وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

ڈومیسائل اور بے چارے سائل

جمعرات 25 نومبر 2021 ڈومیسائل اور بے چارے سائل

 

جس خبر کو سننے کے لیے صوبہ سندھ کی عوام ایک مدت سے منتظر تھے،وہ خوش کن خبر سننے کو ملی بھی تو وزیراعلیٰ پنجاب کے دفتر سے اور وہ بھی صرف پنجاب کی عوام کے لیے۔خبر کچھ یوں ہے کہ پنجاب حکومت نے صوبہ بھر میں ڈومیسائل ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے ،جس کا جلد ہی باقاعدہ سرکاری نوٹی فکیشن بھی جاری کردیاجائے گا اور پورے پنجاب میں ڈومیسائل ختم ہونے کے بعد ، قومی شناختی کارڈ پر درج مستقل پتا ہی آئندہ سے ڈومیسائل تصور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے یہ فیصلہ ڈومیسائل کے حصول میں رشوت ستانی ،جعل سازی اور بے قاعدگیوں کی روز بروز بڑھتی ہوئی شکایات موصول ہونے پر کیا ہے۔ یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ہی مستحسن انتظامی فیصلہ وزیراعلی سندھ جناب سیدمراد علی شاہ ، صوبہ سندھ کی عوام کے بھلے کے لیے کبھی کرنا چاہیں گے ؟۔ کیونکہ ڈومیسائل کے حصول میں صوبہ سندھ کی عوام کو رشوت ستانی ،جعل سازی سے بڑھ کر بھی کئی سنگین نوعیت کے مسائل درپیش میں ہیں۔ جس میں سب مہلک اور موذی عذاب ڈومیسائل جیسی سرکاری دستاویز کا طبقاتی اور متعصبانہ استعمال بھی ہے۔ جی ہاں! صوبہ پنجاب ،خیبر پختونخواہ ، بلوچستان میں تو ڈومیسائل فقط سیدھا سادا ڈومیسائل ہی ہوتاہے مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ صوبہ سندھ میں ڈومیسائل کے ساتھ ’’دیہی ‘‘ اور ’’شہری ‘‘ کی پخ بھی لگتی ہے ۔جبکہ سندھ کی عوام کو ڈومیسائل کے ہمراہ ’’پی آر سی ‘‘ اور ’’پی آر ڈی ‘‘کے دو عدد اضافی شناخت نامے بھی بنوانے پڑتے ہیں ۔
اَب یہ تو یقینی سی بات ہے کہ جب ڈومیسائل کے ساتھ دیگر کاغذی لوازمات کا اضافہ شامل ہوجائے گا تو پھر رشوت کا ریٹ بھی دیگر صوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہوگا اور سرکاری دفاتر کے چکر بھی ڈومیسائل کے حصول کے لیے سائل کو دیگر صوبوں کے سائلین کے مقابلے میں زیادہ ہی لگانا پڑیں گے۔لیکن المیہ تو یہ ہے کہ اگر سائل بھاری رشوت اور ذلت آمیز خواری کی نقد ادائیگی کے بعد ڈومیسائل ،پی آر سی اور ڈی فارم بنوا بھی لے تب بھی نوکریاں تو جعلی ڈومیسائل رکھنے والے سفارشی افرادہی لے اُڑتے ہیں ۔ قومی ذرائع ابلاغ میں تواتر سے شائع ہونے والی مختلف رپورٹس کے مطابق صوبہ سندھ کے سرکاری محکموں کے گریڈ ایک تا 21 کے کراچی میں ساڑھے 30 ہزار سے زائد اور حیدرآباد میں ساڑھے 5 ہزار سے زائد ایسے افسران و لوئر گریڈ ملازمین خلاف ضابطہ شہری علاقوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جو دیہی اضلاع کے ڈومیسائل کے حامل ہیں اور ان کی بھرتیاں بھی دیہی سندھ کے ڈومیسائل کوٹے پر ہی ہوئیں تھیں۔ تاہم سیاسی اثر و رسوخ کے باعث ان کی تقرریاں شہری ڈومیسائل کراچی اور حیدرآباد کی اسامیوں پر کردی گئیں جس کی وجہ سے شہری علاقوں کا ڈومیسائل رکھنے والے افسران و ملازمین کی اسامیوں پر خاموشی کے ساتھ ہاتھ صاف کردیا گیا۔واضح رہے کہ جعلی ڈومیسائل کے سلسلے میںبعض سیاسی جماعتوں نے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ جبکہ جون 2020 میں وفاق کی جانب سے سندھ میں جعلی ڈومیسائلز کے سلسلے چیئرمین نیب کو بھی خط لکھ کر اس معاملے کی منصفانہ تحقیقات کرنے کا کہا گیا تھا ۔یقینا عدالت عالیہ اور نیب کے پاس تحقیقات کے چلے جانے سے شہری ڈومیسائل اور دیہی ڈومیسائل کے مدت پرانے مسائل تو کافی حد تک حل ہو ہی جائیں گے۔
لیکن اگر سندھ میں ڈومیسائل اور اس کے خانے میں شہری و دیہی کی تفریق بدستور برقرار رہتی ہے تو نہ جانے مستقبل قریب میں کتنے لایعنی قسم کے تنازعات اور مسائل سندھ کی عوام کے لیے باعثِ آزار بنتے رہیں گے۔ حالانکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں کمپیوٹرائز شناختی کارڈ کا اجراہونے کے بعد ڈومیسائل کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟۔ پاکستان میں بھی ڈومیسائل ’’دی پاکستان سیٹزن شپ ایکٹ 1951کی سیکشن 17اور رول 23کے تحت درکار شرائط و ضوابط کے تحت تیار کیا جاتاہے۔ یہ قانون پاکستان قائم ہونے کے چار سال بعد اس وقت کے انتظامی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے لاگو کیا گیا تھا ،جب وطن عزیز پاکستان میں ہندوستان سے ہجرت کر کے بھی بہت سے لوگ ملک کے مختلف علاقوں میں آباد ہو رہے تھے۔اُس زمانے میں ڈومیسائل کے حصول کے لیے دیگر رہائشی و شناختی دستاویزی ثبوت کے ساتھ فارم P & P1 سٹیزن شپ رولز 1952درکار ہوتا تھا ،جن کو پر کر کے دینا ہوتاہے فارم Pمکمل طورپر ان معلومات اور یقین دہانیوں کے متعلق ہے کہ آپ کب ہندوستان سے ہجرت کرکے آئے اوراب آپ کا مستقل طورپر پاکستان میں آباد ہونے کا ارادہ ہے اورفارم P1جس پر ڈومیسائل تیار کر کے دیاجاتاہے اس پر ڈومیسائل کی جگہ پر رہائش پذیر ہونے کی تاریخ درج کرنا مقصود ہوتی تھی۔
اگر اس قانون کا بنظر غائر جائزہ کیا جائے تو معلوم ہوتاہے کہ کسی بھی جگہ پر ایک خاص مدت تک رہنے سے آپ وہاں کا ڈومیسائل حاصل کر سکتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی شناختی کارڈ بنوانے کے لیے ہر شخص کو اپنی تمام سکونتی، ذاتی اور خاندان کے متعلق معلومات، ’’نادرا‘‘کو فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ جبکہ نادرا کے قیام کا بنیادی مقصد ہی ملک میں بسنے والے تمام اشخاص کی رجسٹریشن اور اس کا ڈیٹا بیس ریکارڈ ر اپنے پاس محفوظ رکھنا ہے۔ علاوہ ازیںنادرا، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی آرڈنینس2000کے تحت وجود میں آیا اور پاکستانی شہری کی تمام معلومات شناختی کارڈ کے اوپر درج ہوتی ہیں۔مثلاً شناختی کارڈ کا نمبر 13ہندسوں پر مشتمل ہوتاہے اوراس کا ہر حصہ ایک ترتیب سے آپ کو کچھ بنیادی معلومات فراہم کررہاہوتاہے۔
شناختی کارڈکے پہلے پانچ ہندسے کارڈ ہولڈر کے علاقہ کی نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں۔جیسے پہلا ہندسہ صوبہ دوسرا ہندسہ ڈویژن تیسرا ہندسہ ضلع،چوتھا ہندسہ تحصیل اور پانچوں ہندسہ یونین کونسل کو ظاہر کرتاہے۔اگر پہلا ہندسہ کارڈ کا 1ہے تو وہ شخص خیبر پختونخواہ، 2فاٹا، 3پنجاب، 4سندھ، 5بلوچستا ن،6اسلام آباداور 7گلگت بلستان کا رہائشی ہے اس کے بعد درج 7نمبرنادرا ، کی اپنی ترتیب و انتظام کے لیے مختص کیے گئے ہیں اور آخری ہندسہ طاق (1,3,5,7,9) ہے تو وہ کسی مرد کا کارڈ ہے اور اگر جفت (2,4,6,8)یا اسکے آخر میں 0آتا ہے تو وہ عورت کا کارڈ ہے۔نیز ہر شناختی کارڈ پشت پر اس شخص کا عارضی اور مستقل پتہ دونوں درج ہوتے ہیں۔حیران کن بات یہ ہے کہ پاکستان میں پاسپورٹ جیسی بین الاقوامی شناختی دستاویز بنوانے کے لیے ’’شناختی کارڈ‘‘ کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ ’’ڈومیسائل‘‘ کی ۔ قصہ مختصر یہ ہوا کہ جب قومی شناختی کارڈ جیسی اہم دستاویز موجود ہے تو پھر الگ سے ڈومیسائل بنا کر عوام کی پریشانی میں اضافہ کرنا کہاں کی سرکاری عقل مندی ہے ۔سب سے بڑھ کر جب ڈومیسائل کو بطور شناختی دستاویز ترک کرنے کا فیصلہ ملک کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب لینے جارہاہے تو کیا اِس کی پیروی اور تقلید دیگر صوبوں کی نہیںکرنی چاہئے ؟۔اس سوال کا جواب سیاست کو ایک طرف رکھ کر صرف اور صرف عوامی بہبود کو پیش ِ نظر رکھ کر تلاش کیا جانا چاہئے ۔
٭٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز