وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کون کہتاہے

اتوار 25 جولائی 2021 کون کہتاہے

سو کر اٹھا محسوس ہوا گھروالوں کی عجب کیفیت ہے چولہے میں دھواں ہے نہ ناشتے کی کوئی تیاری ۔۔میں نے پوچھا اماں!ناشتے میں کیاہے؟ ۔۔انہوں نے کوئی جواب نہ دیا مجھے لگا جیسے اماں کی آنکھوںمیں آنسو ہوں۔والد صاحب کی طرف دیکھا افسردہ افسردہ ،غمگین،دل گرفتہ۔۔ادھر ادھر نظر دوڑائی تو بڑے بھائی ریاض ایک کونے میں کھڑے رو رہے تھے میںنے ان کا ہاتھ تھام کر دریافت کیاآپ کیوں رورہے ہیں ؟ انہوںنے کوئی جواب نہ دیا البتہ ان کے رونے کی آواز مزیدبلند ہوگئی چارپائی پر بیٹھے بھائی نسیم کی بھی یہی حالت تھی ۔۔دل میں سوچا الہی کیا افتاد آن پڑی ہے کہ ہر کوئی پریشان پریشان ہے بتاتا بھی کچھ نہیں شاید کوئی رشتہ دار عزیز وفات پاگیاہے ،منہ ہاتھ دھو کر گھرسے باہر نکلا تو یوں لگا میاںچنوںکا ہر شہری سہماسہما،ڈرا ڈرا اور سوگوارہے کچھ آگے بڑھا تو ایک خبطی قسم کا بوڑھا ننگی گالیاں دے رہا تھاکبھی کبھی وہ جیوے جیوے کا نعرہ لگاتا پھر گالیاں دینے میں مصروف ہو جاتا درجنوںبچے خبطی کے ارد گرد جمع تھے شاید ان کی دانست میں کوئی تماشاہورہا تھااسی اثناء میں ایک واقف کار لڑکے نے میرا ہاتھ پکڑا اور کھینچتاہوا ایک طرف لے گیا موڑ مڑتے ہی ایک عجوم پر نظر پڑی ان میں بچوںکی تعداد سب سے زیادہ تھی ان کے ارد گرد جمع لوگ کچھ کھا رہے تھے ہم بھی آہستہ آہستہ ان کے پاس پہنچ گئے معلوم ہوایہاں حلوہ بانٹا جارہا ہے سوچا شاید کوئی نذر نیاز ہے یا پھر ختم شریف اسی دوران سپید دودھ سے بالوں والا فرشتہ صورت ایک بابا آکر ہمارے قریب آکھڑا ہواوہ بلند آواز میں چیخ چیخ کر کہنے لگاشرم کرو! حیا کرو! موت پر اتنا جشن ۔
دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی مر جانا
وہاں مجھے علم ہوا کہ آج صبح معزول وزیر ِ اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کو پھانسی دیدی گئی اسی وجہ سے میرے گھر کی فضا میں یاسیت رچی ہوئی تھی شہر کے بیشتر لوگ سوگوار تھے اور یہاں کچھ لوگ ان کی موت پر حلوے بانٹ رہے تھے۔۔ایک مقبول ترین قومی رہنما کی اس انداز میںموت ۔۔ایک سانحہ سے کم نہیں
پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑی طلسماتی شخصیت ذوالفقارعلی بھٹو بلاشبہ حضرت قائد ِ اعظم ؒ کے بعد سب سے بڑے لیڈر بن کر ابھرے۔’’ آیا اور چھا گیا ‘‘کا مقولہ صحیح معنوںپرذوالفقارعلی بھٹوپر صادق آتاہے ان کی آمدسے قبل سیاست جاگیرداروں،حکومتی منظور ِ نظر لوگوں ۔۔اور۔۔وڈیروںکے گھرکی لونڈی سمجھی جاتی تھی وہ قومی امور کے فیصلے اپنے ڈرائنگ روموںمیں بیٹھ کر کیا کرتے تھے اور کسی کو دم مارنے کی بھی تاب نہ تھی ذوالفقارعلی بھٹونے سیاست کو عوامی رنگ دیا انہوںنے سیاست کو ڈرائنگ روم سے نکال کر ہوٹلوں،تھروں،ٹی سٹالوں اور باربروںکے حمام میں لا پھینکااور پاکستان کی تاریخ کے طاقتور ترین سیاستدان بن گئے انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے سیاسی جماعت بنائی جس نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑڈالے ۔۔بڑے بڑے بھاری بھر کم سیاستدانوں کے مقابلے پرPPP کے امیدوار ایسے تھے جن کو محلے میں بھی کوئی نہیں جانتا تھا بلکہ لوگ انہیں مذاق کرتے تھے نتیجہ آیا تو بڑے بڑے برج الٹ گئے یوں سمجھئے سیاسی انقلاب آگیا ذوالفقار علی بھٹو کی طلسماتیشخصیت کی بدولت پیپلزپارٹی کے غیر معروف امیدواروں نے مخالفین کی ضمانتیں ضبط کروادیں 1977ء کے الیکشن میں امیدواروںکی شخصیت، سیاسی جدوجہد، خاندانی پس منظر سب مائنس ہوگئے بھٹوکا نام جس نام کے ساتھ نتھی ہوگیا معتبرہوگیاوہ دنیا کے پہلے سول چیف مارشل لاء ایڈ منسٹریٹر بھی رہے۔۔۔صدر ِ پاکستان بھی اور وزیر ِ اعظم کے عہدے پر فائزرہے ان کے دورحکومت میں طاقتور وزیرِ اعظم کاتصور ابھرا جس وقت ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت ملی قوم سقوط ِ ڈھاکہ کے باعث شکست خوردہ تھی۔زخم ہرے تھے دور دور تک ان کے پایہ کا کوئی لیڈر نہ تھااس صورت ِ حال نے انہیں ایک مطع العنان حکمران بنا دیا پارٹی کے دیگر رہنمائوںکے لیے اختلاف رائے بھی جرم بن گیا خود پیپلزپارٹی کے لوگ کہنے لگے بھٹوکی شخصیت تضادات کا مجموعہ ہے۔شاید اسی لیے متعدد قریبی ساتھی معراج محمد خان، جے اے رحیم، مختارراناوغیرہ۔۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور ِ حکومت میں ان کا ساتھ چھوڑ گئے ۔۔۔ان خوبیوں یا خامیوں کے باوجود ان کے پاکستان پر بہت سے احسانات ہیں 1977ء کا متفقہ آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ہی کارنامہ ہے،اسلامی سربراہی کانفرنس،پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا آغاز،اسلامک بلاک کی تشکیل،تیل کو ہتھیارکے طورپر استعمال کرنے کی سوچ،قادیانیوںکو اقلیت قرار دینا اور ایک لاکھ پاکستانی جنگی قیدیوںکی رہائی ۔۔۔ان کی بہترین کاوشیں قراردی جا سکتی ہیں۔ یہ بات اکثرسننے میں آ تی رہی کہ ذوالفقار علی بھٹو کی قسمت کا فیصلہ اسی روز ہوگیا تھا جس روزپاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیادرکھی گئی تھی بھٹو نے کہا تھاہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹمی پروگرام ہر قیمت پر جاری رہے گا اسلامی بلاک کے ایک محرک شاہ فیصل کو ایک سازش کے تحت بھتیجے کے ہاتھوں شہید کروادیا گیادوسرے محرک کو منظر سے ہٹانے کیلیے پھانسی دیدی گئی پیپلزپارٹی کے رہنماایک عرصہ سے یہ بھی کہہ رہے ہیں بھٹوکی پھانسی عدالتی قتل ہے بہرحال اس بات میں سچائی ہے یا نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج سے41سال قبل اس لیڈر کوموت دیدی گئی۔۔جو غریبوںکی بات کرتا تھا۔جس نے پاکستان کی سیاست اور سیاست کاانداز بدل کر رکھ دیا۔۔جس تمام مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا خواب دیکھا۔۔۔جو دل سے چاہتا تھا اسلامک بلاک کی کرنسی ،دفاع اور تجارت مشترکہ ہو ۔ لوگ کہتے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے کہ بھٹو اتنا بڑا لیڈر تھا کہ اس کی شخصیت کے پاکستانی سیاست پر اب تلک اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔۔اس کی حمایت اور مخالفت میں اب بھی ووٹ ملتے ہیںحضرت قائد ِ اعظم ؒ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کانام آج بھی معتبرہے وہ اب اس دنیا میں نہیں لیکن وہ لاکھوں،کروڑوں لوگوںکے دلوںمیں آج بھی زندہ ہیںغالب خیال ہے کہ قیامت تک زندہ رہیں گے۔ ذوالفقار علی بھٹونے پاکستان،جمہوریت اور سیاست کے لیے اپنی جان قربان کردی لیکن اصولوںپر سمجھوتہ کرنا گوارا نہ کیا۔یہ بھی کہا جاتاہے وہ پاکستان کے ایک متنازعہ کردار تھے۔ ۔ان پر پاکستان توڑنے کاالزام بھی لگایا جاتاہے کچھ لوگ اسے غداربھی قراردیتے ہیں۔یہ بھی کہا جا سکتاہے ،ذوالفقار علی بھٹوکا کسی ٹھوس منصوبہ بندی کے بغیر صنعتیںقومی تحویل
میں لیناملکی معیشت،تجارت اورکاروبار کو بے انتہا نقصان کا موجب بنا اس کے بعدکاروباری لوگوںنے کسی حکومت پراعتبارکرنا گناہ سمجھ لیاان ساری باتوںسے صرف ِ نظرپیپلزپارٹی کے بانی اپنے مخصوص نظریات،غریبوںسے محبت اور اپنی طلسماتی شخصیت کے باعث ہمیشہ زندہ رہیںگے۔جنرل ضیاء الحق سمیت ان کے کٹر مخالفین بھی اعتراف کرتے ہیں کہ لاکھ کوششوںکے باوجود پیپلزپارٹی ختم کیا جا سکا نہ بھٹو لوگوںکے دلوںسے کھرچے جا سکے۔ جب بھی وہ دن آتاہے جب بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی لگتاہے دور کہیں سے سپید دودھیا بالوں والا فرشتہ صورت وہی بابا میرے کان میں سرگوشی کرتاہے ،دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے سجناں وی مر جانا ۔ اور میں تائیدمیںسر ہلاکر رہ جاتاہوںکہ واقعی زندگی کی سب سے بڑی سچائی موت ہے او ربھٹو اپنی تربت سے فکری اندز میں آج بھی اپنی برسی کے موقع پر دنیا کے طول و عرض سے آئے لوگوں سے مخاطب تو ہوتے ہوں گے
کون کہتاہے، موت آئی تو مر جائوں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جائوں گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا وجود پیر 25 اکتوبر 2021
چین اور امریکا کے درمیان ہائپر سونک جنگ کی کتھا

مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ وجود پیر 25 اکتوبر 2021
مسلم آبادی بڑھنے کا سفید جھوٹ

ابن ِعربی وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
ابن ِعربی

اصل ڈکیت وجود اتوار 24 اکتوبر 2021
اصل ڈکیت

ایک خوفناک ایجادکی کہانی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
ایک خوفناک ایجادکی کہانی

مہنگائی اور احتجاج وجود هفته 23 اکتوبر 2021
مہنگائی اور احتجاج

امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی وجود هفته 23 اکتوبر 2021
امریکا میں ڈیلٹا وائرس میں کمی

بھوک اورآنسو وجود جمعه 22 اکتوبر 2021
بھوک اورآنسو

جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
جام کمال کی عداوت میں منفی سرگرمیاں

دل پردستک وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
دل پردستک

مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
مثالی تعلقات کے بعد خرابی کاتاثر

شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
شہدائے کارساز‘‘ کے لواحقین کو چارہ گر کی تلاش ہے

اشتہار

افغانستان
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان وجود پیر 25 اکتوبر 2021
افغانستان کے پڑوسیوں کا اجلاس کل،طالبان کا شرکت نہ کرنے کا اعلان

افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

اشتہار

بھارت
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی وجود پیر 25 اکتوبر 2021
موبائل فون خریدنے کے لیے بھارتی خاوند نے اپنی بیوی فروخت کردی

علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا وجود جمعرات 21 اکتوبر 2021
علیحدہ کشمیر مانگ رہے ہیں تو دے دو، فوجی کی بیوہ مودی کے خلاف صف آرا

بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا
ادبیات
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!
شخصیات
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے وجود منگل 19 اکتوبر 2021
سابق امریکی وزیرخارجہ کولن پاول کورونا کے باعث انتقال کرگئے

معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
معروف کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی انتقال کر گئے

سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے وجود پیر 18 اکتوبر 2021
سابق افغان وزیرِ اعظم احمد شاہ احمد زئی انتقال کر گئے

ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی