... loading ...
مسلم لیگ (ن)کے صدرشہباز شریف پاکستان کے 24ویں وزیراعظم بن گئے ہیں اور قومی اسمبلی میں انہوں نے حزب اختلاف کے امیدوار کو واضح برتری سے شکست دی۔شہباز شریف پاکستان کے واحد سیاسی رہنما ہیں جو مسلسل دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئے ۔ پاکستان کی تاریخ میں اب تک کوئی بھی وزیراعظم اپنی 5سالہ مدت مکمل نہیں کر سکا ہے ۔اگر 1947سے اب تک ہر وزیراعظم کو 5سالہ مدت مکمل کرنے کا موقع ملتا تو شہباز شریف 24ویں کی بجائے پاکستان کے 17ویں وزیراعظم ہوتے ۔پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان 15اگست 1947کو منتخب ہوئے اور 16اکتوبر 1951کو اپنی شہادت تک 4سال سے کچھ زائد عرصے تک اپنے منصب پر برقرار رہے ۔خواجہ ناظم الدین نے وزیراعظم کا عہدہ 17اکتوبر 1951کو سنبھالا، یعنی لیاقت علی خان کی شہادت کے اگلے روز۔مذہبی سیاسی جماعتوں کے احتجاجی مظاہروں کے باعث اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد نے خواجہ ناظم الدین سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کیاجس کو انہوں نے مسترد کر دیا۔جس پر گورنر جنرل نے 17اپریل 1953کو خواجہ ناظم الدین کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا۔گورنر جنرل غلام محمد نے 17اپریل 1953کو محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم کے طور پر منتخب کیا۔انہیں 12اگست 1955کو قائم مقام گورنر جنرل اسکندر مرزا نے اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے اور خطے کے مسائل کے باعث عہدے سے برطرف کیا۔چوہدری محمد علی نے 12اگست 1955کو پاکستان کو چوتھے وزیراعظم کے طور پر عہدہ سنبھالاجن کا نام گورنر جنرل اسکندر مرزا نے تجویز کیا تھا۔چوہدری محمد علی کے عہد میں 1956کے آئین کا نفاذ ہوا۔12ستمبر 1956کو چوہدری محمد علی نے اپنے پارٹی کے اراکین سے اختلافات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دیا۔حسین شہید سہروردی نے 12ستمبر 1956کو وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا مگر 17اکتوبر 1957کو اسکندر مرزا سے اختلافات کے باعث انہوں نے عہدہ چھوڑ دیا۔ابراہیم اسماعیل چندریگر نے چھٹے وزیراعظم کے طور پر 17اکتوبر 1957کو اپنا عہدہ سنبھالا، مگر ان کا اقتدار 2ماہ بعد ختم ہوگیا۔اسکندر مرزا نے فیروز خان نون 17دسمبر 1957کو وزیراعظم کے طور پر منتخب کیا۔انہیں 7اکتوبر 1957کو جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے عہدے سے برطرف کیا۔نورالامین ملکی تاریخ کی کم ترین مدت تک وزیراعظم رہے ۔ملک میں مارشل لا کے 13برسوں بعد یحییٰ خان انتظامیہ نے 7دسمبر 1971کو نور الامین کو وزیراعظم منتخب کیا مگر 20 دسمبر 1971کو انہیں عہدہ چھوڑنا پڑا۔ذوالفقار علی بھٹو 14اگست 1973کو وزیراعظم منتخب ہوئے ۔اس کے بعد 1977کے عام انتخابات میں وہ ایک بار پھر کامیاب ہوئے مگر جنرل ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے انہیں جیل بھیج دیا۔ذوالفقار علی بھٹو کو 1979میں پھانسی دی گئی۔محمد خان جونیجو 23مارچ 1985کو فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں وزیراعظم منتخب ہوئے اور ان کی حکومت کو 29مئی 1988کو برطرف کیا گیا۔بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر 1988میں منتخب ہوئیں۔وہ 6اگست 1990تک اس عہدے پر کام کرتی رہیں اور اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے ان کی حکومت کو برطرف کیا۔نواز شریف 1990 میں پہلی بار وزیراعظم منتخب ہوئے مگر ان کی حکومت کو بھی صدر غلام اسحاق خان نے 1993میں برطرف کر دیا۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے نواز شریف کی حکومت کو بحال کر دیا مگر اس وقت کے آرمی چیف جنرل وحید کاکڑ نے نواز شریف اور غلام اسحاق خان کو 18جولائی 1993 کو عہدے چھوڑنے پر مجبور کیا۔بے نظیر بھٹو دوسری بار 1993میں وزیراعظم منتخب ہوئیں مگر اس بار بھی مدت مکمل نہ کر سکیں۔اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے ان کی حکومت کو نومبر 1996میں برطرف کیا۔نواز شریف 1997میں دوسری بار وزیراعظم بننے میں کامیاب ہوئے مگر 12اکتوبر 1999کو جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے نواز شریف کو عہدے سے ہٹا دیا۔ظفر اللہ خان جمالی پرویز مشرف کے دور میں منتخب ہونے والے پہلے وزیراعظم تھے ، مگر 19ماہ بعد ہی انہیں پرویز مشرف نے عہدے سے ہٹا دیا۔ چوہدری شجاعت حسین 30جون 2004کو وزیراعظم بنے مگر 2ماہ بعد شوکت عزیز کیلئے اپنا عہدہ چھوڑ دیا۔شوکت عزیز 28اگست 2004کو وزیراعظم منتخب ہوئے اور پارلیمان کی مدت پوری ہونے کے بعد 15نومبر 2007کو اپنے عہدے سے سبکدوش ہوئے ۔ یوسف رضا گیلانی 2008کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد پاکستان کے 18ویں وزیراعظم بنے ۔وہ 2012میں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کے مقدمے میں سزا کے بعد اپنے عہدے سے فارغ ہوئے ۔یوسف رضا گیلانی کو ہٹائے جانے کے بعد 22جون 2012کو راجا پرویز اشرف وزیراعظم منتخب ہوئے اور 24مارچ 2013کو حکومت کی مدت پوری ہونے تک اس عہدے پر کام کرتے رہے ۔نواز شریف جون 2013میں تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم بنے اور 4سال 53دن تک اپنے عہدے پر برقرار رہے ۔اس طرح وہ پاکستان کے تمام وزرائے اعظم میں ایک مدت میں سب سے زیادہ وقت تک کام کرنے والے وزیراعظم ہیں۔ 28 جولائی 2017کو سپریم کورٹ کی جانب سے نا اہل قرار دئیے جانے پر وہ عہدے سے محروم ہوئے ۔شاہد خاقان عباسی نواز شریف کے بعد اگست 2017میں 21ویں وزیراعظم منتخب ہوئے ۔قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے پر 31مئی 2018کو شاہد خاقان عباسی کی حکومت ختم ہوئی۔عمران خان 18اگست 2018کو وزیراعظم منتخب ہوئے اور ان کا اقتدار 10اپریل 2022کو ختم ہوا۔وہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کو پارلیمان میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا۔عمران خان کی حکومت ختم ہونے کے بعد شہباز شریف 11اپریل 2022کو پاکستان کے 23ویں وزیراعظم منتخب ہوئے اور اس عہدے پر 14اگست 2023تک کام کرتے رہے ۔
مودی سرکار کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ،دنیا کو موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنجز درپیش ہیں،پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،شہباز شریف پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے،نوجوان آبادی پاکستان کا سب سے بڑا ا...
اس کا ذمہ دار عاصم منیر ہو گا،ہمیں صبح کال آئی آپ کہیں تو قاسم زمان کو ملاقات کیلئے بھیج دیں ، ہم نے کہا ڈاکٹر کو بھیجنا چاہتے ہیں، کسی سرکاری بندے پر یقین نہیں کرینگے، ڈاکٹر برکی کو بھیجنے سے منع کردیا بانی پی ٹی آئی کا پیغام ملا میری بہنوں کو کہو میرے لیے آواز اٹھائیں، میر...
(رپورٹ: افتخار چوہدری)کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سی ٹی ڈی اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہواجس کے نتیجے میں 4 دہشت گرد اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے،کلاشنکوف اور ہینڈ گرینڈ برآمد کرلیا گیا، ہلاک دہشتگردوں میں جلیل عرف فرید، نیاز عرف کنگ اور حمدان شامل...
سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا پراپیگنڈا کیا گیا،وفاقی وزیر داخلہ بانی کی آنکھ میں انجکشن لگنا تھا سب کا مشورہ تھا کہ ہسپتال لے جائیں، نیوز کانفرنس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی آنکھ ضائع ہونے کا بھی پراپیگنڈا ...
فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں ک...
ہمارا مطالبہ ہے بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے،پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی سے ملاقات کروائی جائے،اراکین کی پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر نعرے بازی جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت دیگر اراکین کا سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جان...
، لوگ روپڑے 23 متاثرین نے بیانات قلمبندکروادیے، امدادی اداروں کی کارکردگی کا پول کھول دیا، سراسرغفلت کا مظاہرہ کیا گیا، فائر بریگیڈ کے پاس پانی ختم ہوچکا تھا، بلڈنگ کے اندر کوئی داخل نہیں ہوا، عینی شاہدین آپ سب شہدا کے لواحقین ہیں چاہتے تھے آپ سے شروعات کی جائے، ہمیں شہادتوں ...
وفاقی اور پنجاب حکومت کی پالیسیوں سے ٹرانسپورٹرز شدید دباؤ کا شکار ہیں،شہزاد اعوان ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے اخراجات میں براہِ راست اضافہ ہوتا ہے، میڈیا سے گفتگو صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد اعوان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر سخت ردعمل دیتے...
چیف آف ڈیفنس فورسز کی اماراتی مشیر سلامتی شیخ طحنون بن زاید النہیان سے ملاقات دونوں رہنماؤںکا خطے کی صورتحال، امن و سلامتی کے فروغ کیلئیمسلسل رابطوں پر زور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی سلامتی اور استحکام پاکستان کی سل...
شمالی غزہ میں خیمہ بستی پر حملے میں6جبکہ جنوبی حصے میں ایک اور حملے میں 5 فلسطینی شہید ہوئے حماس جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں مبینہ اہداف کو نشانہ بنایا، اسرائیل ڈیفنس فورسز غزہ میں اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں، تازہ حملوں میں مزید 11 فلسطین...
کوئی بھی سرکاری بل پارلیمان میں پیش کرنے سے پہلے پیپلزپارٹی سے پیشگی مشاورت اور منظوری لازمی قرار دے دی ،فیصلہ ایوان صدر سے بعض بلز کی واپسی کے بعد کیا گیا،میڈیا رپورٹس شیری رحمان کی سربراہی میں کمیٹی قائم ،مجوزہ قانون سازی پر مشاورت کرے گی، پہلے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا...
شاہراہ دستور مکمل بند ،پارلیمنٹ ہاؤس، پارلیمنٹ لاجز اور کے پی ہاؤس میں دھرنے جاری،ذاتی ڈاکٹروں کی عدم موجودگی میں عمران کا کوئی علاج شروع نہ کیاجائے ،ترجمان پی ٹی آئی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نیعمران کا اڈیالہ جیل میں طبی معائنہ مکمل کیا، ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر سکندر اور ڈاکٹرعارف شام...