وجود

... loading ...

وجود

پچاس لاکھ افراد بے روزگار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، شوکت ترین

جمعه 06 جنوری 2023 پچاس لاکھ افراد بے روزگار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، شوکت ترین

پاکستان تحریک انصاف کی معاشی ٹیم نے معیشت کی بدحالی پر اپنے جاری کردہ وائٹ پیپر کے متعلق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے موقف کو اعدادوشمار کے ساتھ مسترد کردیا،سابق وزیر خزانہ و رہنما تحریک انصاف شوکت ترین نے کہا کہ تحریک انصاف کا معیشت پر وائٹ پیپر حقائق پر مبنی ہے، ملک کی 77 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی امپورٹڈ حکومت کے دور میں ہوئی،اسحاق ڈار کا وائٹ پیپر پر موقف عوام کو درپیش مسائل اور مہنگائی سے توجہ ہٹانے کہ کوشش ہے۔ جمعہ کو ایک بیان میں شوکت ترین کا کہنا تھا تحریک انصاف کے وائٹ پیپر میں بیان کردہ تفصیلات اسحاق ڈار کی حکومت کے جاری کردہ اقتصادی سروے، اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار اور آئی ایم ایف کی رپورٹس کے اصل اعداد و شمار پر مبنی ہیں،کورونا وبا کے باوجود لگاتار دو سالوں تک 6 فیصد نمو کے ساتھ معیشت کی ترقی ہماری شاندار کارکردگی کا ثبوت ہے،موجودہ معاشی صورتحال میں امپورٹڈ حکومت کی پالیسیوں نے ریکارڈ مہنگائی اور بے روزگاری کے ذریعے عوام کو تکلیف میں مبتلا کیا۔انکا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار ایک بار پھر معیشت کو بچانے کے لیے کوئی قابل اعتماد لائحہ عمل فراہم کرنے میں ناکام رہے،ہم ان سے اخراجات میں ریکارڈ اضافے کے ساتھ گزشتہ 9 ماہ میں ہونے والی تباہی کا جواب مانگتے ہیں۔انہوں نے کہا جولائی تا دسمبر 2022 کے دوران افراط زر کی اوسط شرح 25 فیصد رہی جو اب تک کی سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی،مارچ تا جولائی مالی سال 2022 کے دوران تحریک انصاف حکومت کے تحت مہنگائی اوسطا 10.8 فیصد رہی۔پی ڈی ایم حکومت کی ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ممکنہ طور پر 4 سے 5 ملین افراد بے روزگار ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت میں ہم ہر سال اوسطا 18 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کر رہے تھے۔اسحاق ڈار اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافے اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں پر ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے روڈ میپ پیش کرنے میں بھی ناکام رہے۔ انھوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے ہاتھوں زرمبادلہ کے ذخائر تیزی سے کم ہو کر صرف 5.8 ارب ڈالرز کی کم تعین سطح تک سکڑ چکے ہیں، اسحاق ڈار بتائیں کہ گزشتہ 9 مہینوں میں پی ڈی ایم وزرا کے بیرونی دوروں کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟اسحاق ڈار بتائیں 3 ماہ گزرنے کے باوجود کے پی کے اور پنجاب کو سیلاب متاثرین کے لیے کیوں ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا؟حکومت کے پاس 76 رکنی کابینہ کے لیے پیسے ہیں مگر عوام کے لیے نہیں،دسمبر میں بنگلہ دیش کی برآمدات 5.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں،پاکستان کی16.6 فیصد کم ہو کر صرف 2.3 ارب ڈالر رہ گئیں،آئی ایم ایف سٹاف رپورٹ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر اور ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں نمایاں کمی واقع ہوئی،انکا کہا تھااسحاق ڈار کی جماعت کے پچھلے دورِ اقتدار میں موڈیز نے جون 2018 میں پاکستانی معیشت کی آٹ لک کو منفی قرار دیا،2018 میں پاکستان کو ن لیگ کے دور میں ہی فیٹیف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا،ن لیگ کی معاشی نااہلیوں کی وجہ سے پاکستان کے “بلیک لسٹ” ہونے کے خطرات نے جنم لیا،2013 سے 2018 کے دوران ن لیگ کے دور میں مالیاتی خسارہ اپنی حدوں کو چھو رہا تھا،شوکت ترین نے کہا وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا اکتوبر 2023 میں بھی مالیاتی خسارہ 1,266 ارب روپے تک پہنچ گیا،مالیاتی خسارہ تحریک انصاف کے آخری سال کے 587 ارب کے مقابلے میں 116 فیصد تک بڑھ چکاہے،یہ خسارہ بجلی کی قیمتوں اور امپورٹڈ حکومت کی جانب سے ریکارڈ ٹیکسوں کے باوجود بڑھا ہے،دسمبر 2022 میں ایف بی آر کی وصولیوں میں ریکارڈ 220 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی،عمران خان کی حکومت میں برآمدات اور لارج سکیل مینوفیکچرنگ میں ریکارڈ پیداوار ہوئی،زرعی شعبے نے 2005 نے بعد مالی سال 2022 میں 4.4 فیصد کی ریکارڈ ترقی کی،انہوں نے مزید کہا بڑی فصلوں کی پیداوار میں 6.6 فیصد، جبکہ بڑی صنعتوں کو 11.7 فیصد کی ریکارڈ ترقی میسر آئی،تحریک انصاف کے دورمیں برآمدات 32 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچیں،مرکزی بینک کے اندازے کے مطابق پی ڈی ایم کے زیر انتظام موجودہ سال جی ڈی پی کی شرح محض 2 فیصد رہ جائے گی،ٹیکس کے سخت اقدامات اور درآمدات پر پابندیوں کی وجہ سے،مینوفیکچرنگ سیکٹر نے بھی ہاتھ کھڑے کر دئیے،مینوفیکچرنگ میں پہلے چار مہینوں میں صرف منفی2.9 فیصد پیداوار حاصل کی گئی ہے،آزاد تجزیہ کاروں کے اندازوں کے مطابق پی ڈی ایم کی ناک تلے مجموعی قومی پیداوار کی ترقی کی شرح منفی ہو گی،شوکت ترین نے مزید کہا امپورٹڈ حکومت کی منفی پالیسیوں نے عوام پر بے مثال مہنگائی کو مسلط کیا،سی پی آئی افراط زر رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ میں اوسطا 25.1 فیصد ہے،یہ ہماری 77 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ مہنگائی ریکارڈ کی گئی ہے،اشیائے ضروریہ بشمول خوراک، توانائی کی قیمتیں گزشتہ 6 مہینوں سے 30 فیصد سے زیادہ بڑھ رہی ہیں،انہوں نے کہا تحریک انصاف کی حکومت میں صارفین کے لیے بجلی کی اوسط قیمتیں تقریبا 16 روپے فی یونٹ تھیں،اب بجلی کی قیمتیں 100 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 34 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی ہیں،پی ڈی ایم نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا جب پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی،اب امپورٹڈ حکومت نے پیٹرول کی قیمتیں 214 روپے فی لیٹر کر دیں ہیں،صارفین کے لیے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے میں ریکارڈ 50 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی شامل ہے،ہمارے دور میں تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے پیٹرولیم لیوی کو صفر کر دیا گیا،انکا کہنا تھا ڈیزل کی قیمتوں کا بھی یہی حال ہے جو پی ٹی آئی حکومت کے دور میں 150 روپے کے مقابلے میں 227 روپے میں مل رہا ہے،ادارہ شماریات کے مطابق آٹے کی قیمت 150 سے 160 روپے فی کلو تک بڑھ گئی ہیں،آٹے کی قیمت مارچ 2022 میں 58 روپے فی کلو کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہو گئی ہے،انہوں نے کہا جنوری 2023 میں مرغی 650 روپے میں مل رہی ہے، یہی مرغی مارچ 2022 میں 288 روپے میں میسر تھی،مارچ 2022 میں پیاز40 روپے فی کلو تھا جو ، اب جنوری 2023 میں 500 فیصد اضافہ ہو کر 240 روپے فی کلو ہو گیا ہے،ٹیکسٹائل ملز سے لے کر آٹوموبائل مینوفیکچررز تک، سبھی فیکٹریوں بند اور مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں،تحریک انصاف حکومت کے تحت ایف بی آر نے ریکارڈ 6.1 کھرب روپے ٹیکس جمع کیا،ہماری حکومت نے 43 لکھ نئے ٹیکس دہندگان کی نشاندہی کی جنہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جانا تھا،سابق وزیر خزانہ نے کہا امپورٹڈ حکومت کے دور میں جولائی تا اکتوبر 2022 کے دوران گردشی قرضے 500 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے،تحریک انصاف حکومت نے احساس پروگرام کو چلایا اور کوویڈ کے دوران ہم نے 15لاکھ سے زیادہ گھرانوں کو نقد امداد فراہم کی،ہماری حکومت نے 130 ملین سے زیادہ شہریوں کو کووڈ کے خلاف مفت ویکسینیشن فراہم کی،کم لاگت کا ہاؤسنگ پروگرام میرا پاکستان میرا گھراور کامیاب پاکستان پروگرام ہماری بڑی کامیابیاں ہیں،پاکستان بھر میں پہلی بار 70,000 سے زائد افراد کو گھر خریدنے میں فائدہ پہنچا۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر