وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا

پیر 25 اکتوبر 2021 چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا

بعض اوقات ہمارے وہ کام جو ہماری نگاہ میں انتہائی حقیر اور معمولی ہوتے ہیں ، لیکن انہیں ہمارا دشمن اتنی زیادہ اہمیت دینا شروع کردیتا ہے کہ بالآخر ہمیں بھی دشمن کی تقلید کرتے ہوئے اپنے معمولی سے کام کو غیر معمولی ’’کارنامہ ‘‘تسلیم کرنا پڑ ہی جاتاہے۔ کچھ ایسی ہی صورت حال اِن دنوں چین کے ساتھ درپیش ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ چند ماہ قبل چین نے ایک ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کیا تھا، جسے چینی میڈیا نے معمول کی کوریج دیتے ہوئے ،اُسے اپنی افواج کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا تھا۔ چونکہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس نت نئے میزئل کے تجربات اکثر و بیشتر چین کی جانب سے ہوتے ہی رہتے ہیں ۔ اس لیے اُس وقت عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی چینی افواج کی جانب سے کیے گئے ہائپر سونگ میزائل تجربہ کو چینی میزائل پروگرام میں فقط ایک معمول کی پیش قدمی ہی قرار دیا گیا ۔ لیکن گزشتہ دنوں معروف جریدے فنانشل ٹائمز نے ایک خصوصی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ’’ چند ماہ قبل چین نے جس ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کیا تھا ،وہ کوئی عام سا میزائل تجربہ نہیں تھا کہ بلکہ حقیقت میں چین نے خفیہ طور پر جوہری صلاحیت کے حامل ہائپر سونک (آواز کی رفتار سے کئی گنا تیز) میزائل کا تجربہ کیا تھا اور اُس میزائل نے کامیابی کے ساتھ فائر ہونے کے بعد زمین کے مدار میں چکر لگایا اور تیزی سے زمین پر موجود اپنے ہدف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بھی بنایا۔ میزائل ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی یہ چھلانگ ایسی ہے جو عن قریب امریکا کے اینٹی بیلسٹک میزائل کے دفاعی نظام کو مکمل طور پر ناکارہ بنا دے گی۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں پانچ نامعلوم انٹیلی جنس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’چینی فوج نے جولائی کے اواخر میں یہ لانگ رینج راکٹ فائر کیا تھا جو ہائپر سونک گلائیڈ وہیکل لے کر زمین کے مدار کی جانب روانہ ہوا تھا اور اس میزائل نے مدار کے گرد مکمل چکر لگایا اور واپس زمین پر اپنے طے شدہ ہدف کو صرف 24 میل کے فاصلے سے نشانہ بنایا۔ چونکہ چین کا تیار کردہ یہ ہائپر سونک میزائل خلا سے زمین پر صرف چند منٹوں میں اپنے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔لہٰذا، چین کے پاس ایسی جدید اور منفرد ٹیکنالوجی آنے کے نتیجے میں امریکا کا اینٹی بیلسٹک ڈیفنس سسٹم مکمل طور پر ناکام ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ ا مریکا نے اپنا یہ دفاعی نظام الاسکا میں نصب کر رکھا ہے جو شمالی قطب سے آنے والے کسی بھی خطرے کو نشانہ بنا سکتا ہے لیکن چائنیز ٹیکنالوجی سے تیار ہونے والا نیا ہائپر سونک میزائل جنوب سے امریکا کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘ماہرین کے مطابق اس واقعے نے امریکی انٹیلی جنس حکام کو سخت صدمے کی کیفیت میں ہی نہیں بلکہ ورطہ حیرت میں بھی مبتلا کر دیا ہے کیونکہ چین نے ہائپر سونک ہتھیاروں کی تیاری میں مختصر ترین مدت میں زبردست اور حیران کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔نیز چین اور تائیوان کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں بھی دیکھا جائے تو چین کی یہ ایک بہت بڑی عسکری چھلانگ ہے، جو پورے ایشیا میں چین کو ایک ناقابل تسخیر قوت میں بدل سکتی ہے۔
دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ژاو لیجان نے فنانشل ٹائمز میں چھپنے والی اس رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ چین نے رواں برس جولائی میں جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے، آواز کی رفتار سے پانچ گنا تیز میزائل کا تجربہ ضرور کیا ہے، لیکن یہ خلائی جہاز کا ایک معمول کا تجربہ تھا۔جس میں مختلف قسم کی دوبارہ قابل استعمال خلائی ٹیکنالوجی کو جانچا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ درحقیقت یہ میزائل نہیں تھا بلکہ ایک خلائی جہاز کی جانچ کا تجربہ تھا۔جس کے متعلق دنیا کے کسی ملک کو تشویش میں مبتلا ہونے کے قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔خاص طور پر اُس وقت جب کہ بہت سے دوسرے ممالک میں بھی اس نوعیت کے تجربات ماضی میں تواتر کے ساتھ ہوچکے ہوں۔ ‘‘حیران کن بات یہ ہے کہ چین کی جانب سے واضح طور پر ہونے والی تردید کے باوجود بھی عالمی ذرائع ابلاغ ، عسکری ماہرین اور چین کے دیرینہ حریف ممالک ابھی تک فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں بیان کردہ چشم کشا حقائق کو ہی درست تسلیم کررہے ہیں اور چینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تردید بیان کوایک ’’عاجزانہ مذاق‘‘ قرار دے رہے ہیں ۔ دراصل امریکا اور چین کے دیگر حریف ممالک سمجھتے ہیں کہ چین تسلیم کرے نہ کرے لیکن چینی سائنس دان ہائپر سونک میزائل کی تیاری میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ اَب اُن کا مقابلہ کرنا دنیا کے کسی بھی ملک کے لیے ممکن نہیں رہا ہے۔
شاید یہ ہی وجہ ہے کہ مائیک گیلگر، جو رپبلکن جماعت کی طرف سے ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن ہیں انھوں نے اپنے ایک خصوصی بیان میں یہاں تک کہہ دیا ہے کہ’’ واشنگٹن اگر اپنی موجودہ روش پر برقرار رہا تو، چین سے جاری سرد جنگ میں وہ،صرف ایک عشرے میں شکست کھا جائے گا۔‘‘جبکہ آسٹریلیا کے دفاع، قومی سلامتی اور حکمت عملی سے متعلق پالیسی ادارے کے ڈائریکٹر مائیکل شوبرج کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ’’ اگر چین نے واقعی ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کیا ہے تو یہ چین کے حریف ممالک کے لیے جوہری ہتھیار چلانے سے بھی زیادہ خطرناک یا بڑی بات ہے۔‘‘واضح رہے کہ چین کے ساتھ امریکا، روس اور کم از کم پانچ دوسرے ملک ہائپرسونک میزائل ٹیکنالوجی پر کئی دہائیوں سے کام کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ شمالی کوریا نے بھی ایک ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔نیز رواں برس جولائی کے ہی مہینے میں روس نے بھی ایک ہائپر سونک میزائل کے کامیاب تجربہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
لیکن اکثر ماہرین اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ چین کی جانب جس ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کیا گیا ہے ، وہ یقینا دیگر ممالک کے تیارکردہ ہائپر سونک میزائل سے زیادہ طاقت ور صلاحیت کا حامل ہوگا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ فنانشل ٹائمز نے کئی ماہ کی تحقیق کے بعد چینی ہائپر سونک میزائل کے بارے میں تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔یعنی بات صرف ہائپر سونک میزائل کے تجربہ کی نہیں ہے بلکہ مغربی ممالک کے لیے اصل تشویش ناک معاملہ ایک جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ایسا چینی ہائپر سونک میزائل کی تیاری کا ہے۔ جس کا فی الحال امریکا سمیت کسی بھی مغربی ملک کے پاس کوئی توڑ موجود نہیں ہے۔ جب کہ وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ چینی ساختہ یہ ہائپر سونک میزائل کتنے ماخ کا تھا۔ یاد رہے کہ آواز ایک گھنٹے میں جتنا فاصلہ طے کرتی ہے، اسے ایک’’ماخ‘‘کہا جاتا ہے۔لہٰذا ،کوئی سپر سونک ہوائی جہاز یا میزائل آواز کی رفتار سے جتنے گنا زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرتا ہے، اس کے لیے ماخ کے آگے وہی عدد لکھ دیا جاتا ہے۔ مثلاً آواز کی رفتار سے چار گنا زیادہ کا مطلب ہوا ، ماخ 4 ۔علاوہ ازیں کوئی بھی ہائپر سونک ہوائی جہاز یا میزائل صرف اس وقت ہائپر سونک کہلاتا ہے، جب اس کی رفتار ’’ماخ پانچ‘‘سے زیادہ ہو۔ایسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل تو روس اور امریکا کے پاس پہلے سے موجود ہیں، جو ہائپر سونک ہیں اور 20 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے سفر کر سکتے ہیں۔
لیکن غالب امکان یہ ہی ہے کہ چین کی جانب سے تجربہ کیے گئے ہائپر سونک میزائل میں کچھ ایسی ،خاص، منفرد اور خطرناک بات ضرور موجود ہوگی ، جس کی وجہ سے امریکا اور اس کے حلیف ممالک اچانک ہی اپنے اپنے ہائپرسونک میزائلوں کو بھول بھال کر چینی ساختہ سپرسونک میزائل کے بارے میں رطب اللسان نظر آ رہے ہیں ۔ بظاہر ہائپر سونک میزائل کی ٹیکنالوجی بہت پرانی ایجاد ہے اور کئی دہائیوں سے دنیا کے کئی ممالک میں اس ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ کارآمد اور مہلک بنانے کی کوششیںمیں بھی مصروف ہیں ۔ اس لیے کم ازکم چین کو اس بات کا تو الزام نہیں دیا جاسکتاہے کہ اُس نے ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کر کے پہلی بار دنیا کا مستقبل خطرہ میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ چونکہ ہائپر سونک میزائل کے تجربات دنیا کے کئی ممالک جانب سے تواتر کے ساتھ ہوتے رہے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ کئی ماہ قبل جب چین نے ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کیا تو عالمی ذرائع نے اس جانب زیادہ توجہ اور دھیان ہی نہ دیا ۔ مگر جب دنیا کے انٹیلی جنس اداروں نے اس تجربہ کی بابت معلومات اکھٹی کرنا شروع کی ہوں گی تو ان پر منکشف ہوا ہوگا کہ چین نے جس ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کرلیا ہے ، اُس کا توڑ تو دنیا کے کسی ملک کے پاس سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔
جس طرح سپیرا ،ایک زہریلے سانپ کے کاٹنے سے اس لیے نہیں ڈرتا کہ اُس کی پٹاری میں ہمہ وقت سانپ کے زہر کا تیر بہدف تریاق موجود ہوتاہے۔ بعینہ امریکا بھی اپنے مضبوط دفاعی نظام کی بدولت دنیا کے کسی بھی مہلک ہتھیار سے ذرہ برابر خوف نہ کھانے ایک قابل فخر تاریخ رکھتا ہے۔ لیکن اگر واقعی چینی ساختہ ہائپر سونک میزائل کے حملے سے بچنے کے لیے امریکی افواج کے پاس کوئی دفاعی نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہے تو پھر یقینا امریکی قیادت اور اس کے حلیفوں کا چینی ہائپر سونک میزائل سے ڈرنا تو بنتاہے۔ خاص طور پر افغانستان سے امریکی افواج کے شرم ناک انخلاء کے بعد بیجنگ سے آئے روز مہلک اور جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری کی خبریں عالمی ذرائع ابلاغ کی زینت بننا، جہاں امریکا کی عالمی بالادستی کی ساکھ کے لیے کسی بھی صورت نیک شگون نہیں قرار دیا جاسکتاہے وہیں یہ سپر سونک قسم کی خبریں امریکا کے اسٹریٹیجک پارٹنر بھارت کی نیندیں اُڑانے کے لیے بھی کافی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز