وجود

... loading ...

وجود

افسانے تھے یاخواب

اتوار 25 ستمبر 2022 افسانے تھے یاخواب

شاید ہم اس صدی کے آخری لوگ ہیں جن کے بزرگ گرمیوںمیں اپنے اپنے گھروںکے باہر گلی میں سویا کرتے تھے اس کے لیے بڑااہتمام کیا جاتا مغرب کے بعد بچے شوق سے دروازوںکے آگے صفائی کرکے پانی کا چھرکائو کرتے خال خال کسی کے پاس ٹرانسسٹر(ریڈیو)ہوتاوہ بڑے مزے کے ساتھ خبریں یا گیتوںبھری کہانی یا فرمائشی پروگرام سنتا اکثروبیشترپڑوسی بھی اردگردجمع ہوکرحالات ِ حاضرہ پرسیرحاصل بحث کرتے یہ اس وقت واحدتفریح تھی ان دنوں لوگوںکے مزاج میں شدت نہ تھی، فرقہ پرستی جنون نہیں بنی تھی ذات برادریاں ماحول پر غالب تو تھیں لیکن مروت،احساس اوراخوت کے جذبات وافرتھے لڑکے لڑکیاں مل کر کئی کھیل کھیلتے آج کی طرح لوگ اتنے سفاک اور درندے نہ تھے اب تو دیدوںکا پانی مرگیاہے تب آنکھوں میں اتنی شرم حیا تھی کہ کوئی بچہ پڑوسی کو بھی سوداسلف لانے سے انکارنہیں کرتا تھا لوگ ایسے ایسے موضوعات پر بلاجھجک تبادلہ ٔ خیال کیاکرتے تھے جو آج ممنوعہ ہوگئیں ہیں کوئی کسی کو کافر قرار دیتا ،نہ مرنے مارنے پر اتر آتا لوگ اعلیٰ ظرف تھے،معاف کرنا جانتے تھے محلے میں کبھی لڑائی ہوجاتی بزرگ فریقین کو دودوچار تھپڑ لگاکر معاملہ رفع دفع کردا دیتے تھے اب تو ٹیچر طالب ِ علم کو پیار سے ایک چپت بھی لگادے والدین مزا چکھانے آجاتے ہیں شایداسی لیے معاشرے میں گھٹن بڑھتی ہی چلی جارہی ہے لوگ فرسٹیشن کا شکارہیں چھوٹے چھوٹے مسائل روگ بن گئے ہیں نفرتیں، عداوتیں اور مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جارہے ہیں تبھی تو نت نئی نفسیاتی بیماریاں پھل اور پھول رہی ہیں۔
کیادور تھاماحول میں تازگی کااحساس ہوتاتھا اب توآلودگی کے باعث آسمان پر تارے نظرنہیں آتے پھر ٹی وی کی ایجاد نے لوگوںکو کمروںتک محدودکردیا ان دنوںمحلے کے صرف کھاتے پیتے لوگوںکے پاس ٹی وی ہواکرتا تھا کوئی خاص پروگرام یا جب ہفتہ وار فلمیں لگناشروع ہوئیں تو عورتیں ایک دوسرے کو اپنے گھر آنے کی دعوت دیتیں ان کے لیے کھانے پینے کی چیزوںکااہتمام کیا جاتا پورا محلہ ایک خاندان لگتا تھا جیسے جیسے پیسے کی فراوانی ہوتی چلی گئی گھروںکے دروازے ایک دوسرے پر بندہوتے چلے گئے ٹی وی کے بعدٹچ موبائل نے تو پورا ماحول ہی بدل ڈالا آج حالات یہ ہیں کہ ایک ہی کمرے میں اگر گھر کے دس افرادبھی موجود ہوں تو لگتاہی نہیں یہ ایک خاندان کے لوگ ہیں سب کے سب جیسے چابی کے کھلونے ، ایک دوسرے سے لاتعلق ،بے پرواہ تمام ہی موبائل کے اسیرہوچکے ہیں یاد آتی ہے تو آج اپنے رویوں،سماجی تعلقات اور حالات پر حیرانی سی حیرانی ہے ، وہ بھی کیا دن تھے جب تفریح کا واحد ذریعہ پی ٹی وی ہوا کرتا تھا پرانی وضع قطع کے لوگ اسے بھی بے حیائی سے تعبیرکرتے تو بچوں بالخصوص نوجوان لڑکے لڑکیوں کو بہت برا لگتا وہ دل ہی دل میں منع کرنے والوںکوکوستے اور سر جھٹک کر بڑبڑاتے دقیانوسی کہیں کے۔
جس روز TV پر فلم دکھائی جاتی بچوںاور نوجوان لڑکیوںکا جوش و خروش دیدنی ہوتا تھا جیسے عید آگئی ہو ان دنوں ٹی وی نشریات بلیک اینڈوائٹ تھیںجبکہ ٹی وی بھی خال خال گھروں میں ہوا کرتا تھا جو ٹی وی پورا خاندان بلکہ اڑوس پڑوس کے لوگ بھی فلم دیکھنے آتے اور ٹی وی کے سامنے ٹھٹ کے ٹھٹ لگ جاتے فلم کے درمیان اشتہارات کی بھرمارسے بے مزہ ہوئے بغیرلوگ انجوائے کرتے کوئی گانا آتا یا ہیرو ،ہیروئن کے درمیان کوئی رومانی سین کچھ نوجوان لڑکے لڑکیاں آنکھ چراکر ایک دوسرے کو دیکھتے اور ان کے لبوںپر دل آویز مسکراہٹ پھیل جاتی اور لڑکیوںکے رخسار حیا سے گلنار ہوہو جاتے گھر کے مرد شرمندہ ہوکر کسی بہانے کمرے سے باہر نکل جاتے اور جی ہی جی میں کڑھتے اور بڑبڑاتے لیکن اولادپر بس نہ چلتا آج تو گھرگھر کیبل آگئی ہے ،اس وقت انٹینا ایک لمبے بانس پر باندھ دیا جاتا تھا جس سے وہ عیسا ئیوں کے مذہبی نشان صلیب سے مشابہہ ہوجاتا TV نشریات صاف نہ آجاتیں یا ہوا کا رخ موافق نہ ہوتا تو چھت پرجاکر انٹینا گھماتا پڑتا ،یہ بہت بڑا عذاب تھا پھر رنگین نشریات کا آغازہوا ٹی وی میں حسن نکھر نکھرکر سامنے آیا پھر بے حجاب ہوتاچلاگیا آج درجنوںنہیں سینکڑوں طرح طرح کے چینل آگئے ریٹنگ کی مقابلے کی دوڑ اور دولت کمانے کی ہوس میں TV اور آل اولاد بے لگام ہوتی چلی گئی آج ایسے ایسے واہیات TV ڈرامہ سیریل دکھائے جارہے ہیں کہ الحفیظ و الامان ۔
ٹیکنالوجی کی بدولت جہاں انسان کو بہت سی سہولیات میسر آئی ہیں وہاں اس کے آڑ میں کچھ عذاب بھی در آئے ہیں اس کے بلا شبہ ذمہ دار خود انسان ہے بیشترکو یادہوگا جبVCR کا دور دورہ ہوا تو اس نے بہت سی قباحتوںکو جنم لیا برصغیر کے لوگ ویسے بھی معاشرتی گھٹن کے باعث فرسٹیشن کا شکار ہیںجس کے باعث انہوں نے VCR پرفحش اور بولڈ فلمیں لگاکر اس کا مداوا کرنے کی کافی حدتک کوشش کی اور اس کوشش میں اکثر اخلاقی حدود سے بھی تجاوزکر جاتے اس وقتVCR کرائے پر ملتا تھا اور یہ بہترین کاروبار شمارہوتاتھا تنہائی کے ماروں،فرسٹیشن کا شکار اور فلموں کے شوقین خواتین و حضرات کا VCR صحیح معنوںمیں ہمدرد اور غمگسارثابت ہوا لوگ کرائے پرVCR لیتے اور زیادہ سے زیادہ فلمیں دیکھنے کے لالچ میں پتھرائی آنکھوں سے حسین مناظر دیکھتے آنکھیں تھک جاتیں لیکن فلمیں ختم نہ ہوتیں ایک کے بعد دوسری پھر تیسری فلم یکے بعد دیگرے فلم چلتی کبھی نیند بھگانے کیلئے کڑک چائے بنائی جاتی اور کبھی فلم کی کوالٹی بہتر بنانے کے لیےVCR کا ہیڈ صاف کیا جاتا اس دور میں VCR مالکان اورTV مکینکوں نے بہت پیسے کمائے اس کے ساتھ ساتھ ہمارے معاشرے کا سارا ماحول یکسر تبدیل ہوگیا جو اسلامی رہا نہ فلاحی ،لیکن کچھ لوگ اس ساری صورت ِ حال کو قیامت سے تعبیر کرتے ہوئے لاحول ولا قوة کا ورد کرتے رہتے نقصان یہ ہوا کہ اولاد منہ زور ہوتی چلی گئی خلوت کی باتیں سِر عام کی جانے لگیں معاشرے کی اخلاقی قدریں کمزور ہوتی چلی گئیں۔ٹیکنالوجی کا فروغ تو ہمیشہ خوش آئندرہا ہے مگر انسان اپنی جبلت کے ہاتھوں مجبورہے اس لیے ہرچیزکا منفی پہلو حاوی ہوجاتاہے اور برصغیر کے باشندوں نے بھی ایسے ہی کیا، لہذا VCR پورے ماحول پر غالب آگیا گھروں،دفاتر اورملنے جلنے والوںمیں اسی کے چرچے اور تذکرے تھے اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اب انسان حسب ِ منشاء اپنی پسند کی فلمیں،پروگرام اور ویڈیو دیکھنے پر قادر تھا ،ورنہ اس سے پہلے جو TV ڈرامہ سیریل دکھاتا لوگوںکو بادل ِ نخواستہ وہی دیکھناپڑتےVCR کے سائیڈ افیکٹ تو اپنی جگہ پر لیکن اچھا پہلو یہ بھی ہے کہ ذہنوںکو وسعت ملی،دنیا سمٹ گئی اور گھربیٹھے کہیں جائے بغیر لوگ انجوائے کرنے لگے۔کبھی تنہائی میں آپ غورکریں کہ گذشتہ نصف صدی سے پہلے دنیا کیسی تھی ؟ یقیناً آپ کہہ اٹھیں کہ بے رنگ ۔بے کیف ٹیکنالوجی نے ہماری دنیا رنگین کردی ہے آج جو ہمیں سہولیات میسرہیں دعوے سے کہاجاسکتاہے کہ یہ عیش و آرام تو بادشاہوںکا بھی نصیب نہیں تھا اس کے باوجود ہم بھی کتنے ناشکرے ہیں کہ اپنے خالق ِ حقیقی کے بھی شکر گذارنہیں شاید فطرتاً انسان ناشکرا ہے یقیناً اسی سبب خسارے میں ہے۔ماضی کی بہت سی باتیں یاد آتی ہیں تولگتاہے شاید وہ فسانے تھے یا خواب۔۔ لیکن انہیں یاد کرنے میں مزا بڑا آتاہے آپ کا کیا خیال ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چائلڈپورنوگرافی وجود پیر 05 دسمبر 2022
چائلڈپورنوگرافی

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک وجود پیر 05 دسمبر 2022
بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

عوامی مقبولیت بھی پَل بھر کا تماشہ ہے وجود پیر 05 دسمبر 2022
عوامی مقبولیت بھی پَل بھر کا تماشہ ہے

عمرکومعاف کردیں وجود اتوار 04 دسمبر 2022
عمرکومعاف کردیں

ٹرمپ اور مفتے۔۔ وجود اتوار 04 دسمبر 2022
ٹرمپ اور مفتے۔۔

اب ایک اور عمران آرہا ہے وجود هفته 03 دسمبر 2022
اب ایک اور عمران آرہا ہے

اشتہار

تہذیبی جنگ
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار وجود منگل 06 دسمبر 2022
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار

1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی وجود پیر 05 دسمبر 2022
1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی

امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا وجود جمعه 02 دسمبر 2022
امریکا نے القاعدہ ، کالعدم ٹی ٹی پی کے 4رہنماؤں کوعالمی دہشت گرد قرار دے دیا

برطانیا میں سب سے تیز پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا وجود بدھ 30 نومبر 2022
برطانیا میں سب سے تیز  پھیلنے والا مذہب اسلام بن گیا

اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا وجود پیر 21 نومبر 2022
اسرائیلی فوج نے 1967 کے بعد 50 ہزار فلسطینی بچوں کو گرفتار کیا

استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا وجود جمعه 18 نومبر 2022
استنبول: خود ساختہ مذہبی اسکالر کو 8 ہزار 658 سال قید کی سزا

اشتہار

شخصیات
موت کیا ایک لفظِ بے معنی جس کو مارا حیات نے مارا وجود هفته 03 دسمبر 2022
موت کیا ایک لفظِ بے معنی               جس کو مارا حیات نے مارا

ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے وجود بدھ 30 نومبر 2022
ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے بیٹے اکبر لیاقت انتقال کر گئے

معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے وجود پیر 28 نومبر 2022
معروف صنعت کار ایس ایم منیر انتقال کر گئے
بھارت
بھارت کو اقتصادی محاذ پر جھٹکا، جی ڈی پی میں کمی کا امکان وجود منگل 06 دسمبر 2022
بھارت کو اقتصادی محاذ پر جھٹکا، جی ڈی پی میں کمی کا امکان

بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار وجود منگل 06 دسمبر 2022
بابری مسجد کا 30 واں یوم شہادت ، بھارتی عدلیہ کا گھناؤنا کردار

بھارت،پہلی سے آٹھویں جماعت کے اقلیتی طلباء کو اب اسکالر شپ نہیں ملے گی، بھارتی حکومت وجود پیر 05 دسمبر 2022
بھارت،پہلی سے آٹھویں جماعت کے اقلیتی طلباء کو اب اسکالر شپ نہیں ملے گی، بھارتی حکومت

1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی وجود پیر 05 دسمبر 2022
1993کے ممبئی دھماکوں کی آڑ میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش رچائی گئی، بھارتی صحافی
افغانستان
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی وجود جمعه 02 دسمبر 2022
کابل، پاکستانی سفارتی حکام پر فائرنگ، ناظم الامور محفوظ رہے، گارڈ زخمی

افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی وجود بدھ 30 نومبر 2022
افغان مدرسے میں زوردار دھماکے میں 30 افراد جاں بحق اور 24 زخمی

حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ وجود منگل 29 نومبر 2022
حنا ربانی کھر کی قیادت میں پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد دورہ افغانستان کے لیے روانہ
ادبیات
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد وجود هفته 26 نومبر 2022
کراچی میں دو روزہ ادبی میلے کا انعقاد

مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع کردار پرنئی کتاب شائع وجود هفته 23 اپریل 2022
مسجد حرام کی تعمیر میں ترکوں کے متنازع  کردار پرنئی کتاب شائع

مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار وجود بدھ 06 اپریل 2022
مستنصر حسین تارڑ کا ادبی ایوارڈ لینے سے انکار