وجود

... loading ...

وجود

پاکستان میں 34 لاکھ سے زائد بچے شدید بھوک کا شکار

هفته 08 اکتوبر 2022 پاکستان میں 34 لاکھ سے زائد بچے شدید بھوک کا شکار

پاکستان میں 34 لاکھ سے زائد بچے شدید بھوک کے شکار ہیں جس میں سیلاب زدہ علاقوں میں 76 ہزار بچے خوراک کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں جس کی وجہ سے شدید غذائیت کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ برطانیہ میں قائم ایک فلاحی ادارے ‘سیو دی چلڈرن’ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ ملک کے بیشتر حصوں میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد بھوک کے شکار افراد کی تعداد 45 فیصد تک بڑھ گئی ہے جہاں پہلے 59 لاکھ 60 ہزار لوگ خوراک کی ہنگامی قلت سے دوچار تھے اب ان کی تعداد 86 لاکھ 20 ہزار ہوگئی ہے جن کی اکثریت کا تعلق سیلاب زدہ علاقوں سے ہے۔بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسم سرما کی آمد پر بھوک کا سامنا کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے اور اگر بر وقت اقدام نہ کیے گئے تو لاکھوں نوجوان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوں گے۔ بتایا گیا کہ سیلاب کی تباہوں سے فصل اور مویشی تباہ ہوگئے ہیں اور اشیا کی عدم دستیابی کی وجہ سے قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ سیلاب کے بعد بنیادی ضرورت کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے یہ اشیا ان خاندانوں کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں جو سیلاب میں اپنا گھر اور سب کچھ کھونے کے بعد بے گھر بنے ہوئے ہیں۔ سیو دی چلڈرن کی نئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ سیلاب کے بعد 86 فیصد خاندان اپنا سب کچھ کھو بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے انہیں کھانا بھی میسر نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرہ خاندان زندہ رہنے کے لیے مایوس کن اقدامات کا سہارا لے رہے ہیں جیسا کہ وہ قرض حاصل کر رہے ہیں یا کھانے کے لیے بچا ہوا سامان بیچ رہے ہیں، خیرات پر انحصار کر رہے ہیں یا اپنے بچوں کو پیسے کمانے کے لیے کام پر بھیج رہے ہیں۔ مایوسی کا شکار والدین نے کہا کہ پیسے کمانے کے لیے وہ اپنے بچوں کو باہر بھیجنے پر مجبور ہیں۔ اس صورتحال میں نوعمر بچوں کی شادیاں بھی کی جا رہی ہیں جیسا کہ 55 متاثرہ والدین نے سیو دی چلڈرن کو بتایا کہ سیلاب کے بعد انہوں نے اپنے بچوں میں سے ایک کی شادی کردی ہے، انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس اپنے بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے باہر بھیجنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے تاکہ وہ کھانا خرید سکیں۔ پاکستان میں سیو دی چلڈرن کے ڈائریکٹر خرم گوندل نے اپنے بیان میں کہا کہ کھانے کی قلت سے ہونے والی تباہی ہر روز واضح ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک می ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اب ملک کو بھوک کے شدید بحران کا سامنا ہے، ہم ایسی صورتحال کی آسانی سے اجازت نہیں دے سکتے جہاں بچے بھوک سے مر رہے ہوں کیونکہ ہم نے فوری طور پر اقدامات نہیں کیے۔ دوسری جانب جنوبی کوریا نے پاکستان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 لاکھ ڈالر امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔سیلاب کی تباہی کے بعد متاثرہ علاقوں میں آلودہ پانی موجود ہونے کی وجہ سے اب دوسری تباہی یعنی پانی سے پیدا ہونی والی بیماریاں بھی ابھر رہی ہیں، جنوبی کوریا نے پہلے 3 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کی جبکہ اب اضافی 17 لاکھ ڈالرز دینے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان میں 1986 سے امدادی کام کرنے والی فلاحی تنظیم مرسی کور نے طویل مدتی صحت اور غذائیت کے اثرات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور بیماری اور غذائیت کی شرح میں اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔پاکستان میں مرسی کور کی ڈائریکٹر ڈاکٹر فرح نورین نے کہا کہ موسم سرما کے قریب آنے سے قبل متاثرہ خاندانوں کو گرم اور محفوظ رکھنے کے لیے موسم سرما میں استعمال ہونے والے خیموں اور دیگر اشیا کی فوری ضرورت ہے تاکہ ان سے سانس کے انفیکشن جیسی صحت کے مسائل پیدا نہ ہوں۔مرسی کور فلاحی تنظیم مقامی حکومت سمیت دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر سندھ اور بلوچستان میں کمیونٹی ہیلتھ آؤٹ ریچ کا انعقاد کر رہی ہے تاکہ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں اضافے کے پیش نظر متاثرہ کمیونٹیز کو بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔مرسی کور تپ دق، ملیریا، اور اسہال کے ٹیسٹ اور علاج کر رہی ہے اور دیگر بنیادی صحت کے لیے بھی علاج کی سہولیات فراہم کر رہی ہے نہ صرف یہ بلکہ اس کے ساتھ ہنگامی نقد رقم، پینے کا صاف پانی، خوراک اور حفظان صحت کی اشیا بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔پاکستان تخفیف غربت فنڈ (پی پی اے ایف) نے بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں پیدا ہونے والی ضروریات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ ابتدائی امدادی مرحلے میں 13 اضلاع سے 26 اضلاع تک اپنے اقدامات بڑھائے جائیں۔ تخفیف غربت فنڈ گزر بسر کرنے کے لیے بحالی، تباہ ہونے والے مکانات کی تعمیر، واٹر سپلائی اسکیموں کی بحالی، صحت کی سہولیات اور کمیونٹی انفرا اسٹرکچر جیسے تباہ سڑکوں کے نکاسی آب کے نظام میں متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کے لیے اپنی رسائی میں توسیع کرے گی۔ پی پی اے ایف نے 71 اضلاع میں تخفیف، امداد، تعمیر نو اور بحالی کے 23 منصوبے اور پروگرام مکمل کیے ہیں جن سے 14 لاکھ کے قریب متاثرہ خاندان مستفید ہوئے ہیں۔
٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب وجود - منگل 28 اپریل 2026

غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز وجود - منگل 28 اپریل 2026

جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

مضامین
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال وجود منگل 28 اپریل 2026
خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر