وجود

... loading ...

وجود

اقتصادی سروے پیش، آئی ایم ایف کے سوا کوئی پلان بی نہیں ہے ،وزیرخزانہ

بدھ 12 جون 2024 اقتصادی سروے پیش، آئی ایم ایف کے سوا کوئی پلان بی نہیں ہے ،وزیرخزانہ

وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں ہے اور وزیراعظم کی جانب سے کیے گئے 9 ماہ کے پروگرام کی وجہ سے آج ہم اہداف پر تبادلہ خیال کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں وزیر مملکت برائے خزانہ و توانائی علی پرویز ملک، سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال، سیکریٹری منصوبہ بندی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ 2022اور 2023میں افراط زر کا سب کو پتا ہے ، اسی سال روپے کی قدر میں 29فیصد کمی ہوئی اور زرمبادلہ دو ہفتے کی کم ترین سطح پر آگیا تھا اور وہاں سے ہم نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے مختلف اہداف ہیں، جس پر بات کریں گے لیکن یہ مذکورہ صورت حال ہمارے سفر کا آغاز ہے اور آج ہم شہباز شریف کی قیادت میں 5 سال کے لیے منتخب حکومت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔وزیرخزانہ نے کہا جب میں نجی شعبے سے وابستہ تھا اس وقت بھی میں واضح تھا کہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کے پروگرام میں جانا چاہیے کیونکہ آئی ایم ایف کے علاوہ کوئی پلان بی نہیں ہے اگر کوئی پلان بی ہوتا تو آئی ایم ایف کو آخری امید نہیں کہا جاتا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے 9 ماہ کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام لے کر حوصلہ افزا فیصلہ کیا اور جہاں ہم آج ہیں اس کی وجہ وہی فیصلہ تھا کیونکہ اگر وہ پروگرام نہ ہوتا ہم آج اہداف کی باتیں نہیں کرتے بلکہ ہمارے ملک کی صورت حال بہت مختلف ہوتی اور ہم مختلف باتیں کر رہے ہوتے اور آج جو اعدادوشمار ہیں وہ ہم ڈسکس نہ کر رہے ہوتے ۔وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح 48 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد تک آگئی ہے ، جلد ایک ہندسے پر بھی آجائے گی، شرح سود بتدریج نیچے آنا چاہیے ، مہنگائی میں کمی کی وجہ سے ہی اسٹیٹ بینک نے شرح سود کم کیا ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی گروتھ پراثر پڑنا تھا اور وہ پڑا ہے ، مگر زرعی شعبے کی گروتھ حوصلہ افزا ہے ، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بے مثال ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پرائمری سرپلس رہا ہے اور اس میں صوبوں کو بھی کریڈٹ جاتا ہے ،کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 6 ارب ڈالر کا تخمینہ لگایا جا رہا تھا اور اس وقت صرف 200ملین ڈالر ہے ، رواں مالی سال کے دوران چند مہینے ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ 3 فیصد سرپلس میں بھی رہا ہے ، کرنسی میں استحکام آیا ہے اس کی بڑی وجوہات میں نگران حکومت کے انتظامی اقدامات ہیں، نگران انتظامیہ نے ہنڈی حوالہ اور اسمگلنگ کو روکا اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کا جائزہ لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے ایکسچینج کمپنیوں کو ضروریات تھیں وہ بڑھائیں اور اسٹرکچرل کردار ہے ۔پریس کانفرنس کے دوران وزیرخزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات خوشگوار ماحول اور تعمیری انداز میں جاری ہیں، ان مذاکرات میں اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام کے تحت کیے گئے اقدامات کا اعتراف کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئی اسٹریٹجک ادارہ نہیں ہے ،اسٹریٹجک سرگرمی ہوسکتی ہے اسے سرکار کے پاس رکھا جاسکتا ہے ، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور مثبت پیش رفت ہو رہی ہے ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام اور آئی ایم ایف شراکت داری کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، پسماندہ طبقے پر کسی قسم کا بوجھ نہیں ڈالا جائے گا انہیں تحفظ دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے نرخوں اور شرح سود کے اثرات ایل ایس ایم پر آنے تھے ، ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہے سب کو ملک کی ترقی اور ریونیو میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا، خیرات اور بھیک سے ملک نہیں چل سکتے ۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ دو ایسے شعبے ہیں جن کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں ہے ، زراعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایسے شعبے ہیں جن پر 100 فیصد ہمارا کنٹرول ہے اور زرعی پیداوار کیسے بڑھانی ہے یہ سب ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے ۔اقتصادی سروے کے اعداد وشمار کے ملک میں ٹیکس میں دی جانے والی چھوٹ 3 ہزار 879ارب روپے سے زائد ہے ، انکم ٹیکس کی مد میں 476.96 ارب روپے ، سیلز ٹیکس کی مد میں 2858.721ارب روپے ،کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 543.521ارب روپے کی چھوٹ دی جا رہی ہے ۔سروے میں کہا گیا کہ مالی سال 2023-24میں ملکی معیشت(جی ڈی پی)کا حجم 338.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر374.9 ارب ڈالر ہوگیا ہے ۔وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے ایک سوال میں کہا کہ جس جس چیز سے حکومت کو جتنا نکال سکتے ہیں اتنا ہی ملک کے لیے بہتر ہوگا، ہم پاسکو کی ری اسٹرکچرنگ کرنے جارہے ہیں، ہمیں اسٹریٹجک ذخائر رکھنے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کے انفورسمنٹ کے پہلو کو نظر انداز نہ کیا جائے ، سالہاسال سے انفورسمنٹ ہوئی نہیں ہے ، اس لیے لوگ اسے ہلکا سمجھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سال بھی بھی ٹیکس ریونیو گروتھ 30 فیصد ہوئی ہے تو اگلا ہدف بھی حاصل ہوسکتا ہے ، چین کے ساتھ سی پیک فیز ٹو پر انگیجمنٹ ضروری تھی،وزیر خزانہمحمد اورنگزیب نے کہا کہ دورے کا اصل مقصد سی پیک فیز ٹو کی بحالی تھا، یہ بزنس ٹو بزنس ایجنڈا ہے حکومت کے چند پراجیکٹس ہیں، کوشش ہے کہ چین سے گروتھ اورینٹڈ بزنس یہاں منتقل ہو۔ان کا کہنا تھا کہ متعدد قومی اقتصادی کونسل کے فیصلے ہم نے ریورس کیے ہیں، وزیرخزانہ نے کہا کہ حکومت کے 100 روز کے بارے میں یہی کہوں گا کہ ہم نے فیصلوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک میں خود مختاری کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ آپس میں بات چیت نہیں کرسکتے ہیں، بات چیت اور مذاکرات میں تو کوئی حرج نہیں ہے ، نہیں معلوم کہ آئی ایم ایف نے اپنی کسی ایڈوائس میں لکھا ہے کہ مہنگائی بڑھے گی یا بڑھنے والی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن کے لیے بجٹ کا انظار نہیں کیا، یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوگوں کا ڈیٹا فیلڈ فارمیشن کے حوالے نہیں کر سکتے ، حقیقت یہی ہے کہ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم ناکام ہوا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاور سیکٹر میں اصلاحات کا پروگرام تاخیر کا شکار نہیں ہونے دیا۔انہوں نے کہا کہ دو اثاثے نجکاری کے عمل میں ہیں، نگران حکومت نے بہت اچھا کام کیا، پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں فواد حسن فواد کو کریڈٹ جاتا ہے اور اسی کو ہم آگے لے کر چلے ، پی آئی اے کے لیے 6 لوگ پرکوالیفائی ہو چکے اور اس پر عمل جاری ہے جو جولائی اور اگست تک رزلٹ دیکھ لیں گے ۔وزیرخزانہ نے کہا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کی آؤٹ سورسنگ کے لیے بڈز آچکی ہیں، اسلام آباد ایئرپورٹ کی آوٹ سورسنگ کے بعد لاہور اور کراچی ایئر پورٹ کی بھی آوٹ سورسنگ کی جائے ، جس کے لیے ابھی سے کام شروع کر دیا گیا ہے ۔سیاسی عدم استحکام کے حوالے سے ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے اور جو کچھ ہونا ہے وہ صوبوں کی مشاورت سے ہوگا اور یہ طے ہے کہ صوبوں کی مشاورت سے ہوگا، سیاسی عزم ہو نہ ہو حقیقت یہی ہے کہ حکومت کو جتنا کاروبار سے نکالا جائے بہتر ہے ۔انہوں نے کہا کہ وزیرمملکت علی پرویز آج بھی علی امین گنڈاپور سے مل کر آئے ہیں، میں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان اور وزیراعظم آزاد کشمیر سے مل چکا ہوں، اسی طرح پنجاب کے وزیراعلیٰ اور سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سے مسلسل سے بات ہوتی رہی ہے اور اسی طرح آگے لے کر چلنا پڑے گا۔سرکاری ملکیتی اداروں کے حوالے سے میں بالکل واضح ہوں کہ ایک ہزار ارب روپے کا خسارہ برداشت نہیں کرسکتے کیونکہ ہم یہ خسارہ برداشت کرتے رہے تو پھر یہی پوچھیں گے کہ اس خسارہ کو پورا کرنے کے لیے سرمایہ کیسے بڑھائیں گے ۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اسٹیل مل میں لوگ بھی بیٹھے ہیں اور گیس بھی فراہم کی جا رہی ہے لیکن مل کے بحال ہونے والے زیرو امکانات ہیں اور یہ اسکریپ میں فروخت ہوگی۔


متعلقہ خبریں


دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم وجود - هفته 17 جنوری 2026

دہشت گردی کے ناسور نے پھر سر اٹھا لیا، قومی اتحاد و یکجہتی کی آج پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، شہباز شریف خوارج، ٹی ٹی پی اور ٹی ٹی اے کا گٹھ جوڑ دشمنوں کی پشت پناہی سے فعال ہے، قومی پیغام امن کمیٹی سے ملاقات وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ناسور نے ایک بار پھر ...

دہشت گردوں کو پاکستان سے اٹھا کر بحرِ ہند میں ڈبو دیں گے، وزیراعظم

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ وجود - هفته 17 جنوری 2026

منصوبے کی فزیکل پیشرفت 65فیصد مکمل ہوچکی ، ملیر ندی پل منصوبہ مئی تک مکمل کرنے کی ہدایت کے الیکٹرک کو یوٹیلیٹی منتقلی میں تاخیر پر لیٹرز جاری کرنے کی ہدایت، پلاننگ ڈیپارٹمنٹ کی بریفنگ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ملیر ندی پل منصوبے کو مئی 2026 میں مکمل کرنے کی ہدایت کرد...

ترقیاتی کام کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا،وزیراعلیٰ سندھ

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 17 جنوری 2026

ناکام پالیسی کی تبدیلی کا مطالبہ کریں تو دہشت گردوں کا حامی کہا جاتا ہے،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپریشن، کیا ضمانت ہے امن قائم ہو سکے گا،متاثرین سے ملاقات خیبرپختونخوا (کے پی) کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 22 بڑے اور 14 ہزار چھوٹے آپری...

آپریشن کیخلاف ، ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے، سہیل آفریدی

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی وجود - هفته 17 جنوری 2026

اسرائیلی افواج کی بمباری میں القسام بریگیڈز کے ایک سینئر رہنما کو نشانہ بنایا گیا غزہ میں جنگ بندی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا اعلان ،امریکی حکام کی تصدیق جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے اعلان کے باوجود دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت کا سلسلہ دھڑلے سے جاری ہے، اسرائیلی افواج کی حال...

دربدر فلسطینیوں پر صیہونی بربریت، 10 شہید،متعدد زخمی

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 17 جنوری 2026

ٹاس سہہ پہر ساڑھے 3 بجے ، میچز 4 بجے شروع ہوں گے،جلد باضابطہ اعلان متوقع موسمی شدت کی وجہ سے اوقات تبدیل ،میچز 29 ، 31 جنوری اور یکم فروری کو ہوں گے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے رواں ماہ کے آخر میں آسٹریلیا کے خلاف لاہور میں ہونے والی وائٹ بال سیریز کے اوقات تبدیل کرنے ک...

پاکستان آسٹریلیا ٹی ٹونٹی سیریز کے اوقات تبدیل کرنے کا فیصلہ

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی) وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پی ٹی آئی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آزادی عدلیہ کیلئے جدوجہد کررہی ہے، ہر ورکر ہمارا قیمتی اثاثہ ،عمران خان کی امانت ہیںہمیں ان کا خیال رکھنا ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا بانی پی ٹی آئی نے جو تحریک شروع کی تھی اللہ کرے ہم جلد کامیاب ہوجائیں، بلال محسود کو...

آزادی کا سورج جلد طلوع ہوگا،عمران خان جلد رہا ہوں گے(سہیل آفریدی)

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

متنازع ٹویٹ کیس میںدونوں وقفہ کے بعد عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے ضمانت منسوخ کردی،دونوں ملزمان کا جرح کا حق ختم کر دیا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی متنازع ٹویٹ کیس میں ضمانت منسوخ ہوگئی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متن...

ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کوگرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور وجود - جمعه 16 جنوری 2026

جرمانوں میں عوامی تشویش کے بعد ان کا مطالبہ پورا ہونیوالا ہے، آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری ہونے کی امید موٹر سائیکلوں کے جرمانے کو 5,000روپے سے کم کرکے 2,500روپے کرنے پر غور کر رہی ہے،ذرائع شہر قائد کے باسی بھاری بھرکم ای چالان کی وجہ سے سخت پریشان ہیں تاہم اب ان کی پریشانی ختم...

حکومت سندھ کا کار اور موٹر سائیکل کے چالان کی رقم کم کرنے پر غور

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم وجود - جمعه 16 جنوری 2026

پنجاب بیدار ہوگیا، بااختیار بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر پورے ملک میں پھیلے گی عوامی ریفرنڈم کیلئے ہزاروں کیمپ قائم، مردو خواتین کی بڑی تعداد نے رائے کا اظہار کیا امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب بیدار ہوگیا ہے، موثر بلدیاتی نظام کے مطالبہ کی لہر...

پنجاب کے بلدیاتی کالے قانون کو تسلیم نہیں کریں گے، حافظ نعیم

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب وجود - جمعه 16 جنوری 2026

اسکریپ ڈیلرعمیر ناصر رند کو گرفتار کرلیا،پولیس اہلکارون کی پشت پناہی میں چلنے کا انکشاف ملزم کے قبضے سے 150کلو گرام چوری شدہ کاپر کیبل اور گاڑی برآمد ہوئی ہے، پولیس حکام بن قاسم پولیس نے ایک کارروائی کے دوران اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب کرتے ہوئ...

اسٹیل مل سے قیمتی دھاتوں کی چوری میں ملوث نیٹ ورک بے نقاب

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد وجود - جمعه 16 جنوری 2026

2025کے دوران بھارت میں ماورائے عدالت کارروائیوں میں 50مسلمان جان سے گئے امتیازی کارروائیوں میں تشویشناک اضافہ ،عالمی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھانڈا پھوڑ دیا عالمی انسانی حقوق کی مختلف رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی سرپرستی میں جبر، تشدد اور امتیازی...

بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ریاستی سرپرستی میں جبروتشدد

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ وجود - جمعرات 15 جنوری 2026

قطر بیس پر ہلچل؛ کئی ممالک نے شہریوں کو واپس بلالیا، متعدد پاکستانی طلبا وطن لوٹ آئے بھارت کا اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ،برطانیہ سمیت متعدد ممالک کی اپنے شہریوں کیلئے الرٹ جاری صدر ٹرمپ نے ایران پر بڑے امریکی حملے کی دھمکی دی ہے۔ایران پر امریکا کے ممکنہ حملے کے پیش...

امریکا کی ایران پر حملے کی تیاری،حالات انتہائی کشیدہ

مضامین
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں وجود هفته 17 جنوری 2026
جدید ٹیکنالوجی کے حصول کی جنگیں

ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن وجود هفته 17 جنوری 2026
ماؤ نوازیوں کے خلاف آپریشن

مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ وجود جمعه 16 جنوری 2026
مودی کی ناکام سفارت کاری سے بھارتی معیشت تباہ

اے اہلِ ایتھنز !! وجود جمعه 16 جنوری 2026
اے اہلِ ایتھنز !!

معاوضے پر استعفیٰ وجود جمعه 16 جنوری 2026
معاوضے پر استعفیٰ

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر