وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

یادوں کی محفلوں کو سجاکرشعور میں

اتوار 18 جولائی 2021 یادوں کی محفلوں کو سجاکرشعور میں

آج ماضی کی باتیں بڑی سہانی لگتی ہیں پرانے دورکی یادیںعجب مزہ دیتی ہیں کراچی کی ایمپریس مارکیٹ بھی ایک عجوبہ ہے اس وکٹورین طرزِتعمیر کی ایک عظیم اور قدیم عمارت کا نقشہ بھی ایک بڑی مارکیٹ کی طرز پر ہی بنایا گیا تھا یہی سب سے بڑا مرکز تھا اس لیے خوب چہل پہل ہوتی تھی خواتین کے ساتھ بچے رنگ برنگے کپڑے پہن کر تتلیوںکی طرح ادھر سے ادھر بھاگتے پھرتے تو بڑااچھا لگتا کراچی کی اس وسیع و عریض عمارت کے کئی داخلی دروازے ہوتے تھے، تاہم مرکزی دروازہ سامنے فرئیر روڈ پر ہی کھلتا تھا۔ ایک وقت تھا اس کے چاروں اطراف کھلے میدان تھے جس سے منظر بڑا دیدنی ہوجاتا تھا عمارت میں بنائے گئے مختلف سیکشن میں جا بجا بڑے بڑے ہال اور ان میں چھوٹی بڑی دکانیں بنی ہوئی تھیں۔ اس بات کا خاص اہتمام کیا گیا تھا کہ اس حصے میں صرف ایک ہی نوعیت کی اشیاء دستیاب ہوں۔ اس طرح پرچون، سبزیوں، گوشت، مصالحوں حتی کہ کتابوں کی دکانوں کے سیکشن بھی ہوتے تھے۔اندر بنی ہوئی راہداریوں کے ذریعے ایک حصے سے دوسرے میں بآسانی جایا جا سکتا تھا۔ زندہ مرغیوں اور پرندوں کی بھی کئی دکانیں تھیں برائلر مرغی کا گوشت اور فارمی انڈوںکا تصور بھی نہیں تھا گھروںمیں دیسی مرغی کسی مہمان کی آمدپر ہی بڑے اہتمام سے پکائی جاتی تھی آج کی طرح لوگ گوشت خورنہیں تھے اب تو پیسے والے مٹن کی کئی کئی رانیں خریدکرلے جاتے ہیں اور غریبوںکو قصاب گھاس بھی نہیں ڈالتا پائو آدھ کلو گوشت خریدنے والوں کے حصہ میں ہڈیاں چھیچھڑے آتے ہیں تو وہ منہ دیکھتے ر ہ جاتے ہیں ماضی میں لوگ اپنے مہینے بھر کے راشن کے علاوہ اور بھی گھریلو استعمال کی اشیا ء ایمپریس مارکیٹ سے لے کر جاتے تھے۔
مارکیٹ کا ایک پورا ہال گوشت کے کاروبار کے لیے مخصوص کیاگیا تھا جہاں ہر قسم کا تازہ گوشت مل جاتا تھا۔ یہاں سارے ہی قصاب اپنے اڈے جمائے بیٹھے تھے۔ گوشت بہت سستا ہوا کرتا تھا جو ہر ایک کی پہنچ میں تھا۔ کبھی چھوٹا گوشت سوا روپے اور گائے کا دس آنے سیر آتا تھا۔ ہر کوئی اپنی ضرورت کے مطابق گوشت لے لیتا تھا۔ تب پائو بھر گوشت اور آدھ پائو قیمہ بنوانے والے خریداروں سے بھی قصاب عزت اور اخلاق سے بات کیا کرتے تھے۔ ریفریجریٹر اور فریزر کسی کے گھر میں نہیں ہوتے تھے، اس لیے لوگ صرف اتنا ہی گوشت لے جاتے جتنا کہ اس دن کی ضرورت ہوتی تھی۔ سالم یا آدھا بکرا کٹوا کر ساتھ لے جانے کا کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ ایک ڈیڑھ سیر گوشت خریدنے والا بڑا گاہک سمجھا جاتا تھا۔قیام پاکستان کے بعد کے اس عرصے میں ملحقہ سیکشن سے مرغیاں بھی مل جاتی تھیں۔ بہت اچھی دیسی مرغی آٹھ دس روپے میں مل جاتی تھی۔ یہ گاہک کو زندہ ہی تھما دی جاتی تھی، جس کا مطلب تھا کہ خود اپنے گھر میں ذبح کرو اور جیسے جی چاہے گوشت بنائو۔ لوگوںکو اچھی طرح یاد ہوگا کہ تب گھر کا کوئی بڑا ہی یہ کام کرتا تھا اور ساتھ بیٹھے ہوئے بچے اس کے پر نوچنے میں مدد کیا کرتے جب مرغی ذبح کی جاتی چھوٹے بچے اردگردجمع ہوکربڑے اشتیاق سے یہ منظر دیکھتے ۔ فارمی برائیلر مرغیاں اور چوزے ابھی ’’ایجاد ہی نہیں ہوئے تھے۔ پرچون کی اشیا اور راشن والا سیکشن سب سے بڑا تھا، جہاں بوریوں کے حساب سے آٹا، چاول، دالیں وغیرہ دستیاب تھیں اور تب کی قیمتیں سن کر آپ کے ہوش اڑ جائیں گے۔ آٹا آٹھ سے دس روپے من اور اچھا چاول بیس روپے من بآسانی دستیاب تھا۔ مٹی کے تیل کا ٹین دس بارہ کا مل جاتا تھا۔ چینی کی کچھ قلت تھی، وہ بازار میں کم کم ہی ملا کرتی تھی۔ اس کے لیے راشن ڈپو جانا پڑتا تھا جہاں راشن کارڈ پر گھر کے افراد کے اندراج کے مطابق سوا روپے سیر چینی مل جاتی تھی۔ غریب اور متوسط گھرانے کے زیادہ تر خاندان کھانے پکانے کے لیے سرسوں کا تیل ہی استعمال کرتے تھے اور خوش حال لوگوں کے لیے اندرون سندھ اور پنجاب سے کنستروں میں ہی دیسی گھی آیا کرتا تھا ۔ایمپریس مارکیٹ کے ایک کونے میں اسکول کی درسی کتابوں کی بھی آٹھ دس دکانیں تھیں جہاں نئی کتابوں کے ساتھ پرانی اور استعمال شدہ کتابیں بھی آدھی یا پون قیمت پر مل جاتی تھیں۔
ناگہانی صورت اور فوری رقم کے حصول کا یہ ایک بہترین ذریعہ بھی تھا، کیوں کہ دکاندار ہر وقت پرانی کتابیں اونے پونے داموں خریدنے کو تیار بیٹھے ہوتے۔ جب کوئی طالب علم اکیلا ہی اپنی کتابیں بیچنے آجاتا تودکاندار اس سے یہ سوال ضرور کرتے تھے کہ وہ کورس کی یہ کتابیں کیوں بیچ رہا ہے، اور یہ کہ آیا اس فروخت کا علم اس کے گھر والوں کو بھی ہے یا نہیں! طالب علم اپنی کتابوں کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے مومی کاغذ کا غلاف چڑھائے رکھتے تھے اور بہت احتیاط سے استعمال کرتے تھے تاکہ ان کے اگلی کلاس میں جانے کی صورت میں وہ ساری کتابیں اپنے پیچھے آنے والے بہن بھائیوں کے کام آ جائیں یا پھر وہ انہیں اس مارکیٹ میں جا کر بیچ آتے۔ کتابوں کے علاوہ یہاں طالب علموں کے لیے متفرق سٹیشنری کی چیزیں اور سرکاری اسکولوں کے یونیفارم اور بوٹ وغیرہ بھی مل جاتے تھے۔گویا ایک ہی چھت تلے ہر شے موجود تھی۔ ایمپریس مارکیٹ میں ایک دو دکانیں پھول والوں کی بھی تھیں۔ کچھ خاص نسل کے یا درآمدی پھول نہیں بلکہ گیندے، گلاب اور موتیا وغیرہ ہی ہوتے تھے۔ کچھ پھولوں کے بنے ہوئے ہار اور گجرے شادی پر دولہا اور دلہن کو پہنانے کے لیے دستیاب تھے۔ اس کے علاوہ حج کے مقدس سفر سے واپس آنے والے حاجیوں کے لیے گلاب کے ہلکے پھلکے ہار بھی رکھے ہوتے تھے۔ سیروں کے حساب سے گلاب کی پنکھڑیاں بھی مل جاتی تھیں جو کسی سیاست دان یا دولہا دلہن پر نچھاور کرنے کے علاوہ قبروں پر بھی ڈالی جاتیں۔ذرا ہٹ کر ایک دکان میں گوٹے کناری سے بنے ہوئے ہار، جن پر جگہ جگہ مختلف مالیت کے کرنسی نوٹ ٹانکے ہوئے ہوتے تھے، ہر وقت تیار ملتے تھے۔ پنجاب، اندرون سندھ اور خیبرپختون خوا کے لوگ یہ ہار دولہا کو پہنایا کرتے تھے۔ شادی کے فورا بعد اس پر سے نوٹ نوچ لیے جاتے تھے اور ہار کی لاش کو گھر میں کسی کھونٹی پر ٹانگ دیا جاتا جہاں وہ مہینوں دولہا دلہن کو اپنے ملن کے خوب صورت لمحات کی یاد دلایا کرتا تھا۔ پھر ایک دن دونوں میں کوئی شدید جھڑپ ہوتی، جس کے بعد اس کو نوچ کر باہر کچرے میں پھینک دیا جاتا تھا۔ کسی عرس کے موقع پر بزرگوں کے مزاروں پر ڈالنے والی گوٹے کناری کی سنہری چادریں بھی یہیں مل جاتی تھیں۔سبزی، گوشت وغیرہ کی دکانوں پر عموما بزرگوں کا ہی آنا جانا ہوتا تھا جن کی بہو بیٹیاں یا بیویاں انہیں صبح صبح موٹے کپڑے کا بنا ہوا تھیلا اور مطلوبہ سامان کی ایک لسٹ تھما کر مارکیٹ روانہ کر دیتی تھیں۔ چونکہ روز کا آنا جانا تھا، نئی دوستیاں جنم لیتیں اور پھر شناسا چہرے مل جاتے تو وہیں کھڑے ہو کر ہلکی پھلکی گپ شپ لگ جاتی تھی آج تو شاپر بیگ نے تمام راز فاش کرکے رکھ دئیے ہیں اب تو پورے محلے کو پتہ چل جاتاہے کس نے کیا شاپنگ کی ہے پہلے دو کلو آٹا لانے والوںکا بھی بھرم قائم تھا۔ ایک اور مزے کی بات، زیادہ تر لوگ وہاں سائیکلوں پر ہی آتے تھے، ان کے لیے کوئی مناسب اسٹینڈ بھی نہ ہوتا تھا اس لیے لوگ بڑے آرام اور اعتماد سے سائیکل ٹھیک اسی مقام پر کھڑی کرتے تھے جہاں سے انہوں نے خریداری کرنا ہوتی تھی۔ سائیکلوں کی چوری بھی بہت کم ہوتی تھی، کوئی چورپکڑا جاتا تو وہیں کھڑے کھڑے چماٹوں اور گھونسوں سے اس کا حشر نشر کر دیا جاتا تھا۔ پھر بھی کبھی کبھار ایسے بزرگوں کو پیدل ہی گھر آنا پڑتا تھا۔ مارکیٹ سے باہر آتے تو سامنے قطاروں میں کھڑی درجنوں بسیں شہر کے مختلف علاقوں میں جانے کے لیے تیار کھڑی ہوتی تھیں۔ ان کے ہرکارے یا کنڈکٹر با آواز بلند اپنی منزل اور راستے کی نشان دہی کرکے مسافروںکو اپنی طرف بلاتے تھے۔ جیسے ہی کوئی مسافر گاڑی کے نزدیک جاتا وہ اسے دبوچ کر اوپر بس کے اندر دھکیل دیتے تھے۔ جن کو اندر جگہ نہ ملتی اور جانا بھی ضروری ہوتا تھا تو وہ وہیں دروازے کے پائدان پر آہنی سلاخوں کو پکڑ کر لٹک جاتے تھے۔ لمبے راستوں والے مسافر چھتوں پر بھی چڑھ جایا کرتے تھے اور یوں خطرناک حالات میں بھی اپنا سفر مکمل کر لیتے۔ کراچی کے اس سنہرے دورمیں سڑکوں پر اکثر نقرئی رنگت کی دو منزلہ بسیں بھی نظر آ جاتی تھیں۔ مسافر کی خواہش ہوتی تھی کہ اس کو بالائی منزل پر جگہ مل جائے تاکہ وہ کراچی کے خوب صورت نظاروں کو ذرا بلندی سے دیکھ سکے۔ ایسی ہی ایک بس منگھو پیر بھی جاتی تھی جس کی بالائی
منزل پر چھت نہیں ہوتی تھی۔ یہ بس دن میں دو ہی پھیرے کیا کرتی کیوں کہ ان دنوں وہاں کا سفر بڑا ہی طویل اور کٹھن ہوا کرتا تھا۔ اس کے سامنے اور آس پاس کے علاقے میںجگہ جگہ کھانے پینے کے خوانچے لگے ہوتے تھے جہاں بریانی کی ایک ننھی سی پلیٹ دوآنے میں اور بڑے سے پراٹھے سے کاٹا ہوا ٹکڑا ایک آنے میں مل جاتا تھا جو وہیں زمین پر بیٹھ کر چائے میں ڈبو ڈبو کر کھا لیا جاتا تھا۔ چائے شربت والوں کے علاوہ وہاں پھل فروش اور کچھ پرانے کپڑے اور جوتوں والے بھی اپنے ٹھیلے لیے کھڑے رہتے تھے۔ غالبا اس وقت کے کراچی شہر کا سب سے پر رونق علاقہ بھی یہی تھا یہاں خریداری کرنے والوںکا شمار امیر لوگوںمیں کیا جاتا تھا کیا عجب زمانہ تھا آنکھوںمیں شرم و حیا اور دل میں دوسروںکااحساس موجزن تھا یہ سوچتے سوچتے نہ جانے کتنے لوگ اپنے بچپن کویادکرکے خوش ہوتے ہیں کئی افسردہ ہوجاتے ہیں
یادوںکی محفلوںکو سجاکرشعور میں
لیتے ہیں زندگی کا نظارہ کبھی ،کبھی


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین