وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خطہ پنجاب تاریخ کے آئینے میں

بدھ 22 ستمبر 2021 خطہ پنجاب تاریخ کے آئینے میں

 

پانچ دریائوںکی سرمین خطہ ٔ پنجاب کے تہذیب و تمدن کا برِ صغیرپاک وبنگلہ ہند پر گہرے سیاسی ،سماجی،معاشرتی،معاشی اورلسانی اثرات کی آج تک گہری چھاپ ہے یہ خطہ انتہائی ذرخیزہونے کے بعد بیرونی جارحیت کا ہمیشہ محوررہاہے جس بادشاہ نے اس علاقہ کوفتح کیا اس نے مقامی آبادی پر بہت ظلم و تشدد کیا پنجاب انسانی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا نہایت ہی قدیم خطہ ہے۔ لفظ پنجاب علاقے کے نام کے طور پر مسلمانوں کی آمد کے بعد رائج ہوا۔ یہاں پر لاکھوں سال پہلے قدیم پتھر کے زمانے کا انسان آباد تھا جو جنگلی زندگی بسر کرتا تھا اور پتھر کے اوزاروں سے شکار کھیلتا تھا۔ پنجاب میں تاریخی دور کا آغاز آریائوں کی آمد کے بعد سے ہوا۔ انہوں نے پنجاب میں قیام کے دوران کتاب رگ وید تصنیف کی۔ اس میں پنجاب کو سپت سندھو لکھا گیا ہے۔ سپت کے معنی سات اور سندھو کے معنی دریا کے ہیں۔ ان سات دریائوں میں سے پانچ کا تعلق پنجاب سے ہے جبکہ چھٹے اور ساتویں دریا کے بارے میں اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔ بعض کے خیال میں باقی دو دریا، دریائے سندھ اور سرسوتی ہیں جبکہ کچھ دریائے کابل اور دریائے جیحوں کو بھی شامل کرتے ہیں۔ اِس کے بعد اس کا نام پنج ند مشہور ہوا جس کے معنی پانچ ندیاں یا پانچ دریا ہیں۔ یہ پانچ دریا شندر یعنی ستلج، ویباس یعنی بیاس، ایراوتی یعنی راوی، چندربھاگ یعنی چناب اور وتست یعنی جہلم ہیں۔ پنجاب پنجند کا فارسی ترجمہ ہے۔ پنجند کا لفظ مہا بھارت اور ما بعد لٹریچر میں بھی مستعمل ہے۔ آج کل پنجند اس مقام کو کہتے ہیں جہاں پنجاب کے پانچ دریا ملتے ہیں۔ پنجاب کے بعض علاقوں کیلیے آریہ وات، بہلیک یا بہیگ کا نام بھی تاریخ میں استعمال ہوا ہے۔ بہلیک یا وہیک پنجاب کا ایک قدیم قبیلہ تھا۔ قبیلوں کے اعتبار سے پنجاب کے بعض مخصوص خطوںکا نام مدر دیس، مدر قبیلہ کی نسبت سے بھی رہا۔ کورووں اور پانڈوں کی لڑائیوں کے زمرے میں پنجاب کا نام پنجال میں بھی ملتا ہے۔ یونانیوں کے عہد میں اس کو پنیٹا پوٹامیہ بھی کہا جاتا رہا یعنی پانچ دریائوں کی سرزمین۔ اس کے بعد اسے ٹکی دیس کہا جاتا رہا۔ مشہور چینی سیاح ہیون سانگ کی ساتویں صدی عیسوی میںہندوستان آمد کے وقت پنجاب کا یہی نام رائج تھا۔ بعض سنسکرتی ماخذوں میں پنجاب کے لیے پنج امبو کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے۔
پنج امبو کے معنی بھی پانچ پانیوں کی سرزمین ہیں۔ مغل بادشاہ اکبر کے عہد میں پہلی بار اس سرزمین کو پنجاب کے نام سے موسوم کیا گیا۔ پنجاب کے مذکورہ تمام قدیم نام صفحہ ہستی سے معدوم ہو گئے اور اس کا نیا فارسی نام پنجاب ہی آج تک زندہ و پائندہ ہے۔ پنج کے معنی پانچ، آب کے معنی پانی۔ یعنی پانچ پانیوں کی سرزمین۔ عمومی طور پر یہ پانچ دریا ستلج، بیاس، راوی، چناب اور جہلم لیے جاتے ہیں۔ پنجاب کا یہ دریائی نظام دنیا کا پانچواں عظیم ترین دریائی نظام ہے جو یہاں کے لوگوں کے لیے ایک بیش بہا قدرتی عطیہ ہے۔ خوشحالی کے سبب جو انسان یہاں پیدا ہوا وہ یہیں کا ہو کر رہ گیا ، خوشحالی کے چرچے سن کر جو غیر ملکی حملہ آور، تاجر، مبلغ اور دوسرے لوگ یہاں آئے وہ بھی یہیں کے ہو کے رہ گئے۔ ان میں دراوڑ، آریہ، ایرانی، چینی، منگول، مغل اور عربی شامل ہیں۔ وہ یہاں کا رہن سہن سیکھ گئے۔ پنجاب میں تہذیب و تمدن کا تنوع ان ہی لوگوں کی وجہ سے ہے۔ پنجاب کی سواں تہذیب، دنیا کی قدیم ترین تہذیب خیال کی جاتی ہے۔ وادی سواں کے اردگرد کے علاقوں میں انسان کثیر تعداد میں رہتے تھے۔ان کے زیر استعمال پتھر کے اوزار جگہ جگہ ملے ہیں۔ دریائے سواں دریائے سندھ کا معاون دریا ہے اور راولپنڈی کے قریب بہتا ہے۔ وادی سواں راولپنڈی ، اٹک ، جہلم، ہزارہ، سرگودھا اور خوشاب کے اضلاع پر مشتمل ہے۔ سواں صنعت کے پتھریلے اوزاروں میں سب سے زیادہ قابلِ ذکر ٹوکا ہے۔ اس قسم کے اوزار دنیا میں اور کہیں بھی نہیں ملے۔ رفتہ رفتہ سواں کی صنعت بھی تبدیل ہوتی گئی۔ پہلے یہ لوگ غاروں رہتے تھے، گھاس پھوس اور شاید تنکوںکے خیمے بھی بنائے۔ جانوروں کا شکار کرنے کے بعد ان کی کھالیں لباس کے طور پر استعمال کرتے تھے اور خوراک کا انحصار قدرت پر تھا یعنی نباتات اور حیوانات ہی ان کی خوراک تھی۔ پھر رفتہ رفتہ وہ انسان زراعت سے واقف ہوتا گیا۔ جدیدہجری دور میں اس نے رگڑائی کے ذریعے پتھر کے متفرق حصوں کو جوڑ کر اوزار بنانے سیکھ لیے۔ اس دور میں لوگ باقاعدہ مکانات بنا کر چھوٹی چھوٹی بستیوں کی شکل میں آباد ہو گئے تھے اور آبادی کا خاصا بڑا حصہ مکمل خانہ بدوشی چھوڑ کر نیم آباد ہو چکا تھا۔ بارش زیادہ ہوتی تھی اور وسیع جنگلات موجود تھے۔ جدید حجری دور کے بعد ابتدائی ہڑپائی دور کا آغاز ہوتا ہے۔ اس کا زمانہ چار ہزار سال ق۔م سے لے کر سال ق۔م مقرر کیا گیا ہے۔ اس دور میں شہری معاشرے کا آغاز ہوگیا۔ انسان خانہ بدوشی کی زندگی ترک کر کے اجتماعی آبادیوں میں رہائش پذیر ہو گئے تھے۔ انہوں نے پودے اگانے اور گھروں میں جانور پالنے بھی شروع کر دئیے۔ انہی ادوار میں انسان نے برتن سازی کی مہارت میں بڑی ترقی کی کچھ نفیس طبع انسانوںنے برتنوں کو منقش کرنے کا فن بھی ایجاد کیا، پھر متنوع قسم کی دستکاریوں کو رواج دیا تاریخ بتاتی ہے کہ ظروف سازی( برتن ) بنانے کے کام کو باقاعدہ منظم شکل اس خطہ میں ملی۔ پنجاب میں اس دور کے آثار سرائے کالا (ٹیکسلا) ، پنڈ نوشہری، کھنڈا، جلیل پور، ہڑپہ، بھوت اور چولستان کے علاقے میں بے شمار مقامات سے ملے ہیں۔ ایک محقق ڈاکٹر محمد رفیق مغل نے صرف چولستان میں مدفون بستیاں ڈھونڈی ہیں جن کا تعلق اس تہذیب سے ہے۔ اس تہذیب کا سب سے پہلے ملنے والا شہر ہڑپہ تھااور اسی وجہ سے اسے ہڑپن تہذیب بھی کہا جاتا ہے جسے دنیاکی قدیم ترین تہذیب تسلیم کیاگیاہے یہ قبل از مسیح کی تہذیب ہے جس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ جب انسان وحشی اورجنگلی تھا اس وقت بھی یہ خطہ تہذیب یافتہ تھا مقامی لوگوںکی زبان پنجابی انتہائی میٹھی ہے اس کے دامن میںاتنا لٹریچرہے کہ شایدکسی اور زبان میں ملنا محال ہوگا پنجابی گھبرو جب ونجھلی(بانسری) بجاتے ہیں تو گویا جیسے کائنات تھم سی جاتی ہے دل میں محبت کا بیکراں جذبہ مچل مچل جاتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا وجود پیر 25 اکتوبر 2021
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا

مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ وجود پیر 25 اکتوبر 2021
مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ

ابن ِعربی وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
ابن ِعربی

اصل ڈکیت وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
اصل ڈکیت

ایک خوفناک ایجادکی کہانی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
ایک خوفناک ایجادکی کہانی

مہنگائی اور احتجاج وجود هفته 23 اکتوبر 2021
مہنگائی اور احتجاج

امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی

بھوک اورآنسو وجود جمعه 22 اکتوبر 2021
بھوک اورآنسو

جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں

دل پردستک وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
دل پردستک

مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر

شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے

اشتہار

افغانستان
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان وجود پیر 25 اکتوبر 2021
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان

افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

اشتہار

بھارت
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی وجود پیر 25 اکتوبر 2021
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی

علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا

بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا
ادبیات
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی