وجود

... loading ...

وجود
وجود

اے چاندیہاں نہ نکلاکر

جمعه 03 دسمبر 2021 اے چاندیہاں نہ نکلاکر

وہ خاصامضطرب تھا بے چین سا ہوکر اٹھ بیٹھا ٹہلنے لگااسے ایک خاص مہمان کا انتظار تھا۔۔اس کا شمار شہرکے گنے چنے امیر کبیر لوگوںمیں کیا جاتا تھاانسان دوست،علم پرور اوردین کی خدمت کرنے والا حاشر ۔۔ کئی ادارے اس کی سرپرستی میں کام کررہے تھے ذرا سی بھی آہٹ ہوتی وہ چونک چونک جاتا اور بے اختیار نگاہیں دروازے کا طواف کرنے لگتیں۔اصرارکے باوجود معزز مہمان نے خاص طورپر تاکیدکی تھی کہ میں خود آپ کے پاس آئوں گا میرے استقبال کے لیے کسی کو نہ بھیجا جائے ۔ وہ مہمان کے مزاج سے واقف تھابس میں ہوتا تو حاشرؒ خود سر کے بل ان کے استقبال کے لیے جانا اپنے لیے فخر سمجھتا۔۔اتنے میں ایک ملازم دوڑتا ہوا آیااور معزز مہمان کے آنے کی اطلاع کی حاشرؒ بے تاب ہوکر ننگے پائوں استقبال کے لیے باہر لپکا وہ بزرگ دروازے تک آن پہنچے تھے ان کی صورت ایسی کہ دیکھ کر ایمان تازہ ہو جائے حاشربغلگیرہوا احترام سے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور مہمان خانہ میں لے گیا مشروب سے تواضح کی پھر کہا۔۔۔آپ نہا دھو کر تازہ دم ہو جائیں نماز کے بعد تناول کریں گے۔۔۔رات کو حاشرنے معزز مہمان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں کئی صحابہؓ ،تابعین، ؒشہرکے چیدہ چیدہ لوگ ،علماء کرام ، شعرائ، ادب کے شائق اور تاجروںکو بھی مدعوکیا عشائیہ علم ،ادب اور مذہب کا حسین امتزاج تھا ۔ حاشرؒ نے سب سے اپنے معزز مہمان کا تعارف کرواتے ہوئے کہا سید صاحب اتنا عظیم کام کررہے ہیں اس کا آج ہمیں شاید اندازہ ہی نہیں لیکن مجھے یقین ہے رہتی دنیا تک دنیا بھر کے لوگ آپ کو ہمیشہ عقیدت سے سلام کرتے رہیں گے ۔کھانا کھانے کے بعد بھی بیشترلوگ معزز مہمان سے سوال جواب کرکے علمی پیاس بجھاتے رہے۔۔اگلے روز اصرار کے باوجود مہمان نے جانے کا قصد کیا حاشرؒ نے ظہرکی نمازان کی اقتداء میں پڑھنے کی خواہش کااظہار کیااسی اثنا ء میں کچھ لوگ ملاقات کے آواردہوئے ان کے ساتھ تاجروںکے روپ میں 2 افراد ایسے بھی تھے چوری،فراڈ اورڈکیتی جن کا چلن تھا۔معززمہمان رخصت ہونے لگا تو حاشرؒ نے زاد ِ راہ کیلئے100اشرفیوںکی تھیلی پیش کی جو انہوں نے قبول کرلی۔ اتنی رقم دیکھ کر ٹھگوں کی حیرت سے آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ان کے منہ میں پانی بھر آیا آنکھوںہی آنکھوںمیں انہوںنے مال ہتھیانے کا فیصلہ کرلیاجب بزرگ مہمان رخصت ہوا تو وہ بھی چپکے سے اس کے پیچھے ہولیے ۔
ٹھگوں کا ارادہ تھا شہر سے کچھ دور جب بھی موقع ملا وہ اشرفیاں چھین کر رفو چکر ہوجائیں گے لیکن بات نہ بنی بزرگ چلتے چلتے دریا کے کنارے پہنچے کسی سے اگلی منزل جانے والی کشتی بارے دریافت کرکے سوارہوگئے ۔تھوڑی دیر بعد ٹھگ بھی کشتی میں بیٹھ گئے ِ سفرکاآغاز ہوا کشتی دریا کے عین وسط پہنچی دونوںنے شور مچانا، واویلاکرنا شروع کردیاہماری 100اشرفیوںکی تھیلی چوری ہوگئی ہے ملاح نے دو افراد تلاشی پرمامور کردئیے باری باری سب کی تلاشی۔ ایک بار، دوسری مرتبہ۔لیکن اشرفیوںبھری تھیلی کسی سے برآمد نہ ہوئی۔۔ٹھگوںنے براہ ِ راست بزرگ مہمان پر الزام لگاڈالا ہمیں اس پر شک ہے۔۔۔ لوگ حیران پریشان ۔۔جس کے چہرے پر نور برس رہاہے چور کیسے ہو سکتاہے؟ مسافروںنے سمجھایا لیکن اصرار تھا ہمارا چور یہی ہے بار بار تلاشی لینے پر بھی کچھ نہ نکلا تو لوگوںنے دونوںکو لعن طعن شروع کردی کہ اتنی محترم شخصیت پر ایسا گھٹیا الزام ۔۔اور سچ مچ ٹھگوںکی حیرت گم ہوگئی۔۔وہ سوچنے لگے الہی یہ ماجرہ کیاہے؟ اشرفیاں گئی کہاں؟یہ شحص ہم سے بڑا فنکارہے کیا؟۔۔سفر اختتام پذیرہوا دونوں پھر بزرگ کا تعاقب کرنے لگے وہ ایک سنسان جگہ راستہ روک کر کھڑے ہوگئے ایک بولا ہماری نظروںکے سامنے آپ کو100اشرفیوںکی تھیلی دی گئی لیکن کشتی میں تلاشی کے دوران بھی نہیں ملی ہم نے اس کی خاطر اتنا لمبا سفرکیاہے لائو وہ تھیلی ہمیں دیدو۔۔بزرگ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اشرفیاں تو میرے پاس نہیں ہیں؟۔۔ انہوںنے متانت سے جواب دیا۔ پھر اشرفیاںکہاں گئیں؟ دوسرے نے بے صبری سے پو چھا۔بزرگ نے مسکراتے ہوئے کہا جب تم نے شور مچایا کہ ہماری 100اشرفیوںکی تھیلی چوری ہوگئی ہے ۔میں نے چپکے سے وہ تھیلی دریا میں پھینک دی تھی۔۔۔دونوں حیرت سے اپنے مخاطب کوتکنے لگے۔۔اتنی بڑی رقم دونوں بیک وقت بولے۔آپ نے دریا برد کردی
’’بڑی سے بڑی دولت۔بزرگ نے فصیحت کے اندازمیں کہا انسان کے کردارسے زیادہ قیمتی نہیں ہوتی تم لوگ مجھے نہیں جانتے پیرانہ سالی کے باوجود نامساعد حالات، سفر کی صعوبتیں موسموںکی سختی کی پرواہ کئے بغیرمیں اتنا بڑا کام کررہاہوں جس کا تم اندازہ نہیں لگا سکتے میں نبی ٔ آخرالزماں ﷺ کی احادیث ِ مبارکہ مرتب کررہاہوں تم جاننا چاہتے ہو تو سنو کشتی کے مسافروں میں صرف تم دونوں اس حقیقت سے واقف تھے کہ اشرفیاں میری ملکیت ہیں تلاشی کے نتیجہ میں مجھ سے برآمدہو جاتیں تو میرا کردار میری شخصیت قیامت تک متنازع ہو جاتی لوگ یہ تو کہہ سکتے تھے اسمعیل بخاری پر چوری کا الزام لگاتھا بعد میں حاشرمیری بے گناہی کی شہادت بھی دے دیتا تمہارا ضمیر ملامت کرتا تم سچی بات بھی بتا دیتے لیکن اس وقت کشتی کے مسافروںکو میں اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکتا تھا اس لئے میرے پاس یہی ایک راستہ تھا کہ میں 100اشرفیوںکی تھیلی دریا برد کردوں مجھے اپنی ذات پر الزام بھی گوارا نہ تھا۔۔ دونوں ندامت میں پانی پانی ہوگئے اور برے کاموں سے تائب بھی۔۔یہ واقعہ حضرت سید اسماعیلؒ بخاری کا ہے جن کی مرتب کردہ احادیث ِ مبارکہ کی مستند کتاب ’’صحیح بخاری’’ ہے۔ایک طرف کردار کی یہ عظمت ۔تو دوسری طرف ہمارے حکمران، بیورو کریٹ، تاجر،حکمران،سرمایہ دار، سیاستدان۔سرکاری افسران جو لکڑ ہضم ،پتھر ہضم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے،رشوت ،کرپشن،منتھلیاں جن کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہیں اور تو او ر میاں نوازشریف،میاں شہبازشریف کاپورا کے پورا خاندان، آصف زرداری ان کے ہونہارسپوت اور انکی ہمشیرہ یوسف رضا گیلانی ،پرویز اشرف ،اسحق ڈار ،پرویزخٹک اور نہ جانے کیسے کیسے نیک نام، بے ضرر اور ’’معصوم ‘‘رہنما جب کرپشن کے الزامات میں پبشیاں بھگتے پھرتے ہیں تو اپنے اسلاف کا کردار یاد آجاتاہے وہ بھی کیا لوگ تھے جنہیں اپنی شخصیت پر ایک جھوٹا بھی الزام گوارا نہیں تھا لیکن ہمارے اردگرد بیشتر مال بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے بے شک پورا دامن داغدار ہی کیوں نہ ہو جائے اب تویہ حال ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں بیشترکیلئے حتیٰ کہ حلال ،حرام کی تمیز ختم ہوگئی ہے۔ان لوگوںکی تو خبر نہیں لیکن ہم جیسے شرم سے پانی پانی ہو جاتے ہیں سچی بات تو یہ ہے کہ جب تلک کردارسازی کی طرف توجہ نہیں دی جاتی بہتری کی جانب پیشرفت کیسے ہوگی؟ انسان کا کردار سورج کی مانندہوتاہے جس کی روشنی دور سے بھی نظر آتی ہے ۔۔ایک ایسی سچائی جو دلوںکو حرارت بخشتی ہے ضمیرکوطاقت عطا کرتی ہے ۔لیکن دولت کے پجاری معاشرہ میں یہ سب باتیں بے معنی سی ہیں۔ دور کہیں دور جیسے حبیب جالب کی آواز سرگوشیاں کرتی ہو
اے چاند یہاں نکلا نہ کر
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
میرے اندرکا انسان دھاڑیں مار مار کر روتاہے تو اسے چپ کرانے یا دلاسہ دینے والا بھی کوئی نہیں آتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ وجود منگل 25 جنوری 2022
سعودی عرب میں ہر گھنٹے سات طلاقوں کے کیسز رپورٹ

حق دو کراچی کو وجود پیر 24 جنوری 2022
حق دو کراچی کو

ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟ وجود پیر 24 جنوری 2022
ہندوستان کی شبیہ کون داغدار کررہاہے؟

خود کو بدلیں وجود پیر 24 جنوری 2022
خود کو بدلیں

تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل وجود هفته 22 جنوری 2022
تجارتی جنگیں احمقوں کا کھیل

دھرنے،احتجاج اور مظاہرے وجود هفته 22 جنوری 2022
دھرنے،احتجاج اور مظاہرے

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی وجود جمعه 21 جنوری 2022
تحریک انصاف اور پورس کے ہاتھی

بلوچستان میں نئی سیاسی بساط وجود جمعه 21 جنوری 2022
بلوچستان میں نئی سیاسی بساط

کورونا،بھنگ اور جادو وجود جمعه 21 جنوری 2022
کورونا،بھنگ اور جادو

ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
ترک صدر کا ممکنہ دورہ سعودی عرب اور اس کے مضمرات ؟

قومی سلامتی پالیسی اور خطرات وجود بدھ 19 جنوری 2022
قومی سلامتی پالیسی اور خطرات

اشتہار

افغانستان
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا وجود پیر 24 جنوری 2022
افغانستان میں امریکی شہری کا قبولِ اسلام، اسلامی نام محمد عیسیٰ رکھا

افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی وجود اتوار 23 جنوری 2022
افغانستان،ہرات میں دھماکہ، 7 افراد جاں بحق، 9 زخمی

اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ وجود جمعرات 20 جنوری 2022
اسلامی ممالک طالبان حکومت کو تسلیم کریں، افغان وزیراعظم کا مطالبہ

طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ وجود منگل 18 جنوری 2022
طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد فوجی پریڈ کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ

افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز وجود منگل 18 جنوری 2022
افغان صوبہ بادغیس میں شدید زلزلہ،ہلاکتوں کی تعداد30 سے تجاوز

اشتہار

بھارت
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت کا چین پر سرحد سے لاپتا نوجوان کو اغوا کرنے کا الزام

بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا وجود جمعه 21 جنوری 2022
بھارت میں وزیر تعلیم نے حجاب کو ڈسپلن کی خلاف ورزی قرار دے دیا

بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر وجود جمعرات 20 جنوری 2022
بھارتی آرمی چیف اور وزیر داخلہ کی گرفتاری کیلئے برطانیہ میں درخواست دائر

بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا وجود بدھ 19 جنوری 2022
بھارت،کالج میں حجاب پہننے والی مسلم طالبات کو کلاس سے نکال دیا گیا

سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل وجود منگل 18 جنوری 2022
سرحدی تنازع،نیپال کی بھارت سے سڑکوں کی یکطرفہ تعمیر روکنے کی اپیل
ادبیات
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل وجود منگل 04 جنوری 2022
پاکستانی اور سعودی علما کی کئی سالہ کاوشوں سے تاریخی لغت کی تالیف مکمل

پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
پنجابی بولتا ہوں، پنجابی میوزک سنتاہوں اور پنجابی ہوں، ویرات کوہلی

غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری وجود جمعرات 23 دسمبر 2021
غلاف کعبہ کی سلائی میں عربی کا ثلث فانٹ استعمال کرنے کی وضاحت جاری

دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ وجود منگل 21 دسمبر 2021
دنیا کی 1500 زبانیں معدوم ہونے کا خطرہ

سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں وجود جمعرات 16 دسمبر 2021
سقوط ڈھاکہ پر لکھی گئی نظمیں
شخصیات
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے وجود هفته 15 جنوری 2022
دنیا کی کم عمر مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ کو بچھڑے 10 برس بیت گئے

مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل وجود منگل 11 جنوری 2022
مولانا طارق جمیل کی اپنے طوطےاور بلی کے ہمراہ دلچسپ ویڈیو وائرل

ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے وجود بدھ 05 جنوری 2022
ہے رشک ایک خلق کو جوہر کی موت پر        ۔ یہ اس کی دین ہے جسے پروردگار دے

سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک وجود پیر 27 دسمبر 2021
سرگودھا کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ : مولانا اکرم طوفانی سپرد خاک

قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ (خواجہ رضی حیدر) وجود هفته 25 دسمبر 2021
قائداعظم کے خطاب کا تحقیقی جائزہ  (خواجہ رضی حیدر)