وجود

... loading ...

وجود

بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

منگل 07 دسمبر 2021 بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت میں مغل دور میں قائم ہونے والی تاریخی بابری مسجد کو شہید ہوئے 29 برس کا عرصہ گزر گیا، بابری مسجد کو بھارتی انتہاپسند ہندو جماعت وشو اہندو پریشد اور بھارتی جنتا پارٹی کے کارکنوں اور حمایتیوں نے حملہ کر کے مسمار کر دیا تھا۔وشوا ہندو پریشد، راشٹریہ سویم سنگھ اور بی جے پی 1980 سے ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک چلا رہی تھیں۔ 6 دسمبر1992 کو انہی انتہاپسندہندو جماعتوں نے ایودھیا میں ایک ریلی نکالی جس نے پر تشدد صورت اختیار کر لی ، نتیجے میں بابری مسجد مسمار ہو گئی۔اس کے بعد ایودھیا اور دیگر ریاستوں میں مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان پرتشدد تصادم کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 2000 لوگ مارے گئے۔ بابری مسجد کی مسماری پر پاکستان ، بنگلہ دیش، ایران ، سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔16 دسمبر 1992 کو بھارتی یونین ہوم منسٹری نے لب رہان کمیشن بنایا تاکہ مسجد کی تباہی کی تفتیش کی جا سکے۔ اس کی سربراہی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایم ایس لب رہان کو سونپی گئی۔ اگلے 16 برس میں 399 نشستوں کے بعد کمیشن نے 1029 صفحات پر مشتمل طویل رپورٹ وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کو 30 جون 2009 کو پیش کی۔اس رپورٹ کے مطابق 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا کے واقعات “نہ تو اچانک اور نہ ہی منصوبہ بندی کے بغیر ہوئے۔”انڈیا کی سپریم کورٹ نے نومبر 2019 میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد منہدم کرنا ایک مجرمانہ فعل تھا۔بعدازاں ستمبر 2020 کو لکھنو کی ایک خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کے تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا تھا ”28 برس قبل بابری مسجد کا انہدام کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا تھا اور اس میں نامزد ملزمان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے لہذا تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے”۔بابری مسجد انہدام کیس کے 28 برس بعد آنے والے فیصلے بعد بہت لوگوں کو بھارت میں مذہبی اقلیتیوں خصوصا مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش لاحق ہوئی جبکہ کچھ لوگوں کا موقف یہ ہے کہ یہ دیرینہ تنازع کسی نہ کسی طرح حل ہو ہی گیا جس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن اس وقت بھارت میںفاشسٹ مودی کی سربراہی میںبھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر اس کے ہندوتوا کے نظریے کی بنیاد پر سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں ۔ انتہاپسند ہندووں نے مزید دو ہزار کے قریب مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے بارے میں یہ دعوی کر رکھا ہے کہ وہ ہندو مذہب کے مقدسات کو ڈھا کر تعمیر کی گئی ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ بابری مسجد کے تنازع کے فیصلے کے بعد بھارت میں ہندو مسلم فسادات کا امکان کم ہو گیا ہے ، قبل از وقت ہو گا،شہید بابری مسجد واقعے کے 29 سال بعد آج انڈیا کی سب بڑی ریاست اترپردیش کے شہر متھرا میں شاہی عیدگاہ کو اسی قسم کی صورت حال درپیش ہے۔شاہی عیدگاہ میں سخت گیر ہندو تنظیموں کی جانب سے ہندوں کے دیوتا کرشن بھگوان کی مورتی نصب کرنے اور اس پر ‘جل ابھیشیک’ یعنی دریائے گنگا کے مقدس پانی کے چھڑکا وکے اعلان کے بعد پورا علاقہ چھاونی میں تبدیل ہو گیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہندو مہا سبھا، کرنی سینا، کرشن جنم بھومی نرمان نیاس اور کرشن جنم بھومی آندولن اور بعض دیگر ہندو تنظیموں نے بابری مسجد کے انہدام کی برسی کے موقع پر چھ دسمبر کو متھرا کی شاہی عید گاہ میں ہندو دیوتا کرشن بھگوان کی مورتی نصب کرنے کی کال دی تھی۔ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان عید گاہ کے ساتھ ہی واقع شری کرشن جنم بھومی مندر کے بڑے داخلی دروازے کے سامنے چند لوگوں نے جے شری رام کے نعرے لگائے اور اشتعال انگیز بیانات دیے۔ پولیس نے انھیں فورا حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔شاہی عید گاہ کو جانے والے سبھی راستوں پر پولیس چوکس ہے۔ پولیس پورے علاقے پر ڈرون سے بھی نظر رکھ رہی ہے۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں 143 مقامات پر پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اہم مقامات پر فسادات سے نمٹنے کے لیے خصوصی طور پر تربیت یافتہ دستے اور سینٹر ریزرو فورس کے جوان بھی سیکنڑوں کی تعداد میں تعینات کیے گئے ہیں۔پولیس کے اعلی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح پر امن ہے اور ابھی تک کسی ناخوشگورار واقع کی خبر نہیں ہے۔مقامی پولیس سوشل میڈیا پر بھی خاص نظر رکھ رہی ہے۔ متھرا سینیئر سپرینٹنڈنٹ آف پولیس گورو گروور نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور نفرت انگیز بیانات پوسٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انھوں نے بتایا کہ اشتعال انگیز بیانات پوسٹ کرنے کے سلسلے میں ابھی تک چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔متھرا کی عیدگاہ مغل بادشاہ اورنگزیب نے تعمیر کرائی تھی۔ یہ شہر کے ایک اونچے ٹیلے پر تعمیر کی گئی تھی۔ عید گاہ کی دیوار سے متصل بھگوان کرشن کا بہت بڑا مندر ہے۔ایودھیا میں رام مندر کی تحریک کے دوران ایک بڑا نعرہ یہ بھی تھا کہ ‘ایودھیا تو جھانکی ہے، متھرا کاشی باقی ہے۔’حکمراں بی جے پی سمیت سخت گیر ہندوں کا یہ کہنا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے متھرا کی عید گاہ اور بنارس کی گیان واپی مسجد ہندوں کے مندر منہدم کر کے بنائی تھی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مسلمان ان عبادت گاہوں کو ہندوں کے حوالے کر دیں۔


متعلقہ خبریں


مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی وجود - پیر 02 فروری 2026

گورنر راج لگانے کی سازشیں ہو رہی ہیں، مجھے عدالتوں سے نااہل کرایا جائے گا،تمام قبائلی اضلاع میں جاکر اسلام آباد میں دھرنے پر رائے لوں گا،سوال یہ ہے دہشتگرد ہمارے گھروں تک پہنچے کیسے؟ میں نے 4 ارب مختص کیے تو وفاق مجھ پر کرپشن کے الزامات لگا رہا ہے، 4 ارب نہیں متاثرین کیلئے 100 ...

مجھے راستے سے ہٹا دیا جائے گا( وزیراعظم کی دعوت، صوبے کا مقدمہ رکھوں گا ،سہیل آفریدی

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار وجود - پیر 02 فروری 2026

کراچی سمیت سندھ میں رہنماؤں ، سینئر صوبائی قیادت ،منتخب نمائندوں اور کارکنان کے گھروں پرتابڑ توڑ چھاپے،متعدد کارکنان نامعلوم مقامات پر منتقل،8 فروری میں 7 دن باقی،حکمران خوفزدہ کریک ڈاؤن کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ منصوبہ بند ی کے تحت کارروائی ہے، گرفتاریوں، دھمکیوں اور حکومت...

پی ٹی آئی کیخلاف سندھ حکومت کا منظم پولیس کریک ڈاؤن، 124کارکن گرفتار

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید وجود - پیر 02 فروری 2026

بچے اور خواتین شامل،رہائشی عمارتوں، خیموں، پناہ گاہوں ، پولیس اسٹیشن نشانہ بن گیا خواتین پولیس اہلکار بھی شامل،اسرائیل اور حماس میں کشیدگی بڑھنے کا امکان ،ذرائع اسرائیلی فضائی حملوں میں ہفتے کے روز غزہ میں کم از کم 32 فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین ک...

غزہ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، 32 فلسطینی شہید

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک) وجود - اتوار 01 فروری 2026

دہشتگردوں نے 12 مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، بروقت اور مؤثر کاروائی کے نتیجے میں تمام حملے ناکام ، حملہ آوروں کا تعاقب اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تا حال جاری ،سکیورٹی ذرائع گوادر میں بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی، 11 معصوم بلوچ مزدور بے دردی سے شہید،5 مرد،...

بلوچستان حملوں میں 10 جوان شہید( فورسز کی جوابی کارروائی میں 108 دہشت گرد ہلاک)

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل وجود - اتوار 01 فروری 2026

31 کروڑ تنازع پر اغوائ، دانش متین کیس میں ڈی آئی جی ٹریفک ،پولیس، بااثر شخصیات زیرِ تفتیش پولیس افسران سے رابطوں کے بعد دانش متین کو واپس کراچی لا کر دفتر کے قریب چھوڑ دیا گیا، ذرائع ( رپورٹ: افتخار چوہدری) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کا بلڈر کے اغوا میں ملوث ہونے کا انکشاف۔...

معروف بزنس مین کواغواء کرناپیر محمد شاہ کو مہنگا پڑ گیا،سرکاری اداروں میں ہلچل

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو وجود - اتوار 01 فروری 2026

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد نیٹ ورک کی کمر توڑ دی مختلف علاقوں میں دہشتگرد حملوں کو ناکام بنانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد بوکھلاہٹ ...

بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد بوکھلاہٹ کا شکار ہیں، بلاول بھٹو

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن وجود - اتوار 01 فروری 2026

حکومت سندھ نے موٹر گاڑیوں کے پورے نظام کو کمپیوٹرائز کردیا گیا ہے،سینئر وزیر کچھ بسیں پورٹ پر موجود ہیں،مزید 500 بسوں کی اجازت دے دی ہے،بیان سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ بغیر کمپیوٹرائز فٹنس اب کوئی گاڑی سڑک پر نہیں چل سکتی۔ایک بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ...

کمپیوٹرائز فٹنس کی بغیر گاڑی سڑک پر نہیں چلے گی،شرجیل میمن

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم وجود - اتوار 01 فروری 2026

سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا کر متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں ہم کسی سے مدد نہیں مانگ رہے ہیں،حکومت قانونی کارروائی کرے،انتظامیہ سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم ہوگئے، متاثرین کے نام پر پیسے بٹورے جارہے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گُل پلازہ کے مت...

سانحہ گل پلازہ، متاثرین کے نام پر سوشل میڈیا پر فراڈیے سرگرم

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم وجود - هفته 31 جنوری 2026

تیس منٹ تک جاری ملاقات میںپی ٹی آئی کے تحفظات سے آگاہ کیاگیا،سہیل آفریدی اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤںعدالت کے باہر پہنچ گئے، کارکنوں کی نعرے بازی، اندر اور باہر سیکیورٹی اہلکار تعینات تھے عمران خان کو ایسے اسپتال لایا گیا جہاں اس مرض کا ڈاکٹر ہی نہیں ہے،پانچ دن جھوٹ کے بعد ای...

سلمان راجا کی چیف جسٹس سے ملاقات، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر دھرناختم

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع وجود - هفته 31 جنوری 2026

انٹیلی جنس بیسڈ اپریشن جاری ہے،بڑے آپریشن سے متعلق پھیلایا جانے والا تاثر جھوٹا اور بے بنیاد ہے، نہ تو علاقے میں فوج کی تعداد میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے ،موجودہ موسم بڑے آپریشن کیلئے موزوں نہیں گزشتہ تین برسوں سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کیخلاف انٹیلی جنس معلومات پرآپر...

وادی تیراہ میںکوئی بڑا آپریشن نہیں ہورہا، عسکری ذرائع

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن وجود - هفته 31 جنوری 2026

شہر قائد میں میگا پروجیکٹس چل رہے ہیں، وزیراعلی نے حال ہی میں 90ارب روپے مختص کیے ہیں 15ہزار خواتین نے پنک اسکوٹی کیلئے درخواستیں دی ہیں، سینئر وزیر کاسندھ اسمبلی میں اظہار خیال سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی میں ترقیاتی کام جاری ہیں، سڑکیں بن رہی ہیں،ش...

سڑکیں بن رہی ہیں، کراچی کی ہرسڑکپر جدید بسیں چلیں گی، شرجیل میمن

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان وجود - هفته 31 جنوری 2026

حکومتی کاوشوں سے ملک دیوالیہ ہونے سے بچ گیا، معیشت مستحکم ہو چکی ہے، وزیراعظم میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 روپے کم کر دوں، میرے ہاتھ بندھے ہیں،خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے صنعتوں کیلئے بجلی کے ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان کر دیا، اور کہا کہ میرا بس چلے تو ٹیرف مزید 10 رو...

صنعتوں کیلئے بجلی ٹیرف میں 4 روپے 4 پیسے کمی کا اعلان

مضامین
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی وجود پیر 02 فروری 2026
گڈگورننس یا پولیس کے ذریعے حکمرانی

ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ امن بورڈ :روس اور چین کا لائحہ عمل

بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں وجود پیر 02 فروری 2026
بی ایل اے کی دہشت گردانہ کارروائیاں

ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز وجود پیر 02 فروری 2026
ٹرمپ،نیتن،مودی،شہباز

لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر وجود اتوار 01 فروری 2026
لکیر کے فقیر نہیں درست ڈگر

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر