وجود

... loading ...

وجود

عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ، کل سنایا جائے گا

پیر 28 اگست 2023 عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ، کل سنایا جائے گا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کل گیارہ بجے سنایا جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ کے روبرو سماعت ہوئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ اور الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے لطیف کھوسہ نے کہا کہ ملاقات والی درخواست پر آرڈر کر دیں اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ امید ہے آج ویسے ہی سزا معطلی کی درخواست طے ہوجائے گی۔ الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے دلائل میں کہا کہ کیس میں پبلک پراسیکیوٹر کو بھی نوٹس کیا جانا ضروری ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ شکایت تو الیکشن کمیشن نے فائل کی تھی ریاست نے نہیں، ٹرائل کورٹ میں آپ نے یہ بات نہیں کی آج آپ پہلی بار یہ بات کہہ رہے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھارتی سیاست دان راہول گاندھی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں راہول گاندھی کیس میں پرائیویٹ کمپلینٹ کیس میں دو سال کی قید تھی، راہول گاندھی نے سزا معطلی کی درخواست دائر کی جو خارج کر دی گئی، عدالت نے فیصلہ دیا کہ سزا معطل کرنا کوئی ہارڈ اینڈ فاسٹ رول نہیں ہے۔ امجد پرویز نے دلائل میں کہا کہ ضابطہ فوج داری میں سزا معطلی کی درخواست میں شکایت کنندہ کو فریق بنانے کا ذکر نہیں، استدعا ہے کہ عدالت درخواست میں ریاست کو نوٹس جاری کرے، ریاست کو نوٹس جاری کیے بغیر اور موقف سنے بغیر سماعت آگے نہ بڑھائی جائے، راہول گاندھی کیس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پبلک پراسیکیوٹر کو سننا ہے یا نہیں۔ دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے ظہور الہٰی کیس کا بھی حوالہ دیا گیا، امجد پرویز نے کہا کہ میں ابھی ان کی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر ہی نہیں رہا میں تو ابھی صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اس طرف جانے سے پہلے پبلک پراسیکیوٹر کو نوٹس کیا جانا لازمی ہے۔ انہوں ںے کہا کہ ہمارے ہاں کم از کم سزا ایک سال جبکہ بھارت میں کم سے کم سزا تین سال ہے، سزاؤں کے حوالے سے ہمارے اور بھارت کے قوانین میں بہت فرق ہے۔ دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیے اور عدالت سے پبلک پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا کردی۔ امجد پرویز نے کہا کہ ہمارے ہاں قانون ہے کہ ایک سال کی سزا ہو تو سزا سنانے والی عدالت فوری اسے معطل کرسکتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ نیب کیسز میں کمپلیننٹ کو کبھی پارٹی نہیں بنایا جاتا، نیب کے قانون میں پراسیکیوٹر کی تعریف کی گئی ہے، نیب کیس میں اسٹیٹ آتی ہی نہیں ہے، نیب پراسیکیوٹر کو سنا جاتا ہے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ نیب کو سنے بغیر کوئی آرڈر کیا جائے، فوج داری کیس میں اسٹیٹ کو نوٹس ہونا ضرورت ہے، قانون میں شکایت کنندہ کا لفظ ہی نہیں ہے، اسٹیٹ کا ذکر ہے۔ امجد پرویز نے عمران خان کی اپیل میں اٹھائے گئے اعتراضات کے جواب دیے اور اسٹیٹ کو نوٹس کرنے کی استدعا کی جس پر عدالت نے انہیں دلائل آگے بڑھانے کی ہدایت کردی امجد پرویز نے کہا کہ اپیل کنندہ نے بھی یہ اعتراض نہیں اٹھایا کہ سیشن کورٹ ٹرائل کی مجاز نہیں، وہ کہتے ہیں کہ ٹرائل سیشن کورٹ کو ہی کرنا ہے مگر کمپلینٹ پہلے مجسٹریٹ کے پاس جانی چاہیے، الیکشن کمیشن کی شکایت درست فورم پر دائر نہ ہونے کا اعتراض اٹھایا گیا، کرپٹ پریکٹسز کے خلاف اِس قانون کے تحت تمام شکایات سیشن عدالت میں دائر ہوئیں، اگر مجسٹریٹ کی اسکروٹنی والی بات مان بھی لی جائے تو ٹرائل سیشن عدالت کو ہی کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مجسٹریٹ کو طے کرنا ہے کہ سیشن عدالت کا دائرہ اختیار بنتا ہے یا نہیں؟ آپ کہہ رہے ہی کہ اگر یہ غلطی ہے بھی تو وہ ٹرائل کو خراب نہیں کرے گی۔ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں بلکہ ہمیشہ سے موجود رہا ہے، کوئی ایک ایسا فیصلہ موجود نہیں جہاں کرپٹ پریکٹیسز کی شکایت مجسٹریٹ کے پاس دائر ہوئی ہو، میں ایک آئینی ادارے کے وکیل کے طور پر عدالت کے سامنے کھڑا ہوں، دوسرے فریق نے کہا کہ شکایت درست فورم پر دائر نہ ہونے کے باعث برقرار نہیں رہ سکتی، یہ بات درست نہیں ہے، بلکہ صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ سماعت میں وقفہ کیا گیا جس کے بعد دوبارہ سماعت شروع کر دی گئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا، کچھ فیصلوں کے حوالے دینا چاہتا ہوں۔ لطیف کھوسہ نے نواز شریف کی سزا معطلی کا حکم بحال رکھنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے ایک گھنٹہ اس دن کیا کیا؟ آج دو گھنٹے لے گئے۔ اس پر امجد پرویز نے کہا کہ میں کوئی ایسا سیکشن نہیں پڑھوں گا جو نیا ہو، چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل بھی دو بار یہاں اور ایک بار سپریم کورٹ میں دلائل دے چکے ہیں، انہوں نے الیکشن کمیشن اور سیشن جج کو ولن بنایا ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جسٹس (ر) کھوسہ نے کہا تھا کہ ٹیسٹ میچ کا زمانہ چلا گیا اب ٹونٹی ٹونٹی کا دور ہے یعنی لطیف کھوسہ صاحب نے بڑے شائستہ انداز میں کہا ہے کہ مختصر کریں۔ امجد پرویز نے کہا کہ لطیف کھوسہ نے سزا معطلی کی درخواست پر دلائل کیلئے تین دن لیے، انہوں نے توشہ خانہ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج کو مشقِ ستم بنا رکھا ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں چھوڑ دیں اُس طرف نہ جائیں۔ وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ انہوں نے چھ نکات اٹھائے مجھے ان کا جواب دینا ہے، انہوں نے بیانیہ بنادیا ہے کہ یہ کوئی پہلا کیس ہے جس میں ملزم کو حقِ دفاع کا موقع نہیں دیا گیا، یہ منظوری الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد دی گئی، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہوئے، الیکشن کمیشن کے فیصلے میں چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے فیصلے میں قرار دیا کہ دفتر جو بھی ضروری ہو کرے، الیکشن کمیشن نے کسی فرد کو تو ہدایت جاری نہیں کی، الیکشن کمیشن کے سیکریٹری کو تو ہدایت جاری نہیں کی وہ کیوں کمپلین کرے؟ امجد پرویز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو شکایت دائر کرنے کے لیے اجازت نہ ہونے کا اعتراض اٹھایا گیا، درحقیقت سیکریٹری کمیشن نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ہی شکایت دائر کرنے کی اجازت دی، الیکشن کمیشن کا اجازت نامہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے آفس کو شکایت دائر کرنے کا کہا کسی مخصوص شخص کو نہیں، آپ کی دلیل اپنی جگہ لیکن سیکرٹری کمیشن نے خود کو متعلقہ شخص کیسے سمجھا؟ اس پر امجد پرویز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے تمام ممبران نے اپنے فیصلے میں متفقہ طور پر اجازت دی۔ وکیل امجد پرویز نے کہا کہ الیکشن کمیشن اگر سیکریٹری کمیشن کو ڈائریکشن دیتا تو وہ بات الگ تھی، یہاں الیکشن کمیشن نے سیکریٹری کے بجائے آفس کو یہ ہدایت دی ہے، اس کمپلینٹ کا ڈرافٹ الیکشن کمیشن نے منظور کیا، الیکشن کمیشن کے فل کمیشن نے کمپلینٹ کی منظوری دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا آپ نے یہ چیزیں عدالتی ریکارڈ پر رکھی ہیں؟ اس پر امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس کی ضرورت ہی نہیں تھی، الیکشن کمیشن نے آفس کو آرڈر کیا، کیا سیکریٹری کے سوا کوئی اور بھی کمپلینٹ دائر کر سکتا تھا؟ کیا الیکشن کمیشن کا ڈی جی لا بھی یہ کمپلینٹ دائر کر سکتا تھا؟ وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے کہا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن کا ایڈمنسٹریٹو سربراہ ہوتا ہے، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ایڈمنسٹریٹو معاملات رجسٹرار چلاتا ہے، کیا رجسٹرار کو کوئی کارروائی کرنے کا کہے گا یا آفس کو؟ اس پر امجد پرویز نے کہا کہ چیف جسٹس رجسٹرار کو کہیں یا آفس کو دونوں ہی درست ہوں گے۔ چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ ابھی کیا رہ گیا ہے؟ اس پر امجد پرویز نے کہا کہ کمپلینٹ کا دورانیہ، حق دفاع ختم ہونے اور دائرہ اختیار طے نا کرنے کے تین نکات رہ گئے ہیں، آفس نے مجھے خواجہ حارث کے بیان حلفی کی مصدقہ کاپی فراہم نہیں کی، میں آخری شخص ہوں گا جو اس پر کاؤنٹر ایفی ڈیوٹ جمع کرائے، بیان حلفی کا سپریم کورٹ میں بھی تذکرہ ہوا مگر وہ آفس میں سی ایم کے ذریعے دائر نہیں ہوا۔ امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ بیان حلفی ادھر ہی دوران سماعت کورٹ کو دیا گیا، میں نے خواجہ حارث کا جمع کرایا بیان حلفی نہیں دیکھا، یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ میں کیس التوا میں ڈال رہا ہوں لیکن خواجہ حارث کا بیان حلفی دیکھنا میرا حق ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دلائل جاری رکھیں دو نکات ہیں، جو سزا معطلی ہوتی ہے اس میں اتنی تفصیل میں نہیں جاتے، اگر دلائل کو اتنا طویل رکھیں تو پھر اپیل کا ہی فیصلہ ہو جائے۔ امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کے گواہوں کو غیرمتعلقہ قرار دیا، چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف یہ کیس غلط ڈیکلیریشن کا ہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کیا الیکشن کمیشن میں جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیلات پبلک دستاویز ہے؟ امجد پرویز نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں چوالیس سماعتیں ہوئی ہیں اور چیئرمین پی ٹی آئی صرف چار بار پیش ہوئے۔ الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز کے دلائل مکمل ہوگئے جس کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے جواب الجواب شروع کردیا بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو کل گیارہ بجے سنایا جائے گا۔


متعلقہ خبریں


خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ وجود - هفته 04 جولائی 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے لیے بے تاب ہے اور وہ ڈیل ہونے کیلئے مر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ٹرمپ نے جنوبی ڈکوٹا ریاست میں امریکا کی 250 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ امریکا نے ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ک...

خامنہ ای کی آخری رسومات کیلئے ایران کو ایک ہفتے کی چھٹی دی، ٹرمپ

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی وجود - هفته 04 جولائی 2026

سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کے ناک آؤٹ مرحلے میں کامیابی فیفا ورلڈ کپ میں مصر نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی اور آسٹریلیا کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد پنالٹی شوٹ آؤٹ میں4ـ2 سے شکست دے کر پہلی بار ورلڈ ک...

فیفا ورلڈ کپ،مصر کی آسٹریلیا کو پنالٹیز پر شکست، پری کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لی

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا وجود - هفته 04 جولائی 2026

روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا، نام نہاد امن کے داعی درحقیقت جنگ کو طول دینا چاہتے ہیں، روسی صدر روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا، روسی صدر پوتن نے کہا ہے کہ روس ہر قیمت پر فتح حاصل کرے گا۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین اور اس کے مغربی حامیوں کو ...

روس نے یوکرین کے ایک اور شہر کوستیان تینیو پر قبضہ کر لیا

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام وجود - بدھ 01 جولائی 2026

سندھ طاس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی قیمت بھاری ہوگی،پاکستان اپنے جائز آبی وسائل پر غیرقانونی قبضہ ہر گز قبول نہیں کرے گا،پانی روکنے کی بھارتی کوشش کو جنگ تصور کیا جائے گا، اسحاق ڈار بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کے نتائج 2ممالک تک محدود نہیں رہتے،پاکستان امن کا داعی ہے اور ہم...

بھارت نے پانی کا رخ موڑا تو جنگ ہوگی،نائب وزیراعظم کا دوٹوک پیغام

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق وجود - بدھ 01 جولائی 2026

20 بچوں کو نکال لیا گیا، ملبے میں مزید بچے دبے ہونے کا خدشہ۔پولیس نے مالک دو بھائیوںفیضان اور ریحان کو حراست میں لے لیا، ایک سال سے ٹیوشن سنٹر چل رہا تھا کمرے کی چھت پر مزدور کام کررہے تھے جس کی وجہ سے چھت گری، 5گرفتار،صدر ووزیراعظم کا اظہار افسوس،وزیراعلیٰ کا صوبے کے اسکولوں کی...

لاہور میں ٹیوشن سینٹرکی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر وجود - بدھ 01 جولائی 2026

ہم کسی بھی صورت بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوں گے ، پی ٹی آئی رہنما اختر مینگل اتحادی ہیں انہیں ساتھ لے کر چلیں گے،پریس کانفرنس سے خطاب سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے دعوی کیا ہے کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا۔ ا...

پی ٹی آئی دور میں 400 لاپتا افراد کو بازیاب کرایا گیا، اسد قیصر

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا وجود - بدھ 01 جولائی 2026

اسٹیٹ بینک نے بغیر قانونی اجازت بینک اکائو نٹس بلاک کرنے سے روک دیا عدالتی حکم پرعملدرآمدکی رپورٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ،اعلامیہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بغیر قانونی وجہ، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور تصدیق کے اکائونٹس بلاک کرنے سے روک دیا ۔عدالتی حکم پر اسٹیٹ بینک ...

بینکوں کو غیرقانونی اکائونٹس منجمد کرنے سے روک دیا

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم وجود - بدھ 01 جولائی 2026

مصنوعی قلت پیدا کرنے اور مارکیٹ میں ہیرا پھیری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی سندھ میں گندم اور آٹے کی مناسب قیمت پر بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے،سید مراد علی شاہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک اور ضلعی انتظامیہ کو گندم کی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خو...

وزیراعلیٰ سندھ کا گندم ذخیرہ اندوزی کیخلاف کریک ڈائون کا حکم

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو وجود - پیر 29 جون 2026

رینجرز کیمپ پر حملے کی مذمت،شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت، لواحقین سے تعزیت کا اظہار پاکستانی قوم اپنے وطن کی حفاظت اور دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے پُرعزم چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کراچی میں رینجرز کے کیمپ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح ...

سفارتی محاذ پر پزیرائی دشمن سے ہضم نہیں ہورہی، بلاول بھٹو

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز وجود - پیر 29 جون 2026

حملہ آوروں کا تعلق اسی تنظیم سے تھا، پاکستانی حکام بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ قرار دیتے ہیں جماعت الاحرار کی بنیاد اگست 2014میں رکھی گئی ، بانی عمر خالد خراسانی صحافت سے وابستہ رہے،ماہرین کراچی کے یونیورسٹی روڈ پر پاکستان رینجرز (سندھ)کے کیمپ پر ہونے والے دہشت گرد حملے ...

کراچی رینجرز کیمپ حملے کے بعد جماعت الاحرار پھر توجہ کا مرکز

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی وجود - پیر 29 جون 2026

احتجاج ان کی خواہش نہیں بلکہ آخری آپشن ہے، دوبارہ احتجاج کرنا پڑا توپہلی گولی میرے سینے پر لگے گی، وزیراعلیٰ حکومت نے ہمیشہ عوامی خدمت کو ترجیح دی، اسی لیے عوام نے انہیں تیسری مرتبہ حکومت کرنے کا موقع دیا،خطاب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ...

عمران خان سے ملاقات نہ ہونے پر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے،سہیل آفریدی

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم وجود - اتوار 28 جون 2026

شہباز شریف کا ملک کیخلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ،پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت...

بھارت پراکسی عناصر کے ذریعے امن خراب کر رہا ہے،وزیرِ اعظم

مضامین
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟ وجود جمعه 31 جولائی 2026
آپ زندہ ہیں یا مرگئے ؟

پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں وجود اتوار 05 جولائی 2026
پاکستانیوں کے لیے دو خوشخبریاں

مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش وجود اتوار 05 جولائی 2026
مقبوضہ وادی کے اسکولوں کی بندش

ہاں خریدا ہے جہاز! وجود اتوار 05 جولائی 2026
ہاں خریدا ہے جہاز!

تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے! وجود بدھ 01 جولائی 2026
تاریخ کے خون آلود نشانات کبھی نہیں مٹیں گے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر