وجود

... loading ...

وجود

قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس

هفته 20 جون 2026 قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس

عطا محمد تبسم

قمر احمد پاکستان کے ان چند اسپورٹس صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نہ صرف نصف صدی سے زیادہ عرصے تک کرکٹ کو رپورٹ کیا بلکہ خود بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل چکے ہیں۔ ان کا شمار دنیا کے سب سے زیادہ تجربہ رکھنے والے کرکٹ صحافیوں میں ہوتا ہے ۔ قمر بھائی خوش لباس تھے ، فرسٹ کلاس کرکٹر، حیدرآباد کے ان اولین لوگوں میں سے جنہوں نے حیدرآباد کا خوبصورت دور دیکھا تھا ۔وہ سندھ یونیورسٹی اولڈ کیمپس کے برابر والی گلی میں ایک بڑے مکان میں رہتے تھے ۔ اداکار محمد علی ، ان کے بچپن کے دوست تھے ، انہوں نے کرکٹ کھیلی اور کرکٹ میں نام کمایا انہوں نے صحافت کی اور صحافت میں اسپورٹس جرنلزم میں ایسا نام کمایا کہ ایک زمانہ ان کا معترف ہے ۔ قمر احمد نے بڑے بڑے ایونٹس بڑے بڑے میچ دیکھے اور کور کیے ، گورے ان کی صحافت سے سیکھتے تھے ۔ وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ،اور بڑے واشگاف انداز میں اپنے موقف کا اظہار کیا کرتے تھے ۔
عمران خان سمیت دنیا کے بڑے بڑے کرکٹرز اور سیاست دانوں سے ان کے دیرینہ مراسم تھے ۔ لندن میں ان کا فلیٹ اپنے دوستوں کے لیے ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔ وہ کسی بھی موضوع پر گفتگو کرنے پر آتے تو واقعات کا ایک ایسا سلسلہ بیان کرتے کہ وہ بولتے اور ہم سنتے ہی
رہتے ۔قمر احمد کے پاس اتنے قصے تھے کہ جب وہ پریس کلب میں آتے اور جہاں بیٹھ جاتے وہاں محفل کا رنگ ہی مختلف ہو جاتا۔ قمر احمد صرف ایک اسپورٹس جرنلسٹ نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کے ایک زندہ آرکائیو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے وہ دور دیکھا جب پاکستان کرکٹ اپنے ابتدائی قدم اٹھا رہی تھی، پھر عالمی سطح پر اپنا مقام بنا رہی تھی۔قمر احمد 23 اکتوبر 1937 کو ہندوستان کے شہر مغل سرائے (موجودہ اتر پردیش) میں پیدا ہوئے ۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان آیا۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کیا۔ صحافت میں آنے سے پہلے وہ خود کرکٹ کے کھلاڑی تھے ۔ سندھ اور حیدرآباد کی جانب سے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ وہ بائیں
ہاتھ سے اسپن باؤلنگ کرتے تھے بتاتے تھے کہ میرافرسٹ کلاس کیریئر 1956-57 سے1962-63 تک رہا۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ قمر احمد نے پاکستان کے مشہور ”محمد برادران” میں سے کئی عظیم کھلاڑیوں کو فرسٹ کلاس کرکٹ میں آؤٹ کیا، جن میں حنیف محمد، مشتاق محمد اور صادق محمد شامل ہیں۔ پھر انھوں نے صحافت کا میدان منتخب کیا۔ اپنے صحافتی سفر کا آغاز حیدرآباد کے اخبار انڈس ٹائمزسے کیا جو اس زمانے کا ایک بڑا اخبار تھا۔ انہوں نے فری لانس اسپورٹس جرنلسٹ کے طور پر کام شروع کیا اور دنیا کے بڑے کرکٹ مقابلوں کی کوریج کی۔ان کی خاص پہچان یہ تھی کہ وہ صرف میچ کا نتیجہ نہیں لکھتے تھے بلکہ کھلاڑیوں،حالات، حکمت عملی اور کھیل کے پس منظر کو بھی بیان کرتے تھے ۔قمر احمد کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ انہوں نے 400 سے زیادہ ٹیسٹ میچز بطور صحافی کور کیے ۔
2014 میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان شارجہ ٹیسٹ ان کے لیے تاریخی موقع تھا، جب وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا کے تیسرے صحافی بنے ۔ اس سے پہلےJohn Woodcock اور Richie Benaudیہ سنگ میل عبور کر چکے تھے ۔ انہوںنے 400 سے زائد ٹیسٹ میچز،700 سے زائد ون ڈے انٹرنیشنل میچز ،متعدد عالمی کپ مقابلے رپورٹ کیے ۔ وہ پاکستان اور دنیا کی کرکٹ کے کئی تاریخی لمحات کے عینی شاہد رہے ، جن میں پاکستان کرکٹ کے ابتدائی دور سے لے کر جدید دور تک کا سفر شامل ہے ۔ ان کے لکھنے کا انداز منفرد تھا،گورے ایڈیٹر بھی ان کی رپورٹ پر قلم لگاتے ہوئے گھبراتے تھے ۔ ان کی تحریر سنجیدہ، متوازن اور تحقیق پر مبنی ہوتی ۔ ان
کی صحافت کی چند نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ کھلاڑیوں کے قریب رہتے ۔ غیر جانبدار تجزیہ کرتے ، جذباتی رپورٹنگ کے بجائے حقائق اور مشاہدے کو اہمیت دیتے۔ انہوں نے کئی نسلوں کے کرکٹرز کے ساتھ کام کیا، ان کے کیریئر، شخصیت اور کھیل کو قریب سے دیکھا۔اور ساتھ ہی کرکٹ کی تاریخ رقم کی اور اپنی تحریروں کے ذریعے پاکستان کرکٹ کے کئی ادوار کو محفوظ کیا۔ وہ پاکستان کے ان چند صحافیوں میں شمار
ہوتے ہیں، جنہوں نے کرکٹ پر کئی کتابیں لکھیں، جن میںTesting Time ،Pakistan Book of Cricket ،Far More Than a Gameان کی خودنوشت ”Far More Than a Game” صرف ایک صحافی کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ کی کئی دہائیوں کی یادداشت بھی ہے ۔ قمر احمد ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ صحافت میں کامیابی کے لیے مطالعہ اور حقائق کی تحقیق، اورکھیل کو سمجھنا ضروری ہے ۔ وہ صحافیوں کو مشورہ دیا کرتے کہ غیر ضروری خبروں کے بجائے معیاری رپورٹنگ پر توجہ دیں۔ میری یہ خواہش ہی رہی کہ قمر احمد سے ایک طویل انڑویو ریکارڈ کروں،ان کے پاس پاکستانی سیاست دانوں ، فلمی دنیا کی شخصیات، کے بہت سے واقعات، تصاویر، اور معلومات کا ایک خزانہ تھا۔ ہم بہت کم ہی اس سے کچھ فیض اٹھا پائے ، قمر احمد کا نام پاکستان کی اسپورٹس جرنلزم کی تاریخ میںاحترام، تجربے اور اعتبار کے ساتھ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اب پریس کلب پھر اداس ہے ۔ قمر احمد ہم سے رخصت ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے ۔
٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی وجود هفته 20 جون 2026
خارجہ میدان میں بھارتی پسپائی

جناب،بادشاہ سلامت!! وجود هفته 20 جون 2026
جناب،بادشاہ سلامت!!

قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس وجود هفته 20 جون 2026
قمر احمد کرکٹ کے تاریخ نویس

پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن وجود هفته 20 جون 2026
پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن

بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں وجود جمعه 19 جون 2026
بھارت میں علیحدگی کی تحریکیں

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر