... loading ...
بھارت میں مغل دور میں قائم ہونے والی تاریخی بابری مسجد کو شہید ہوئے 29 برس کا عرصہ گزر گیا، بابری مسجد کو بھارتی انتہاپسند ہندو جماعت وشو اہندو پریشد اور بھارتی جنتا پارٹی کے کارکنوں اور حمایتیوں نے حملہ کر کے مسمار کر دیا تھا۔وشوا ہندو پریشد، راشٹریہ سویم سنگھ اور بی جے پی 1980 سے ایودھیا کی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی تحریک چلا رہی تھیں۔ 6 دسمبر1992 کو انہی انتہاپسندہندو جماعتوں نے ایودھیا میں ایک ریلی نکالی جس نے پر تشدد صورت اختیار کر لی ، نتیجے میں بابری مسجد مسمار ہو گئی۔اس کے بعد ایودھیا اور دیگر ریاستوں میں مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان پرتشدد تصادم کا سلسلہ شروع ہو گیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 2000 لوگ مارے گئے۔ بابری مسجد کی مسماری پر پاکستان ، بنگلہ دیش، ایران ، سعودی عرب سمیت کئی ممالک نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔16 دسمبر 1992 کو بھارتی یونین ہوم منسٹری نے لب رہان کمیشن بنایا تاکہ مسجد کی تباہی کی تفتیش کی جا سکے۔ اس کی سربراہی ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ایم ایس لب رہان کو سونپی گئی۔ اگلے 16 برس میں 399 نشستوں کے بعد کمیشن نے 1029 صفحات پر مشتمل طویل رپورٹ وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کو 30 جون 2009 کو پیش کی۔اس رپورٹ کے مطابق 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا کے واقعات “نہ تو اچانک اور نہ ہی منصوبہ بندی کے بغیر ہوئے۔”انڈیا کی سپریم کورٹ نے نومبر 2019 میں بابری مسجد اور رام مندر کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے متنازع زمین پر مندر کی تعمیر اور مسلمانوں کو مسجد کے لیے متبادل جگہ دینے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ مسجد منہدم کرنا ایک مجرمانہ فعل تھا۔بعدازاں ستمبر 2020 کو لکھنو کی ایک خصوصی عدالت نے بابری مسجد انہدام کے تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں لکھا تھا ”28 برس قبل بابری مسجد کا انہدام کسی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت نہیں کیا گیا تھا اور اس میں نامزد ملزمان کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد نہیں ملے لہذا تمام ملزمان کو بری کیا جاتا ہے”۔بابری مسجد انہدام کیس کے 28 برس بعد آنے والے فیصلے بعد بہت لوگوں کو بھارت میں مذہبی اقلیتیوں خصوصا مسلمانوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش لاحق ہوئی جبکہ کچھ لوگوں کا موقف یہ ہے کہ یہ دیرینہ تنازع کسی نہ کسی طرح حل ہو ہی گیا جس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ لیکن اس وقت بھارت میںفاشسٹ مودی کی سربراہی میںبھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت پر اس کے ہندوتوا کے نظریے کی بنیاد پر سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں ۔ انتہاپسند ہندووں نے مزید دو ہزار کے قریب مسلمانوں کی عبادت گاہوں کے بارے میں یہ دعوی کر رکھا ہے کہ وہ ہندو مذہب کے مقدسات کو ڈھا کر تعمیر کی گئی ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ بابری مسجد کے تنازع کے فیصلے کے بعد بھارت میں ہندو مسلم فسادات کا امکان کم ہو گیا ہے ، قبل از وقت ہو گا،شہید بابری مسجد واقعے کے 29 سال بعد آج انڈیا کی سب بڑی ریاست اترپردیش کے شہر متھرا میں شاہی عیدگاہ کو اسی قسم کی صورت حال درپیش ہے۔شاہی عیدگاہ میں سخت گیر ہندو تنظیموں کی جانب سے ہندوں کے دیوتا کرشن بھگوان کی مورتی نصب کرنے اور اس پر ‘جل ابھیشیک’ یعنی دریائے گنگا کے مقدس پانی کے چھڑکا وکے اعلان کے بعد پورا علاقہ چھاونی میں تبدیل ہو گیا ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ہندو مہا سبھا، کرنی سینا، کرشن جنم بھومی نرمان نیاس اور کرشن جنم بھومی آندولن اور بعض دیگر ہندو تنظیموں نے بابری مسجد کے انہدام کی برسی کے موقع پر چھ دسمبر کو متھرا کی شاہی عید گاہ میں ہندو دیوتا کرشن بھگوان کی مورتی نصب کرنے کی کال دی تھی۔ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان عید گاہ کے ساتھ ہی واقع شری کرشن جنم بھومی مندر کے بڑے داخلی دروازے کے سامنے چند لوگوں نے جے شری رام کے نعرے لگائے اور اشتعال انگیز بیانات دیے۔ پولیس نے انھیں فورا حراست میں لے لیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔شاہی عید گاہ کو جانے والے سبھی راستوں پر پولیس چوکس ہے۔ پولیس پورے علاقے پر ڈرون سے بھی نظر رکھ رہی ہے۔ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں 143 مقامات پر پولیس نے ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ اہم مقامات پر فسادات سے نمٹنے کے لیے خصوصی طور پر تربیت یافتہ دستے اور سینٹر ریزرو فورس کے جوان بھی سیکنڑوں کی تعداد میں تعینات کیے گئے ہیں۔پولیس کے اعلی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح پر امن ہے اور ابھی تک کسی ناخوشگورار واقع کی خبر نہیں ہے۔مقامی پولیس سوشل میڈیا پر بھی خاص نظر رکھ رہی ہے۔ متھرا سینیئر سپرینٹنڈنٹ آف پولیس گورو گروور نے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز اور نفرت انگیز بیانات پوسٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔انھوں نے بتایا کہ اشتعال انگیز بیانات پوسٹ کرنے کے سلسلے میں ابھی تک چار افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔متھرا کی عیدگاہ مغل بادشاہ اورنگزیب نے تعمیر کرائی تھی۔ یہ شہر کے ایک اونچے ٹیلے پر تعمیر کی گئی تھی۔ عید گاہ کی دیوار سے متصل بھگوان کرشن کا بہت بڑا مندر ہے۔ایودھیا میں رام مندر کی تحریک کے دوران ایک بڑا نعرہ یہ بھی تھا کہ ‘ایودھیا تو جھانکی ہے، متھرا کاشی باقی ہے۔’حکمراں بی جے پی سمیت سخت گیر ہندوں کا یہ کہنا ہے کہ مسلم حکمرانوں نے متھرا کی عید گاہ اور بنارس کی گیان واپی مسجد ہندوں کے مندر منہدم کر کے بنائی تھی۔ ان کا مطالبہ ہے کہ مسلمان ان عبادت گاہوں کو ہندوں کے حوالے کر دیں۔
معرکہ حق میں ناکامی کے بعد بھارتی قیادت کی مایوسی کھل کر سامنے آچکی ہے،بھارت کو پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرنا ہوگا مودی سرکار کے اشتعال انگیز بیانات خطے کو پھر بحران کی طرف دھکیل سکتے ہیں،اگر کسی قسم کی جغرافیائی تباہی کی...
آج کل 5 روپے میں آتا کیا ہے؟ اتنے پیسے تو گھر کے چھوٹے بچے بھی پکڑنے سے انکار کر دیتے ہیں،شہری کی دہائی حکومت نے عوام پر اتنا بڑا احسان کیا ہے جیسے ساری نیکیاں ایک ساتھ ہی سمیٹ لی ہوں،شہریوں کی میڈیا سے گفتگو حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمت میں کمی پر عوام نے حکومت پر طنز ک...
منشیات فروش خاتون کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا گارڈن تھانے کی فوٹیج غائب ہونے کے دعوئوں نے کیس پرسوالات کھڑے کر دیے،ذرائع مبینہ منشیات فروش خاتون انمول عرف پنکی کے کیس میں نئے انکشافات سامنے آنے کے بعد معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا ہے، جبکہ ذرائع ...
حکومت کی آئی ایم ایف کو سرکاری اداروں کی نجکاری تیز کرنے کی یقین دہانی، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کا متبادل پلان پیش ،بین الاقوامی مالیاتی ادارے کارئیل اسٹیٹ سیکٹر کی سخت نگرانی پر زور 27 سرکاری اداروں کی نج کاری پر پیش رفت جاری پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک کی نج کار...
اشرافیہ، جاگیردار وڈیرے پارٹیاں بدل بدل کر قوم پر مسلط ، حکمران جماعتوں کی قسم ایک ہی ہیں کوئی جماعت عوام کو حق دینے کیلئے تیار نہیں، نوجوان مایوس نہ ہوں،بنوقابل تقریب سے خطاب امیرجماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، تعلیم مہن...
عالمی برادری کے ساتھ مل کر پرامن، ہم آہنگ، متحد معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہیں نوجوان ، مذہبی رہنما،سول سوسائٹی برداشت، ہمدردی، رواداری کو فروغ دیں،وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف نے پُرامن باہمی طرزِ زندگی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم کے اصول آج بھی پ...
نئی دہلی وزرائے خارجہ اجلاس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں ناکام امارات پر ایران کا اپنے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست ملوث ہونے کا الزام برکس گروپ کے رکن ممالک ایران اور متحدہ عرب امارات کے باہمی اختلافات کے باعث برکس وزرائے خارجہ اجلاس بغیر کسی نتیجہ کے ختم...
توانائی شعبے میں اصلاحات، گردشی قرضے میں کمی اور مالی اہداف سے متعلق مذاکرات جاری،پروٹیکٹڈ صارفین کے علاوہ دیگربجلی اور گیس صارفین کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا،حکام حکومت کی عالمی توانائی قیمتوں کا مکمل بوجھ صارفین تک منتقل کرنے کی پالیسی برقرار، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کا آڈ...
کراچی واٹر کارپوریشن میں مبینہ بدانتظامی اور پانی کی تقسیم کے نظام پر سوالات اٹھ گئے سرکاری نرخ پر بک ہونیوالے آن لائن ٹینکرپانی مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں، شہری شہر قائد میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ کراچی واٹر کارپوریشن کے انتظامی امور، ہائیڈرنٹ نظام اور آن ل...
صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی دلخراش ویڈیو سامنے آگئی اغوا ہوئے 26 روز گزر چکے، حکومت رہائی کیلئے اقدامات کرے، سیکنڈ آفیسر حسین یوسف صومالیہ کے بحری قذاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانیوں کی ایک اور ویڈیو منظرعام پر آگئی جس میں انہوں نے رہائی کی اپیل کی...
لبنانی بچے مسلسل تشدد، نقل مکانی، خوفناک واقعات کا سامنا کر رہے ہیں،عالمی ادارہ لبنان میں بچوں کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کیے جائیں، عالمی برادری سے مطالبہ یونیسیف نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان میں مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 200 بچے شہید ہو چکے ہیں۔یونیسیف ...
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ مشکل ہو گا، 28 ویں ترمیم پر کوئی بات نہیں ہوئی،امریکا ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیشکش نہیں کی گئی،چیئرمین پیپلز پارٹی حکومت سے بجٹ مذاکرات کے لیے پیپلزپارٹی کی 4 رکنی کمیٹی بنادی،پیٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جا رہا ...