وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

کشمیرکا وکیل کہاں ہے؟

جمعه 05 فروری 2021 کشمیرکا وکیل کہاں ہے؟

یوم یکجہتی کشمیر ہی نہیں اب خود کشمیر بھی ایک رسمی مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ ابتر نظم مملکت نے پاکستان کے حیات وممات سے جڑے معاملات کو بھی نظروں سے اوجھل کردیا۔جب سیاست ہی اوڑھنا بچھونا بن جائے اور سیاست دانوں سے لے کر قومی اداروں کے ذمہ داروں تک سب کی ترجیح اول روزمرہ کی سیاست پر قابو پانا رہ جائے تو قومی مقاصد دھندلانے لگتے ہیں۔ کشمیر کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ شاید ہمیں یاد نہیں رہا کہ بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے اور یہ روایتی جملہ نہیں۔

پاکستان کو جتنے سنہری مواقع اب دستیاب ہیں پہلے کبھی نہ تھے۔ بھارت کا غیر فطری وجود اپنے تاریخی دائرہ کو مکمل کرکے انتشار و افتراق کے فطری انجام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بھارت میں موجود تمام لسانی، مذہبی، سیاسی اور نسلی اکائیاں مرکزی اقتدار میں موجود برہمن انتہاپسندی کے خلاف آمادہئ بغاوت ہے۔ سیکولرازم کے جس نقاب سے یہ کریہہ اور داغدار چہرہ چھپا تھا، وہ نریندر مودی کے اندازِ حکومت سے اب مکمل عریاں ہو چکا۔ کانگریس کا باطن بی جے پی کے ظاہر اور بی جے پی کا ظاہر کانگریس کے باطن میں اس طرح پیوست ہے کہ اب ان مسائل کی سیاسی چارہ جوئی ایک دوسرے کے متبادل سے بھی ممکن نہیں رہی۔ بھارت میں ہرسطح پر بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ انتہا پسند برہمنوں کے عزائم صرف مسلمانوں تک محدود نہیں، یہ سکھوں اور عیسائیوں سمیت کسی دوسرے مذہب کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں۔ یہاں تک کہ خود نچلی ذات کے ہندؤں کو بھی یہ اپنے پاؤں تلے رکھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ دلتوں میں بھی ایک جذبہئ مزاحمت انگڑائیاں لے رہاہے۔ کسانوں کی نئی ولولہ انگیز تحریک مودی حکومت کے خلاف مسلسل برسر پیکار ہے۔ پنجاب اور ہریانہ اس کے اصل میدان ہیں مگر دارالحکومت جانے والے راستوں پر بندشیں لگ چکی ہیں۔ دہلی کا پایہئ تخت لرز رہا ہے۔ مسلمان مختلف حیلوں بہانوں سے مسلسل ہندو حکومت کی چیرہ دستیوں کے شکار ہیں۔ بابری مسجد کے فیصلے نے واضح کردیا ہے کہ عدالتیں بھی ہندو تعصب کی شکار ہیں۔ اور بھارت بھر میں کسی بھی لسانی یا مذہبی اکائی کو ہندو دہشت گردی کے خلاف کوئی دستوری تحفظ حاصل نہیں۔ بھارت میں سب سے زیادہ مسلم آبادی والی آسام ریاست میں ایک بل کے ذریعے دینی مدارس کو یکدم ختم کرکے اسکولوں میں تبدیل کردیا گیاہے۔ شہریت ترمیمی قانون اور این آرسی کا مسئلہ جوں کا توں لٹکتی تلوار بنا ہوا ہے۔ اُدھر اترپردیش میں ”لوجہاد“کے قانون کے تحت مسلمان نشانا بنے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ہمہ پہلو بے چینی ہے جو بھارت بھر میں تمام غیر ہندو شناخت رکھنے والوں میں مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اب بھارت میں غیر مسلم بھی برہمن مظالم کے خلاف پاکستان کی تخلیق کے جواز میں بلند آہنگ ہورہے ہیں۔ بھارتی کرکٹر یوراج سنگھ کے والد یوگراج سنگھ نے کسان تحریک کے ایک دھرنے میں اپنے پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم نے ہمیں تقسیم ہند کے وقت سمجھایا تھا۔ بھارت میں ہر روز ایک نئے پاکستان کی تخلیق کا جواز مہیا ہورہا ہے۔

مودی حکومت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرتے ہوئے 5/ اگست2019ء کو جو اقدام اُٹھایا، اس کا مقصد یہ بتایا گیا تھا کہ اس طرح کشمیر بھارت کا حصہ بن جائے گا۔ مودی کشمیر کو بھارت بنانے پر تُلے تھے مگر اب پورا بھارت کشمیر بن چکا ہے۔نریندری مودی معروضی حقائق سے آنکھیں بند کرکے جبر سے ملک کو ہانک رہے ہیں۔وہ مسلسل مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کی سازشیں کررہے ہیں۔ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کی رواں برس ہونے والی مردم شماری کو 2026ء تک ملتوی کرنے کا فیصلہ سامنے آیا۔ دس سال قبل 2011ء کی مردم شماری کے تحت مقبوضہ وادی میں 68فیصد آبادی مسلمانوں کی تھی، جبکہ 28 فیصد ہندواور 4 فیصد سِکھ اور بُدھ مت کے پیرو کار تھے۔ یہ اعدادوشمار بھی مسلمانوں کی اصل آبادی کو کم کرکے پیش کیے گئے تھے۔ مودی مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد یہاں مسلم آبادی کو اقلیت میں بدلنے کے لیے اسرائیلی طرز پر منظم سازشیں کررہے ہیں۔ مودی سرکار نے نئے ڈومیسائل قانون کے تحت ساڑھے 18 لاکھ سے زائد لوگوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دے دیا ہے۔جن میں گورکھا کمیونٹی کے 6600 ریٹائرڈ فوجی بھی شامل ہیں، 10ہزار سے زائد مزدوربہار سے کشمیر میں بسائے گئے ہیں۔ اسرائیل کی طرز پر الگ کالونیاں پانچ لاکھ کشمیری پنڈتوں کیلئے بنائی جا رہی ہیں۔مودی حکومت صرف آبادی میں اُلٹ پھیر ہی نہیں کررہی بلکہ مقبوضہ وادی کی زمین پر قبضے کو بھی وسیع کررہی ہے۔ اس مقصد کے تحت بھارتی افواج اور کنٹونمنٹ بورڈ ز کووادی میں تعمیرات کے لیے کھلاچھوڑ دیا ہے۔اس مکروہ منصوبے کے تحت ہندو سرمایہ داروں کو 20 ہزار کنال اوربیرونی سرمایہ کاروں کو 2 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی دے دی ہے۔ سیکورٹی فورسز کے لیے خصوصی سرٹیفکیٹ کی شرط ختم کردی ہے چنانچہ بارہمولا میں فوجی کیمپ کے لیے 129 کنال اراضی پر نیا قبضہ کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی افواج پہلے ہی کشمیر میں 53 ہزار 353 ہیکٹرز اراضی پر قابض ہیں۔ آبادی اور زمین کے علاوہ سیاسی حقائق بدلنے کے لیے انتخابی حلقوں کو بھی مسلم ووٹوں کے ارتکاز کو ختم کرنے کے لیے توڑا جا رہا ہے۔ نئی حلقہ بندیاں اور نئے اضلاع کا تعین اسی سازش کے تحت کیا جارہا ہے۔

مودی کے ان ہتھکنڈوں کو لگام دینے کاو قت یہی ہے، جب بھارت بھر میں مختلف حوالوں سے احتجاج جاری ہے۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ہرطرف الگ ہی قسم کی سیاسی مچ مچ مچی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی حکومت صرف ومحض بناؤٹی اقدامات اور اس سے بھی زیادہ بے روح اور بے عمل بیانات پر انحصار کررہی ہے۔ عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں 5/ اگست2019ء کے بھارتی اقدام کے بعد اپنے تئیں کشمیر کے سفیر ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد باسی کڑھی میں نیا جوش دینے کے لیے کشمیر کے وکیل بننے کی پھلجڑی چھوڑ دی گئی۔ اس دوران جمعہ کے روز کالی پٹی کے ساتھ احتجاج کے رسمی دکھاوے بھی سامنے آئے۔کچھ ٹوئٹس، چند بیانات سے ماحول کا رنگا رنگ کرنے کی کوشش بھی ہوئی۔ پھر ٹوئٹر سرکار بے حسی کے شرمناک سناٹے اور بے اعتنائی کی بدبو دار چادر اوڑھ کر کہیں سو گئی۔ فعال مملکتیں اپنے ضمیر اور حق کو سونے یا مرنے نہیں دیتیں۔ چین کی مثال سامنے ہے۔ مودی سرکار نے 5/ اگست کے اقدام کے تحت چین کے زیردعویٰ جن علاقوں سے چھیڑ چھاڑ کی تھیں، آج وہاں چین مسلسل بھارت کی ٹھکائی کررہا ہے۔ چین بھارت کو مختلف محاذوں میں اُلجھا کر اُس کے لیے مسلسل سامانِ ہزیمت پیدا کررہا ہے۔چینی صدر نے مودی سرکار کے 5/ اگست کے اقدام کے بعد اپنے زیردعویٰ علاقوں کے حوالے سے وکیل وسفیر بننے کا اعلان نہیں کیا۔ اپنے ہاتھوں پر کالی پٹیاں باندھنے کا ڈھونگ نہیں رچایا۔ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس میں شیخیاں نہیں بگھاریں۔ بلکہ انتہائی خاموشی سے منصوبہ بندی کی اور بھارت کو عملی جواب دیا۔ پاکستان چین نہیں بن سکتا تو کم ازکم اپنے ڈھونگی اقدامات کی نمائشی قدروقیمت تو برقرار رہنے دے،چلیں اور کچھ نہیں یہ تو بتادیں، کشمیرکا وکیل وسفیر آج کل کیا کررہا ہے؟
٭٭٭٭٭٭

ؔ


متعلقہ خبریں


مضامین
روشن مثالیں وجود هفته 16 اکتوبر 2021
روشن مثالیں

تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش وجود هفته 16 اکتوبر 2021
تعیناتی کو طوفان بنانے کی کوشش

سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے وجود هفته 16 اکتوبر 2021
سنجیدہ لوگ، ماحولیات اور بچے

پنڈورا پیپرز کے انکشافات وجود هفته 16 اکتوبر 2021
پنڈورا پیپرز کے انکشافات

بارودکاڈھیر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
بارودکاڈھیر

نخریلی بیویاں،خودکش شوہر وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
نخریلی بیویاں،خودکش شوہر

آسام میں پولیس کی درندگی وجود جمعه 15 اکتوبر 2021
آسام میں پولیس کی درندگی

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟ وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے امکانات اور مضمرات؟

میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!! وجود جمعرات 14 اکتوبر 2021
میں بھول گیا تھا، وہ چیف آف آرمی اسٹاف ہے!!

امریکا کی آخری جنگ کی خواہش وجود منگل 12 اکتوبر 2021
امریکا کی آخری جنگ کی خواہش

مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
مسلم قیادت کا بحران اوراسد الدین اویسی

کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی وجود منگل 12 اکتوبر 2021
کسانوں کے قتل پر نریندر مودی اور امیت شاہ کی مجرمانہ خاموشی

اشتہار

افغانستان
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
افغانستان کی صورتحال ، امریکی نائب وزیر خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی

طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم وجود جمعرات 30 ستمبر 2021
طالبان کا داعش کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم

طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں وجود جمعه 17 ستمبر 2021
طالبان حکومت کے بعد پاکستان کی افغانستان کیلئے برآمدات دگنی ہوگئیں

امریکا کا نیا کھیل شروع، القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے وجود بدھ 15 ستمبر 2021
امریکا کا نیا کھیل شروع،  القاعدہ آئندہ چند سالوں میں ایک اور حملے کی صلاحیت حاصل کر لے گی،ڈپٹی ڈائریکٹر سی آئی اے

طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق وجود بدھ 15 ستمبر 2021
طالبان دہشت گرد ہیں تو پھر نہرو،گاندھی بھی دہشت گرد تھے، مہتمم دارالعلوم دیوبند کا بھارت میں کلمہ حق

اشتہار

بھارت
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام وجود منگل 12 اکتوبر 2021
بھارت،چین کے درمیان 17 ماہ سے جاری سرحدی کشیدگی پر مذاکرات ناکام

مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں تیزی لانے کا منصوبہ وجود هفته 09 اکتوبر 2021
مزاحمتی تحریک سے وابستہ کشمیریوں کے خلاف بھارتی کارروائیوں میں  تیزی لانے کا منصوبہ

مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
مرکزی بینک آف انڈیاا سٹیٹ بینک آف پاکستان کا 45 کروڑ 60 لاکھ کا مقروض نکلا

بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا وجود جمعه 08 اکتوبر 2021
بھارت، مسجد میں قرآن پڑھنے والا شہید کردیاگیا

شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے وجود جمعرات 07 اکتوبر 2021
شاہ رخ کے بیٹے آریان کو 20 سال تک سزا ہوسکتی ہے
ادبیات
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو! وجود جمعه 17 ستمبر 2021
تاجکستان بزنس کنونشن میں عمران خان پر شعری تنقید، اتنے ظالم نہ بنو،کچھ تو مروت سیکھو!

طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ وجود منگل 24 اگست 2021
طالبان کا ’بھگوان والمیکی‘ سے موازنے پر منور رانا کے خلاف ایک اور مقدمہ
شخصیات
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیرخان کے لیے دو قبروں کا انتظام، تدفین ایچ8 میں کی گئی

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِجنازہ ادا کردی گئی

ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین تحریر کیے

ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
ڈاکٹرعبد القدیر خان نے8 سال کی قلیل مدت میں ایٹمی پلانٹ نصب کیا،ساری دنیا حیرت زدہ رہی

آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا وجود اتوار 10 اکتوبر 2021
آزاد کشمیرکے سابق صدر اور وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کی کوٹلی میں نماز جنازہ ادا