... loading ...
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں ‘سازش’ کا لفظ شامل نہیں ہے، آرمی چیف اپنی مدت میں توسیع نہیں چاہتے وہ رواں سال نومبر میں ریٹائر ہوجائیں گے، جمہوریت، اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور سب اداروں کا آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ہی بہترین ملکی مفاد کی ضمانت ہے،عوام کی حمایت مسلح افواج کی طاقت کا منبع ہے، اس کے بغیر قومی سلامتی کا تصور بے معنی ہے، مسلح افواج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کا سبب بننے والی کوئی دانستہ یا غیردانستہ کوشش وسیع تر ملکی قومی مفاد کے منافی ہے، ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے معاشرے میں عوام اور فوج کے درمیان تقسیم اور انتشار پھیلایا جا رہا ہے، جو کام دشمن سات دہائیوں میں نہیں کر سکا، وہ کام ہم اب بھی نہیں ہونے دیں گے، عوام اور سیاسی جماعتیں فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، پاکستا ن میں کبھی مارشل لاء نہیں آئے گا ۔ جمعرات کو یہاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو پاکستان کی قومی سلامتی، پاکستان آرمی کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں، آپریشن ردالفساد کے تحت حالیہ اقدامات کے بارے میں آگاہ کرنا ہے اور فارمیشن کمانڈرز کانفرنس میں ہونے والی بات چیت پر بھی آگاہی دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دو روز قبل آرمی چیف کی زیر صدارت فارمیشنز کور کمانڈر کانفرنس ہوئی اور اس میں پاکستان آرمی کے تمام فارمیشن کمانڈرز نے شرکت کی، کانفرنس کے شرکاء کو پاک فوج کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اور خطے کے حالات کے تناظر میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز کے حوالے سے سیکیورٹی اور انٹیلی جنس بریفنگ دی گئیں جبکہ ان چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وضع کردہ حکمت عملی سے بھی آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پاک فوج کی بارڈر سیکیورٹی مکمل طور پر برقرار ہے اور مسلح افواج اور متعلقہ ادارے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ فارمیشن کمانڈر بریفنگ میں آپریشن ردالفساد کے تحت انٹیلیجنس کی بنیاد پر آپریشنز اور مغربی سرحدوں کی مینجمنٹ کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، پچھلے چند مہینوں میں بلوچستان اور قبائلی اضلاع میں دہشت گردوں نے امن عامہ کو خراب کرنے کی بے انتہا کوشش کی تاہم ہمارے بہادر آفیسرز اور جوانوں نے ان مذموم عزائم کو بھرپور طریقے سے ناکام بنایا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران 128 دہشت گردوں کو ہلاک اور 270 کو گرفتار کیا گیا اور ان آپریشنز کے دوران 97 آفیسرز اور جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، پوری قوم ان بہادر سپوتوں اور ان کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ ان شاءاللہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسی دوران عالمی امن کے قیام کی خاطر اقوام متحدہ کے تحت امن مشن کانگو میں تعینات پاکستان آرمی کے چھ آفیسرز اور جوانوں نے 29مارچ کو فرائض کی ادائیگی کے دوران جام شہادت نوش کیا، اب تک پاکستان فوج کے 168 افسران اور جوان مختلف اقوا م متحدہ مشن کے دوران بین الاقوامی امن کی کوششوں کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، ان قربانیوں کا اعتراف اقوام متحدہ میں اعلیٰ ترین سطح پر کیا گیا۔ میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ فارمیشن کمانڈرز نے ملکی سلامتی کے حوالے سے لیے گئے اقدامات بالخصوص اندرونی سیکیورٹی کی مد میں پاکستان آرمی کی آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی یقینی بنانے کے سلسلے میں مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور اسے درست سمت میں بہترین قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ سب نے اتفاق کیا کہ جمہوریت، اداروں کی مضبوطی، قانون کی بالادستی اور سب اداروں کا آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کرنا ہی بہترین ملکی مفاد کی ضمانت ہے، عوام کی حمایت مسلح افواج کی طاقت کا منبع ہے، اس کے بغیر قومی سلامتی کا تصور بے معنی ہے، اس لیے مسلح افواج اور عوام کے درمیان دراڑ ڈالنے کا سبب بننے والی کوئی دانستہ یا غیردانستہ کوشش وسیع تر ملکی قومی مفاد کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ تعمیری تنقید مناسب ہے لیکن افواہ سازی کی بنیاد پر سازشوں کے تانے بانے بننا اور بے بنیاد کردار کشی کرنا کسی بھی صورت قابل قبول نہیں، اس حوالے سے افواج پاکستان اور اس کی قیادت کے حوالے سے ایک منظم گھناؤنی پروپیگنڈا مہم چلائی جا رہی ہے اور حتیٰ کہ ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے معاشرے میں عوام اور فوج کے درمیان تقسیم اور انتشار پھیلایا جا رہا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ غیرقانونی، غیراخلاقی اور ملک کے مفاد کے سرسر خلاف ہے، جو کام دشمن سات دہائیوں میں نہیں کر سکا، وہ کام ہم اب بھی نہیں ہونے دیں گے، عوام اور سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، ہم اس سے باہر رہنا چاہتے ہیں، نہ یہ مہم پہلے کامیاب ہوئی تھی نہ یہ آگے کامیاب ہو گی، بہتر ہو گا کہ ہم اپنے فیصلے قانون پر چھوڑ دیں کیونکہ قانون پر عملدرآمد سے ہی معاشرے ترقی کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں عسکری قیادت کا مؤقف بھرپور طریقے سے دے دیا گیا تھا اور اس کے بعد اس اجلاس کا ایک اعلامیہ جاری ہوا، اجلاس میں کیا بات ہوئی میں وہ ڈسکس نہیں کر سکتا کیونکہ وہ رازداری کی بات ہے، اس اجلاس کے اعلامیے کو اگر دیکھیں تو جو کچھ اس اجلاس میں طے ہوا وہ اس اعلامیے میں موجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں دن رات ایسی دھمکیوں اور سازشوں کے خلاف چوکنا ہیں اور اس کے خلاف کام کررہی ہیں، اگر کسی نے پاکستان کے خلاف کوئی بھی سازش کرنے کی کوشش کی تو اسے کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی میں بحث کے نکات پر بات نہیں کر سکتا لیکن میرا خیال ہے کہ اجلاس کے اعلامیے میں ”سازش ”کا لفظ شامل نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آرمی چیف مدت ملازمت میں توسیع چاہتے ہیں نہ اسے قبول کریں گے، وہ اپنی مدت پوری کرکے رواں سال 29 نومبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ایک سوال پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 9 اپریل کی رات وزیراعظم ہاؤس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کی اْس وقت کے وزیراعظم عمران خان سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے سب باتیں بالکل جھوٹ ہیں، بی بی سی نے بہت ہی واہیات اسٹوری شائع کی، اس سے بڑا جھوٹ کسی انٹرنیشنل لیڈنگ ایجنسی کی طرف سے نہیں ہوسکتا، یہ ایک مکمل من گھڑت اسٹوری تھی ایسا کچھ نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس میں صدر کے چیمبر میں دو اعلیٰ افسران کی ملاقات سے متعلق مجھے کوئی علم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ نے کوئی آپشن نہیں دیا تھا، ڈیڈ لاک کے دوران وزیراعظم آفس سے آرمی چیف سے رابطہ کیا گیا کہ بیچ بچاؤ کی بات کریں، ہماری سیاسی جماعتوں کی قیادت آپس میں بات کرنے پر تیار نہیں تھی جس پر آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی وہاں گئے، مختلف رفقا سے بیٹھ کر تین چیزیں ڈسکس ہوئیں کہ کیا کیا ہوسکتا ہے، ان میں وزیراعظم کا استعفیٰ، تحریک عدم اعتماد واپس لینا اور وزیراعظم کی طرف سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا آپشن تھا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ تیسرے آپشن پر وزیراعظم نے کہا کہ یہ قابل قبول ہے، ہماری طرف سے اپوزیشن سے بات کریں جس پر آرمی چیف پی ڈی ایم کے پاس گزارشات لے کر گئے اور ان کے سامنے یہ گزارش رکھی جس پر سیر حاصل بحث ہوئی لیکن اپوزیشن نے اس پر کہا کہ ہم ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، کوئی ضمنی انتخاب کوئی بلدیاتی انتخاب اٹھالیں، کوئی مداخلت نہیں، پہلے کہا جاتا تھا کالز آتی ہیں، اگر کوئی ثبوت ہے مداخلت کا تو سامنے لائیں۔ انہوں نے کہاکہ انتشار کیلئے ریٹائرڈ افسران کے جعلی آڈیو پیغام پھیلائے جارہے ہیں، پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف متعلقہ ادارے کارروائی کررہے ہیں۔ شہباز شریف کی بطور وزیراعظم تقریب حلف برداری میں آرمی چیف کے شریک نہ ہونے کے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ آرمی چیف کی اس روز طبیعت ٹھیک نہیں تھی، وہ آفس بھی نہیں آئے تھے۔ سیاسی جماعتوں کو این آر او دینے کے سوال پر بابر افتخار نے کہا کہ فوج کسی کو این آر او دینے کی پوزیشن میں نہیں، فوج کون ہوتی ہے کسی کو این آر او دینے والی؟ وہ اپنا کام کررہی ہے۔
توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...
کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...
صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...
لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...
وزیرداخلہ کا بارکھان میںجامِ شہادت نوش کرنے والے میجر توصیف احمد بھٹی اور دیگر کو سلام عقیدت پیش قوم بہادر شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو یاد رکھے گی، شہداء کی بلندی درجات اور اہل خانہ کیلئے صبر کی دعا صدرِ مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم شہبازشریف اوروفاقی وزیر داخلہ محسن نق...
علیمہ خانم نے بیرسٹر سلمان صفدر اور سلمان اکرم راجہ کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میںنئی درخواست دائرکردی کسی بھی عدالت نے بانی کو تنہائی میں قید کی سزا نہیں سنائی،بشریٰ بی بی کو روزانہ 24 گھنٹے تنہائی میں رکھا جاتا ہے بانی پی ٹی آئی کو قید تنہائی میں رکھنے کے خلاف اسلام آ...
ایرانی عوام کے خلاف دشمنی اختیار کرنا ایک احمقانہ جوا ہے،ایرانی وزیر خارجہ مذاکرات کے حامی ہیں،قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،بیان ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف سازش کرنے والوں کا احتساب...
حکومتی پالیسیوں سے بلوچستان میں علیحدگی کا نعرہ لگ چکا،نواز شریف، زرداری اور فضل الرحمن آئین بچانے کے لیے آگے آئیں اگر نہیں آئے تو حالات خطرناک ہوتے جائیں گے، اپوزیشن لیڈر ملک خطرناک حالات کی طرف جارہا ہے، طاقت اور پیسے کی بنیاد پر7 پارٹیوں کو اکٹھا کیا گیا، اسرائیلی جیلوں س...
بحریہ ٹاؤن ہلز میں واقع 67ایکڑ پر مشتمل علی ولا کو منجمد کر دیا ، جو مبینہ طور پر علی ریاض ملک کے نام پر تعمیر کی گئی تھی، رہائش گاہ میں جدید سہولیات جیسے ہیلی پیڈ، منی چڑیا گھر اور سوئمنگ پولز شامل ہیں،ذرائع حکومت سندھ اور محکمہ جنگلات کی ملکیت1338ایکڑ اراضی بھی منجمد،مبینہ طو...
پاکستان کی مؤثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم متحرک ہوگئی ثالثی کے دوران ایرانی طیاروں کو پاکستانی ایئربیس پر جگہ دی گئی، ترجمان دفتر خارجہ کا ردعمل ایران امریکا کشیدگی میں پاکستان کی موثر سفارت کاری کے باعث یہود و ہنود کی گمراہ کن پروپیگنڈا مہم مت...
اجلاس ختم ہونے کے بعداقبال آفریدی اور جنید اکبر میں تلخ کلامی ، ہاتھا پائی ہوتے ہوتے رہ گئی اقبال آفریدی کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی کوشش ، جنید اکبر کے روکنے پر سیخ پا ہوگئے،ذرائع قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی اراکین آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جب کہ اجلاس ختم ہونے کے بعد پی ٹ...