... loading ...
آواز
۔۔۔۔۔
امداد سومرو
کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ محض ایک عمارت کے جلنے کا واقعہ نہیں تھی، بلکہ یہ اس شہر پر مسلط دہائیوں کی بدانتظامی، کرپشن، بے حسی اور سیاسی مفادات پر مبنی حکمرانی کا جیتا جاگتا ثبوت تھی۔ اس سانحے نے کئی قیمتی انسانی جانیں نگل لیں، متعدد خاندان اجڑ گئے اور ایک بار پھر یہ تلخ سوال کھڑا کر دیا کہ آخر کراچی میں انسانی جان کی قیمت کیا ہے ؟ کیا یہ محض اعداد و شمار تک محدود ہے یا واقعی حکمرانوں کے لیے اس کی کوئی اہمیت بھی ہے ؟
یہ حادثہ ایسے وقت میں پیش آیا جب سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی لگ بھگ سترہ برس سے بلا تعطل اقتدار میں ہے ۔ اتنے طویل عرصے کی حکمرانی کے بعد بھی اگر کراچی جیسے میگا سٹی میں عمارتوں کی حفاظت، فائر سسٹم اور ایمرجنسی رسپانس کا کوئی مؤثر نظام موجود نہ ہو تو اسے نااہلی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے ؟
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق گل پلازہ میں آگ لگنے کی ممکنہ وجہ شارٹ سرکٹ یا بجلی کے نظام میں خرابی بتائی جا رہی ہے ، تاہم تحقیقات ابھی مکمل نہیں ہوئیں۔ بعض رپورٹس میں انسانی غفلت، آتش گیر سامان کے غیر قانونی ذخیرے اور حفاظتی انتظامات کی شدید کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں کہ آگ کیسے لگی، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ جب آگ لگی تو لوگ بچ کیوں نہ سکے ؟اس کا جواب نہایت سادہ مگر انتہائی خوفناک ہے ۔کیونکہ انہیں بچنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ ایمرجنسی دروازے بند تھے ، کئی مقامات پر تالے لگے ہوئے تھے ، سیڑھیاں تنگ اور اندھیری تھیں، وینٹی لیشن کا کوئی مناسب انتظام موجود نہیں تھا اور عمارت کے اندر آتش گیر سامان سے بھری دکانیں بلا روک ٹوک کام کر رہی تھیں۔ یہ حقائق نئے نہیں؛ کراچی کے تجارتی مراکز میں برسوں سے یہی صورتحال برقرار ہے ۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گل پلازہ کے حوالے سے ماضی میں فائر سیفٹی کے نوٹس، انتباہات اور شکایات جاری ہو چکی تھیں، مگر کراچی میں رائج روایت کے مطابق یہ تمام نوٹس فائلوں میں دب کر رہ گئے۔ نہ عمارت کے مالکان نے قانون پر عمل کیا اور نہ ہی متعلقہ سرکاری اداروں نے کوئی سنجیدہ قدم اٹھایا۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ اور میونسپل ادارے سب کے سب گویا خاموش تماشائی بنے رہے ۔نتیجتاً جب حادثہ پیش آیا تو فائر بریگیڈ اور ریسکیو ادارے بھی محدود وسائل، پرانی گاڑیوں اور ناقص تیاری کے باعث مؤثر کارروائی نہ کر سکے ۔ یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ جب حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے نام پر اربوں روپے خرچ کرنے کے وسائل موجود ہیں تو فائر بریگیڈ جیسی بنیادی اور جان بچانے والی سروس کو مسلسل نظر انداز کیوں کیا جاتا ہے ؟
سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکمرانی اب محض نااہلی تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ کرپشن اور اقربا پروری کی ایک مکمل مثال بن چکی ہے ۔ سرکاری اداروں میں تقرریاں اہلیت کے بجائے سیاسی وفاداری کی بنیاد پر کی جاتی ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ فیصلے کرنے والے افراد نا اہل ہوتے ہیں اور نہ ہی جواب دہ۔کراچی جیسے شہر میں، جو ملک کی معیشت کا مرکز ہے ، اگر بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کرپشن کا گڑھ بن جائے ، فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس رشوت کے عوض جاری ہوں اور قانون صرف کمزور پر لاگو کیا جائے تو گل پلازہ جیسے سانحات حادثات نہیں بلکہ ریاستی ناکامی کے نتائج ہوتے ہیں۔
گل پلازہ کے سانحے کے بعد ایک بار پھر ایم کیو ایم کی روایتی سیاست سامنے آئی، احتجاج، بیانات اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کے نعرے ۔ ایم کیو ایم ہر بار کسی سانحے کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرتی رہی ہے ، مگر عملی اور دیرپا حل پیش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہی ہے ۔کراچی میں برسوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود ایم کیو ایم بلڈنگ سیفٹی، فائر سروسز اور شہری منصوبہ بندی کے حوالے سے کوئی مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم نہ کر سکی۔ محض جذباتی نعرے لگانے اور شہری آبادی کے احساسِ محرومی کو ہوا دینے سے مسائل حل نہیں ہوتے ۔ ایسی سیاست جو صرف دباؤ اور انتشار پر مبنی ہو، وہ شہر کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان پہنچاتی ہے ۔جماعت اسلامی خود کو ہمیشہ کرپشن کے خلاف، اصولی اور صاف ستھری سیاست کی علمبردار قرار دیتی ہے ، مگر حقیقت یہ ہے کہ کراچی میں جہاں جہاں جماعت کو اختیار ملا، وہاں عملی کارکردگی اس کے دعوؤں کے برعکس نظر آئی۔ خواہ کے ایم سی ہو یا ٹاؤن سسٹم، جماعت اسلامی شہری گورننس میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ لا سکی۔
ہر سانحے کے بعد اخلاقی بیانات، مذمتی قراردادیں اور احتجاج کرنا آسان ہے ، لیکن جب اختیار ملتا ہے تو وہی ادارہ جاتی مسائل، وہی بے حسی اور وہی ناکامی برقرار رہتی ہے ۔ یہ رویہ عملی طور پر منافقت سے کم نہیں۔سب سے افسوسناک کردار مسلم لیگ (ن) کا ہے ، جو وفاق میں حکومت کرتی رہی ہے ، مگر سندھ خصوصاً اس کے دارالحکومت کراچی کے حوالے سے اس کا رویہ ہمیشہ لاتعلقی پر مبنی رہا ہے ۔ چاہے وفاق میں حکومت ہو یا اپوزیشن، مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا مرکز ہمیشہ لاہور اور پنجاب ہی رہے ہیں۔
کراچی ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ، مگر وفاقی سطح پر یہاں انفراسٹرکچر، شہری تحفظ یا ایمرجنسی سروسز کے حوالے سے کوئی سنجیدہ اور جامع پالیسی نظر نہیں آتی۔ پی آئی اے ، اسٹیل ملز اور ریلوے جیسے وفاقی ادارے کراچی میں زبوں حالی کا شکار ہیں، تو پھر یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وفاق اس شہر کو مؤثر طور پر سنبھال سکے گا؟
کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز بظاہر پرکشش ضرور لگتی ہے ، مگر حقیقت میں یہ ایک بڑا فریب ہے ۔ وفاق کوئی جادوئی ادارہ نہیں جو شہر کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہی تمام مسائل حل کر دے ۔ پاکستان کا وفاقی نظام وسائل کو اکٹھا کرنے کے بجائے صوبوں میں تقسیم کرنے پر مبنی ہے ۔اگر کراچی وفاق کے ماتحت بھی آ جائے تو شہر کی آمدنی براہِ راست وفاقی خزانے میں جائے گی اور پھر پورے ملک میں تقسیم ہو گی۔ آبادی کی بنیاد پر اس تقسیم کے نتیجے میں اردو بولنے والی آبادی، جو پہلے ہی کم ہوتے تناسب کا شکار ہے ، مزید سیاسی اور معاشی طور پر کمزور ہو جائے گی۔کراچی کے مسائل نہ سندھ اور وفاق کی کشمکش سے حل ہوں گے ، نہ نئے نعروں سے اور نہ ہی لسانی یا نام نہاد مہاجر کارڈ سے ۔ اصل مسئلہ قانون پر عملدرآمد کا ہے ۔ عمارتوں کے قوانین موجود ہیں، فائر سیفٹی کے ضابطے موجود ہیں، مگر ان پر عمل کروانے والا نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔جب تک بلڈنگ کنٹرول، فائر بریگیڈ، میونسپل نظام اور احتسابی ادارے سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد اور مضبوط نہیں کیے جاتے ، گل پلازہ جیسے سانحات ہوتے رہیں گے چاہے کراچی سندھ کے پاس ہو یا وفاق کے ۔
گل پلازہ کا سانحہ ہم سے نئے نعرے نہیں بلکہ نیا رویہ مانگتا ہے، خصوصاً حکمرانوں سے ، مگر تمام سیاسی جماعتوں سے بھی۔ سوال یہ نہیں کہ کراچی کس حکومت کے پاس ہو، اصل سوال یہ ہے کہ کراچی میں انسانی جان کو کب اہمیت دی جائے گی؟اگر کسی کو اس تجزیے یا پیش کیے گئے حقائق سے اختلاف ہے تو وہ مضبوط دلائل اور شواہد کے ساتھ سامنے آئے ، کیونکہ یہ بحث محض سیاست کی نہیں بلکہ کراچی اور اس کے باسیوں کے مستقبل کی ہے ۔اور یہ بحث یہاں ختم نہیں ہونی چاہیے ٫ بلکہ یہیں سے شروع ہونی چاہیے ۔
٭٭٭