وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

شہریت ترمیمی قانون کا‘خاموش ’نفاذ

پیر 14 جون 2021 شہریت ترمیمی قانون کا‘خاموش ’نفاذ

کورونا پرقابو پانے میں اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے مودی سرکار ان ہی فرقہ وارانہ موضوعات میں پناہ ڈھونڈھ رہی ہے جو ہمیشہ سے اس کے لیے نجات کاکام دیتے رہے ہیں۔ ایسے نازک دور میں جب کہ حکومت کو اپنی تمام توجہ ملک کے عوام کو کورونا سے بچانے اور ویکسین کی شدید قلت کو پورا کرنے پر صرف کرنی چاہئے ، وہ عوام کی توجہ بھٹکانے کے لیے فرقہ وارانہ موضوعات کو ہوا دے رہی ہے ۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ اچانک اس شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کرنے کی جانب پیش قدمی شروع کردی گئی ہے جس پر گزشتہ سال پورے ملک میں بے نظیر احتجاج ہوچکے ہیں اور جس کی شقیں پوری طرح شہریت کے دستوری ضابطوں سے ٹکراتی ہیں۔
سبھی جانتے ہیں کہ ہمارے دستور میں شہریت حاصل کرنے کی بنیاد مذہب اوررنگ ونسل ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کے معیار دوسرے ہیں لیکن حکومت وقت نے شہریت کو مذہب سے جوڑ کر اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا کام کیا ہے ۔شہریت قانون کے اندر 2019 میں جوفرقہ وارانہ ترمیم کی گئی ہے ، اس کی رو سے پڑوسی ملکوں پاکستان ، افغانستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے ہندو، سکھ ، عیسائی اور بودھ فرقوں کو تو ہندستانی شہریت مل جائے گی جبکہ مسلمانوں اس سے محروم رہیں گے ۔ مذہبی تفریق اور تعصب پر مبنی اس ترمیم کے خلاف گزشتہ برس ملک میں جو زبردست تحریک چلی تھی اور جس میں لاکھوں شہریوں نے حصہ لیا تھا، اس کے پیش نظر امید تھی کہ حکومت اس متنازع اور تفریق پسندقانون سے اپنے ہاتھ کھینچ لے گی اور احتجاج کرنے والوں کی آواز پر کان دھرے گی، لیکن حکومت نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا بلکہ حال ہی میں اس قانون کو بعنوان دیگر نافذ کرنے کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔
گزشتہ ہفتہ وزارت داخلہ نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس میں افغانستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان سے آئے ہوئے غیرمسلم پناہ گزینوں کے لیے ہندوستان کی شہریت کے لیے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ اس نوٹیفیکیشن میں گجرات ، راجستھان، چھتیس گڑھ، ہریانہ اور پنجاب کے 13 اضلاع میں مقیم ہندو ،سکھ ،جین ، بودھ ، پارسی اور عیسائی برادری کے لوگوں کو ہندوستان کی شہریت دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ مذکورہ اضلاع کے کلکٹروں ان پناہ گزینوں کو شہریت کا سارٹیفیکٹ دینے کے مجاز ہوںگے ۔ پنجاب اور ہریانہ کے چیف سیکریٹریوںکو بھی ان لوگوں کی درخواستیں قبول کرنے اور شہریت کی سند جاری کرنے کامشروط اختیار دیا گیا ہے ۔ گزشتہ جمعہ کو مرکزی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری نوٹیفیکیشن میں شہریت آرڈی نینس 1955 اور2009کے تحت بنائے گئے ضابطوں کی پیروی کرنے کی بات کہی گئی ہے ۔ حالانکہ نئے شہریت ترمیمی آرڈی نینس(سی اے اے )کے تحت ابھی ضابطوں کو تیار نہیں کیا گیا ہے ، جسے حکومت نے نومبر 2019 میں پارلیمنٹ سے منظور کرایا تھا اور یہ جنوری 2020سے نافذ ہے ۔ اس قانون کے مطابق بنگلہ دیش ، پاکستان اور افغانستان سے آئے ان غیر مسلم پناہ گزینوں کو ہندوستانی شہریت دی جائے گی، جو31 دسمبر 2014تک ہندوستان آئے ہیں۔
قابل غور بات یہ ہے کہ وزارت داخلہ نے جو تازہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اس میں شہریت آرڈی نینس مجریہ 1955 اور2009کے تحت بنائے گئے ضابطوں کی پیروی کرنے کی بات کہہ کر اس میں شہریت ترمیمی آرڈی نینس کے ضابطوں کو شامل کرلیا گیا ہے اور صرف غیرمسلم پناہ گزینوں سے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت متنازع سی اے اے قانون کوپچھلے دروازے سے نافذ کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔اگر آپ غور سے دیکھیں تواس حکومت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ یہ کبھی جمہور کی رائے کا احترام نہیں کرتی اور ہمیشہ اپنی من مانی کرتی ہے ۔معاملہ متنازعہ شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ کا ہو یا پھر متنازعہ زرعی قوانین کا، یہ دونوں حالیہ عرصہ میں منظور کئے گئے دو ایسے قوانین ہیں جن کے خلاف زبردست عوامی احتجاج ہوئے ہیں، لیکن حکومت نے اس معاملے میں متاثرہ افراد کے خدشات اور اندیشوں کو دور کرنے کی بجائے ان کی آوازکوطاقت کے زورپر دبانے کی کوشش کی ہے ۔کسان آج بھی زرعی قوانین کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کررہے ہیں ، لیکن حکومت ان کی ایک بھی سننے کوتیار نہیں ہے ۔ اسی طرح شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر سطح پر جو بے نظیر احتجاج ہوئے ہیںانھیں کچلنے کی ہرممکن کوشش کی گئی ہے ۔ یہاں تک کہ ان میں شامل سرکردہ لوگوں کودہشت گردی مخالف قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا گیاہے ۔ دہلی میں سی اے اے مخالف بیشتر سرکردہ کارکنوں کو نارتھ ایسٹ دہلی کے فساد کا ملزم بناکر پابندسلاسل کردیا گیاتاکہ ان کے حوصلوں کو توڑکر حکومت اپنی من مانی کرسکے ۔ کہا جاتا ہے کہ نارتھ ایسٹ کے فساد کو برپا کرنے کا مقصد ہی یہی تھا، جس میں پچاس سے زیادہ بے گناہ افراد ہلاک ہوئے اور ہزاروں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ مختلف شہروں میں جن لوگوں نے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج میں حصہ لیا تھا ، ان پر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اور ان کی جائیدادیں قرق کرلی گئی ہیں۔
عام خیال یہ تھا کہ حکومت نے کورونا وبا کی وجہ سے متنازع شہریت ترمیمی قانون کے نفاذسے ہاتھ کھینچ لیے ہیں ، لیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا اور حکومت اپنے ایجنڈے پر واپس آگئی اور وہ مذہبی تفریق اور تعصب پر مبنی اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے کووڈ کے حالات کا استعمال کررہی ہے ۔ یہ بات سبھی کو معلوم ہے کہ ملک اس وقت طبی ایمرجنسی کے دور سے گزررہا ہے ۔ کورونا کی اس خوفناک وبا کی زد میں آکر اب تک تین لاکھ لوگ موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔کروڑوں لوگ اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ آج بھی ناکافی طبی سہولتوں کی وجہ سے مریض در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ یہاں تک کہ کورونا سے موت کا شکار ہونے والوں کی لاشوں کی آخری رسومات بھی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہیں۔ اس کا سب سے دردناک اور انسانیت سوزنظارہ اترپردیش میں دیکھنے کو ملا ہے جہاں ہزاروں لاشیں گنگا کے ساحل پر تیرتی اور ریت میں دبی ہوئی ملی ہیں۔ ویکسین کی فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ایسے حالات میں حکومت ملک کے مسلم شہریوں کو الگ تھلگ کرنے میںمصروف ہے تاکہ عوام کی توجہ ان مسائل سے ہٹاکر فرقہ وارانہ موضوعات پر مرکوز کی جاسکے اور ایک بار پھر ان کی آنکھوں میں دھول جھونکی جاسکے ۔
قابل غور پہلو یہ ہے کہ سی اے اے کے خلاف سپریم کورٹ میں درجنوں درخواستیں زیرالتوا ہیں اور ابھی عدالت نے ان پر سماعت بھی شروع نہیں کی ہے ، ایسے میں بعنوان دیگراس کے نفاذ کا نوٹیفیکیشن جاری کرنا کہاں تک درست ہے ۔شہریت قانون 1955 کے تحت شہریت کے سرٹیفیکٹ کا اختیار 1983تک ضلع کلکٹروں کے پاس ہی تھا، لیکن آسام سمجھوتے کے بعداسے واپس لے لیا گیا تھا۔ اس بارے میں آخری فیصلہ مرکزی داخلہ سیکریٹری کے پاس محفوظ کردیا گیا تھا، لیکن جائز ویزا ، پاسپورٹ پر آئے اقلیتی باشندوں کے مسائل میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے 2016 میں مرکز نے شہریت قانون مجریہ 1955کی دفعہ 16کے خصوصی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے 16 ضلعوں کے کلکٹروں کو دوبارہ سے وہ اختیارات بحال کردیے ۔ اب اس میں 13ضلعوں کے کلکٹر مزید جڑ گئے ہیں۔ یعنی29 ضلعوں کے کلکٹروں کواس قسم کی درخواستوں پر غور کرکے فیصلہ لینے کا اختیار دے دیا گیا ہے ۔ وزارت داخلہ کے تازہ نوٹیفیکیشن سے ان تمام اندیشوں نے دوبارہ سر اٹھالیا ہے جو شہریت ترمیمی قانون کے پارلیمنٹ سے منظور ہونے کے بعد پیدا ہوئے تھے ۔ سب سے بڑاسوال یہ ہے کہ اس ملک میں دستور کی حکمرانی قایم ہوگی یا پھر ایک متعصب اور تنگ نظر حکومت کا ایجنڈا نافذ ہوگاجو پوری طرح مسلمانوں کو دیوار سے لگانے سے عبارت ہے ۔ انسانی حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے لیے ایک بار پھر صدائے احتجاج بلند کرنے کا وقت آپہنچا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
عمرؓکومعاف کردیں وجود جمعرات 29 جولائی 2021
عمرؓکومعاف کردیں

افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم وجود جمعرات 29 جولائی 2021
افغانستان میں امن اور کابل حکومت کی پروپیگنڈہ مہم

حیسکو قاتل بھی مقتول بھی وجود جمعرات 29 جولائی 2021
حیسکو قاتل بھی مقتول بھی

اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل وجود جمعرات 29 جولائی 2021
اگر اب بھی نہ جاگے۔پیگاسس جاسوسی اسکینڈل

قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی وجود منگل 27 جولائی 2021
قوت گویائی کی بحالی میں کامیابی

کون کہتاہے وجود اتوار 25 جولائی 2021
کون کہتاہے

اپنا دھیان رکھنا وجود اتوار 25 جولائی 2021
اپنا دھیان رکھنا

محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!! وجود هفته 24 جولائی 2021
محکمہ بہبودی آبادی کے گریڈ چودہ کے ملازم کے اختیارات و مراعات!!

اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں وجود هفته 24 جولائی 2021
اپنوں کی حوصلہ شکنی حب الوطنی نہیں

مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے وجود بدھ 21 جولائی 2021
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

مساوات، قربانی اور انعام وجود بدھ 21 جولائی 2021
مساوات، قربانی اور انعام

’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی وجود بدھ 21 جولائی 2021
’’ایف آئی آر‘‘ کے خلاف سندھ حکومت کی قانونی کارروائی

اشتہار

افغانستان
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے وجود هفته 24 جولائی 2021
امریکی جنگی طیاروں کے طالبان کے ٹھکانوں پر فضائی حملے

افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل وجود بدھ 21 جولائی 2021
افغان صدارتی محل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کی ویڈیو وائرل

وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا وجود هفته 17 جولائی 2021
وزیر اعظم عمران خان نے افغان صدر اشرف غنی کو آئینہ دکھا دیا

پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام وجود هفته 17 جولائی 2021
پاکستان سے 10ہزار جنگجو افغانستان میں داخل ہوئے ، اشرف غنی کا الزام

طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا وجود پیر 12 جولائی 2021
طالبان نے افغانستان کے شمالی علاقوں پر قبضہ کرلیا، امریکی میڈیا

اشتہار

بھارت
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت وجود اتوار 25 جولائی 2021
بابری مسجد کی شہادت کے بعد مسلمان ہونے والے محمد عامر کی پر اسرار موت

پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی وجود هفته 24 جولائی 2021
پیگاسس کے ذریعے جاسوسی،نریندر مودی نے غداری کا ارتکاب کیا، راہول گاندھی

بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں وجود بدھ 21 جولائی 2021
بھارت میں کورونا اموات سرکاری اعداد وشمار سے 10 گنا زیادہ ہوسکتی ہیں

افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا وجود پیر 12 جولائی 2021
افغانستان سے بھارتی سفارتکاروں کا انخلائ، سوشل میڈیا پہ مذاق اڑنے لگا

نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ وجود پیر 12 جولائی 2021
نریندر مودی کی کابینہ میں شامل 42فیصدوزراء کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہیں'رپورٹ
ادبیات
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی وجود جمعرات 28 جنوری 2021
عظیم ثنا ء خواں،شاعر اورنغمہ نگار مظفر وارثی کی دسویں برسی منائی گئی

لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟ وجود منگل 20 اکتوبر 2020
لارنس آف عربیا، بچپن کیسے گزرا؟

بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب وجود جمعرات 17 جنوری 2019
بیروت سے شائع کتاب میں اسرائیل نواز بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا چہرہ بے نقاب

14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا وجود پیر 10 دسمبر 2018
14واں بین الاقوامی کتب میلہ کراچی ایکسپوسینٹر میں ہوگا

شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے وجود جمعرات 08 نومبر 2018
شاعر جون ایلیا کو مداحوں سے بچھڑے 16 برس بیت گئے
شخصیات
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے وجود جمعه 08 جنوری 2021
188ارب ڈالر کے مالک ایلون مسک دنیا کے مالدار ترین آدمی بن گئے

ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر وجود پیر 23 مارچ 2020
ہالی وڈ اداکار ادریس البا کی اہلیہ بھی کورونا سے متاثر

امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری وجود منگل 01 جنوری 2019
امریکی میگزین فوربز میں سب سے زیادہ کمانے والی شخصیات کی فہرست جاری

سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں وجود بدھ 26 دسمبر 2018
سال 2018، مختلف شعبہ ہائے حیات کی بہت سی عالمی شخصیات دنیا چھوڑ گئیں

ماضی کی رہنما خواتین وجود پیر 14 مئی 2018
ماضی کی رہنما خواتین