وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

عمرؓکومعاف کردیں

جمعرات 29 جولائی 2021 عمرؓکومعاف کردیں

آدھی رات کا وقت تھا لوگ گھروںمیں آرام کررہے تھے ماحول پرایک ہو کا عالم طاری تھا اندھیرااتنا کہ ہاتھ کو ہاتھ سجائی نہ دے رہاتھا بیشتر گھروں میں تاریکی تھی غالباً زیادہ تر لوگ سو گئے تھے اکا دکا گھروںمیں زردی مائل روشنی بکھری ہوئی تھی اس عالم میں ایک باوقار شخص ،نورانی صورت ،چہرے پر سختی نمایاں، شکل و صورت ایسی کہ انہیں دیکھ کر ایمان تازہ ہو جائے وہ مختلف گلیوں اور بازاروںسے ہوتے ہی ایک مکان کے آگے رک گئے روشندان سے باہر جھانکتی روشنی سے محسوس ہورہاتھا کہ دیا ٹمٹا رہاہے کھڑکی سے باتیں کرنے کی مدہم مدہم آوازیں آرہی تھی نورانی صورت والے نے کان کھڑکی کے ساتھ لگا دئیے کوئی لڑکی اپنی والدہ سے کہہ رہی تھی
’’ہم کب تک فاقے کرتے رہیں خلیفہ کو اپنا حال بتانے میں کیا امر مانع ہے؟
’’ میں عمرؓ کو کیوں بتائوں؟ بوڑھی عورت استکامت سے بولی وہ خلیفہ بنے ہیں تو انہیں ہماری خبرہونے چاہیے لڑکی اپنی والدہ کو پھر سمجھانے لگ گئی۔ان کی باتیں سن کر کھڑکی سے کان لگائے نورانی صورت والا کانپ کانپ گیا ۔اس نے بے اختیار دروازے پر دستک دیدی ۔۔۔ اس وقت۔ کون ؟ اندر سے ڈری۔ سہمی آواز میں کسی نے پوچھا گبھرائیں مت ۔نورانی صورت والے نے بڑی متانت سے جواب دیا میں عمرؓ کی طرف سے آیا ہوں ۔دروازہ کھلاخاتون نے اسے اندر آنے کی اجازت دی اس نے خاتون کی خیریت اور حال احوال دریافت کیالڑکی کے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اس نے فرفر انہیں اپنے فاقوںکااحوال کہہ ڈالا
’’ عمرؓ کی طرف سے میں معذرت چاہتاہوں ۔نورانی صورت والے نے بڑے رقت آمیز لہجے میں خاتون کو کہا۔۔ لیکن اسلامی سلطنت بڑی ہے وہ کہاں کہاں توجہ دیں ؟جواب میں خاتون نے وہ بات کہہ ڈالی جس کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی ۔’’ عمرؓ اگر توجہ نہیں دے سکتا تو اتنی فتوحات کیوں کیے جارہا ہے؟رب کو کیا جواب دے گا؟
’’ماںجی ! ۔نورانی صورت والا کہنے لگا ’’ عمرؓ کو معاف کردیں
’’کیوں۔معاف کردوں ؟خاتون نے جواب دیا وہ کون سامیری خبر گیری کو آیا ہے
’’ماںجی ۔۔ نورانی صورت والے نے مضطرب ہوکر پہلو بدلا۔۔اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اس نے اٹک اٹک کرکہا میں ہی عمرؓ ہوں۔ وہ شخصیت جس کے نام سے قیصرو کسریٰ جیسی عالمی طاقتیں تھر تھر کاپتی تھیں ایک عام خاتون کے سامنے جوابدہ اندازمیں کھڑے تھے خاتون کے چہرے پر قوس قزح کے کئی رنگ بکھر کیے بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی بولی اگر تم عمرؓ ہو تو مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں دیر سے آئے ہو لیکن کوئی بات نہیں مسلمانوںکا خلیفہ ایسا ہی ہونا چاہیے جو راتوں کو جاگ جاگ کر لوگوںکی خبر گیری کرتا رہے۔اسی جلیل القدر کا ایک قول ہے ’’ اگر دجلہ کے کنارے کتا بھی بھوکا مر جائے تو قیامت کے روز خدا کے حضور عمر جوابدہ ہوگا’’ دنیا آج تک حکمرانی کا ایک دعویٰ۔ ایسا منشوراور ایسی مثال پیش کرنے سے قاصرہے دنیا جہاں کی غیر مسلم حکومتیں آج بھی حضرت عمرؓ کے دور ِ حکومت پر ریسرچ کرکے اپنے شہریوںکو ریلیف دے رہی ہیں اس کے بر عکس ہماری کی حالت ہے ہم کیا کررہے ہیں ؟ا رباب ِ اختیارکو شایدحالات کی سنگینی کا اندازہ ہو جائے ’’ حکمرانوںکے کتے مربے کھارہے ہیں،اربوںکی سرکاری زمینیں اونے پونے فروخت کی جارہی ہیں کروڑوں روپے کے میلے ٹھیلے سجائے جارہے ہیں ان حالات میںغریب آدمی کو سستا آٹا نہیں دے سکتے تو چوہے مار گولیاںہی دیدیں عوام اپنے بچوںکو اس طرح مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتے یہ صرف پاکستان کے غریبوں کے حالات نہیں جنوبی ایشیاء کے بیشتر ممالک کا نوحہ نہیں بلکہ ہر پسماندہ ملک کے گھرگھرکی کہانی ہے پاکستان کے ایک فاضل جج نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ایسے ہی ریمارکس دئیے تھے۔انہوںنے یہ بھی کہاجمہوری حکومت عام آدمی کو سستا آٹا بھی فراہم نہیں کرسکتی تو اس کے اقتدار میں رہنے کا کیا جواز رہ جاتاہے ،خواتین اپنے بچے فروخت کررہی ہیں ہرپسماندہ ملک کے غریب لوگ خودکشیاں کررہے ہیں جو سیاستدان بھی ان کو سبز باغ دکھاتاہے غریب سمجھنے لگ جاتے ہیں یہ ان کے دل کی آوازہے بغور جائزہ لیں تو ایسے حالات ی جمہوری ،سیکولراور اسلامی حکومتوںکے لیے لمحہ ٔ فکریہ بھی، دنیامیں کہیں غریبوںکی خبر گیری کا تو سرے سے رواج ہی نہیں۔کوئی حکومت اس طبقہ کے لیے کچھ کرنا بھی چاہتی ہے ’’تو کاریگر‘‘اسے اپنے ذاتی مفادکے لیے مخصوص کرلیتے ہیں طریقہ ٔ کار اتنا پیچیدہ بنادیا جاتاہے کہ غریبوںکے لیے بنائی گئی ا سکیموںسے غریب فائدہ بھی اٹھانا چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے ۔موجودہ حکومت نے بھی عام آدمی کی بھلائی کے لیے اپنی خوشنما ترجیحات کااعلان کررکھاہے لیکن اس سے کوئی تبدیلی آ سکتی ہے نہ آئے گی۔ پاکستانی وزیر ِ اعظم عمران خان کے جذبات دیکھیں تو محسوس ہوتاہے وہ واقعی ملک وقوم کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں یہی دعوے کئی ملکوںکے سربراہ بھی کرتے نہیں تھکتے میرا ان سب کو مشورہ ہے اگر وہ’’ دجلہ کے کنارے کتا بھی بھوکا مر جائے تو قیامت کے روز خدا کے حضور عمر جوابدہ ہوگا‘‘کو اپنی حکومت کا ماٹو قراردیکراس کی روشنی میں حکمت ِ عملی تیار کریں تو اس سے بہتوںکا بھلاہوگا حالانکہ حکومتوںکے پاس درجنوں خفیہ ایجنسیاں ہوتی ہیں جو ہر فیملی بارے حقیقی سروے تیار کرے جو یونین کونسل سطح پر ان کے وسائل ،ضروریات اور دیگر امورکی مکمل چھان بین کرے جوکسی کاروبار،روزگار یا کسی ملازمت کے اہل ہوںان کو بلا امتیازکسی رشوت یا سفارش اورگارنٹی کے بغیر وسائل مہیا کیے جائیں اس سے نہ صرف معاشرہ میں مثبت تبدیلی آئے گی بلکہ روزگارکے مواقع بھی بڑھیں گے ۔ کیونکہ اکثر غریبوں کو قرضے لینے کے لیے کوئی گارنٹر ہی میسر نہیں آتا جس کی وجہ سے وہ کسی بھی حکومتی سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے عام آدمی کی حالت ِ زار بہتر بنانے کے لیے یہ پروگرام مرحلہ وار بھی
شروع کیا جا سکتاہے جن شہروں میں غربت کی شرح زیادہ ہے وہاں ترجیحی بنیادوںپر ایسی ا سکیمیں جاری کی جا سکتی ہیںسب سے اہم بات یہ ہوگی کہ صرف حقدار وںکو ان کا حق ملے گا یہ بات بھی ریکارڈپرہے کہ غریبوںکو ملنے والے قرضوںکی واپسی کی شرح قریباً90% تک ہے جبکہ موٹی رقموںکے بڑے بڑے قرضے یا تو معاف کروا لیے جاتے ہیں یا بیشتر کمپنیاں دیوالیہ ہو جاتی ہیں عام آدمی کو خود روزگار کے قرضے دینے سے حکومت کے وسائل جو اکثر ضائع ہو جاتے ہیں مفید ہاتھوںمیں جانے سے ملک میں حقیقتاً انقلاب بپا ہو سکتاہے یقین جائیے رشوت، شفارش اور کرپشن فری سکیمیں ملک کو ایک فلاحی مملکت بنانے میں بے حدممدو معاون ہو سکتی ہیںملک میں خوشحالی آگئی تو کسی کو یہ کہنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی کہ غریب آدمی کو سستا آٹا نہیں دے سکتے تو چوہے مار گولیاںہی دیدیں ان تجاویزسے دنیا کی ہر پسماندہ حکومت عمل کرکے اپنے شہریوںکی حالت بہتربناسکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عوام کے آئیڈیل وجود هفته 25 ستمبر 2021
عوام کے آئیڈیل

کھیل پر سیاست وجود هفته 25 ستمبر 2021
کھیل پر سیاست

سائنس بھی بھارتی سیاست کی بھینٹ چڑھنے لگی وجود هفته 25 ستمبر 2021
سائنس بھی بھارتی سیاست کی بھینٹ چڑھنے لگی

کفن کی جیب وجود جمعه 24 ستمبر 2021
کفن کی جیب

چھوٹے قد،بڑھتے مسلمان۔۔ وجود جمعه 24 ستمبر 2021
چھوٹے قد،بڑھتے مسلمان۔۔

ٹرمپ، جنرل مارک ملی اور چین وجود جمعه 24 ستمبر 2021
ٹرمپ، جنرل مارک ملی اور چین

کھیل کے ساتھ کھلواڑ کاعالمی تماشہ وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
کھیل کے ساتھ کھلواڑ کاعالمی تماشہ

حیدرآباد دکن کا ہولو کاسٹ! وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
حیدرآباد دکن کا ہولو کاسٹ!

خطہ پنجاب تاریخ کے آئینے میں وجود بدھ 22 ستمبر 2021
خطہ پنجاب تاریخ کے آئینے میں

ایشیا کا میدان وجود بدھ 22 ستمبر 2021
ایشیا کا میدان

قانون کا ڈنڈا وجود بدھ 22 ستمبر 2021
قانون کا ڈنڈا

اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج وجود بدھ 22 ستمبر 2021
اپوزیشن کے بغیر طاقتور احتجاج

اشتہار

افغانستان
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

نئے افغان آرمی چیف نے عہدے کا چارج سنبھال لیا وجود بدھ 15 ستمبر 2021
نئے افغان آرمی چیف نے عہدے کا چارج سنبھال لیا

افغان قیادت نے مشکل کی گھڑی میں قطر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، سہیل شاہین وجود پیر 13 ستمبر 2021
افغان قیادت نے مشکل کی گھڑی میں قطر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، سہیل شاہین

اشتہار

بھارت
کملا ہیرس سے ملاقات، مودی شدید تنقید کی زد میں آگئے وجود هفته 25 ستمبر 2021
کملا ہیرس سے ملاقات، مودی شدید تنقید کی زد میں آگئے

مودی پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات وجود جمعه 24 ستمبر 2021
مودی پر منشیات اسمگلنگ کے الزامات

پاکستان میں بم دھماکے کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا،سابق'' را'' ایجنٹ کا اعتراف وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
پاکستان میں بم دھماکے کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا،سابق'' را'' ایجنٹ کا اعتراف

سکھوں کے قتل کا الزام' امریکی عدالت نے نریندر مودی کو سمن جاری کردیا وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
سکھوں کے قتل کا الزام' امریکی عدالت نے نریندر مودی کو سمن جاری کردیا

بھارت‘ مذہبی اعتبار سے آبادی کے تناسب میں تبدیلی‘مسلم آبادی میں اضافہ وجود جمعرات 23 ستمبر 2021
بھارت‘ مذہبی اعتبار سے آبادی کے تناسب میں تبدیلی‘مسلم آبادی میں اضافہ
ادبیات
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ

عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟
شخصیات
سینئرصحافی و افغان امورکے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی انتقال کر گئے وجود جمعه 10 ستمبر 2021
سینئرصحافی و افغان امورکے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی انتقال کر گئے

بلوچستان کے قوم پرست رہنما ، سردار عطااللہ مینگل کراچی میں انتقال کرگئے وجود جمعه 03 ستمبر 2021
بلوچستان کے قوم پرست رہنما ، سردار عطااللہ مینگل کراچی میں انتقال کرگئے

سچے پاکستانی، سینئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی انتقال کرگئے وجود جمعرات 02 ستمبر 2021
سچے پاکستانی، سینئر کشمیری حریت رہنما سید علی گیلانی انتقال کرگئے

پاکستان کے امجد ثاقب ایشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب وجود بدھ 01 ستمبر 2021
پاکستان کے امجد ثاقب ایشیا کا سب سے بڑا ایوارڈ جیتنے میں کامیاب

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبیعت بگڑ گئی وجود بدھ 01 ستمبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی طبیعت بگڑ گئی