وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

جمعرات 14 اکتوبر 2021 کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

 

صوبائی وزیر بلدیات سندھ ، سید ناصر حسین شاہ نے اپنے ایک بیان میں عندیہ دیا ہے کہ ’’اُن کی حکومت اگلے برس ماہ فروری یا مارچ میں صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات کروانے کی تمام تر انتظامی تیاریاں مکمل کر چکی ہے ‘‘۔صوبہ سندھ کے حالیہ سیاسی منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے یقین سے کہا جاسکتاہے کہ اگلے قومی انتخابات کے تناظر میں پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت کا یہ ایک بہترین سیاسی فیصلہ ہے ۔ کیونکہ اس وقت پیپلزپارٹی کی تمام حریف سیاسی جماعتیں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف سندھ، زبردست آپسی چپقلس اور سیاسی گروہ بندی کا شکار ہے۔ جس کا بڑا ثبوت کچھ عرصہ قبل منعقد ہونے والے کنٹونمٹ بورڈز کے انتخابات کے نتائج ہیں ، جن میں پیپلزپارٹی کی کارکردگی کافی حد تک مستحکم اور تسلی بخش رہی لیکن پاکستان تحریک انصاف سندھ کے لیے کنٹونمنٹ بورڈ زکے انتخابی نتائج ایک ڈراؤنے خواب سے بھی کچھ زیادہ ثابت ہوئے ۔ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابی نتائج ملاحظہ کرنے کے بعد ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے قائد اور وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان انتخابات میں تاریخی بدترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر تحریک انصاف سندھ کی قیادت کو کٹہرے میں کھڑا کر کے اُن سے سخت باز پرس کرتے اور نتائج کے ذمہ داروں کو اُن کے عہدوں سے برطرف کر کے جماعت کے دیگر کارکنان اُن کی جگہ لاکر اُنہیں کارکردگی دکھانے کا موقع فراہم کرتے۔
لیکن شاید پاکستان تحریک انصاف میں گنگا اُلٹی بہتی ہے ۔ جب ہی تو سندھ بھر میں بدترین انتظامی و انتخابی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کی تو پیٹھ تھپکی جارہی ہے ،جبکہ وہ رہنما یا کارکنان جو اپنی جماعت کی سیاسی کارکردگی پر طویل عرصے سے سخت پریشان اور رنجیدہ تھے ،اُن سے جماعت کی تنظیمی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے گراں قدر مشورے لینے کے بجائے ،اُنہیں ایک ایک کر کے تحریک انصاف سندھ سے مکھن میں سے بال کی مانند نکالا جارہا ہے۔ تازہ ترین مثال ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے استعفے کی ہے۔ یاد رہے کہ بعض سیاسی رہنما اپنی جماعت کی ’’فیس ویلیو ‘‘ ہوتے ہیں ، بلاشبہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا بھی ایک ایسے ہی سیاست دان میں شمار کیا جاسکتاہے ،جو کبھی ایم کیو ایم کا چہرہ ہوتے تھے اور گزشتہ چند برسوں سے پاکستان تحریک انصاف کا ایک مثبت تعارف بنے ہوئے تھے۔ لیکن یہ ایک سال میں مسلسل دوسری بار ہورہاہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین ’’انصاف ہاؤس‘‘ میں ہونے والی ریشہ دوانیوں اور سیاسی چال بازیوں سے تنگ آکر تحریک انصاف کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کررہے ہیں ۔ ماضی میں وہ جب بھی مستعفی ہوئے تو انہیں پاکستان تحریک انصاف کی اعلیٰ قیادت نے سمجھا بجھا کر اپنا استعفا واپس لینے پر آمادہ کرلیا تھا۔ لیکن اس بار ایسا لگتاہے کہ اُن کے مخالفین نے کام پکا کیا ہے ۔ اس لیے نہ صرف جلد ہی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کا استعفا منظور کرلیا جائے گا بلکہ اُن کو منانے کا راویتی سی زحمت بھی نہیں کی جائے گی۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے تحریک انصاف سے مستقل علیحدگی اختیار کرنے سے خود اُن کی حیثیت اور سیاست پر تو کوئی خاص فرق پڑنے کا قطعی کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن اُن کے فیصلے سے کراچی شہر میں پاکستان تحریک انصاف کو ضرور شدید سیاسی ضرر اور نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے۔ خاص طور پر ماہ فروری یا مارچ کے وسط میں متوقع طور پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کو کراچی میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ یہاں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کراچی کی انتخابی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف کے کمزور ہونے سے سب سے زیادہ سیاسی فائدہ کس ایک سیاسی جماعت کو پہنچنے گا؟۔ہمارے خیال میں متوقع بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف سندھ کی سیاسی شکست و ریخت کا سب سے زیادہ فائدہ جو سیاسی جماعت اُٹھاسکتی ہے یا جسے اُٹھانا چاہئے وہ جماعت اسلامی ہے۔ جس کی ایک جھلک ہم کنٹونمنٹ بورڈز میں ہونے والے انتخابات میں ملاحظہ بھی کرچکے کہ جن جن حلقوں میں تحریک انصاف ناکام ہوئی ،وہاں سے جماعت اسلامی نے باآسانی میدان مارلیا ۔
دراصل کراچی کے شہری اس وقت شدید سیاسی مخمصے کا شکار ہیں ، پاکستان پیپلزپارٹی کا تو ٹریک ریکارڈ ہی ایسا معتصبانہ ہے کہ وہ اِس پر اعتماد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔نیز ایم کیوایم پاکستان کی ساری قیادت کو وہ پہلے ہی اتنا بھگتا چکے ہیں کہ اَب مزید نہیں بھوگ سکتے ۔ جبکہ تحریک انصاف سندھ پر اعتماد کرنے کا گزشتہ تین برسوں میں صلہ اُنہیں ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جیسے رہنماؤں کے استعفوں کی صورت میں وقتافوقتا ملتا ہی رہتاہے۔ جہاں تک بات ہے پاک سرزمین پارٹی کے قائد مصطفی کمال کی تو بلاشبہ اہالیانِ کراچی کو وہ پسند تو بہت ہیں مگر چونکہ وہ اکیلے اور تنہا سیاست کرنے کے شوق کے مارے ہوئے ہیں ، اس لیے وہ ہر انتخابی معرکہ کے اختتام پر تنہا ہی رہ جاتے ہیں ۔یعنی کراچی کے شہری مصطفی کمال کی خدمات کا اعتراف تو کرتے نہیں تھکتے ہیں لیکن ساتھ یہ بھی مانتے ہیں کہ اُن کی جماعت پاک سرزمین پارٹی کی سیاسی تنہائی اور اکلاپا کبھی بھی کراچی کے سیاسی و انتظامی روگ اور بیماریوں کا مدوا نہیں بن سکتا۔ کراچی میں سیاسی قیادت کے اس شدید بحران میں اہلیان کراچی کے لیے امیر جماعت اسلامی کراچی، حافظ نعیم ایک بڑے، قابل قبول ’’سیاسی آپشن ‘‘ کے طور پر اُبھر کر سامنے آئے ہیں ۔
خاص طور پر متوقع بلدیاتی انتخابات میں اگر جماعت اسلامی اُسی شاندرار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہتی ہے ، جس کی جھلک حالیہ کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات میں نظر آئی تھی توشہر کراچی کا ناظم ایک بار پھر سے جماعت اسلامی سے سامنے آسکتاہے ۔ کیونکہ غالب امکان یہ ہی ہے کہ کراچی کے اگلے بلدیاتی انتخابات میں کوئی بھی سیاسی جماعت واضح اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی ۔ ایسی صورت حال ہمیشہ سے ہی جماعت اسلامی کے لیے آئیڈیل ثابت ہوتی رہی ہے ۔دراصل جب بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتبار اور اعتماد کی فضا کا مکمل طور پر فقدان ہو تو تب چارونا چار جماعت اسلامی کے حمایت یافتہ اُمیدوار کو قبول کرنا ہر بڑی سیاسی جماعت کی مجبوری بن جاتا ہے ۔ ماضی میں جماعت اسلامی ایسیWin-Win صورت حال سے زبردست طریقے سے فائدہ اُٹھاتی رہی ہے۔ لیکن کیا اس بار بھی جماعت اسلامی اپنی ماضی کی وہی تاریخ دہرانے میں کامیاب رہے گی ؟۔ فی الحال اس سوال کا درست جواب کراچی کی عوام کے سوا کسی کے پاس بھی موجود نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
کون نہائے گا وجود منگل 07 دسمبر 2021
کون نہائے گا

دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے وجود منگل 07 دسمبر 2021
بابری مسجد شہادت کے 29 برس بیت گئے

بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی وجود منگل 07 دسمبر 2021
جنید جمشید کی پانچویں برسی آج منائی جائے گی

نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز