وجود

... loading ...

وجود
وجود

قرآن سے نسبت باعثِ رُشد و ہدایت!

جمعه 26 جنوری 2024 قرآن سے نسبت باعثِ رُشد و ہدایت!

                                             

محمد جاوید شیخ

انسان کو ہمیشہ کسی راہ نما کی ضرورت رہتی ہے، جو اس کی راہ نمائی کرے، اسے نشانات ِ منزل بتائے، صحیح غلط کی تمیز سکھائے، حق اور باطل کا فرق سمجھائے اور حقیقی معنوں میں اس کا رشتہ خالق حقیقی سے جوڑنے میں اس کی معاونت کرے۔ اسی طلب کو پورا کرنے کی غرض سے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔ ہردور میں انبیاء او ررسولوں نے اللہ کے بندوں کی راہ نمائی کی۔ یہ را ہ نما حقیقی معنوں میں بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر ایک اللہ رب العالمین کی بندگی میں لانے اور کفر کی تاریکی سے نکال کر ایمان کے نور سے قلوب انسانی کو منور کرنے کے لیے بھیجے گئے۔ اللہ نے اپنے پیغمبروں کو کتابوں اور صحیفے دے کر اوردوسرے لفظوں میں کتاب ہدایت’’کے ساتھ بھیجا۔ انبیاء اور رُسل کی بعثت کا یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ سب سے آخر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لے آئے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایک عظیم الشان اور عظیم المرتبت کتاب قرآن مجید کی صورت میں نازل کی۔ درحقیقت یہ کتاب انسانیت کے لیے ہدایت بھی ہے اور فلاح کی ضامن بھی
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور ایک نسخہ کیمیا ساتھ لایا
اسی نسخہ کیمیا کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے معاشرے میں انقلاب برپا کیا۔ اس قرآن کے مسحور کن الفاظ جس کے کانوں میں پڑے اس کے دل کی دنیا یکسر تبدیل ہو گئی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دل کی دنیا میں انقلاب برپاکرنے والی یہ کتاب زندگی کے تمام گوشوں اور پہلوؤ ں میں راہ نمائی کا سامان لیے ہوئے ہے۔ یہ کیوں کر ممکن ہو کہ ایک شخص قرآن مجید سے اپنی نسبت کا اظہار کرے اور وہ گم راہی کے راستے پر گام زن ہو،جہالت کے صحرا میں بھٹکتا پھرے۔ یہ کتاب انسان کی دنیا سنوارتی ہے، اخلاق کریمہ سے اسے متصف کرتی ہے، اس کے قلب کو سکینت کے لمحات بخشتی ہے، نور ِ خدا وندی سے اس کے اذہان کو منور کرتی اور آخرت او رجنت کے لیے اسے تیار کرتی ہے۔
قرآن مجید انسان کو درپیش روحانی بیماریوں کے لیے شفا کا سرچشمہ ہے۔ یہ کتابِ عظیم دلوں کی کدورتوں کو دھو کر اس کے قلب کو پاک وصاف کرتی ہے۔ یہ زندگی کے مختلف مراحل میں ایک مسلمان کومایوسی سے بچاتے ہوئے اپنے رب پر توکل کرنے، اپنے مالک کے در سے آس لگانے، اس کی رحمت سے امید باندھنے کی طرف راغب کرتی ہے۔ یہ کتاب عظیم الشان ابن آدم کو شکر کے جذبات سے اپنے دامن کو بھرنے اور ناشکری کے داغ دھونے کا حکم دے کر اس کا تعلق اپنے رب سے مضبوط کرتی ہے۔
اگر تم شکر کرو گے تو میں بڑھا کردوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو جان لو کہ میرا عذاب بڑا درد ناک ہے۔ (سورۃ ابراہیم7:)
قرآن مجید اپنے پڑھنے والے کے سامنے دنیا کی حقیقت آشکار کرتے ہوئے آخرت کی ابدی حیات اور دائمی نجات کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔اور آخرت کی زندگی بہتر ہے اورباقی رہنے والی ہے۔ (سورۃ الاعلیٰ17:)
اس کتاب کو اپنے سینوں میں محفوظ کرنے والے بروز قیامت لوگوں کو جہنم میں داخلے سے روکنے او رجنت میں داخل کرنے کا باعث ہوں گے۔ جیسا کہ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن پڑھا کرو، یہ اپنے پڑھنے والے کے لیے بروز قیامت شفاعت کرنے والا ہو گا۔(صحیح مسلم)
قرآن مجید سے نسبت قائم کرنے والا، اسے اپنے روز وشب کے معمولات کا حصہ بنانے والا، اسے سیکھنے او رسکھانے کے عمل میں شریک رہنے والا دنیا میں بسنے والے اربوں انسانوں میں سب سے بہتر قرار پاتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں بہترین شخص وہ ہے جو قرآن سیکھے او رسکھائے۔(صحیح بخاری)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز مسجد ِ نبوی میں تشریف لائے۔ آپ نے دیکھا کہ وہاں کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے حضور رکوع اور سجود، ذکر واذکار اور دعا ومناجات میں مشغول ہیں۔ گویا انفرادی عبادت کے ذریعے رب کو راضی کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ جب کہ ایک طرف کچھ لوگ ہیں جو قرآن مجیدکا فہم حاصل کرنے، اس کی آیات کے مفہوم سے آگاہی کے لیے جمع ہیں، قرآن سیکھنے او رسکھانے کے عمل میں مصروف ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک خیر پر ہے۔ یعنی جو خلوت کے سجدوں کے ذریعے رب کو منانے میں مصرف ہیں وہ بھی خیر اور بھلائی پانے والے ہیں اور جو فہم قرآن کے لیے جمع ہیں وہ بھی خیرو بھلائی پا جائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان صحابہ کرام کے ساتھ تشریف فرما ہوئے جو قرآن کا فہم حاصل کررہے تھے۔ درحقیقت نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ قرآن کے پیغام کو سمجھنے او رجاننے کا عمل اللہ تعالیٰ کو انفرادی عبادات سے زیادہ محبوب بھی ہے او رمطلوب بھی۔
قرآن کے جہاں بہت سارے حقوق ہیں وہیں سب سے بڑھ کر حق یہ ہے کہ اس کتاب ِ عظیم کو صرف طاقوں میں سجانے اور آنکھوں سے لگانے کے بجائے اس کے پیغام کو سمجھا جائے، اسے عام کیا جائے۔اس کے احکامات پر عمل کیا جائے۔ زندگی میں پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے قرآن مجید کو راہ نمابنایا جائے۔
یاد رکھیں! یہ قرآن بروز قیامت یا تو ہمارے حق میں گواہ بن کر ہمیں جنت کے بالاخانوں کا مستحق بنائے گا یا پھر ہمارے خلاف گواہی دے کر ہمیں جہنم کی ہول ناک وادیوں کا مستحق ٹھہرائے گا۔


متعلقہ خبریں


مضامین
''ٹوٹ۔کے''۔پارٹ ٹو۔۔ وجود بدھ 12 جون 2024
''ٹوٹ۔کے''۔پارٹ ٹو۔۔

بصیرت نہ بصارت وجود بدھ 12 جون 2024
بصیرت نہ بصارت

'یوم تکبیر' اور' زمیںکانوحہ' وجود منگل 11 جون 2024
'یوم تکبیر' اور' زمیںکانوحہ'

مودی کے بدلتے رنگ: نتیش، نائیڈو اور معیزو کے سنگ وجود منگل 11 جون 2024
مودی کے بدلتے رنگ: نتیش، نائیڈو اور معیزو کے سنگ

نیاجال لائے پرانے شکاری وجود پیر 10 جون 2024
نیاجال لائے پرانے شکاری

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت وجود بدھ 13 مارچ 2024
رمضان المبارک ماہ ِعزم وعزیمت

دین وعلم کا رشتہ وجود اتوار 18 فروری 2024
دین وعلم کا رشتہ

تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب وجود جمعرات 08 فروری 2024
تعلیم اخلاق کے طریقے اور اسلوب
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی

بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک وجود بدھ 22 نومبر 2023
بھارتی ریاست منی پور میں باغی گروہ کا بھارتی فوج پر حملہ، فوجی ہلاک

راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
راہول گاندھی ، سابق گورنر مقبوضہ کشمیرکی گفتگو منظرعام پر، پلوامہ ڈرامے پر مزید انکشافات
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر