی بھی جنم لیتی چلی گئی۔ سیاسی جماعتوں، کسان تنظیموں اور پالیسی ماہرین میں یہ سوال شدت سے اٹھنے لگا کہ کیا کم محصولات اور تجارتی سہولتوں کے وعدوں کے بدلے بھارت نے اپنے بنیادی قومی مفادات پر ضرورت سے زیادہ سمجھوتہ تو نہیں کر لیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دیہی معیشت پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے ۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت اس وقت پوری قوت کے ساتھ یہ یقین دہانی کرانے میں مصروف ہے کہ معاہدے میں زراعت اور ڈیری جیسے حساس شعبوں کو محفوظ رکھا گیا ہے ۔ بھارتی وزیر تجارت پیوش گوئل نے گزشتہ دو دنوں میں دو بار یہ مؤقف دہرایا کہ امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں بھارت نے اپنے کسانوں کے مفادات پر کوئی آنچ نہیں آنے دی اور ڈیری سیکٹر کو کسی قسم کی غیر ملکی یلغار سے بچایا گیا ہے ۔ حکومتی بیانات کا مقصد اگرچہ اعتماد بحال کرنا ہے ، مگر معاہدے کی مکمل تفصیلات سامنے نہ آنے کے باعث شکوک و شبہات کم ہونے کے بجائے مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
بھارتی معیشت میں زراعت محض ایک شعبہ نہیں بلکہ کروڑوں خاندانوں کی روزی روٹی، سماجی ڈھانچے اور سیاسی طاقت کا محور ہے ۔ ڈیری سیکٹر خصوصاً دیہی خواتین اور چھوٹے کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک مستقل ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔ اسی لیے جب یہ خدشہ پیدا ہوا کہ امریکی زرعی مصنوعات، خاص طور پر دودھ اور اس سے بنی اشیا، کو بھارتی منڈی تک زیادہ آسان رسائی مل سکتی ہے تو اس کا ردعمل فطری طور
پر شدید تھا۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر بڑے امریکی زرعی کارپوریشنز کم قیمت پر مصنوعات بھارت میں لانے لگیں تو مقامی پیداوار
مقابلہ نہیں کر سکے گی اور چھوٹے کسان معاشی طور پر کچلے جائیں گے ۔حکومت کی جانب سے زرعی پالیسی سے متعلق فیصلے کی تفصیلات
سامنے نہ آنے کے باعث کسانوں میں پیدا ہونے والی بے چینی نے اب احتجاجی شکل اختیار کر لی ہے ۔ متعدد کسان تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں ملک گیر احتجاج کریں گی اور 12 فروری کو ممکنہ ہڑتال بھی زیر غور ہے ۔
ان تنظیموں کا مؤقف ہے کہ حکومت کو معاہدے کی ہر شق پارلیمان اور عوام کے سامنے واضح کرنی چاہیے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ فائدہ واقعی بھارت کا ہے یا محض وقتی سفارتی کامیابی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔ کسان رہنماؤں کے بیانات میں یہ خدشہ نمایاں ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی بڑے فیصلے بند کمروں میں ہو گئے اور اصل فریق، یعنی کسان، کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔سیاسی سطح پر بھی اس معاہدے نے محاذ آرائی کو جنم دیا ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمان میں شدید احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ یہ معاہدہ امریکا کے حق میں اور بھارتی کسانوں کے خلاف دکھائی دیتا ہے ۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی نے سخت الفاظ میں کہا کہ اس معاہدے میں بھارتی کسانوں کی محنت اور قربانیوں کا سودا کر دیا گیا ہے اور حکومت نے ایک بار پھر کارپوریٹ مفادات کو عام آدمی پر ترجیح دی ہے ۔ اپوزیشن کا استدلال ہے کہ اگر معاہدہ واقعی متوازن اور فائدہ مند ہے تو پھر حکومت کو اس کی شفاف تفصیلات سامنے لانے میں ہچکچاہٹ کیوں محسوس ہو رہی ہے ۔مودی حکومت کے حامی اس معاہدے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق امریکا جیسے بڑے تجارتی شراکت دار کے ساتھ بہتر شرائط پر معاہدہ بھارت کی برآمدات، ٹیکنالوجی تک رسائی اور عالمی منڈی میں ساکھ کو مضبوط بنا سکتا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ عالمی معیشت میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے درمیان بھارت کو بڑے فیصلے کرنے ہوں گے اور ہر تجارتی معاہدہ کسی نہ کسی حد تک سمجھوتوں کا متقاضی ہوتا ہے ۔ تاہم ناقدین اس دلیل کو اس وقت کمزور سمجھتے ہیں جب سمجھوتے کا بوجھ پہلے سے کمزور طبقات پر ڈال دیا جائے ۔اس پورے معاملے میں ایک اہم پہلو ٹرمپ کی سیاسی حکمت عملی بھی ہے ۔ ٹرمپ ماضی میں بھی سخت تجارتی مؤقف اور جارحانہ بیانات کے ذریعے اپنے حامیوں کو متحرک کرتے رہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ معاہدے کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آنا، جب امریکی سیاست میں انتخابی ماحول گرم ہو رہا ہے ، اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ یہ قدم داخلی سیاسی فائدے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ اس تناظر میں بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ محض بیانات کے بجائے ٹھوس حقائق کی بنیاد پر اپنی پوزیشن واضح کرے ۔
بھارتی منڈیوں اور کرنسی کا وقتی سنبھلنا بھی اس معاہدے کے حق میں ایک دلیل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے ، مگر معاشی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ مالیاتی منڈیاں اکثر قلیل مدتی اشاروں پر ردعمل دیتی ہیں۔ اصل امتحان اس وقت ہو گا جب معاہدے کی شقیں عملی شکل اختیار کریں گی اور ان کے اثرات کسان، صنعت اور صارف تک پہنچیں گے ۔ اگر دیہی معیشت کو نقصان پہنچا تو اس کے سیاسی اور سماجی اثرات کہیں زیادہ گہرے ہو سکتے ہیں، جن کا اندازہ صرف مارکیٹ انڈیکس سے نہیں لگایا جا سکتا۔بھارت کی تاریخ گواہ ہے کہ زرعی پالیسی میں معمولی سی لغزش بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دے سکتی ہے ۔ حالیہ برسوں میں زرعی قوانین کے خلاف ہونے والی تحریک نے حکومت کو بالآخر پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا تھا۔ ایسے میں ٹرمپ مودی تجارتی معاہدہ محض ایک خارجی پالیسی کا معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ داخلی استحکام، سیاسی ساکھ اور عوامی اعتماد کا امتحان بن چکا ہے ۔
آگے بڑھنے کا راستہ محض بیانات یا وقتی معاشی اشاروں میں نہیں بلکہ شفافیت، مکالمے اور اعتماد سازی میں پوشیدہ ہے ۔ حکومت کو چاہیے
کہ معاہدے کی تمام شقیں واضح انداز میں پارلیمان اور عوام کے سامنے رکھے ، کسان تنظیموں کے خدشات کو سنجیدگی سے سنے اور یہ یقینی بنائے کہ زراعت اور ڈیری جیسے حساس شعبے واقعی محفوظ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آزاد ماہرینِ معیشت کی رائے کو شامل کر کے ممکنہ اثرات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ سامنے لایا جائے ، تاکہ فیصلہ سازی جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر ہو اور بھارت عالمی تجارت میں آگے بڑھتے ہوئے اپنے کسان اور قومی مفاد دونوں کا تحفظ کر سکے ۔بھارت میں مودی حکومت نے ہمیشہ کسانوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا ہے ۔ایسے فیصلے جو کسانوں کی رائے کو نظر انداز کرتے ہیں اور ان کی زمین، پیداوار اور منڈی تک رسائی محدود کرتے ہیں، صرف اقتصادی دباؤ پیدا نہیں کرتے بلکہ اجتماعی مایوسی کی آگ بھڑکاتے ہیں۔ کسان مسلسل احتجاج، دھرنوں اور ہڑتالوں کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں، اور مودی سرکار کی خوشامدی اور حکومتی تدبیر کے پردے کے پیچھے چھپا ہوا یہ رویہ حقیقی قومی مفاد سے دور، ذاتی اور سیاسی سودے بازی کے لیے کھڑا کیا گیا ایک ظالمانہ منظرنامہ ہے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
شکسگام ، چین کا حصہ ہے! وجود پیر 09 فروری 2026
شکسگام ، چین کا حصہ ہے!

پروفیسر شاداب احمد صدیقی وجود پیر 09 فروری 2026
پروفیسر شاداب احمد صدیقی

پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے ! وجود اتوار 08 فروری 2026
پاکستان معاشی مواقع کھورہاہے !

روٹی اور تماشا وجود اتوار 08 فروری 2026
روٹی اور تماشا

ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش وجود اتوار 08 فروری 2026
ایران۔امریکہ کشیدگی:بدلتا عالمی توازن اور جنگ و امن کی کشمکش

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر