وجود

... loading ...

وجود

انڈین آرمی کو افسران کی کمی کا سامنا، متبادل تجاویز زیرغور

پیر 03 جولائی 2023 انڈین آرمی کو افسران کی کمی کا سامنا، متبادل تجاویز زیرغور

انڈین آرمی میں میجر اور کیپٹن رینک کے افسران کی کمی پورا کرنے کے لیے مختلف ہیڈ کوارٹرز میں ان کی تعداد میں کٹوتی اور ان عہدوں پر افسران کی دوبارہ تقرری جسے متبادل زیر غور ہیں۔ آرمی میں آٹھ ہزار سے زائد افسران کی کمی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹوں کے مطابق انڈین آرمی کو اس وقت میجر اور کیپٹن کی سطح پر افسران کی زبردست کمی کا سامنا ہے۔ ایسے میں آرمی اپنی یونٹوں میں ان کی کمی کو دور کرنے کے لیے مختلف ہیڈ کوارٹرز میں اسٹاف افسران کی پوسٹنگ کو کم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے عہدوں پر پہلے سے مقرر افسران کی دوبارہ تقرری پر بھی غور کر رہی ہے۔انڈین آرمی نے اس سلسلے میں مختلف کمانڈز سے ان کی رائے اور اس کے عملی پہلوؤں کے حوالے سے مشورے طلب کیے ہیں۔ موجودہ سسٹم کے مطابق میجر رینک کے درمیانی سطح کے افسران کو تقریبا چھ برس کی سروس مکمل ہونے پر مختلف کور، کمانڈ اورڈویژن ہیڈکوارٹرز میں اسٹاف تقرری کے تحت پہلی پوسٹنگ دی جاتی ہے۔ اسٹاف تقرری سے مراد کسی ہیڈکوارٹرز میں تقرری ہے جہاں افسر مختلف موضوعات کی پالیسی اور رابطے کی ذمہ داریاں سنبھالتا ہے۔ یہ ایک یونٹ تقرری کے برخلاف ہے جہاں افسر بنیادی طورپر آپریشنز اور زمینی کارروائیوں کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ دراصل اسٹاف تقرری انہیں ان کی سروس کے دوران بعد کی کمان تقرریوں کے لیے تیار کرتا ہے۔ آرمی میڈیکل کور اور آرمی ڈینٹل کور سمیت انڈین آرمی میں 8129افسران کی کمی ہے۔ بھارتی بحریہ اور بھارتی فضائیہ میں بالترتیب 1653 اور 721 افسران کی کمی ہے آرمی میڈیکل کور اور آرمی ڈینٹل کور سمیت انڈین آرمی میں 8129افسران کی کمی ہے۔ بھارتی بحریہ اور بھارتی فضائیہ میں بالترتیب 1653 اور 721 افسران کی کمی ہے،بھارتی مسلح افواج میں اس وقت تقریبا پندرہ لاکھ جوان ہیں، اسے دنیا کی اہم ترین افواج میں سے ایک سمجھا جاتا ہے اور فوج میں ملازمت کو اب بھی انتہائی احترام اور فخر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے لیکن مختلف اسباب کی بنا پر نوجوانوں کی فوج کی جانب رغبت کم ہوتی جارہی ہے۔فی الحال آرمی میں آرمی میڈیکل کور اور آرمی ڈینٹل کور سمیت انڈین آرمی میں 8129افسران کی کمی ہے۔ بھارتی بحریہ اور بھارتی فضائیہ میں بالترتیب 1653 اور 721 افسران کی کمی ہے۔وزارت دفاع میں وزیرمملکت اجے بھٹ نے پارلیمان میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مسلح افواج میں اہلکاروں کی کمی اور اسے دور کرنے کے طریقہ کار کا مستقل جائزہ لیاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ خالی اسامیوں کو پرکرنے کے لیے متعدد اقدامات کیے جارہے ہیں اور نوجوانوں کو فوج میں شامل ہونے کے لیے حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فوج میں بالخصوص افسرکے عہدے پر تقرری اپنے آپ میں ایک بڑا چیلنج ہے لیکن تمام مراحل کو کامیابی سے پار کرکے جب کوئی نوجوان فوج میں شامل ہوتا ہے تب بھی اس کی زندگی آسان نہیں ہوتی۔صرف افسران ہی نہیں بلکہ ان کے خاندان کو بھی کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افسران کو اپنی بیوی اور بچوں سے اکثر مہینوں دور رہنا پڑتا ہے۔ دور افتادہ اور غیر آبادی والے علاقو ں میں تعیناتی بھی ان کے لیے کئی طرح کے مسائل پیدا کرتی ہے۔والدین بھی اکثر اپنے بچوں کے مستقبل کے خدشات کے مدنظر انہیں فوج میں بھیجنے سے گھبراتے ہیں۔ دوسری طرف آج مختلف شعبوں میں کیریئر کے بہت سارے نئے مواقع پیدا ہوگئے ہیں۔ بڑے بڑے کارپوریٹ گھرانے اور صنعتیں انہیں شاندار زندگی اور اچھی آمدنی کی پیش کش کرتی ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا نوجوانوں کے لیے مشکل ہوتا ہے۔حکومت مسلح افواج میں کیریئر کو پرکشش بنانے کے لیے آڈیو، ویزول، پرنٹ، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، کیریئر میلوں، نمائشوں اور اسکولوں اورکالجوں میں موٹیویشنل لکچروں کا اہتمام کرتی ہیحکومت مسلح افواج میں کیریئر کو پرکشش بنانے کے لیے آڈیو، ویزول، پرنٹ، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، کیریئر میلوں، نمائشوں اور اسکولوں اورکالجوں میں موٹیویشنل لکچروں کا اہتمام کرتی ہے، سابق آرمی چیف جنرل دیپک کپور کا خیال ہے کہ مسلح افواج آج بھارت میں نوجوانوں کے لیے ایک “غیر پرکشش” کیریئر متبادل ہے لہذا اس امیج کو بدلنے کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔جنرل دیپک کپور کا کہنا تھا،”یہ تشویش ناک ہے، بہت تشویش ناک۔ مسلح افواج ایک مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ آرمی اب ایسے نوجوانوں کے لیے بہت زیادہ پرکشش کیریئر نہیں رہ گیا ہے جو ایک بہتر لائف اسٹائل کے لیے ملازمت کی تلاش میں ہیں۔”اجے بھٹ کا کہنا تھا کہ حکومت مسلح افواج میں کیریئر کو پرکشش بنانے کے لیے آڈیو، ویزول، پرنٹ، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، کیریئر میلوں، نمائشوں اور اسکولوں اورکالجوں میں موٹیویشنل لکچروں کا اہتمام کرتی ہے۔


متعلقہ خبریں


ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ وجود - اتوار 10 مئی 2026

پاکستان نے امریکا سے کہا تھا کہ پراجیکٹ فریڈم نہ کریں،مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو پروجیکٹ فریڈم پلس شروع کیا جائے گا،امریکی صدرکی صحافیوں سے گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات نہیں ہوتے تو ایران کیخلاف نیا آپریشن شروع کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ...

ایران امریکا مذاکرات،ناکامی پر خطرناک جنگ ہوگی، ٹرمپ کی تنبیہ

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی وجود - اتوار 10 مئی 2026

9 مئی پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن ہے جس کے بعد جعلی حکمرانوں کو ملک پر مسلط کیا گیا حکمرانوں نے ملکی معیشت اور ریاستی اداروں کو بھی کمزور کیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا ٹویٹ وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل خان آفریدی ایکس پر 9 مئی کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا کہ 9 مئی پا...

9 مئی واقعے میں فیصلہ ساز، ریاستی ادارے ملوث تھے، سہیل آفریدی

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید وجود - اتوار 10 مئی 2026

ایک ریسکیو اہلکار شامل، اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں 2مارچ کے بعد سے 2ہزار 700افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں،لبنانی حکام لبنان پر جاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں ایک ریسکیو اہلکار سمیت 31 افراد شہید ہوگئے۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ...

لبنان پرجاری اسرائیلی فوج کے حملوں میں 31شہری شہید

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد وجود - هفته 09 مئی 2026

حملہ آبنائے ہرمز اور بحیرہ مکران کے قریب پیش آیا، میناب کے ساحلی پانیوں کے نزدیک مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا گیا،جہاز پر مجموعی طور پر 15ارکان سوار تھے ، ایرانی میڈیا ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے گزشتہ رات ایک ایرانی پرچم بردار تجارتی جہاز کو نشانہ بنایا، ...

امریکاکا آبنائے ہرمز میں ایرانی جہاز پر حملہ،10افراد زخمی، 4لاپتا، ایک کی لاش برآمد

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج وجود - هفته 09 مئی 2026

اورنگی، قصبہ کالونی، بنارس، ایم پی آر کالونی، مومن آباد، منگھوپیر اور ملحقہ علاقوں میں شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی 12سے 20 گھنٹے تک بجلی بندش، کے الیکٹرک دعوے کھوکھلے ثابت ہونے لگے،شدید گرمی میں رات بھر بجلی غائب کراچی کے مختلف علاقوں اورنگی ٹائون، محمد پور، قصبہ کالونی، میا...

غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو، نظامِ زندگی مفلوج

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے، وجود - هفته 09 مئی 2026

2022 کے بعد سے پاکستان مسلسل تنزلی کا شکار ، جی ڈی پی گروتھ3 فیصد تک محدود ہوچکی ہے، وزیر خیبر پختونخوا بدقسمتی سے بند کمروں میں بیٹھے فیصلہ سازوں نے بیرونی سازش کے تحت جمہوری حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا،خطاب وزیر خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا ہے کہ 2022 کے بعد سے پاک...

عمران خان کو دیوار سے لگانے، توڑنے،سیاسی انتقام پرسارا زور لگایا جا رہا ہے،

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار وجود - هفته 09 مئی 2026

یو اے ای سے پاکستان کے کسی خاص طبقے کو ڈی پورٹ نہیں کیا جارہا، وزارت داخلہ اگر کسی شہری کو واپس بھیجا جاتا ہے تو یہ ملکی قوانین کے مطابق معمول کی کارروائی کا حصہ ہے وزارت داخلہ نے متحدہ عرب امارات سے پاکستانی شہریوں کی مخصوص بنیادوں پر بے دخلی سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی خ...

امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی کی خبریں گمراہ کن قرار

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج وجود - جمعه 08 مئی 2026

بھارت خود دہشتگردی میں ملوث ہے ،دنیا بھارت کی من گھڑت باتوں پر کان دھرنے سے کیلئے تیار نہیں ، بھارت کے سیاستدان، سیاستدان کم اور جنگجو زیادہ لگتے ہیں، لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کسی کا باپ پاکستان پر آنچ نہیں لا سکتا، شوق پورا کرنا ہے کرلے، ہم کھڑے ہیں طاقت سے جواب دیں گے، ...

پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں،سعودی عرب کیلئے خطرہ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے ، ترجمان پاک فوج

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی وجود - جمعه 08 مئی 2026

بجلی سبسڈی کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کا عندیہ،8 ماہ میں نیا نظام متعارف کروایا جائے گا،جنوری 2027 سے ہدفی (ٹارگٹڈ) سبسڈی متعارف کرائی جائے گی،ذرائع سبسڈی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کی بنیاد پر صارفین کو فراہم کی جائے گی، غلط استعمال کو روکنے میں مدد ملے گی،حکومت صارفی...

عوام پر نیا وار،200 یونٹ تک بجلی سبسڈی ختم،پاکستان کی آئی ایم ایف کو نیا نظام متعارف کرانے کی یقین دہانی

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ وجود - جمعه 08 مئی 2026

سندھ طاس معاہدہ کیتمام آپشنز زیر غور ،دریاؤں کی صورتحال کا مشاہدہ کررہے ہیں امریکا ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے،ترجمان کی ہفتہ وار بریفنگ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران میں جلد معاہدے کی توقع ہے، پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی ...

پاکستان کا ایک قطرہ پانی کوئی چوری نہیں کرسکتا،دفتر خارجہ

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا وجود - جمعرات 07 مئی 2026

180 نشستیں جیتنے والے شخص کو قید کیا گیا، 17 نشستیں جیتنے والوں کو ہم پر مسلط کیا گیا، ہم نے متحد ہوکر اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے، میں تیار ہوں، قوم بھی تیار ہے ،سہیل آفریدی کل شیخ ادریس صاحب کو شہید کیا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف بولیں تو کہا جاتا جھوٹ بول رہے ہیں، معصوم لوگ شہید...

عمران خان حکم کریں پورا پاکستان بند کردیں گے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

مضامین
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر! وجود اتوار 10 مئی 2026
دبئی کی معیشت تباہی کے کنارے پر!

میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں! وجود اتوار 10 مئی 2026
میں کون ہوں اور کس طرح جینا چاہتا ہوں!

کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے! وجود اتوار 10 مئی 2026
کھانے ہی کھانے ، بس یہی زندگی ہے!

بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر وجود هفته 09 مئی 2026
بھارت جمہوریت چھوڑکر جہنم کے سفرپر

امریکی سلطنت رو بہ زوال وجود هفته 09 مئی 2026
امریکی سلطنت رو بہ زوال

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر