وجود

... loading ...

وجود

آرٹیکل63 اے کی تشریح، سپریم کورٹ کا صدارتی ریفرنس کی سماعت آج مکمل کرنے کا عندیہ

منگل 17 مئی 2022 آرٹیکل63 اے کی تشریح، سپریم کورٹ کا  صدارتی ریفرنس کی سماعت آج مکمل کرنے کا عندیہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئین کے آرٹیکل63 اے کی تشریح کیلئے بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس کی سماعت آج (منگل کو) مکمل کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ عدالت کے کندھے اتنے کمزور نہیں، یہ کندھے آئین پاکستان ہے۔ آئین کے تحفظ اور تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ عدالت نے دیکھنا ہے کہ صدارتی ریفرنس میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے، دوران سماعت ریمارکس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن والاعمل دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے، آئین جمہوریت کوتحفظ اور فروغ دے کر سیاسی جماعت کو مضبوط بھی کرتا ہے۔ اکثر انحراف پر پارٹی سربراہ کارروائی نہیں کرتے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے سیاسی جماعت کے نظام کو بچاتا ہے۔ دوران سماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے وکیل مصطفی رمدے اور ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے اپنے دلائل مکمل کرلیے ہیں۔ آج اٹارنی جنرل اشتر اوصاف دلائل دیں گے۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ نے آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح کیلئے بھجوائے گئے صدارتی ریفرنس پر سماعت کا آغاز کیا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کو لاہور میں تاخیر ہوگئی ہے اور وہ لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوچکے ہیں جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کس ٹرانسپورٹ پر اسلام آباد آرہے ہیں؟ تو عامر رحمن کا کہنا تھاکہ اٹارنی جنرل موٹروے سے اسلام آباد آ رہے ہیں 3 بجے تک پہنچ جائیں گے، پنجاب کے کچھ معاملات کی وجہ سے اٹارنی جنرل لاہور میں مصروف ہوگئے تھے, اس دوران تحریک انصاف کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم نے کبھی اعتراض نہیں کیا کہ اٹارنی جنرل آرہے ہیں یا جارہے ہیں، یہ سنتے دو ہفتے ہوگئے ہیں۔ چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہاکہ ایسا کام نہ کریں جس سے کوئی اور تاثر ملے، اٹارنی جنرل نے پیر کو دلائل میں معاونت کرنے کی بات خود کی تھی، مخدوم علی خان کو بھی آج دلائل کیلئے پابند کیا تھا، ابھی ہمیں اطلاع ہوئی ہے کہ مخدوم علی خان بیرون ملک سے واپس نہیں آئے۔ یہ دونوں وکلا صاحبان ایک فریق کے وکیل ہیں۔ ایک سرکار کے وکیل ہیں دوسرے سیاسی جماعت کے نجی وکیل ہیں۔ اب لگتا ہے آپ اس معاملہ میں تاخیر کرنا چاہتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ساڑھے گیارہ بجے دیگر مقدمات قربان کر کے سماعت کے لیے کیس مقرر کیا۔ ہم آئین کے آرٹیکل تریستھ اے کے حوالے سے فیصلہ دینا چاہتے ہیں کیونکہ یہ ایک انتہائی اہم ایشو ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل تین بجے پہنچ رہے ہیں تو چار بجے تک سن لیتے ہیں ہم رات تاخیر تک اس مقدمہ کو سننے کے لیے تیار ہیں کیونکہ یہ خدمت کا کام ہے جوہم کرنا چاہتے ہیں عدالت تو رات تاخیر تک بیٹھی ہوتی ہے، اٹارنی جنرل کو تین بجے سن لیں گے۔ جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ عدالت تو چوبیس گھنٹے دستیاب ہے۔ اس دوران معاون وکیل سعد ہاشمی نے عدالت کو بتایا کہ مسلم لیگ ن کے وکیل مخدوم علی خان سترہ مئی کو واپس آجائیں گے۔ مخدوم علی خان بیرون ملک مقدمہ میں دلائل دے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اٹھارہ مئی کے بعد ہوسکتا ہے یہ بینچ دستیاب نہ ہو۔ چیف جسٹس نے پھر کہا کہ پورا ہفتہ لارجر بینچ دستیاب ہے لیکن معذرت کے ساتھ مخدوم علی خان نے مایوس کیا ہے۔ مخدوم علی خان بڑے وکیل ہیں وہ تحریری طور پر بھی دلائل دے سکتے ہیں۔ اس پر معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ مخدوم علی خان سے رابطہ کر کے عدالت کو آگاہ کرونگا۔ چیف جسٹس نے معاون وکیل سے کہا کہ مخدوم علی خان کو پیغام دے دیں بینچ کا ہر رکن انکا بڑا احترام کرتا ہے۔ یہ کیس آئینی تشریح کا بڑا اہم مقدمہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آج ایڈوکیٹ جنرلز اور بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل)کے وکیل کو سن لیتے ہیں اوراٹارنی جنرل کا بھی انتظار کریں گے۔ بی این پی کے وکیل مصطفی رمدے نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل تریسٹھ اے میں مںحرف ارکان کے خلاف کارروائی کا تمام طریقہ کار موجود ہے اگر آرٹیکل تریسٹھ اے میں طریقہ کار موجود نہ ہوتا تو عدالت آرٹیکل باسٹھ ، تریسٹھ کی طرف طرف دیکھ سکتی تھی ان کا کہنا تھا کہ یہ ضروری نہیں ہر انحراف کسی فائدے کے لیے ہو، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئین سازوں نے ڈی سیٹ کی سزا رکھی ہے پارٹی موقف سے انحراف خالصتا سیاسی اختلافات پر بھی ہوسکتا ہے۔ آرٹیکل تریسٹھ اے میں ڈی سیٹ کی سزا فراہم کی گئی ہے، چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آپ کہہ رہے ہیں منحرف ارکان کیلئے ڈی سیٹ کرنے کی سزا کافی ہے، مصطفی رمدے نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کے طریقہ کار سے ہٹ کر مزید گہرائی میں نہیں جانا چاہتے کیونکہ ڈی سیٹ کے ساتھ مزید سزا شامل کرنے سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن قومی اسمبلی کے ارکان سے متعلق ریفرنس مسترد کر چکا ہے، مصطفی رمدے نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے آدھے ارکان نے ایک طرف جبکہ آدھے ارکان نے دوسری طرف ووٹ دیا،اس سیاسی جماعت نے اپنے ارکان کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا،ایک سیاسی جماعت کے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی تو اسی جماعت کے صدر کی جانب سے صدارتی ریفرنس لایا گیا، چیف جسٹس کا کہنا تھاکہ آئین جمہوریت کو فروغ اور تحفظ دیتا ہے اور سیاسی جماعت کو مضبوط بھی کرتا ہے۔ اکثر انحراف پر پارٹی سربراہ کارروائی نہیں کرتے۔ آئین کی افراد سے کمٹمنٹ نہیں ہے بلکہ آئین سیاسی جماعت کو مضبوط کرتاہے، پارلیمنٹ اور جمہوریت کے اپنے تقاضے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک نظریاتی سیاسی جماعت ہے اس کے ارکان نے پالیسی سے کبھی انحراف نہیں کیا۔ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک سیاسی جماعت کے حقوق کا تحفظ بھی کرتا ہے اور پارٹی کے رکن کو چار چیزوں پر پالیسی کا پابند کرتا ہے۔ مصطفیٰ رمدے نے موقف اپنایا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے ارکان کو پارٹی کی پالیسی کا پابند کرکے انحراف سے منع کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی کے آخری چھ ماہ میں انحراف کرتا ہے تو ایسی صورتحال میں اس رکن کو کوئی سزا تو نہ ہوئی۔ مصطفی رمدے نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی منحرف ارکان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے، ا س لیے عدالت پارٹی سربراہان کے کنڈکٹ کو بھی سامنے رکھے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہو سکتا ہے منحرف رکن اپنے پارٹی سربراہ کو اپنے اقدام پر راضی کر لے۔ مصطفی رمدے نے کہاکہ ہماری سیاسی جماعتوں میں اتنی جمہوریت نہیں ہے۔ سیاسی پارٹی سربراہ کی ڈکٹیر شپ ہے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اگر ہر رکن اپنی مرضی کرے گا تو ملک میں جمہوریت کا فروغ کیسے ہو گا؟ کسی فرد پر فوکس کرنے کی بجائے سسٹم پر فوکس کیوں نہ کیا جائے؟ آرٹیکل تریسٹھ اے کے تحت انفرادی نہیں پارٹی کا حق ہوتا ہے توکیا دس پندرہ ارکان سارے سسٹم کو تبدیل کرسکتے ہیں؟ کیا چند افراد کو پارٹی ہائی جیک کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ مصطفیٰ رمدے کا کہنا تھا کہ عدالت کی آبزرویشن بڑی اہم ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہے کہ وہ انفرادی شخصیت کون ہے؟ آئین آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کا حق ہے کہ وہ مرضی سے ووٹ دیں لیکن کسی منحرف رکن کا دفاع نہیں کروں گا۔ اس لیے عدالت کو دیکھنا ہوگا کہ کیا آرٹیکل تریسٹھ اے کی سزا بڑھانے سے جمہوریت کو فروغ ملے گا۔ کیا سزا بڑھانے سے پارٹی سربراہ کی آمریت میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا سینیٹ الیکشن میں کیا ہوا سب نے دیکھا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم سینیٹ الیکشن والاعمل دہرانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ پارٹی کے موقف سے انحراف سے بہتر ہے منحرف ارکان استعفی دے دیں، استعفی دینے سے سیاسی سسٹم بھی بچ جائے گا، استعفی دینے والے کو عوام ووٹ دیں تو وہ دوبارہ آجائے گا، آئین کی تشریح کریں گے اور تشریح کیلئے معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیں گے، ضمیر کے مطابق بھی کوئی انحراف کرے تو ڈی سیٹ ہوگا، اس کا مطلب ہے کہ آئین ضمیر کے مطابق ووٹ دینے والے کے اقدام کو بھی قبول نہیں کرتا، مصطفی رمدے نے دلائل میں کہا کہ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد ہوئی، پارٹی سربراہ نے کسی کو شوکاز نوٹس نہیں دیا، آزاد کشمیر میں وزیراعظم تبدیل ہوا پارٹی سربراہ نے کسی کے خلاف ایکشن نہیں لیا، جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا آئین انحراف کی اجازت دیتا ہے؟ کیا یہ جائزہ لیا جاسکتا ہے کہ انحراف کس قسم کا ہے، ووٹ شمار ہوگا یا نہیں ہوگا، مصطفی رمدے کا کہنا تھا کہ ووٹ شمار نہ کرنے کی دلیل پر سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید نے زور نہیں دیا یہ لوگ پارلیمنٹ میں آئین کو بدلنے کی بجائے اپنا وزن عدالت کے کندھوں پر ڈالنا چاہتے ہیں جس پرجسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ہمارے کندھے اتنے کمزور نہیں ہیں ہمارے کندھے آئین پاکستان ہے آئین کا تحفط اور تشریح کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ عدالت نے دیکھنا ہے کہ درخواست میں کس نوعیت کا سوال اٹھایا گیا ہے۔ مصطفی رمدے نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو کالعدم کردیتا ہے تو چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا اس اقدام کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے؟ مصطفی رمدے نے کہا کہ میں یہ بالکل نہیں کہہ رہا میں حقیقت بتا رہا ہوں، آئین کا آرٹیکل تریسٹھ اے رکن کو ڈی سیٹ کرتا ہے کہیں اختلاف پر ووٹ دینے سے نہیں روکتا اس پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ اس کا مطلب ہے آرٹیکل تریسٹھ اے کی زبان بڑی واضح ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کی تشریح میں واقعات کو بھی دیکھنا ہوگا، جسٹس جمال خان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دو سو ممالک میں سے 32 ملکوں میں انسداد انحراف قانون ہے اوران 32 ممالک میں صرف 6 ملکوں میں اس قانون پر عمل ہوتا ہے ان 6 ممالک میں انحراف پر ارکان کو ڈی سیٹ کیا گیا ہے، اگر انحراف غلط کام ہے تو آئین انحراف کی اجازت کیوں دیتا ہے؟ مصطفی رمدے ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ریفرنس سیاسی مفاد کے لیے بھیجا گیا ہے, آرٹیکل تریسٹھ اے سے آرٹیکل 95 کو غیر موثر نہیں کیا جاسکتا۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا آرٹیکل 95 کے تحت ارکان کو اپنے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے؟ آرٹیکل 95 ارکان کو پارٹی ڈسپلن سے ہٹ کر ووٹ دینے کی اجازت دیتا ہے، چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ دلیل سے آپ نے سیاسی پارٹی کو ختم کردیا۔ اس طرح سے سیاسی پارٹی چائے (ٹی) پارٹی بن جائے گی۔ ہم بحث سے ایک بات سمجھے ہیں کہ پارٹی سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کو ختم کرسکتا ہے لیکن کیا سیاسی جماعت کا سربراہ اپنی پارٹی کے ساتھ ہوئے غلط اقدام کو معاف کرسکتا ہے؟ اگر پارٹی سربراہ رکن کے غلط کام کو معاف کردے توکیا یہ آئین کے خلاف ہو گا؟ کیا سربراہ پارلیمانی پارٹی کی ہدایات کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس دوران وکیل بابراعوان نے کہا کہ پارٹی سربراہ بھی پارلیمانی پارٹی کا حصہ ہوتا ہے۔ مصطفی رمدے کا کہنا تھا کہ اگر اختلاف پر ارکان استعفی دے دیں تو سسٹم تباہ نہیں ہو گا۔ جسٹس جمال خان نے کہا کہ ارکان کے انحراف سے سسٹم ختم نہیں ہوتا۔ آرٹیکل تریسٹھ اے ایک مکمل کوڈ ہے۔ اس دوران عدالت کو بتایا گیا کہ اٹارنی جنرل ساڑھے تین چار بجے تک پہنچ جائیں گے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پھر چار بجے اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ امید کرتے ہیں مخدوم علی خان کل منگل کو پیش ہوں گے۔ اگر وہ پیش نہیں ہوتے تو تحریری دلائل دیں چیف جسٹس نے کہا کہ کل صدارتی ریفرنس کی کارروائی کو مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوران ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا شمائل بٹ نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل تریسٹھ اے کو آرٹیکل باسٹھ کے ساتھ ملا کر پڑھا جانا چاہئے۔ آئین کی کوئی شق خوبصورتی کے لیے نہیں، ان دونوں آرٹیکلز کوایک ساتھ پڑھا جائے تو اس کے سنگین نتائج ہونگے، پارلیمنٹ کے بعد بھی دو فورمز نے انحراف کا جائزہ لینا ہے، اگر کوئی اسمبلی میں نہ آئے تو یہ بھی انحراف ہے، چاہے کسی نے گن پوائنٹ پرروک لیا ہو، جسٹس جمال خان نے سوال کیا کہ اگر وزیراعظم اسلامی احکامات کی خلاف ورزی کرے تو کیا پھر بھی رکن چاہے کہ وہی وزیر اعظم رہے۔ شمائل بٹ نے کہا کہ مانتے ہیں آرٹیکل تریسٹھ اے میں طریقہ کار کے مطابق الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ فورم ہے، جسٹس جمال خان نے سوال کیا کہ کیا پارٹی سربراہ کی شکایت پر الیکشن کمیشن کسی رکن کے کردار کو غلط یا صحیح کہہ سکتا ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل کے پی کے شمائل بٹ کے دلائل مکمل ہوئے تو کیس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کردی گئی۔


متعلقہ خبریں


ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ وجود - منگل 28 اپریل 2026

ایران مذاکرات کی پیش کش پر غورکیلئے آمادہ ہوگیا،امریکا جنگ کے دوران اپنا ایک بھی ہدف حاصل نہیں کر سکا،اسی لیے جنگ بندی کی پیش کش کی جا رہی ہے، ایرانی وزیر خارجہ ہم نے پوری دنیا کو دکھا دیا ایرانی عوام اپنی مزاحمت اور بہادری کے ذریعے امریکی حملوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اس مشکل...

ٹرمپ کی درخواست ، مذاکرات کریں،عباس عراقچی کا دعویٰ

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ وجود - منگل 28 اپریل 2026

فتنہ الخوارج کی تشکیل کی دراندازی میں ناکامی کے بعد افغان طالبان نے سول آبادی کو نشانہ بنایا، فائرنگ کے نتیجے میں 2 خواتین سمیت 3 شہری زخمی وانا ہسپتال منتقل،سکیورٹی ذرائع اہل علاقہ کا افغان طالبان کی فائرنگ کے واقعہ کی مذمت ،پاک فوج سے جوابی کارروائی کا مطالبہ،وفاقی وزیرداخلہ ...

جنوبی وزیرستان میں افغان طالبان کی دراندازی کی کوشش ناکام، پاک فوج کی کارروائی ، متعدد پوسٹیں تباہ

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب وجود - منگل 28 اپریل 2026

غیرقانونی تعمیرات، تنگ راستے، رشوت، ناقص نگرانی اور حکومتی غفلت نے مل کر سانحے کو جنم دیا عمارت میں اسموک ڈیٹیکٹر، نہ ایمرجنسی اخراج کا نظام، نہ فائر فائٹنگ کا مناسب انتظام تھا، ذرائع شہرِ قائد کے مصروف کاروباری مرکز گل پلازہ میں لگنے والی ہولناک آگ نے تباہی کی ایسی داستان رق...

گل پلازہ سانحہ، درجنوں زندگیاں خاکستر، نظام کی سنگین ناکامی بے نقاب

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز وجود - منگل 28 اپریل 2026

جوہری معاملے کو مذاکرات سے الگ کر دیا جائے تو تیز رفتار معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے،ایران ناکہ بندی ختم کرنے سے ٹرمپ کادباؤ کم ہو جائے گا ، امریکی نیوزویب سائٹ ایگزیوس ایران نے امریکا کو ایک نئی سفارتی تجویز پیش کی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور جاری جنگ کا خاتمہ...

(ایران کی امریکا کو نئی پیشکش ) آبنائے ہرمز کھولنے، جنگ بندی کی تجویز

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار وجود - پیر 27 اپریل 2026

تقریب واشنگٹن ہلز میں جاری تھی کہ اچانک فائرنگ کی آوازوں نے ہلچل مچا دی، ہال میں موجود 2 ہزار 600 کے قریب مہمانوں نے چیخنا شروع کر دیا اور لوگ میزوں کے نیچے چھپ گئے پانچ گولیاں چلیں، ٹرمپ بال بال بچ گئے(عینی شاہدین)سیکیورٹی کی خصوصی یونٹ کائونٹر اسالٹ ٹیم کے مسلح اہلکار اسٹیج پر...

وائٹ ہاؤس عشائیے میں ٹرمپ پر قاتلانہ حملہ، سیکیورٹی اہلکار زخمی، حملہ آور گرفتار

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری وجود - پیر 27 اپریل 2026

ہم آئی ایم ایف سے رعایت نہ ملی تو اگلے جمعہ 50، 55 روپے لیویپیٹرول یا ڈیزل پر لگانے کا فیصلہ کرنا ہوگا معاہدے کی پاسداری کرنی ہے،آئی ایم ایف کی مدد کے بغیر معیشت کو آگے نہیں چلایا جا سکتا، وفاقی وزیر پیٹرولیم وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ ہم آئی ایم ایف ...

پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں عوام پر نیا بوجھ ڈالنے کی تیاری

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ وجود - پیر 27 اپریل 2026

بھارت دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے، پاکستان مقابلہ کررہا ہے،وزیراطلاعات پہلگا م واقعے کی تحقیقات کی پیشکش پر بھارت کا جواب نہ دینا سوالیہ نشان ہے،گفتگو وفاقی وزیراطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ پاکستان دہشت گردی کا مقابلہ کررہا ہے،پاکستان دہشت گردی کیخلاف دیوار ہے جبکہ بھارت دہشت...

پاکستان دہشت گردی کیخلاف ایک دیوارہے ،عطا تارڑ

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے وجود - پیر 27 اپریل 2026

عباس عراقچی مسقط سے اسلام آباد پہنچے، تہران سے ایرانی وفد بھی اسلام آباد پہنچاہے ایرانی اور امریکی وفود کی آنے والے دنوں میںملاقات ہو سکتی ہے،ایرانی سفارت کار ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی دورہ عمان کے بعد دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ عباس ...

امریکا سے مذاکرات،ایرانی وزیرخارجہ دوبارہ اسلام آباد پہنچ گئے

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

تحریک انصاف ملک، ریاستی اداروں اور عوام کے ساتھ کھڑی ہے ، پاکستانی قوم متحد ہو تو کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی،بانی پی ٹی آئی کا بھی یہی پیغام ہے ،بیرسٹر گوہر پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر اس کے دشمن ہی ناخوش ہوں گے، ہم بھی خوش مگر چاہتے ہیں اپنوں کو نہ جوڑ کے دوسروں کی...

قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،پاکستان کے چیلنجز پرریاست کے ساتھ ہیں،عمران خان

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت وجود - اتوار 26 اپریل 2026

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت،حکومت کا اعتراف،سرکاری فنڈزمرکزی کنٹرول میں لانے کی یقین دہانی حکومت کی آئی ایم ایف کو70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کمرشل بینکوں سے سرکاری خزانے میں منتقل کرنے کی...

پاکستان کے ایک کھرب روپے مرکزی مالیاتی نظام سے باہر ،آئی ایم ایف کی گرفت

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان وجود - اتوار 26 اپریل 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈارکا خطے کی تازہ صورتحال پر اہم جائزہ اجلاس،علاقائی پیش رفت اور سفارتی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا پاکستان امن و استحکام کیلئے کردار ادا کرتا رہے گا، غیر مصدقہ ذرائع اور قیاس آرائیوں پر مبنی خبروں سے گریز کیا جائے، اسحاق ڈار نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ مح...

حکومت کاایران امریکا مذاکرات میں سہولت کاری جاری رکھنے کا اعلان

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید وجود - اتوار 26 اپریل 2026

متعدد زخمی ہو گئے، علاقے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ، وزارتِ داخلہ غزہ سٹی ،خان یونس میںفضائی حملوں میں 6 پولیس اہلکارشہید ہوگئے،عینی شاہدین دہشت گرد اسرائیل کے نہتے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے جاری رہے،غزہ میں صیہونی فورسز کے حملوں میں 6 پولیس اہلکاروں سمیت 12 فلسطین...

دہشت گرد اسرائیل کے فلسطینیوں پر وحشیانہ حملے، 12 فلسطینی شہید

مضامین
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
کیا مین اسٹریم میڈیا کے لفافہ صحافی گوئبلز کی بد روحیں ہیں؟

خواتین کا دہشت گردی میں استعمال وجود منگل 28 اپریل 2026
خواتین کا دہشت گردی میں استعمال

ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟ وجود منگل 28 اپریل 2026
ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟

معنی کی تلاش میں سرگرداں! وجود پیر 27 اپریل 2026
معنی کی تلاش میں سرگرداں!

26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس وجود پیر 27 اپریل 2026
26اپریل1984 ۔۔امتناع قادیانیت آرڈیننس

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر