وجود

... loading ...

وجود

عمران خان کا جمعہ کو لبرٹی چوک لاہور سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان

منگل 25 اکتوبر 2022 عمران خان کا جمعہ کو لبرٹی چوک لاہور سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جمعہ کے روز لاہور کے لبرٹی چوک سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لانگ مارچ کی قیادت میں خود کروں گا، اس لانگ مارچ کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہے، ہم لبرٹی چوک سے جی ٹی روڈ جائیں گے جہاں عوامی جم غفیر کے ساتھ نکلیں گے اور اسلام آباد میں داخل ہوں گے، یہ تاریخ کا سب سے بڑا اور پر امن لانگ مارچ ہو گا، خدشہ ہے کہ یہ لوگ لانگ مارچ میں گڑبڑ کرا سکتے ہیں، 25 مئی کو بھی ان کے لوگوں نے ڈنڈے پکڑ کرہماری گاڑیوں کے شیشے توڑے تھے، اسلام آباد میں کسی سے لڑائی نہیں کرنے جا رہے، کوئی قانون نہیں توڑیں گے اور نہ ہی ہمیں ریڈ زون میں جانا ہے، ہمارا کام ہر صورت قانون پر عمل کرنا ہے، سیاسی جماعتیں کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتیں، ہم آج بھی مذاکرات کیلئے تیارہیں لیکن یقین ہو گیا ہے کہ یہ الیکشن نہیں کرائیں گے۔ 90 شاہراہ قائد اعظم پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ کوئی شک میں نہ رہے اس وقت ملک بہت مشکل میں ہے، جب ہمیں دو ہزار اٹھارہ میں پاکستان ملا تو بینک کرپٹ تھا، اس وقت ہمارے ملکی ذخائر 9 ارب ڈالر کے قریب تھے، ہمارے پاس پاکستان کا خرچہ برداشت کرنے تک کی آمدنی نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں تین مرتبہ لانگ مارچ ہوئے، فضل الرحمان نے دو اوربلاول بھٹو نے ایک بار لانگ مارچ کیا، مریم نواز نے بھی لانگ مارچ کیا تھا وہ گوجرانوالہ میں کہیں رہ گئیں تھی، تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی بھی کسی کو لانگ مارچ کرنے سے نہیں روکا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پچیس مئی کو پرامن احتجاج کیا لیکن ہمارے اوپر بہیمانہ تشدد کیا گیا، اگر اس روز واپس نہ ہوتا تو ملک میں خون خرابہ ہونا تھا۔جب ہم نے واپسی کا اعلان کیا تو اس فیصلے پر ہمارا مذاق اڑایا گیا، اس واقعے کے بعد سے اب تک میرے اوپر 24 ایف آئی آردرج ہو چکی جس میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتیں، ہم آج بھی مذاکرات کے لئے تیار ہیں لیکن یقین ہو گیا ہے کہ یہ الیکشن نہیں کرائیں گے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پہلے انہوں نے مجھے فارن فنڈنگ میں نا اہل کرانے کی کوشش کی پھر توشہ خانہ میں نا اہل کرانے کی کوشش کی اب یہ لوگ مجھے غیر قانونی طورپرانتخابات سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت کا مجھے گرفتار کرنے کا ارادہ ہے، میں تو گرفتاری کے لئے تیار بیٹھا ہوں اور میرا تو بیگ بھی تیار ہے مگر جب تک زندہ ہوں ان لوگوں کے خلاف جہاد کرتا رہوں گا۔ ارباب اختیار کو کہنا چاہتا ہوں کہ ملک میں شفاف الیکشن کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں، ملک کے مستقبل کا فیصلہ عوام کو کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مارچ پرامن احتجاج ہو گا، ہم پر امن احتجاج کرتے ہیں، ہمارے جلسوں میں فیملیز آتی ہیں۔ عمران خان نے یہ بھی کہا کہ مجھے غیر ذمہ دار کہا گیا، کہا گیا کہ ملک مشکل میں ہے، آپ اس وقت لانگ مارچ کر رہے ہیں۔ ہمارے دور میں کتنے لانگ مارچ ہوئے، اس وقت تو کسی کو خیال نہیں آیا کہ ملک کے معاشی حالات ٹھیک نہیں، سندھ ہاؤس میں لوگوں کو خرید کر ہماری حکومت گرائی گئی۔ عمران خان نے لیگی قیادت اور سابق صدر آصف علی زرداری کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ (ن) لیگ پنجاب میں مقابلہ کرے، کہیں بھی مجھے جیت کر دکھا دے۔ میں آصف زرداری کو بھی چیلنج کرتا ہوں وہ اب مجھ سے سندھ میں جیت کر دکھا دے، میرا اگلا پروگرام سندھ آنے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وبا سے نکل کر 17 سال بعد ملک کی سب سے بہتر گروتھ ریٹ تھی، ہم نے کسانوں کی مدد کی اور بہترین فصلیں ہوئیں۔ ہماری آئی ٹی کی ایکسپورٹ 3 گنا بڑھ گئی تھیں، ہمارے بلین ٹریز سونامی منصوبے کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا، ہمارے ہیلتھ کارڈ جیسا منصوبہ امیر ملک بھی نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ چوروں کو ہمارے اوپر مسلط کرتے ہیں، 25،25 کروڑ روپے دے کر لوگوں کے ضمیر خرید کر ہماری حکومت گراتے ہیں، سندھ ہاؤس میں نیلام گھر لگا ہوتا ہے، الیکشن نہیں وہاں انسانوں کی نیلامی ہوتی ہے اور ہماری حکومت گراتے ہیں۔ اس کے بعد جب ہم پرامن مظاہرہ کرتے ہیں تو وہ ظلم کرتے ہیں گھروں سے اٹھا کر جیلوں میں ڈالتے ہیں۔ جب ہم جولائی کے ضمنی انتخابات جیتتے ہیں تو مقدمات کی بارش ہو جاتی ہے، مجھے جیل میں ڈالنے کے لیے دو دفعہ پولیس آ گئی، میڈیا کے اوپر جس طرح کی پابندیاں عائد کرتے ہیں اور ظلم کرتے ہیں کسی جمہوریت میں اس کی مثال نہیں ہے۔ جس طرح انہوں نے صحافیوں سے کیا اور تشدد کیا، صحافی برادری کے لیے سب سے تکلیف دہ ہے جو انہوں نے ارشد شریف کے ساتھ کیا ہے۔ارشد شریف ہمیشہ ملک کے لیے کھڑا ہوتا تھا، اس کو دھمکیاں ملیں، ڈرایا دھمکایا گیا کہ اپنے موقف سے ہٹ جائے۔میں نے اس کو ملک سے باہر جانے کی تجویز دی اور دو دفعہ کہا اور دوسری دفعہ وہ ملک سے گیا کیونکہ جان کو خطرہ تھا۔انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کی شہادت ہوئی ہے، پاکستان میں اس سے زیادہ ظلم کب ہوا ہے، اس کو دبئی واپس منگوا رہے تھے، اسی لیے جان بچانے کے لیے کینیا گیا تھا، اس کو پتا تھا کیا کرنے لگے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ ہماری لانگ مارچ کوئی سیاست نہیں ہے بلکہ ہم پاکستان کے مستقبل کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یہ فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کہاں جانا ہے۔یہ ہمارا حقیقی آزادی کی مارچ ہے، اس کا کوئی ٹائم فریم نہیں ہے، ہم جی ٹی روڈ سے عوام کو ساتھ لے کر اسلام آباد پہنچیں گے، جہاں پورے پاکستان سے وہاں عوام آئیں گے۔میں پیشگوئی کر رہا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ کا عوام کا سب سے بڑا سمندر ہوگا اور ہم چاہتے ہیں ملک کے لوگ فیصلہ کریں۔صحافیوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا ہ حکومت نے فیصلہ کیا ہے ارشد شریف کی صحافت کے لیے کاشوں پر یادگار بنائی جائے گی اور حکومت پنجاب سے بھی کہوں گا کہ وہ یہاں بھی ایسا کریں۔عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد میں ہم لڑائی کرنے نہیں جارہے، نہ کوئی قانون توڑنا ہے اور نہ ریڈ زون میں جانا ہے، عدالت نے جہاں جا کر جلسہ کرنے کی اجازت دی ہے وہیں جائیں گے۔ہماری لوگوں کو ہدایات ہیں کہ پرامن رہنا ہے لیکن ہم صرف یہ دکھائیں گے پاکستانی قوم کہاں کھڑی ہے۔عمران خان کی زیر صدارت اجلاس بھی ہوا جس میں مرکزی و صوبائی رہنماؤں،صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں لانگ مارچ کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا گیا ۔


متعلقہ خبریں


مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

نوٹس میں مزید خبردار کیا گیا ہے کہ قانونی تقاضے پورے نہ کرنے کی صورت میں مدرسے کی عمارت کو سیل کیا جا سکتا ہے مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو قانونی خلاف ورزیوں پر سی ڈی اے کا نوٹس جاری کر دیا گیا۔ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈائ...

مولانا فضل الرحمان سے منسلک مدرسہ اختر العلوم کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کوششوں میں تیزی آنے اور مزید ری پبلکن ارکان کی حمایت ملنے کا امکان امریکی وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کے ممکنہ کنٹرول سے وزیرِ جنگ پیٹ ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ہیگستھ کے خل...

ایوانِ نمائندگان پر ڈیموکریٹس کا ممکنہ کنٹرول، ہیگستھ کے لیے مشکلات بڑھ گئیں

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد ہلاک ہوچکے ہیں، تحقیقاتی رپورٹ بھارتی ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، تازہ جھڑپوں میں مزید پانچ افراد ہلاک ہوگئے. تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تین سال سے جاری فسادات میں اب تک تین سو ترانوے افراد...

بھارت، ریاست منی پور میں بی جے پی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی وجود - جمعرات 05 نومبر 2026

ایران سے لڑنے والا اسکی قیمت میدان جنگ سے اپنی دہلیز تک چکائے گا، بیان ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے کہا ہے کہ جو بھی ایران سے ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا۔امریکا کے مڈٹرم نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو میدان جنگ اور ہرمز ...

ایران سے جو بھی ٹکرائے گا، قیمت چکائے گا، محسن رضائی

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر وجود - منگل 03 نومبر 2026

بانی سے ملاقاتوں کا سلسلہ چلتا رہتا تو سیاسی تناؤ نہیں ہوتا اور نہ ایمرجنسی یا گورنر راج کی نوبت آتی، گفتگو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے مکمل باخبر تھے ، انہوں نے حکومت کے خاتمے کو خوش...

بانی پی ٹی آئی کے پی میں گورنر راج سے باخبر تھے، اچھا ہوا حکومت ختم ہوئی کابیان نہیں دیا، بیرسٹر گوہر

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

صدر کے پاس ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت چلانے کی مثالیں موجود ہیں،انٹرویو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی تو میں مسٹر...

میں مسٹر ویٹو بن جاؤں گا، ٹرمپ نے ڈیموکریٹس کو خبردار کر دیا

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک وجود - منگل 03 نومبر 2026

ہلاک ہونے والے ملاح کی شناخت گجرات سے تعلق رکھنے والے گندھر نعیم عجیز کے نام سے ہوئی،حکام عمان کے ساحل کے قریب بھارتی پرچم بردار کارگو جہاز کو نامعلوم فضائی شے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک بھارتی ملاح ہلاک ہوگیا، جبکہ جہاز پر سوار دیگر 13 افراد کو بحفاظت ریسکیو کرلی...

عمان کے ساحل کے قریب کارگو جہاز پر فضائی حملہ، بھارتی ملاح ہلاک

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ وجود - منگل 03 نومبر 2026

مختلف یورپی ممالک میں سائبر حملوں کے نتیجے میں سپرمارکیٹس کے فریج اور کولنگ سسٹم خراب ہوگئے، جس کے باعث خوراک کو محفوظ رکھنے اور اس کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق سائبر حملوں سے سویڈن، بیلجیم اور لکسمبرگ کے اسٹورز متاثر ہوئے ہیں۔ آئرلینڈ کے 13 اور ...

یورپ میں سائبر حملے، آئرلینڈ اور بیلجیم کے 28 سپر اسٹورز کے کولنگ سسٹم ناکارہ

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل وجود - منگل 03 نومبر 2026

سپریم کورٹ، سندھ ہائی کورٹ اور وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی گئی ہےخستہ حال پوائنٹس کی فی الفور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے، طلبہ جامعہ کراچی سے الحاق شدہ لا کالجز کے سیکنڈ ایئر کے امتحانی نتائج اور مارکس شیٹس سے مت...

جامعہ کراچی سے ملحقہ لاء کالجز کے امتحانی نتائج کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سرمایہ کاروں نے ڈالر پر انحصار کم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے باعث یورو سمیت دیگر بڑی کرنسیوں کو تقویت مل رہی ہے عالمی مالیاتی منڈی میں امریکی ڈالر کی قدر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے اور ڈالر ایک ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی او...

عالمی منڈی میں ڈالر کمزور، ایک ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش وجود - منگل 03 نومبر 2026

گریڈ 18 کے افسر شہزاد اکبر کو اضافی چارج سونپ دیا گیا، تین ماہ یا مستقل تعیناتی تک ذمہ داریاں انجام دیں گے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی میں اہم انتظامی تبدیلی عمل میں لائی گئی ہے، جہاں گریڈ 18 کے افسر طارق نواز نے ایڈیشنل ڈائریکٹر کا عہدہ چھوڑ...

این سی سی آئی اے کراچی میں انتظامی تبدیلی، ایڈیشنل ڈائریکٹر طارق نواز عہدے سے سبکدوش

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا وجود - منگل 03 نومبر 2026

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد ع...

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

مضامین
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی وجود بدھ 04 نومبر 2026
ریاستی دماغ پر طاقت کے پٹھوں کی حکمرانی

عقل گئی کھمبے گننے! وجود منگل 03 نومبر 2026
عقل گئی کھمبے گننے!

بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی نظام میں پاکستان کے کردار کی حکمتِ عمل

کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر وجود جمعه 30 اکتوبر 2026
کشمیری اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے منتظر

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان وجود جمعرات 29 اکتوبر 2026
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب وجود جمعرات 22 اکتوبر 2026
شمالی افغانستان میں معدنی وسائل پرکنٹرول تنازعات کا سبب

افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر