وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

زیو۔ناچنا۔۔

بدھ 23 جون 2021 زیو۔ناچنا۔۔

دوستو، گزشتہ دنوں ایک خبر جو آپ لوگوں نے بھی پڑھی ہوگی کہ ۔۔دو یا چار نہیں بلکہ 38 بیویوں اور 89 بچوں پر مشتمل دنیا کے ’سب سے بڑے خاندان‘ کے سربراہ زیونا چنا انتقال کرگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق زیونا چنا کا تعلق بھارتی ریاست میزورام سے تھا۔ان سے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ ہائی بلڈ پریشر اور شوگر کے مرض میں مبتلا تھے۔خیال رہے زیونا چنا اپنے خاندان کے سائز کی وجہ سے دنیا میں مشہور ہوگئے تھے، ان کی عمر 76 سال تھی۔۔یہ تو تھی خبر، اب ذرا آپ کچھ دیر کے لیے صرف اتنا سوچیں کہ اگر پچھلی امتوں کی طرح انسان طویل العمر ہوتے تو ’’زیوناچنا‘‘ محکمہ بہبود آبادی والوں کو تگنی کا ناچ نچا دیتا۔۔ابھی ہم ’’زیوناچنا‘‘ کی کم عمری اور اتنی جلدی چلے جانے سے متعلق سوچ ہی رہے تھے کہ امریکی جریدے ’’سائنٹیفک امریکن‘‘ میں یہ نیوز پڑھ لی کہ ۔۔محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ انسان 150سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔طویل عمری کی حد کی پیش گوئی میںخون کے خلیوں اور یومیہ اٹھتے قدموں کا شمار پر منحصر ہے۔امریکی جریدے کے مطابق ہلاکت خیز عوامل کو زندگی سے نکال دیا جائے توہم طویل عمری پاسکتے ہیں یعنی ہم اس وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں جب تک خوش قسمتی کے واقعات اور جینیات کے امتزاج سے ہم کینسر، دل کی بیماری یا کسی حادثے سے نہیں مرتے۔محققین کے مطابق متناسب ڈھانچے اور میٹابولک نظام میں توازن بحال کرنے کی جسمانی صلاحیت وقت کیساتھ سرد پڑ جاتی ہے۔ لہذازندگی میں کچھ دباؤ میں کمی کرنے سے عمرکے دورانیے کو 120 سے 150سال تک پھیلاسکتے ہیں۔یہ تحقیق طبی جریدے نیچر میں شائع ہوئی۔اس مطالعے کے لیے تحقیق دانوں نے امریکا، برطانیا، اور روس کے تین گروپوں میںعمر رسیدگی کو دیکھا۔ مستحکم صحت سے انحرافات کا جائزہ لیتے ہوئے، انہوں نے خون کے خلیوں کی گنتی میں تبدیلیوں اور یومیہ جتنے وہ قدم اٹھاتے ہیں کا شمارکرتے ہوئے عمر کے لحاظ سے ان کا تجزیہ کیا۔مطالعے کے مطابق اگر واضح خطرات ہماری جانوں کو نہیں لیتے ہیں تو مشکلات سے نکلنے کی صلاحیت میں کمی ہماری جانوں کو لے بیٹھتی ہے۔رپورٹ کے آغاز میں کہا گیا کہ فلم ’فیم‘ میں اداکارہ آئرین کارا پر فلمائے گئے گیت کے یہ بول’’میں ہمیشہ زندہ رہوں گی‘‘ کا مقصد لمبی عمر نہیں بلکہ مرنے کے بعد شہرت تھا تاہم طویل عمری کئی گوشوں خاص کر ٹیکنالوجی سیکٹر میں بھی دلچسپی کا محور رہا۔ سلی کون ویلی میں،لافانیت موضوع اکثر زیر بحث رہا ہے۔جیسے کسی اسمارٹ فون کے آپریٹنگ سسٹم کو اپ گریڈ کرنا ہو، ایسے ہی ٹیکنالوجی کے بڑے ناموں نے موت کے مسئلے کو حل کرنے کے منصوبوں میں بھاری سرمایہ کاری کی جو ڈوب گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موت کے سامنے بند نہیں باندھا جاسکتا تو طویل عمری کی حد تو ہوگی۔ڈیوک یونیورسٹی سنٹر کی ڈائریکٹر ہیدر وہٹسن جو اس تحقیق کا حصہ نہیں ان کا کہنا ہے سوال یہ کہ زیادہ سے زیادہ طویل العمری کیا ہے جو کسی انسانی پیچیدہ نظام کے ذریعے گزر سکتی ہے، اگر سب کچھ واقعتاً ٹھیک اور تناؤ سے پاک ماحول ہو۔ مطالعے کے نتائج بنیادی طور پر عمر بڑھنے کی رفتار کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو زندگی کی حدود کو طے کرتے ہیں۔عمر بڑھنے کے ساتھ بلڈ سیل اور قدموں کا شمار ایک جیسا تھا۔ بیماری سے ماورا کچھ عوامل مشکلات کے عمل کے بعد جسم میں خون کے خلیوں کو واپس لانے یا قدموں کو مستحکم سطح پر لانے میں کمی پیش گوئی کی طرف لے جاتے ہیں۔ جب محققین ماسکو، بفیلو اور نیویارک میں تھے تو انہیں معلوم ہواکہ اگر ان تمام رکاوٹوں کو ختم کیا جائے جو موت کا سبب بنتی ہیں تو انھیں 120 سے 150 سال کی حد معلوم ہوجائے گی۔۔ 1997 میں جین کالمنٹ کی ریکارڈ طویل عمر ہے جو فرانس میں 122 سال کی عمر میں انتقال کر گیا۔محققین کے مطابق عمر کے ساتھ، توہین یا بے عزتی پر ردعمل مستحکم معمول سے تیزی سے دور لے جاتا ہے، جس کی بحالی میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ وہٹسن کہتی ہے کہ ایک صحتمند نوجوان تیزی سے جسمانی ردعمل پیدا کرسکتا ہے لیکن ایک بوڑھے شخص میں ہر عمل سست روی کا شکار ہوجاتا ہے اور وہ جواب دینے میں قدرے سستی دکھائی دیتے ہیں۔بلڈ پریشر اور بلڈ سیل کے شمار کی ایک صحت مند رینج ہے، تاہم قدموں کی گنتی انتہائی ذاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیرکوف اور اس کے ساتھیوں نے متغیرات کا انتخاب کیا جو خون کے حساب سے بہت مختلف ہے۔مصنفین نے معاشرتی عوامل کی طرف بھی اشارہ کیا،35 سے 40 سال کی عمر میں کا دورانیہ اکثر ایسا ہوتا ہے جب کسی کھلاڑی کا کیریئر ختم ہوجاتا ہے یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اس عمر میں جسمانی خدوخال میں واقعی کچھ تبدیلی ہوسکتی ہے۔
انسان کائنات کے راز کھوجتا رہے گا، ابدیت کے رازوں کو کھولنے کی خواہش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انسانوں کی موت سے آگاہی نہیں۔باباجی فرماتے ہیں کہ انسانی جسم میں گردے جیسا نالائق کوئی نہیں،جب بھی سنا یہی سنا کہ گردہ فیل ہوگیا۔۔کبھی پاس ہونے کی خبر آئی نہیں۔۔ایک ریسرچ کے مطابق دنیا کی سب سے نایاب ادویات پاکستان کی بسوں میں فروخت کی جاتی ہیں اور ملاوٹ کا یہ عالم ہے کہ باباجی بتارہے تھے کہ وہ گزشتہ ہفتے کیڑے مار اسپرے لائے تھے، اسی میں کیڑے پڑ گئے۔۔کائنات کے رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ مرد و خواتین کی ’’پروگرامنگ‘‘ بالکل مختلف ہوتی ہے، مثال کے طور پرمرد ہمیشہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں جبکہ عورت دونوں کانوں سے سن کر منہ سے نکالتی ہے۔۔باباجی فرماتے ہیں کہ ۔۔محبوب کو اگر دل میں رکھنے کی بجائے اوقات میں رکھا جائے تو بہت سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔۔ہمارے پیارے دوست اسپتال کے بیڈ پر جوتے اتار کر لیٹے اور ہمیں مخاطب کرکے کہنے لگے۔۔میرے جوتے کا خیال رکھنا۔۔ہم نے مسکرا کر کہا۔۔بھائی جی یہ اسپتال ہے ، مسجد نہیں ۔۔یہاں جوتے نہیں گردے چوری ہوتے ہیں۔۔ایک بار ہم نے باباجی سے خالص گُڑ کی پہچان کے بارے میں سوال کردیا۔۔وہ فرمانے لگے۔۔گُڑ والی چائے بنائیں اگر اُس میں کیڑوں کے اسپیئر پارٹس تیرتے پھرتے ہوں تو سمجھ جائیں گڑ خالص ہے ۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔زمانہ ترقی کرگیا،مگر مکھی، مچھر اور چوہے اب بھی پیداہوتے ہیں، جراثیم کش دوائیں نئے جرثومے پالتی ہیں، جیسے جیسے سائنس ترقی کررہی ہے،بیماریوں میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔۔انسان کل بھی دکھی تھا ،آج بھی سکھی نہیں۔ علاج تو خالق کے قْرب میں ہے۔ لوگ سمجھتے نہیں۔۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین