وجود

... loading ...

وجود

مہنگی بجلی، ٹیکس اضافہ ، ملک گیر ہڑتال کامیاب، کاروبار ٹھپ، مارکیٹیں بند

بدھ 28 اگست 2024 مہنگی بجلی، ٹیکس اضافہ ، ملک گیر ہڑتال کامیاب، کاروبار ٹھپ، مارکیٹیں بند

 

امیرجماعت اسلامی کی اپیل پر تاجروں کی اپیل پر سیلز ٹیکس اور تاجر دوست سکیم کیخلاف ملک بھر میںبدھ کو مکمل شٹرڈاون رہاجبکہ متعدد مقامات پراحتجاج بھی کیا گیا شٹر ڈاون ہڑتال کے باعث ملک بھر میں شہر شہر بازار، مارکیٹیں، شاپنگ سنٹرز بند ر رہے، تاجروں کی جانب سے تاجر دوست سکیم اور ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ایف پی سی سی آئی ، جے یو آئی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا گیا تھا،ملک کے چاروں صوبوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق چاروں صوبوں میں اکثر بازار ،مارکٹیں اور شاپنگ سنٹرز بند رہے۔ کراچی میں چھوٹی بڑی مارکیٹیں بندر ہیں، جبکہ شیر شاہ اور مومن آباد میں مہنگائی اور مہنگی بجلی کے خلاف تاجروں نے احتجاج کیا گیا اور کئی مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کر کے راستے بند کردیے۔سڑکیں بند ہونے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہے، مظاہرین کی جانب سے سڑکوں پر ٹائر بھی نذر آتش کیے گئے۔پاکستان آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن نے بھی جماعت اسلامی اور تاجربرادری کی ملک گیرہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا تھا۔چیئرمین آئل ٹینکرز اونرز ایسوسی ایشن میر شمس شاہوانی کا کہنا تھا کہ یہ ہڑتال بھاری بھرکم ٹیکسز اور بجلی کے ظالمانہ بلوں کے خلاف ہے، یہ کسی فرد واحد کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس سے ہرپاکستانی متاثر ہے،سندھ کے ضلع بدین سمیت گولارچی ٹنڈو باگو ماتلی تلہار میں بھی کاروباری مراکز بند رہے،بلوچستان میں بھی شٹرڈاون رہا،صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں مکمل شٹر ڈاون رہا، شہر میں تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہیں،صدر انجمن تاجران نے بتایا کہ ہڑتال زائد ٹیکسز کے خلاف کی جا رہی ہے، دیگر ممالک میں تاجروں کو خصوصی رعایت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں تاجروں پر بوجھ ڈالا جارہا ہے۔امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر بدھ کو ملک گیرشٹرڈائون ہڑتال ہوئی،اسلام آباد، کراچی، لاہور، فیصل آباد ،راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ ، ملتان ،حیدرآباد، سکھر، گوجرانوالہ اوردیگر تمام بڑے چھوٹے شہروں میں کاروباری مراکز اور سرگرمیاں معطل رہیں۔تاجروں، دکانداروں، صنعت کاروں، چیمبرز آف کامرس اور نے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ہڑتال کو کامیاب کیا۔وفاقی دارلحکومت میں مہنگی بجلی ، اضافی ٹیکسز ، مہنگائی ، پٹرول ، گیس کی بڑھتی قیمتوں اور آئی پی پیز کے متنازع معاہدوں کے خلاف جماعت اسلامی اور تاجرتنظیموں کی کال پر کامیاب شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ تمام چھوٹے بڑے تجارتی مراکز مارکیٹوں ، بازاروں جبکہ رہائشی علاقوں میں موجود کاروباری مراکز میں بھی دکانیں اور پلازے بند رہے کارباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ تاجر رہنماؤں کاشف چوہدری ، اجمل بلوچ اور دیگر نے مختلف تجارتی مراکز کے دورے کئے۔ اسلام آباد کے تمام اہم تجارتی مراکز جی سیون ،آئی نائن ،آئی ٹین اسی طرح سپر مارکیٹ ، آب پارہ مارکیٹ ، میلوڈی ، جناح سپر ، بارہ کہو ، کراچی کمپنی ، بنی گالہ ، راول ٹاؤن ، شکریال ، کھنہ پل ، صادق آباد ، ترامڑی ، مری روڈ ، ایکسپریس وے ، مارگلہ روڈ ، سری نگر ہائی وے سے ملحقہ علاقوں میں کمرشل و تجارتی مراکز بھی مکمل طور پر بند رہے۔ جگہ جگہ بینرز اور پلے کارڈز آویزاں تھے پہلا موقع تھا جب ہوٹل اور فوڈ چین کی دکانیں بھی بند رہیں۔ مارکیٹیں ، پلازے ، تجارتی مراکز ویران پڑے رہے اور دکاندار سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے۔ ہڑتال کے موقع پر ڈی چوک میں یوٹیلٹی سٹورز کارپویشن کے ملازمین کا دھرنا بھی جاری رہا۔ہڑتال کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کاشف چوہدری، صدرمرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے بلیو ایریا اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے طول و عرض میں کامیاب شٹر ڈاون ہڑتال نے حکومتی معاشی پالیسوں پر عدم اعتمادکردیا حکومت کو واضح پیغام دیدیا کہ تاجر متحد ہیں۔آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر اجمل بلوچ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معیشت دانوں نے مشورے دے کر ملک تباہ کر دیا۔ان کا کہنا ہے کہ ہڑتال کر کے تاجروں نے حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے، یہ تاجروں کی ہڑتال ہے کسی جماعت کی نہیں، حکومت کا ویلیو ایشن ٹیبل قابل عمل نہیں ہے۔ ویلیو ایشن ٹیکس واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو 22 ہزارمیگا واٹ بجلی چاہیے، جتنے یونٹ بجلی استعمال ہو اتنا بل لیا جائے، لیکن ہم سے بل 44 ہزار میگاواٹ کا لیا جا رہا ہے۔ ہم 6 ماہ سے کہہ رہے تھے کہ بات کی جائے لیکن مری میں تاجروں کی دکانیں گرائی جارہی ہیں، صورت حال بہتر نہ ہوئی تو اگلا لائحہ عمل دیں گے۔اجمل بلوچ کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے ریلیف دیا وزیرِ اعظم نے بجلی میٹر پر ہزار روپے کرایہ لگا دیا، ممبران اسمبلی کو ڈیولپمنٹ فنڈ دیا تو ہم احتجاج کریں گے،بدھ کے روز ملک گیر ہڑتال کی کال کا خیر مقدم کرتے ہوئے راولپنڈی کی تاجر برادری نے مکمل شٹر ڈاون ہڑتال کی۔ملک بھر کے تاجروں کی طرح فوڈ سیکٹر سے منسلک تاجروں نے بھی مکمل طور پر پرامن کامیاب شٹر ڈان ہڑتال کی۔ تاجروں کی کثیر تعداد کاروباری مراکز بند کرکے سڑکوں پر نکل آئی۔جنھوں نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے۔جن پر حکومت کے ظالمانہ اقدامات ،اضافی ٹیکسز، محدود وسائل اور مہنگائی کے خلاف نعرے درج تھے۔تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اگر غیر ضروری ٹیکس کا بوجھ کم نہ کیا گیا، مہنگائی ختم نہ کی گئی،پانی،بجلی اور سوئی گیس کے بلوں سے اضافی ٹیکسز حذف نہ کیے گئے تو تاجر اور عوام اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے۔ہم خبر دار کرتے ہیں کہ حکمران اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے باز آجائیں، ورنہ ہمارے ووٹ سے ایوانوں میں بیٹھنے والے حکمرانوں کو ایوانوں سے باہر نکالنا بھی ہم بخوبی جانتے ہیں۔چاندنی چوک مری روڈ پر ہونے والے پر امن احتجاج کی قیادت راولپنڈی ریسٹورنٹس کیٹررز سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن کیصدر محمد فاروق چوہدری ، چئیرمین ممتاز احمد نے کی۔ جس میں ملک شاہد غفور پراچہ صدر انجمن تاجران پنجاب نے بھی خصوصی طور پر شرکت کی، علاوہ ازیں فوڈ سیکٹر سے منسلک تاجروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر صدر ایسوسی ایشن محمد فاروق چوہدری اور چیئرمین ممتاز احمد نے اپنے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کی پر امن ہڑتال حکومت کی بلاجواز انتقامی کارروائیوں سے تنگ آکر کی گئی ہے۔پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ٹیکس ، بجلی کے بل اور مہنگائی کے خلاف ہڑتال کی کال پر شہرکی بیشتر مارکیٹس میں دکانیں بند رہیں،پنجاب کے تمام بڑے اور چھوٹے شہروںمیں مہنگائی اوربجلی بلوں کے خلاف تمام مارکیٹیں مکمل بند رہیں،جماعت اسلامی کی اپیل پر ہڑتال میں مرکزی انجمن تاجران، کریانہ اور پیسٹی سائیڈ ایسوسی ایشن، مرکزی تنظیم تاجران اور دیگرشامل تھیں،امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پرملک گیرشٹرڈاون ہڑتال کے موقع پر فیصل آباد چوک گھنٹہ میں لگائے کیمپ پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے ضلعی امیر پروفیسر محبوب الزماں بٹ نے کہاہے کہ ملک گیر کامیاب ہڑتال عوامی ریفرنڈم ہے اور پوری قوم کا حکمرانوں پر عدم اعتمادکااظہار ہے،اب حکمرانوں کو عوام کو ریلیف دیناپڑے گا، انتظامیہ کی شہ پرایک نام نہادتاجرخودساختہ تاجرراہنمانے شہرکے امن و امان کی فضاکوخراب کرنے کی کوشش جس کوجماعت اسلامی کے کارکنوں نے اپنی حکمت عملی سے ناکام بنادیا۔پولیس کا جماعت اسلامی کے کارکنوں پر تشدد، پکڑدھکڑاورگاڑیوں کی توڑپھوڑ افسوسناک ہے، بوکھلائی ہوئی انتظامیہ شہرکاامن خراب کرنا چاہتی ہے۔حافظ نعیم الرحمن 4اکتوبرکو تاجروں اور سول سوسائٹی کا شکریہ اداکرنے کیلئے خودفیصل آباد آئیں گے۔ اس موقع پر صدر ڈسٹرکٹ بار میاں انوارالحق،سابق صدر چیمبرراناسکندر اعظم ،صدرسمال چیمبرمیاں شفیق،سردارظفرحسین،شیخ مشتاق، خالدمحمودچوہدری، میاں اعجازحسین، رانا عدنان،اجمل بدر،افضال شاہین،خالد فخر سمیت جماعت اسلامی کے کارکن اور تاجرموجود تھے۔محبوب الزماں بٹ نے کہاکہ حکومت نے شٹر ڈان ہڑتال کو ناکام بنانے کے لیے ایڑھی چوٹی کا رو ز لگایا لیکن منہ کی کھانی پڑی حکومت نے مسائل کے حل کے بجائے شہربھر میں انتظامیہ کے ذریعے دبا ڈالنے کی کوشش کی لیکن مشرف کی آمریت کا مقابلہ کرنے والے تاجر خوف کی سیاست کو پروان چڑھانے والوں کے دبامیں نہیں آئے اور نہ ان کا خوف تاجروں کو ڈرا سکا،بعدازاں جماعت اسلامی کے کارکنوں نے گرفتارساتھیوں کی رہائی کیلئے تھانہ کوتوالی کے سامنے دھرنا دیا۔بارش اور گرمی کے باوجود کارکن ضلعی امیرمحبوب الزماں بٹ کی قیادت میں تھانہ کے سامنے موجود رہے۔بعد میں صدر ڈسٹرکٹ بارمیاں انوارالحق کی معاونت سے انتظامیہ نے مذاکرات کے بعد کارکنوں کو رہاکرنے کا اعلان کردیا جس پردھرناختم کردیاگیا۔صدر انجمن تاجران کا کہنا تھا کہ زائد ٹیکسز کی وجہ سے تاجر برادری ملک چھوڑ کرجا رہی ہے۔امیر جماعت اسلامی بلوچستانمولانا عبدالحق ہاشمی ،جنرل سیکرٹری زاہداختر بلوچ،امیر جماعت اسلامی ضلع کوئٹہ حافظ نورعلی ،نائب امیر صوبہ مولانا عبدالکبیر شاکر نے کہاکہ گوادر سے ڑوب تک کامیاب ہڑتال حکومتی اقدامات پر عدم اعتمادہے پورے ملک کے عوام جماعت اسلامی کے حق دو عوام تحریک کے پشت پہ ہیں حکومت کو ہر صورت عوام کو ریلیف دینا ہوگا عوام تاجروں سمیت تمام طبقات کا شکریہ اداکرتے ہیں یہ ہڑتال تاجروں دکانداروں اورعوام نے ملکر کامیاب بنایا۔ تاجر برادر نے ملک وقوم کے غم کو محسوس کرکے ایک دن کی ہڑتال کی قربانی دیکر بہت اہم کارنامہ سرانجام دیا جماعت اسلامی وعوام تاجروں دکانداروں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جماعت اسلامی نے پورے ملک وبلوچستان بھر میں تاجروں کے ہڑتال کی حمایت کرتے ہوئے ہڑتال کو کامیاب بنانے کیلئے مرکز سے زون ویونٹ تک منصوبہ بندی کرکے ہڑتال کی کامیابی میں اہم کردار اداکیا ،اسی طرح خیبرپختونخوا میں پشاور سمیت دیگر اضلاع میں کاروباری مراکز بند رہے ،مالاکنڈ اور ہزارہ ڈویڑن میں بھی ٹیکسز اور بجلی کے بلوں کے خلاف بھر میں شٹر ڈاون ہڑتال رہی،امیر جماعت اسلامی پاکستان انجینئر حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پورے ملک کی طرح پشاور ڈویڑن، ملاکنڈ ڈویڑن، ہزارہ ڈویڑن اور جنوبی اضلاع بشمول ضم شدہ قبائلی اضلا ع میں بھی مہنگی بجلی اور ظالمانہ ٹیکسوں کے خلاف شٹر ڈاون ہڑتال ہوئی۔ تاجر تنظیموں نے صوبے بھر میں دکانوں اور مارکیٹوں کو مکمل طور پر بند رکھا۔ پشاور میں شٹر ڈاون ہڑتال کے موقع پر مختلف بازاروں کے دورے کے بعد جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کامیاب ہڑتال حکمرانوں کے لیے نوشتہئ￿ دیوار ہے۔ حکمران نوشتہئ￿ دیوار پڑھ لیں، یہ آغاز ہے، حکمران برے انجام سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ پالیسیاں تبدیل کرلیں۔ ٹیکس کے نظام میں بنیادی تبدیلی لائی جائے، آئی پی پیز کو بلایا جائے اور جو بجلی نہیں بنا رہے ان سے معاہدے منسوخ کیے جائیں۔ مستقبل میں آئی پی پیز کا نظام سرے سے ختم کیا جائے۔علاوہ ازیں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس میںواضح کیا کہ آج کی ہڑتال کے بعد بھی حکومت پر عوام کو ریلیف دینے کے لیے دبائو کا سلسلہ نہیں رکے گا۔انھوں نے پولیس کی جانب سے مختلف شہروں میں مارکیٹوں کو زبردستی کھلوانے کے عمل کی مذمت کی اور تاجر تنظیموں کی تحسین کی کہ انھوں نے ایسے ہتھکنڈوں کو ناکام بنا دیا۔ انھوں نے کراچی چیمبر آف کامرس کا ہڑتال کی حمایت پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔امیر جماعت نے کہا کہ جماعت اسلامی مختلف سیاسی پارٹیوں کے رہنمائوں اور ورکرز کی جانب سے ہڑتال کی حمایت کے اعلان کو بھی خوش آئند گردانتی ہے، انھوں نے واضح کیا کہ حکومت کو ہر حال میں عوا م کو ریلیف دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو ایسے حکمرانوں سے نجات دلانی ہو گی جو اپنی مراعات اور عیاشیاں اور آئی پی پیز کا دھندہ بند کرنے کو تیار نہیں اور 25کروڑ لوگوں کا خون نچوڑنے پر بضد ہیں۔دریں اثنا رحیم یار خاں، ساہیوال، اوکاڑہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، منڈی بہائو الدین، لیہ، بھکر، میانوالی، گجرات، جہلم، مردان، نوشہرہ، صوابی، سوات، دیر، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خاں، کرک، چارسدہ، جنوبی وزیرستان، نواب شاہ، لاڑکانہ، خیرپور، بدین، سکرنڈ، جعفرآباد، پشین، خضدار، ڈیرہ مراد جمالی، ڈیرہ الہ یار، لورالائی میں جماعت اسلامی کی اپیل پر کامیاب شٹرڈائون ہوا، تمام دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے، جماعت اسلامی کے مقامی قائدین اور کارکنان نے میڈیا کے ہمراہ مختلف مارکیٹوں کا دورہ کیا اور کامیاب ہڑتال پر تاجروں کا شکریہ ادا کیا۔


متعلقہ خبریں


حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار وجود - هفته 20 جون 2026

شہباز شریف کی جانب سے کی گئی میثاق استحکام پاکستان کی پیش کش آج بھی موجود ہے اور حکومت ہر سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، پی ٹی آئی نے مثبت جواب دیا ہے ، رانا ثنااللہ وزیراعظم کی ہدایت پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اپوزیشن وفد کے درمیان اہم ملاقات ، فاٹا، پاٹا، این ایف سی ایوار...

حکومت کی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیش کش،تحریک انصاف میثاق جمہوریت کیلئے تیار

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 373روپے سے کم ہو کر 299روپے پر آجائے گی، جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 378روپے سے کم ہو کر 311 روپے ہوگی عوام کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے ، عوام نے مشکل صورتحال میں صبر و تحمل کا بے مثال مظاہرہ کیا، حکومت کا ساتھ دینے پر ہم عوام کے تہہ دل سے مشکور ہیں، شہباز ...

پیٹرول کی قیمت میں 74، ڈیزل کی قیمت میں 67روپے کمی ،قوم سے کیا وعدہ پورا کر رہے ہیں،وزیراعظم

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن وجود - هفته 20 جون 2026

ایک ہفتے ہیں 0.46فیصد بڑھ گئی،ادارہ شماریات کی مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری 25اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، 11اشیا سستی ہوئیں جبکہ 15اشیا کی قیمتیں مستحکم ادارہ شماریات نے مہنگائی سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی۔رپورٹ کے مطابق ملک میں گزشتہ 1 ہفتے کے دوران...

ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان برپا عوام کی زندگی اجیرن

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے وجود - هفته 20 جون 2026

پیٹرول فی لیٹر 225روپے فکس کرنے کا مطالبہٗ عوام کے حکومت کے خلاف زبردست نعرے پیٹرول کی قیمتوں میں نام نہاد کمی مسترد ٗ موجودہ قیمتیں جنگ سے قبل والی سطح پر نہیں آئیں، خطاب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر پیٹرول کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی کرنے ، پیٹرو...

جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج ٗ کراچی میں 13مقاما ت پر مظاہرے

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ وجود - هفته 20 جون 2026

وزیراعلیٰ نے نئے مالی سال کے 48 ارب خسارے کا بجٹ پیش کردیا، کم ازکم تنخواہ 45 ہزار کرنے کی تجویز اخراجات کا تخمینہ 2 ہزار 170 ارب جبکہ آمدن کا تخمینہ 2 ہزار 122 ارب روپے ہے، سہیل آفریدی خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے مالی سال 27-2026 کا دو ہزار 122 ارب روپے ...

خیبرپختونخوا کا 2122 ارب کا بجٹ پیش، تنخواہ و پنشن میں 7 فیصد اضافہ

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان وجود - جمعه 19 جون 2026

پیپلز پارٹی کے ماننے کی صورت میں چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کو اہم وزارت کا قلمدان ملنے کا امکان ،وفاقی کابینہ میں ردوبدل متوقع ، نئے چہرے سامنے لائے جائیں گے‘ذرائع وزیراعظم کی تمام وزراء سے کارکردگی رپورٹ طلب ، وزراء کے قلمدان تبدیل کرنے کا عمل شروع ہوگا،کامرس، پاور، ہاؤسنگ، موا...

حکومت کی پیپلزپارٹی کو کابینہ میں شمولیت کی دعوت، بلاول کو اہم وزارت ملنے کا امکان

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط وجود - جمعه 19 جون 2026

امریکا اور ایران نے وقت سے پہلے ہی جنگ بندی معاہدے پر دستخط کر دیے سوئٹزرلینڈ میں متوقع ملاقات کے حوالے سے حتمی فیصلہ جلد سامنے آئے گا معروف امریکی جریدے ایگزیوس کے مطابق امریکا اور ایران نے طے شدہ وقت سے پہلے ہی جنگی ماحول کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق مفاہمتی...

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے پر باضابطہ دستخط

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ وجود - جمعه 19 جون 2026

جنیوا میں ہونے والی مفاہمتی یاداشت کی تقریب میں شرکت ضروری نہیں رہی ایم او یو پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخط کے بعد بطورثالث توثیق کر دی وزیراعظم شہباز شریف کا سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی تقریب میں شرکت کے لیے شیڈول دورہ منسوخ کردیا گیا۔تفصیلات کے ...

وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال وجود - جمعه 19 جون 2026

شہری مشکلات کا شکار، ملازمت پیشہ افراد، مزدور، طلبہ کوطویل فاصلے پیدل طے کرنا پڑے حب ریور روڈ، شیرشاہ و دیگر علاقوں میں شہری پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی پر پریشان کراچی میں ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال کے باعث شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہوگئی، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہو...

کراچی میں بھاری جرمانوں کیخلاف ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش وجود - جمعه 19 جون 2026

موجودہ اسٹیٹس کو کے مطابق غیر مسلم افراد مسجد اقصی کا دورہ کر سکتے ہیں انہیں وہاں مذہبی عبادات یا رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں،رپورٹ اسرائیل کے بعض سخت گیر حکومتی عہدیداروں اور انتہا پسند دائیں بازو کے رہنماں پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کے بعض حلقوں کے تعاون سے مسج...

مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش؟ اسرائیل کی گھنائونی سازش

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار وجود - بدھ 17 جون 2026

حکومت کی جانب سے بجٹ کے حوالے سے آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کی کوششیں ، دونوں فریقین میںمذاکرات کا جاری ، ممکنہ خسارے کے ازالے کیلئے متبادل ریونیو اقدامات پر مشاورت حکومت کا فنانس بل میں شامل مختلف ٹیکس رعایتوں کی مکمل تفصیلات جاری کرنے سے گریز، تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ٹیکس ر...

حکومت بجٹ کو چھپانے لگی،ٹیکس رعایتوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لانے سے انکار

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا وجود - بدھ 17 جون 2026

میری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے بات ہوگئی ہے،صوبائی حکومت صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپر پاس کرے گی، آئین کا آرٹیکل 125 اجازت دیتا ہے، آپ 3 ماہ کا بجٹ پیپر پیش کرسکتے ہیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات تک حتمی بجٹ پیش نہیں ہوگا،30 جون تک بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو خیبر پختونخوا...

عمران خان سے ملاقات تک خیبر پختونخوا کا حتمی بجٹ ملتوی، صرف 3 ماہ کا بجٹ پیپرمنظور ہوگا

مضامین
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

جناب،بادشاہ سلامت!! وجود هفته 20 جون 2026
جناب،بادشاہ سلامت!!

قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس وجود هفته 20 جون 2026
قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس

پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن وجود هفته 20 جون 2026
پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن

بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر