وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

یہ بہ ہر لحظہ نئی دُھن پہ تھِرکتے ہوئے لوگ

اتوار 20 جون 2021 یہ بہ ہر لحظہ نئی دُھن پہ تھِرکتے ہوئے لوگ

ایک مشہور مقولہ تو یہ ہے کہ عوام کو وہی حکومت ملتی ہے، جس کے وہ مستحق ہوتے ہیں۔ مگر کیا ایسی بھی حکومت!!1947 ء میں ہم اچھے بھلے چلے تھے، ہمارے قائد کردار میں ہمالہ کی بلندیوں کو چھوتے تھے۔ اُن کی گفتگو میں عہدِ آئندہ کی چاپ سنائی دیتی تھی۔ مگر پھر کیا ہوا؟ ہمارا واسطہ کن لوگوں سے آ پڑا؟ یہ بھی کوئی انتخاب ہے،جو پرویز مشرفوں ، زرداریوں ، شریفوں اور عمران خانوں کے درمیان کرنا پڑے؟ ملک کی دانش کو شاید لقوہ ہو گیا ہے جو ان رہنماؤں کے مابین انتخاب کی لڑائی میں جمہوریت اور آمریت کی خوشنما بحثیں چھیڑتے ہیں۔ افسانوی استعارے ڈھونڈتے ہیں۔ نئے نئے اسالیب تراشتے ہیں۔ آخر ان میں فرق کیا ہے؟ یہ ایک دوسرے کے مقابل مگر ایک جیسے لوگ ہیں۔ ان میں فرق اہداف کا نہیں بس طریقۂ کار ہے۔ اُن دانشوروں پر ترس کھانا چاہئے جو ان کے درمیان خود کو تقسیم کرتے ہیں، اور اپنی دانش کو صرف کرتے ہیں۔

ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور قادر مندوخیل کی لڑائی ابھی حافظوں سے محو نہ ہوئی تھی کہ پارلیمنٹ مچھلی بازار بن گیا۔ شاعر اور ڈراما نگار شیرڈن کبھی برطانوی پارلیمنٹ کا حصہ رہا تھا۔ ایک دفعہ پارلیمنٹ کے ماحول سے اُکتا کر بولا: ایوان کے آدھے ارکان گدھے ہیں۔
اس پر ایک نیا ہنگامہ کھڑا ہوگیا۔ ایوان زیریں کے ارکان نے اسے اپنی توہین سمجھتے ہوئے معافی کا مطالبہ داغ دیا۔شیرڈن کے ہاں طنز کمال کا تھا، کھڑا ہوا اور کہا: میں اپنے الفاظ واپس لیتا ہوں، ایوان کے آدھے ارکان گدھے نہیںہیں”۔ شیرڈن ہماری پارلیمنٹ میں ہوتا تو کیا کہتا؟ معلوم نہیں آدھے کا تکلف گوارا بھی کرتا یا نہیں۔کیا یہ وہ لوگ ہیں، جو قوم کی نمائندگی کرتے ہیں؟دانشور بحث یہ کررہے ہیں کہ حکومت نے اپوزیشن والے تیور اختیار کرلیے۔ حالانکہ حکومت کارویہ ایوان کو چلانے کے لیے مناسب ماحول کی فراہمی ہوتا ہے۔ وہ ایوان کی کارروائی چلانے کے لیے قدرے وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپوزیشن کو بہلائے رکھتی ہے۔ اس کے برعکس حکومت نے خود اپوزیشن کے تیور اختیار کرلیے۔ وہ اپوزیشن کی اپوزیشن بن کر سامنے آگئی۔ سوال یہ ہے کہ ان تمام میں حکومت اور اپوزیشن کا فرق کتنا دکھائی دیتا ہے۔ یہی لوگ کبھی ایک صف میں تو کبھی دوسری صف میں دکھائی دیتے ہیں۔ عمران خان کی تحریک انصاف سے وابستہ ارکان ان ہی جماعتوں سے آئے ہیں۔ یہ مسئلہ جماعتی فرق سے مختلف نہیں ہوتا۔ نہ یہ ارکان حکومت یا اپوزیشن کی تفریق میں خود کو مختلف بنا پاتے ہیں۔ضروری نہیں کہ جو آج یہاں سے گالی دے رہا ہے، کل بھی یہیں دکھائی دے، وہ کل وہاں بیٹھ کر یہاں کے لوگوں کو گالی دے سکتا ہے۔ افتخار عارف موسم اور انسانوں کے مزاج کے اس رمز کو تو بیان کررہے ہیں :۔

یہ بہ ہر لحظہ نئی دھن پہ تھِرکتے ہوئے لوگ
کون جانے کہ یہ کب تیرے ہیں کب تیرے نہیں

ْ پی ٹی آئی کی اُٹھان ایک خاص ماحول میں ہوئی ہے۔ مگر گالیوں کی ثقافت صرف اُسی کا طرہ امتیاز نہیں۔ زیادہ عرصہ نہیں گزرا نواز لیگ بے نظیر بھٹو کے متعلق کس طرح زباں دراز رہی۔ تب ہمارے شیخ رشید نواز شریف کی ضرورت تھے۔ اُن کے فحش اور ذومعنی فقرے بے نظیر بھٹو کو اسمبلی میں تنگ کیے رکھتے۔ آج رانا ثناء اللہ کو ہم نواز لیگ کے لشکر میں دیکھتے ہیں، کبھی وہ پیپلزپارٹی کے پیارے ہوتے تھے، اُن کے شریف خاندان اور خود محترمہ مریم نواز کے متعلق ماضی کے الفاظ سنیں تو باحیا لوگ کانوں کو ہاتھ لگالیں۔یہ صرف رانا ثناء اللہ تک موقوف نہیں۔ ارکانِ اسمبلی کی اکثریت دُہرے کرداررکھتی ہے یا پھر ماضی کے بوجھ تلے دبی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یہ لوگ پارلیمنٹ کا حصہ بنائے جانے کے لیے کیا معیار رکھتے ہیں؟ ایک سادہ انتخابی عمل جسے سرمائے کے منتر پر حرکت دیا جاتا ہے۔ ہر چیز خرید کر اسے پایہ تکمیل تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایک ناقابل اعتبار نظام سے کبھی قابل اعتبار بندوبست حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ مسئلہ صر ف آمریت کا نہیں یہاں جمہوریت کا بھی ہے۔ یہ قوم آمرانہ دور میں جمہوریت اور جمہوری دور میں آمریت کی دعائیں مانگنے لگتی ہے۔ حالانکہ ان تمام نظاموں سے ایک جیسے ہی لوگ برآمد ہوتے ہیں۔ پھر کسی بھی نظام میں فریقین بھی ایک ہی جیسے ثابت ہوتے ہیں۔ اس عمومی کیفیت میں کسی بندوبست کی محبت میں مبتلا ہونا درحقیقت ایک قومی جُرم جیسا دکھائی دیتا ہے۔

پی ٹی آئی کے ارکان درحقیقت نواز لیگ ، پیپلزپارٹی اور مشرفی بندوبست کی اولادیں ہیں۔ یہ تمام جماعتیں ایک داغدار ماضی رکھتی ہیں۔ نوّے کی دہائی کی سیاست نے ہمیں آج کا یہ انگڑ کھنگڑ اور کاٹھ کباڑ دیا ۔ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے جو اتحادی سیاست کی گئی اس میں شامل تمام جماعتوں نے اپنے بہترین کو نہیں بدترین کو اُبھارا۔ جب قومی سیاست کی بنیادی قدر ایسے کردار کی تلاش ہو جس میں زیادہ بڑا غنڈہ اور زیادہ بڑا شر انگیز انتخاب میں ترجیح پاتا ہو، تو پھر پارلیمان میں ایسے ہی مناظر نظر آئیں گے۔ ہم اکثر اس کی توجیہہ یا توضیح یہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ جیسا معاشرہ ویسی اسمبلی یا پھر جیسے عوام ویسی حکومت۔ مگر پاکستان میں یہ توجیہہ بھی پوری طرح درست نہیں۔ یہ بغیر غوروفکر کے محض پامال فقروں (کلیشے) سے معاملے کو رفع دفع کرنے کی کوشش ہے۔ درحقیقت پاکستان میں نمائندگی کا کوئی بھی نظام نمائندگی کے لیے قابل اعتبار نہیں۔ یہاں کوئی بھی نظام ایسا نہیں جوواضح طور پر رائے عامہ کی درست نمائندگی کرسکے۔ یہ جبر، حرص اور مخصوص بندوبست سے پہلے سے طے شدہ افراد کومسلط کرنے کاانتہائی کنٹرولڈ نظام ہے۔ اس میں جن افراد کو آگے بڑھایا جاتا ہے اُن کا کردار مسلمہ اخلاقی اُصولوں کا آئینہ دار نہیں ہوتا۔ بلکہ ان افراد کا معیار ہی یہ ہوتا ہے کہ اُن کا کوئی معیار نہیں ہوتا۔ تاکہ مفادات کے اس پورے کھیل میں جس قسم کی فضا درکار ہو، افراد بھی ویسا ہی کردار ادا کرسکیں۔ تین دن اسمبلی میں بُرے دکھائی دینے والے بچے ایک دن بالکل اچھے بچوں کی طرح دکھائی دینے لگے۔ کیایہ چابی بھرے کھلونے ہیں؟ درحقیقت یہ رویہ ہمارے نمائندہ طرزِ انتخاب کے اُن امراضِ خبیثہ کی نشاندہی کرتا ہے جس میں عوام کو بہتر اور بدتر کے بجائے بدترین میں سے اپنے لیے مناسب بدتر کا انتخاب دیتا ہے۔ پھر یہ انتخاب بھی اگر مخصوص طاقتوں کی مرضی کے مطابق نہ ہوتو اسے تبدیل کرنے کے طور طریقے موجود ہوتے ہیں۔ اس نظام کی یہ ساری غلاظت اسمبلی میں مختلف شکلوں میں دکھائی دیتی ہے۔ اسے حکومت یا اپوزیشن کی صفوں میں بانٹ کر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔

وزیراعظم عمران خان ایک یاسیت اور یبوست زدہ ماحول میں نرگسیت کی شکار شخصیت ہے۔ اپنی ذات کی گھمن گھیری میں میں وہ صحیح اور غلط کی تشریح کرتے ہیں۔ اُن سے یہ بعید نہیں تھا کہ وہ وزیراعظم منتخب ہو نے کے بعد اپوزیشن کی جانب سے اُنہیں تقریر سے روکنے کا انتقام نہ لیتے۔ وہ آج بھی اس غم میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں کہ قومی اسمبلی میں اُنہیں خطاب کیوں نہیں کرنے دیاجاتا۔ وہ موجودہ بندوبست کو بچانا بھی اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتے۔ اس ماحول میں وہ اپنی حکومت کو اپوزیشن کی اپوزیشن بنائے پھرتے ہیں۔ اُنہیں لعن طعن کرنے والے عزیز ہیں۔ اُن کے گرد ایسے لوگ زیادہ پزیرائی پاتے ہیں جو سیاسی مخالفین کے لیے گرم گفتار ہو۔چنانچہ کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئے کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی بینچوںسے یہ تماشا کیوں لگا۔ درحقیقت یہ ہلڑ بازی فریقین کے فرق کو نہیں بلکہ ان کے درمیان کوئی فرق نہ ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین