وجود

... loading ...

وجود

آدم بو آدم بو!!

بدھ 28 جنوری 2026 آدم بو آدم بو!!

ماجرا/ محمد طاہر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ریاستی جِنوں کے منہ سے ایک مرتبہ پھر ”آدم بو آدم بو” کی صدائیں سنتے ہیں۔ افسانوی رنگ میں ڈھلے بین السطور پیغام میں ایک نہ ختم ہونے والی بھوک کا طرزِ احساس ملتا ہے تودوسری طرف کسی ‘شہزادی’ کی قید کا بھی بار دگر خوف جاگتا ہے۔شہزادہ رہائی کے لیے تکلیفیں جھیلتا جب شہزادی کے قریب پہنچتا ہے تو ‘جن ‘کی آہٹ سنائی دیتی ہے۔ شہزادی ، شہزادے کو چھپادیتی ہے مگر جن ”آدم بو آدم بو” کہتے ہوئے شہزادے کو تلاشنے لگتا ہے۔کہانیوں اور افسانوں میں یہ”جن” ناکام ہو جاتے ہیں اور شہزادے اکثر اپنی مراد پا لیتے ہیں۔ مگر ہمارے سماج کے’ جن’ اپنی نہ ختم ہونے والی بھوک میںکتنے ہی شہزادوں کو اپنا لقمۂ تر بنا چکے ہیں۔
عدلیہ اور وکلاء تنظیموں پر مکمل قابو پانے کے باوجود پنجاب میں ابھی بھی ماورائے عدالت قتل ہو رہے ہیں، کیوں؟ آدم بو آدم بو!! جن ججز کے متعلق کبھی وکلاء سوال اُٹھاتے تھے کہ کیا وہ جج کہلائے جانے کے قابل ہیں؟ اب وہی ججز وکلاء کے سامنے سوال اُٹھاتے ہیں کہ ”کیا اُسے آپ وکیل سمجھتے ہیں”؟ آدم بو آدم بو!!!پارلیمنٹ قابو میں ہے، سیاسی جماعتیں دیوار سے لگی ہیں۔ وزیراعظم کبھی وزیراعلیٰ ہو کر خود کو ‘خادم اعلیٰ’ کے بناؤٹی بیانئے میں چھپاتے تھے، اب حقیقت میں طاقت ور کے ”خادم” بن چکے۔ مگر پھر بھی طاقت ور ‘نوکر’ صحافیوں کے ذریعے ‘ونڈر بوائے’ کی درفنطنی چھوڑتے ہیں۔ دنگ خادم نے شکوہ بھی نہ کیا ہوگا، مگر کہیں سے کوئی آواز ضرور اُٹھی ہو گی تو ‘نوکروں’ کے دوسرے حلقے سے طفل تسلی کا سامان بھی کر دیا جاتا ہے، ایک صفحہ ابھی پھٹا نہیں، اور خادم سے بڑھ کر خادم کہاں دستیاب ہوگا؟ اس پورے طرزِ فکر کے دائرے میںنہ ختم ہونے والی بھوک کی آواز ہے، آدم بو آدم بو!!!
آئینی ترامیم کی دھماچوکڑی بھی اسی’ آدم بو’ کی نفسیات میں ہے۔ ابھی 26 ویں ترمیم ہضم بھی نہ ہوئی تھی کہ 27 ویں ترمیم کی بھوک ستانے لگی۔ وزیر خارجہ اسحق ڈارکسی 27 ویں ترمیم کے امکان کو مان کر نہ دے رہے تھے، اُن کی زبان سے یہ الفاظ بلاوجہ نہ پھسلے تھے کہ ”ابھی تو 26 ویں ترمیم ہضم بھی نہیں ہوئی”۔ پھر وہی 27 ویںترمیم کی فضیلت میں رَطبُ اللساں ہو گئے۔پیچھے محرک وہی تھا، نہ ختم ہونے والی بھوک کی ستادینے والی آواز ۔۔ آدم بو آدم بو!!! اب ایک نئی ترمیم کا غلغلہ ہے، 28ویں ترمیم اور وہی آواز۔۔” آدم بو آدم بو”!!
نفاق میں لت پت لب و لہجے سے مستعار الفاظ کی جو کھٹ پٹ سنائی دیتی ہے، وہ انتہائی خوش نما ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن کی ریاضیاتی ترمیم جس کا ایک ہدف ہے۔طاقت ور حلقوں کے نزدیک وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی آئینی تقسیم کا فارمولااب کفایت نہیں کررہا۔ یہ گیان دھیان بانٹنے والے لوگ کون ہیں؟ وہی جو کرپشن کو مسئلہ نہیں سمجھتے اور ریاست کے اندر ریاست کے قیام کو اور اس کی حفاظت کو ترجیح اول سمجھتے ہیں، دوسری طرف مخالفت کرنے والے وہ ‘اتحادی’ ہیں جنہیں اسی ریاست میں حکومت کے اندر ایک حکومت قائم کیے رکھنی ہے۔ ”سسٹم” کے نام سے جسے جانا پہچانا جاتا ہے۔ جب ایسے ‘ساجھے دار’ ایک دوسرے کے خلاف لڑ رہے ہوں تو یہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کے نام پر مفادات کا ٹکڑاؤاورہاتھ لگے کیک کی پیمائشی لڑائی لگتی ہے۔ایک اور شور بلدیاتی نظام کا بھی ہے۔ گزشتہ دنوں خواجہ آصف نے پارلیمنٹ میںسانحہ گل پلازہ کو یاد کیا تو ان کے کُنج لب سے بلدیاتی نظام کو طاقت ور بنانے کے الفاظ بھی پھوٹے، بھول جائیں کہ اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی نظام کو معطل رکھنے کے حوالے سے کیا کیا حیلے بہانے اختیار کیے گئے ۔ سندھ میںتو پیپلزپارٹی کی حکومت ہے اور اقتدار کی رسمی کشمکش میں اس نوع کے الفاظ مباح ہوتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے احتجاج پر نون لیگ نے اِسے خواجہ آصف کے ذاتی خیالات کہہ کر ٹال دیا۔ یاد رہے کہ خواجہ آصف پاکستان کے وزیر دفاع ہیں۔ یہاں’ آدم بو آدم بو ‘کی صدائیں بھی متعصبانہ ہیں۔
دلچسپ طور پر 28ویں ترمیم کا ایک ہدف نئے صوبوں کی تشکیل بھی ہیں۔سندھ کو یہ گوارا نہیں۔ پی پی کی حکومت اس کے لیے کچھ مقدس توجیہات کی آڑ لیتی ہے، یعنی دھرتی ماں وغیرہ وغیرہ! اگرچہ اس دھرتی ماں کو کرپشن سے بھنبھوڑتے ہوئے اس کی عزت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ انور مجید اورڈاکٹر عاصم ایسی مخلوق کو اسی دھرتی ماں سے چھیڑ چھاڑ کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ دوسری طرف ایم کیو ایم ہے، جو اپنے قائد سے دست کش ہو کر طا قت ور حلقوں کے رحم وکرم پر ہے اور جن کے ارکان اسمبلی اپنا مکمل وجود فارم 47 کی بدولت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ایم کیوایم مدت ِ مدید سے اپنا اُجرتی کردار پسند کر چکی ہے۔چنانچہ ایم کیو ایم رہنماؤں کی زبانوں سے مطالبات دراصل ہواؤں کے رخ کاتعین کرتے ہیں، تھوڑا یہ بھی کہ قیدی سانس لیتا ہے۔ کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کرنے کا مطالبہ ہو یا اِسے ایک نیا صوبہ بنانے کی آرزو۔ درحقیقت پشت پر دوڑ ہلانے والوں کی منشاء واضح کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اُن قوتوں کو براہِ راست ہدفِ تنقید نہیں بنا سکتی، چنانچہ وہ آسان ہدف چنتی ہے، یعنی ایم کیو ایم!کراچی کے ان یخ بستہ دنوں میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم گل پلازہ کی آگ میں اسی کھیل سے ہاتھ تاپ رہی ہیں۔ کردار کی یہی بہیمت انسان کو ”آدم بو آدم بو” کی نفسیات دیتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی شعبدہ بازیوں اور طاقت کی نٹ بازیوں نے قومی سطح کے ہر مسئلے کو مذاق بنا دیا ہے، قومی مالیاتی کمیشن ، بلدیاتی نظام اور نئے صوبوں کے قیام کے معاملات بھی ایسے ہی ”مذاق ” یا پھر مسئلے ہیں۔ کوئی کہیں پر بھی کھڑا ہو، وہ ان مسئلوں کے ساتھ آدم بوآدم بو کی ذہنیت کے ساتھ کھلواڑ کرتا دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ سانحہ گل پلازہ کی آگ میں جل کر راکھ ہونے والے غریب گھروں کے بچے تو نہ ملے مگر لڑنے کے لیے کراچی کا مستقبل مل گیا۔ مائیں بلک بلک کر اپنے بچوں کی راکھ مانگ رہی ہیں، مگر انہیں کراچی میں حکمران اتحادیوں کی پریس کانفرنسیں مل رہی ہیںجو دراصل اس سوال پر لڑرہے ہیں کہ کراچی کا پیسہ کون کمائے گا، پیپلزپارٹی کی حکومت کا تہہ دار سسٹم یا پھر طاقت ور حلقوں میں پنپتا متبادل نظام؟
28ویں ترمیم کا دستر خوان سج گیا ہے اور”ریاستی و حکومتی جن” آوازیں لگا رہے ہیں، آدم بو، آدم بو، آدم بو!!
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
آدم بو آدم بو!! وجود بدھ 28 جنوری 2026
آدم بو آدم بو!!

قیدی نمبر 650 ایک گمشدہ ماں کی کہانی وجود بدھ 28 جنوری 2026
قیدی نمبر 650 ایک گمشدہ ماں کی کہانی

گل پلازہ کا سانحہ، حکمرانی کی ناکامی اور وفاقی فریب وجود بدھ 28 جنوری 2026
گل پلازہ کا سانحہ، حکمرانی کی ناکامی اور وفاقی فریب

تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے! وجود منگل 27 جنوری 2026
تمل وقار وتشخص سے چھیڑ چھاڑ مہنگا پڑسکتا ہے!

بھارتی مسلمانوں کا قتل عام وجود منگل 27 جنوری 2026
بھارتی مسلمانوں کا قتل عام

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر