وجود

... loading ...

وجود

ڈار اور ڈالر

پیر 03 اکتوبر 2022 ڈار اور ڈالر

یہ جنوری 2014 کی ایک شام کی بات ہے کہ جناب شیخ رشید ، پاکستانی معیشت کے دگرگوں حالات پر کسی نجی چینل پرماہرانہ تبصرہ فرما تے ہوئے ، نواز شریف حکومت کی معاشی پالیسیوں اور اُس وقت کے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی نالائقی کے بارے میں نت نئے انکشافات کررہے تھے۔ جب دوران ِ بات چیت پروگرام کے میزبان نے اسحاق ڈار کی معاشی حکمت عملی کی ذرا سی تعریف کرنے کی کوشش کی تو اچانک شیخ صاحب آپے سے باہر ہوگئے اور نہ جانے کس ’’سیاسی ترنگ‘‘ میں آ کر ببانگ ِ دہل حکومت کو للکار تے ہوئے کہہ دیا کہ ’’اگر اِسحاق ڈار کے دورِ وزارت میں ڈالر 98 روپے پر آگیا تو میں فوری طور پر اپنی قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہوکر لال حویلی میں لحاف اُوڑھ کر سو جاؤں گا‘‘۔ شیخ رشید کی للکار حکومتی ایوانوں پر بجلی بن کر گری کیونکہ اگلے روز ہی ملکی ذرائع ابلاغ میں حکومتی کارکردگی کو جانچنے اور پرکھنے کے لیئے امریکی ڈالر کا پیمانہ استعمال زدِ عام ہونا شروع ہوچکا تھا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جب شیخ رشید نے میاں نواز شریف کی حکومت کو معاشی میدان میں دعوت مبارزت دی ،اُس وقت پاکستانی معیشت جس سنگین گرواٹ اور ہوش رُبا تنزلی کا شکار تھی ،اُسے دیکھتے ہوئے صاف لگ رہا تھا کہ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے لیے امریکی ڈالر ، کو پاکستانی روپے کے مقابلے میں 98 روپے تک لے آنا تو بہت دور کی بات ہے اگر وہ ڈالر کو100کے ہندسے کے تھوڑا قریب ترین بھی کھینچ لانے میں کامیاب ہوگئے توبڑی غنیمت ہو گا۔ دراصل میاں نواز شریف کے تیسرے دورِ حکومت میں اسحاق ڈار کو وزیرخزانہ کے منصب پر فائز کرکے اُنہیںبے شمار معاشی مشکلوں میں ڈال دیا گیا تھا۔ مثا ل کے طور پر اسحاق ڈار کو سب سے پہلے تو بستر مرگ پر پڑی ہوئی معیشت میں زندگی کی نئی لہر پھونکنا تھی اور پھر مہنگائی کے جان لیوا عذاب سے عوام کی جان چھڑانا تھی ۔ جبکہ ملک بھر میں جاری لوڈ شیڈنگ کے منہ زور عفریت کو لگام ڈالنے کے لیئے بھی اُنہیں ہی طعنے مہنے دیئے جارہے تھے۔اتنے مشکل معاشی اہداف کی موجودگی میں شیخ رشید نے امریکی ڈالر کو 98 روپے تک لانے کا ایک نیا’’سیاسی پھندہ‘‘ اسحاق ڈار کی جانب پھینک دیا تھا۔
دوسری جانب ،ملک کے نامور معاشی ماہرین کی آراء میں بھی امریکی ڈالر کو 98 پاکستانی روپے کی سطح تک لانا ،ناممکن نہ سہی ، بہر کیف یہ معرکہ ہمالیہ کی فلک بوس چوٹی سر کرنے سے بھی کسی طور چھوٹا کام نہ تھا۔ لیکن پاکستانی معیشت کے میدان میں معجزہ رونما ہوا ،اور گیارہ مارچ 2014 کو امریکی ڈالر واقعی 98 روپے کی سطح سے بھی نیچے گرگیا۔ اسحاق ڈار کی اِس فقید المثال، معاشی کارگزاری کے جواب میں شیخ رشید نے تو قومی اسمبلی کی نشست سے استعفا دینے کا اپنا’’سیاسی وعدہ‘‘ پورا نہیں کیا ،مگر امریکی ڈالر کی تاریخ ساز، غیرمعمولی گرواٹ سے اسحاق ڈار کے ناقدین کو ضرور چُپ لگ گئی تھی، جس کے اثرات تاحال باقی ہیں ۔ شاید یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی صفوں میں جتنی سراسیمگی رواں ہفتہ اسحاق ڈار کے وزارتِ خزانہ کا حلف اُٹھانے سے پھیل گئی ہے، اتنی پریشانی اور تشویش تواُنہیں اُس وقت بھی نہیں ہوئی تھی جب سابق وزیراعظم ،عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد میاں محمد شہباز شریف نے نئے وزیراعظم پاکستان کا حلف اُٹھایا تھا۔
واضح رہے کہ پانچ برس کی طویل مدت کے بعد لند ن سے وطن واپس لوٹنے والے اسحاق ڈار ،حکم ران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور نومنتخب سینیٹر ہیں ۔انہوںنے گزشتہ ہفتہ ہی پہلے سینیٹر اور بعدازاں ملکی وزیرخزانہ کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اُٹھایا ہے۔ اسحاق ڈار، جو پیشے کے لحاظ سے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہیں، چوتھی مرتبہ پاکستان کے وزیر خزانہ کے اہم ترین منصب پر فائز ہوئے ہیں۔ موصوف کو ان کے پیش رو،و مفتاح اسماعیل کی رخصتی کے بعد یہ عہدہ دیا گیا ہے۔ ملک میں جاری مستقل معاشی بھونچال کے چار برس کے دوران مفتاح اسماعیل اپنے عہدے سے الگ ہونے یا رخصت کی جانے والی پانچویں شخصیت تھے۔ یاد رہے کہ اسحاق ڈار کو مسلم لیگ (ن) کا معاشی دماغ (Ecnomic Brain)بھی کہا جاتاہے اور فی الحال، اُنہیں غیر معمولی سیاسی حالات میں شدید بحران کا شکار ملکی معیشت کو سہارا دینے ، روز افزوں مہنگائی کو کم کرنے ،امریکی ڈالر کی بڑھتی قدر پر روک لگانے اور لاکھوں سیلاب متاثرین کی فوری بحالی جیسے مشکل ترین چیلنجز سے بحسن و خوبی نمٹنے کے لیے وزیرخزانہ بنایا گیا ہے۔
چوتھی مرتبہ وزیر خزانہ بننے والے اسحاق ڈار بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے بات چیت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور اِن کی ماضی کی کارگزاری دیکھتے ہوئے گمان کیا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستانی روپیہ کو، آنے والے دنوں میں امریکی ڈالرکے مقابلہ میں زبردست قوت فراہم کریں گے۔ نیز اُن کی انقلابی معاشی پالیسیاں ملکی معیشت میں استحکام کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔ اگر بطور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ماضی کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے دورِ وزارت میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال کافی بہتر تھی اور انہوں نے ایک پاکستانی کی فی کس اوسط آمدنی میں 30 سے 35 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 1200 ڈالر کے مقابلے میں 1630 ڈالر تک پہنچا دیا تھا۔ جبکہ ان کے دورِ وزارت میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے حجم میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوا تھا۔ لیکن کیا وہ ایک بار پھر سے اپنی ماضی کی کارکردگی کو دہرا سکیں گے؟ یہ ایک ملین ڈالر سوال ہے ۔
بہرکیف اچھی بات یہ ہے کہ اسحاق ڈار کی پانچ سال بعد ملک واپسی کے بعد ،بطور وزیرخزانہ حلف اُٹھانے کی خبر نے روپیہ کی گرتی ہوئی صحت پر خاصا اچھا اثر، ڈالا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری آ رہی ہے۔یاد رہے کہ دو ہفتے قبل، انٹر بینک میں ایک امریکی ڈالر 245 روپے کی نفسیاتی حد بھی عبور کرگیا تھا۔ مگر اَب امریکی ڈالر 228 روپے کے آس پاس خرید و فروخت ہورہاہے۔ پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی تنزلی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امریکی ڈالر کے ذخیرہ اندوز سمجھتے ہیں کہ چونکہ اسحاق ڈار ماضی میں امریکی ڈالر کی تاریخی بے قدری کر چکے ہیں ،لہٰذا ، وہ پریشانی کے عالم میں امریکی ڈالر کو جلد ازجلد فروخت کرکے، خود کو بڑے نقصان سے بچانا چاہتے ہیں۔
یہاں ایک اہم ترین سوال یہ بھی ہے کہ اگلے قومی انتخابات کا اعلان ہونے سے پہلے پہلے وزیر خزانہ، اسحاق ڈار امریکی ڈالر کو روپیہ کے مقابلہ میں کس آخری حد تک گرانے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ دراصل اس سوال کے درست جواب کے تناظر میں ہی مسلم لیگ (ن) اگلے قومی انتخابات کے لیئے اپنی سیاسی حکمت عملی ترتیب دے گی۔ اگر امریکی ڈالر 150 روپے سے نیچے چلا گیا تو پھر مسلم لیگ (ن ) کے رہنماؤں کے لیے اپنی انتخابی مہم چلانا کافی حد تک سہل ہوجائے گا اور وہ پاکستان تحریک انصاف کی روز بروز بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کے آگے ہلکا پھلکا ہی سہی بہرحال ایک ’’سیاسی بند‘‘ باندھنے میں ضرور کامیاب ہوجائیں گے۔ لیکن مسلم لیگ(ن) کا یہ ’’سیاسی خواب‘‘ اُس وقت تک پورا ہونا،نا ممکن ہو گا ،جب تک ہمارے ڈار، امریکی ڈالر کو پاکستانی روپیہ کے سامنے تارتار نہیں کردیتے۔
٭٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


چین، سعودیہ نے 13 ارب ڈالر کا پیکیج فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی، وزیر خزانہ وجود - هفته 05 نومبر 2022

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ چین اور سعودی عرب نے پاکستان کو 13 ارب ڈالر کا پیکیج فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی۔ صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ مالی سال چین قرضہ رول اوور کرنے سمیت 8.8 ارب ڈالر کی معاونت کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ...

چین، سعودیہ نے 13 ارب ڈالر کا پیکیج فراہم کرنے کی یقین دہانی کرا دی، وزیر خزانہ

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے 32 ارب 40 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا وجود - پیر 17 اکتوبر 2022

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے 32 ارب 40 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔ پاکستان کو اپنے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی تعمیرِ نو کے لیے تقریبا 16 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے امریکی نشریاتی ادارے سے انٹرویو میں پاکستان میں سیلاب اور اس کی تباہ کاریوں سے متعلق سو...

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے 32 ارب 40 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا

24 دن میں ڈالر 24 روپے کم ہوسکتا ہے،اسحاق ڈار وجود - بدھ 05 اکتوبر 2022

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ڈالر240 روپے تک گیا ورنہ ڈالرکی قدر200 سے اوپر نہیں ہے۔ ایک نجی ٹی وی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہمیشہ سیڈی ویلیوایشن کے خلاف رہا ہوں، ڈالر جلد 200 روپے سے نیچے آئے گا۔ وزیرخزانہ کا ک...

24 دن میں ڈالر 24 روپے کم ہوسکتا ہے،اسحاق ڈار

ڈالر کی قدر حقیقی نہیں، 200 روپے سے کم ہوجائے گا، اسحاق ڈارکا دعویٰ وجود - پیر 03 اکتوبر 2022

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اس وقت ڈالر بین الاقوامی سطح پر مضبوط ہے، ڈالرکی اس وقت جو قدر ہے وہ حقیقی نہیں ہے، امریکی کرنسی کی اصل قدر 200 روپے سے کم ہے، ڈالر کو اصل قیمت پر لانے کے لیے جامع حکمت عملی بنا رہے ہیں، مفتاح اسماعیل سمیت سب کو کہتا ہوں کچھ نہیں ہوگا، مجھے...

ڈالر کی قدر حقیقی نہیں، 200 روپے سے کم ہوجائے گا، اسحاق ڈارکا دعویٰ

ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک مہینے کی توسیع کر دی گئی وجود - هفته 01 اکتوبر 2022

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ میں ایک ماہ کی توسیع کا اعلان کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ 31 اکتوبر تک بڑھا دی ہے۔ مالی سال 2021ـ22 کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخ...

ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں ایک مہینے کی توسیع کر دی گئی

پیٹرول کی قیمت 12 روپے 63 پیسے کم کرنے کا اعلان وجود - هفته 01 اکتوبر 2022

وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے 63 پیسے کی کمی کی جارہی ہے جس سے پیٹرول کی نئی قیمت 224 روپے 80 پیسے پر آجائیگی، ڈیزل کی قیمت 12روپے 13 پیسے فی لیٹر کمی کے بعد 235 روپے 30 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ،لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 10روپے 78 پیسے فی لیٹر کمی کی گئ...

پیٹرول کی قیمت 12 روپے 63 پیسے کم کرنے کا اعلان

اپوزیشن کا شور شرابہ: اسحق ڈار نے سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا وجود - منگل 27 ستمبر 2022

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور نامزد وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے اپوزیشن کے شدید احتجاج اور شور شرابے کے دور ان سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا۔ چیئر مین سینٹ نے حلف لیا۔ منگل کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ اجلاس میں صادق سنجرانی نے پاکستان مسلم...

اپوزیشن کا شور شرابہ: اسحق ڈار نے سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا

اگلے ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں ہوں گا،اسحاق ڈار کا اعلان وجود - هفته 24 ستمبر 2022

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اگلے ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں ہوں گا، ہفتے کو نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں جو فیصلہ ہوگا اس پر عمل کریں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار کا کہنا تھاکہ وطن واپسی پ...

اگلے ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں ہوں گا،اسحاق ڈار کا اعلان

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟
(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)
وجود - پیر 28 اکتوبر 2019

<p style="text-align: right;">کئی دہائیوں سے اہلِ مغرب ’’کرد کارڈ ‘‘ کو عالمِ اسلام کے خلاف پوری شد و مد سے استعمال کرتے آئے ہیں لیکن شاید اَب ترکی کے صدر طیب اردگان کی سیاسی بصیرت اور حوصلہ مندی سے وہ وقت قریب آگیا ہے کہ کرد قوم مغرب کے استعماری ،منافقانہ اور استحصالی شک...

’’کُرد کارڈ ‘‘عالمی طاقتوں کے ہاتھ سے پھسل رہا ہے؟<br>(سیاسی زائچہ..راؤ محمد شاہد اقبال)

نیب اسحاق ڈار کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ ختم کرنے کے لیے تیار وجود - جمعه 15 جولائی 2016

نیب پاکستان کے ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو چکا ہے جو سرکاری دباؤ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ عملاً "لے کے رشوت پھنس گیا ہے، دے کے رشوت چھوٹ جا" کے بمصداق بااثر لوگوں کو ایک ایسی چھتری فراہم کرتا ہے جس سے یہ اپنے اوپر عائد الزامات سے خود کو بری کراکے پاک صاف بن جاتے ہیں۔ دوسری طرف ...

نیب اسحاق ڈار کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ ختم کرنے کے لیے تیار

شہباز شریف اور چودھری نثار کی فوجی سربراہ سے ملاقات!وزیراعلیٰ ملاقات کے بعد لندن پہنچ گیے! باسط علی - پیر 30 مئی 2016

وزیراعظم نوازشریف کے اچانک لندن میں قیام بڑھانے اور اوپن ہارٹ سرجری کے اعلان نے ملکی سیاست میں ایک ہلچل پید اکررکھی ہے۔ اگر چہ پاناما لیکس کے بعد مسلسل بگڑتے سیاسی حالات میں وزیراعظم نوازشریف کچھ دیر سنبھلنے میں کامیاب رہے۔مگر وہ پاناما لیکس کے دباؤ سے نکل نہیں سکے۔ ان حالات میں...

شہباز شریف اور چودھری نثار کی فوجی سربراہ سے ملاقات!وزیراعلیٰ ملاقات کے بعد لندن پہنچ گیے!

پاکستان کا ’’مالک‘‘ کون……! مختار عاقل - منگل 10 مئی 2016

پاکستان کے نام نہاد مٹھی بھر ’’مالکان‘‘ نے تین ہفتوں تک سینماؤں میں چلنے والی فلم ’’مالک‘‘ پر پابندی لگادی۔ فلم میں پاکستان کا اصل مالک ’’عوام‘‘ کو دکھایاگیاہے۔ کرپشن بے نقاب کی گئی ہے۔ ظلم واستحصال کی عکاسی کی گئی ہے۔ سنسربورڈ نے ہدایتکارعاشرعظیم کی فلم عام نمائش کیلئے پاس کردی ...

پاکستان کا ’’مالک‘‘ کون……!

مضامین
عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

ثمربار یا بے ثمر دورہ وجود هفته 03 دسمبر 2022
ثمربار یا بے ثمر دورہ

حاجی کی ربڑی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
حاجی کی ربڑی

پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی وجود جمعرات 01 دسمبر 2022
پاک چین تجارت ڈالر کی قید سے آزاد ہوگئی

اشتہار

تہذیبی جنگ
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا وجود اتوار 13 نومبر 2022
ٹیپو سلطان کا یوم پیدائش: سری رام سینا نے میدان پاک کرنے کے لیے گئو موتر کا چھڑکاؤ کیا

فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت وجود منگل 08 نومبر 2022
فوج کے لیے حفظ قرآن کا عالمی مسابقہ، مکہ مکرمہ میں 27 ممالک کی شرکت

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ چاک کر دیا وجود هفته 03 دسمبر 2022
مودی حکومت مذہبی انتہاپسندی اور اقلیتوں سے نفرت کی مرتکب، پیو ریسرچ نے پردہ  چاک کر دیا

بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی وجود هفته 26 نومبر 2022
بھارت: مدعی نے جج کو دہشت گرد کہہ دیا، سپریم کورٹ کا اظہار برہمی

پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس وجود پیر 21 نومبر 2022
پونم پانڈے، راج کندرا اور شرلین چوپڑا نے فحش فلمیں بنائیں، بھارتی پولیس

بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے وجود اتوار 20 نومبر 2022
بھارت میں کالج طلبا کے ایک بار پھر پاکستان زندہ باد کے نعرے
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار