وجود

... loading ...

وجود

چیف الیکشن کمشنرکے استعفے کے مطالبے پرقائم ہوں،عمران خان

منگل 19 جولائی 2022 چیف الیکشن کمشنرکے استعفے کے مطالبے پرقائم ہوں،عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایک بار پھر الیکشن کمیشن پر عدم اعتماد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مطالبہ کرتا ہوں کہ چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوں ،ضمنی انتخابات میں چیف الیکشن کمشنر نے (ن)لیگ کو کامیاب کرانے کی پوری کوشش کی،چیف الیکشن کمشنر نے ہمیں ہروانے کا ہر حربہ استعمال کیا ،بند کمروں میں فیصلے کرنے والے کسی غلط فہمی میں نہ رہیں، اب قوم جاگ چکی ہے، ہمارا مینڈیٹ چوری کرنے والوں کو اب ہر جگہ شکست ہو گی، صرف ایک ہی راستہ صاف اور شفاف الیکشن کا انعقاد ہے ، اس الیکشن کمشنر کے نیچے صاف اور شفاف الیکشن نہیں ہو سکتا،جہاں آج ہم کھڑے ہیں،ساری قوم کو فخرکرناچاہیے، اب ہم اللہ کے فضل سے قوم بننے جارہے ہیں،کوئی بھی قوم نظریے کے بغیرہجوم ہوتی ہے، ہم کبھی بھی کسی اور غلامی کیلئے تیارنہیں ہوئے،جب ہماری حکومت گرائی جا رہی تھی اس وقت میں نے اور شوکت ترین نے بتایا کہ سیاسی بحران آیا تو معیشت سنبھل نہیں پائے گی، جو لوگ حکومت گرانے کو روک سکتے تھے انہیں بتایا تھا کہ ملک کی معیشت کو نقصان ہوگا۔قوم سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمارے خلاف ہر ہتھکنڈا استعمال کیاگیا ،چیف الیکشن کمشنرپرسب سے زیادہ افسوس ہے ،انہوں نے ددیانتی کی ہے ،الیکشن کمشنر کو پتہ ہی نہیں 40 لاکھ لوگوں کو مردہ قرار دیدیا ،کسی اورملک میں ایسی غلطی ہوتی توچیف الیکشن کمشنر مستعفی ہو چکا ہوتا۔انہوں نے کہا کہ 8 مرتبہ ہم الیکشن کمیشن کے پاس کیسز لے کر گئے انہیں نہیں مانا گیا ،عدالت گئے تو 8 مرتبہ عدالت نے الیکشن کمیشن کے خلاف فیصلہ دیا ،موجودہ الیکشن کمیشن پرہمیں بالکل اعتمادنہیں ہے ،سب کوپتہ ہے سینیٹ الیکشن میں پیسے کا استعمال ہوتا ہے ،سینیٹ الیکشن میں پیسہ روکنے کے لئے الیکشن کمیشن کے پاس گئے لیکن کچھ نہیں کیا گیا ،موجودہ الیکشن میں بھی کھلاپیسہ چلا الیکشن کمیشن نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔عمران خان نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر صرف پی ٹی آئی کو روکتا تھا اور ان کی مدد کرتا تھا، سندھ میں 15 فیصد لوگوں نے ٹکٹ نہیں لی، الیکشن کمیشن نے کبھی پتہ کرایا ،چیف الیکشن کمشنرنے (ن) لیگ کو کامیاب کرانے پوری کوشش کی ،ڈسکہ میں دھاندلی کاالزام لگاتوچیف الیکشن کمشنر نے سارے حلقے کھلوائے ہمیں ہروایا ،سندھ میں پیپلزپارٹی نے پولیس کا استعمال کیا ،الیکشن کمیشن خاموش بیٹھا رہا ،الیکشن کمیشن میں سندھ کا ممبر کیوں نہیں بولا کیونکہ وہ سندھ حکومت کا نوکر ہے۔انہوںنے کہاکہ شفاف الیکشن موجودہ الیکشن کمیشن کے تحت نہیں ہوسکتا ،چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کرتاہوں فوری استعفیٰ دیں، کرکٹ میں بھی کوئی امپائرمتنازعہ ہوتا ہے تو میچ کا حصہ نہیں ہوتا ،چیف الیکشن کمشنر لاہور میں کس کے قدموں میں بیٹھتاہے ہمیں معلوم ہے ،جج پر بھی اعتراض اٹھایا جاتا ہے تو وہ بھی کیس سے الگ ہو جاتاہے ،چیف الیکشن کمشنر پر قوم کو اعتماد نہیں ،مہربانی کر کے استعفیٰ دیں ،سندھ میں سروے کرالیں پتہ چل جائے گا وہاں الیکشن میں کیاہوا ہے۔عمران خان نے کہا کہ آج خوش ہوں میری قوم قوم بننے جارہی ہے ، قوم میں شعور آگیا ہے ،کوئی بھی سمجھتا ہے بند کمرے میں ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر لے گا غلط فہمی میں نہ رہے یہ قوم حقیقی آزادی کیلئے نکلی ہے ، قوم میں کبھی ایسا جذبہ نہیں دیکھا ،اب دوہی راستے رہ گئے ہیں،جوبھی مینڈیٹ چوری کی کوشش کرے گا انہیں شکست ہوگی ،ایک راستہ شفاف الیکشن ہے ،عوام کو فیصلہ کرنے دیں کس کو حکمرانی دینا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ 9 اپریل کو صرف اپنی ڈائری ہاتھ میں پکڑ کر وزیراعظم ہاس سے نکلا، 25 مئی کو ساری قوم موجودہ حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر نکلی، یہ حکمران قوم کو انسان نہیں بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں، انہوں نے لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کی لیکن پھر بھی قوم الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے لیے نکلی ہے۔انہوںنے کہاکہ ملک کی معاشی حالت خراب ہونے کی وجہ سیاسی بحران ہے، اگر ہم نے سبق نہ سیکھا کہ جب تک سیاسی بحران ختم نہیں ہو گا تب تک معیشت اور نیچے جائے گی اور معاشی حالات اتنے خراب ہو جائیں گے کہ ہاتھ سے سب کچھ نکل جائے گا، صرف ایک ہی راستہ ہے کہ صاف اور شفاف الیکشن کروایا جائے، جیسا الیکشن انہوں نے پنجاب میں کروایا ہے اگر آئندہ بھی ایسے ہی الیکشن ہونے ہیں تو اس سے بحران بڑھے گا، چیف الیکشن کمشنر نے جو بد دیانتی کی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔


متعلقہ خبریں


صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ وجود - منگل 13 جنوری 2026

حکومت کو اپوزیشن کی بجائے اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی سے سبکی کا سامنا ،یہ ملکی پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین دن ،ایساتو دور آمریت میں نہیں ہواہے ان حالات میں اس ایوان کا حصہ نہیں بن سکتے ، نوید قمر وفاقی حکومت نے یہ کیسے کیا یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے ، نوید قمر کی حکومت پر شدی...

صدر کے دستخط کے بغیر آرڈیننس جاری ، پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج،اجلاس سے واک آؤٹ

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید وجود - منگل 13 جنوری 2026

3 پولیس اہلکار زخمی،دھماکے میں بکتربند گاڑی تباہ ،دھماکا خیز مواد درہ تنگ پل کے ساتھ رکھا گیا تھا گورنر خیبرپختونخوا کی پولیس بکتر بند گاڑی پر حملے کے واقعے پر اعلیٰ حکام سے فوری رپورٹ طلب ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پر آئی ای ڈی بم حملوں میں بکتر بند تباہ جب کہ ایس ایچ او س...

ٹانک اور لکی مروت میں پولیس پربم حملے، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار اور راہگیر شہید

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان وجود - منگل 13 جنوری 2026

ٹرمپ کی غنڈہ گردی سے کوئی ملک محفوظ نہیں، پاک افغان علما متفق ہیں اب کوئی مسلح جنگ نہیں مسلح گروہوں کو بھی اب غور کرنا چاہیے،انٹرنیٹ پر جھوٹ زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،خطاب سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ستائیسویں ترمیم نے بتایا ملک میں جنگ نظریات نہیں اتھارٹی...

ملک میں جمہوریت نہیں، فیصلے پنڈی میں ہو رہے ہیں،فضل الرحمان

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی وجود - پیر 12 جنوری 2026

ہم کسی کو اجازت نہیں دینگے عمران خان کو بلاجواز جیل میں رکھیں،پیپلزپارٹی نے مل کرآئین کاڈھانچہ تبدیل کیا، سندھ میں پی پی کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، فسطائیت ہمیشہ یاد رہے گی،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا عمران خان کی سیاست ختم کرنیوالے دیکھ لیں قوم آج کس کیساتھ کھڑی ہے، آج ہمارے ساتھ مختلف...

عوام ڈی چوک جانے کو تیار ، عمران خان کی کال کا انتظارہے،سہیل آفریدی

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک وجود - پیر 12 جنوری 2026

بی وائی سی بھرتی، بیانیہ سازی اور معاشرتی سطح پر رسائی میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت کاکوئٹہ اور تربت میں بحالی مراکز قائم کرنے کا اعلان بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) مسلح علیحدگی پسند تنظیموں بالخصوص فتنہ الہندوستان کے بظاہر سافٹ فیس کے طور پر ...

بلوچ یکجہتی کمیٹی فتنہ الہندوستان پراکسی کا منظم نیٹ ورک

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک وجود - پیر 12 جنوری 2026

شاہ کس بائے پاس روڈ پر واقع ناکے کلے میں فتنہ الخوارج کی تشکیل کو نشانہ بنایا ہلاک دہشت گرد فورسز پر حملوں سمیت دیگر واقعات میں ملوث تھے، سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ٹی) نے ضلع خیبر کے علاقے جمرود میں کارروائی کے دوران 3 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔سی ...

سی ٹی ڈی کی جمرود میں کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن وجود - پیر 12 جنوری 2026

گائیڈ لائنز پر عمل کریں، وزیراعلیٰ کا عہدہ آئینی عہدہ ہے اوراس کا مکمل احترام کیا گیا ہے جو یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں، افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان پر عمل نہیں کیا جا رہا سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہ...

تحریک انصاف کے کارکن قانون کو ہاتھ میں نہ لیں،شرجیل میمن

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت وجود - پیر 12 جنوری 2026

سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ کردی گئی حیدر آباد سے کراچی واپسی پرجگہ جگہ رکاوٹیں ڈالی گئیں ، وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی طے شدہ ملاقات اچانک منسوخ ہوگئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق...

مراد علی شاہ کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سے ملنے سے معذرت

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم وجود - پیر 12 جنوری 2026

واشنگٹن اور اتحادی ممالک میں تشویش ، جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی اس اقدام کی مخالفت کانگریس ایسے کسی اقدام کی حمایت نہیں کرے گی،نیٹو اتحاد کے مستقبل پر سوالات اٹھ سکتے ہیں برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ حملہ سے متعلق فوجی منصوبہ تیار کرنے کے ...

ٹرمپ کا گرین لینڈ پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی کا حکم

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام وجود - اتوار 11 جنوری 2026

پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کے لیے کوششیں جاری ہیں،سندھ اس وقت زرداری کے قبضے میں ہے لیکن سندھ عمران خان کا تھا اور خان کا ہی رہیگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا پرتپاک اور والہانہ استقبال کیا پیپلزپارٹی خود کو آئین اور18ویں ترمیم کی علمبردار کہتی ہے لیکن افسوس! پی پی نے 26 اور 27و...

سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کی تیاری کریں،عمران خان کی ہدایت،سہیل آفریدی کا پیغام

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ وجود - اتوار 11 جنوری 2026

حکومت سندھ نے آبپاشی اور زراعت کی ترقی کیلئے خصوصی اور جامع اقدامات کیے ہیں مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں گفتگو وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں صوبائی وزراء ...

زراعت کی ترقی کیلئے آبپاشی نظام میں بہتری لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا وجود - اتوار 11 جنوری 2026

خیمے بارش کے پانی میں ڈوب گئے،ایندھن کی شدید قلت نے بحران کو مزید سنگین بنا دیا دیوار گرنے سے کمسن بچہ زخمی،قابض اسرائیل کی فوج نے بیشتر عمارتیں تباہ کر دی،رپورٹ شدید موسمی دباؤ اور شدید بارشوں جن کی لپیٹ میں پورا فلسطین ہے، غزہ کے محصور شہریوں کی اذیتوں میں مزید اضافہ کر دی...

غزہ موسمی دباؤاورشدید بارشوں کی لپیٹ میں ،محصور شہری اذیت میں مبتلا

مضامین
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں وجود منگل 13 جنوری 2026
ایران کا بحران۔۔ دھمکیاں، اتحادی اور مستقبل کی راہیں

وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟ وجود منگل 13 جنوری 2026
وینزویلا ،ڈالر کا زوال اورامریکی معاشی ترقی ؟

لفظوں کا مصور! وجود پیر 12 جنوری 2026
لفظوں کا مصور!

مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے وجود پیر 12 جنوری 2026
مودی سرکار کے اوچھے ہتھکنڈے

اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے! وجود پیر 12 جنوری 2026
اگلا ٹارگٹ گرین لینڈ ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر