وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

خطرہ ہے مولاناکو،خطرے میں عمران نہیں

جمعرات 31 دسمبر 2020 خطرہ ہے مولاناکو،خطرے میں عمران نہیں

گزشتہ دنوں وفاقی وزیر علی زیدی نے اپوزیشن الیون پر پھبتی کستے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’اپوزیشن کے پانچ رہنما ،ابھی اپنے کنفرم استعفے اسپیکر کی خدمت میں پیش کریں اور ہم سے عمرے کے ٹکٹ بطور انعام فوری طور پر حاصل کرلیں‘‘۔عوامی نقطہ نظر سے علی زیدی کی سیاسی پیشکش بظاہر نفع بخش معلوم ہوتی ہے مگر یہ پیشکش اپوزیشن رہنماؤں کے حسبِ حال اور حسب خواہش ہرگز نہیں ہے ۔ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اگر وفاقی وزیر علی زیدی تھوڑی سی مزیدسیاسی وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کنفرم استعفوں کے عوض عمرے کے بجائے لندن یا واشنگٹن کے ٹکٹ دینے کا اعلان کرتے تو عین قرین قیاس تھا کہ اپوزیشن کے بہت سے رہنما اُن کی اِس پرکشش سیاسی پیشکش کو بلاکسی حیل و حجت قبول فرمالیتے ،خاص طور مسلم لیگ ن کی نائب صدر محترمہ مریم نواز نے تو حکومت اور ریاستی ادروں کے خلاف احتجاج کا سارا تام جھام سجایا ہی فقط اس لیے ہے کہ کسی طرح اُنہیں لندن واپسی کا ٹکٹ حاصل ہوسکے ۔مگر شومئی قسمت کہ سرِ دست تحریک انصاف کی حکومت کنفرم استعفوں کے عوض لندن یا واشنگٹن کا ٹکٹ دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی ،لہٰذا غالب امکان یہ ہی ہے کہ اپوزیشن رہنماؤں کے استعفے ایک جیب سے دوسری جیب میں ہی خجل خوار ہوتے رہیں گے اور کبھی بھی منظوری کے لیے اسپیکر کی میز تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ لطیفہ تو یہ ہے کہ سیاسی غلطی سے جن دو اپوزیشن اراکین کے استعفے قومی اسمبلی کے اسپیکر تک پہنچ گئے ہیں ،اُنہیں بھی واپس ہتھیانے کے لیے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی جانب سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا۔

دراصل مینارِ پاکستان لاہور میں اپوزیشن الیون کے تاریخی فلاپ ترین جلسے نے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی صفوںمیں بے شمار دراڑیں ڈال دی ہیں اور سیاسی نفاق کی یہ دراڑیں اس قدر کشادہ اور گہری ہیںکہ اِن کی مرمت یابخیہ گری کرپانا ،اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے لیے کم و بیش ناممکن ہی سمجھئے۔ویسے بھی مولانا کی اپنی جماعت میں بھی ،خود ان کے خلاف یکے بعد دیگرے چہار جانب سے علم ِ بغاوت بلند ہونا شروع ہوگئے ہیں ۔ نیز پاکستان پیپلزپارٹی بھی سندھ حکومت کو گرانے کے اپنے سابقہ بیانیے سے مکمل طور پر رجوع فرماچکی ہے۔ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں جاری ٹوٹ پھوٹ اور شکست و ریخت کی شدت کا درست اندازہ لاڑکانہ میں بے نظیر بھٹو شہید کی برسی کے موقع پر منعقدہ جلسہ سے بھی بخوبی لگایا جاسکتاہے۔

بادی النظر میں لاڑکانہ کا یہ جلسہ پی ڈی ایم کا زبردست سیاسی پاور شو بھی بن سکتا تھا ،اگر اس جلسے میں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن شرکت کرنے کی زحمت فرمالیتے ۔لیکن مولانا فضل الرحمن کو جس سیاسی مصروفیت نے لاڑکانہ آنے سے روکے رکھا ،وہ لاڑکانہ میں جمعیت علمائے اسلام ف کی جملہ قیادت کا بے نظیر بھٹو کے مزار پر زبردست احتجاجی مظاہر ہ کرنے کا اندیشہ تھا ۔ ذرائع کے مطابق لاڑکانہ میں جے یو آئی ف اور پاکستان پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت کے درمیان من پسند افسران کی تعیناتی کے معاملے پر اختلافات اس قدر شدید ہوگئے تھے کہ جے یو آئی ف کے مقامی رہنماؤں نے مولانا فضل الرحمن پر واضح کردیا تھا کہ اگر انہوں نے پیپلزپارٹی کی قیادت سے اُن کے مطالبے کو منظور کروائے بغیر لاڑکانہ میں منعقدہ پیپلزپارٹی کے جلسہ میں شرکت کرنے کی کوشش کی تو وہ اُن کی آمد کا ذرہ برابر بھی لحاظ کیے بغیر بے نظیر بھٹو شہید کے مزار پر احتجاجی دھرنا دے دیں گے۔ایک لمحہ کے لیے ذرا سوچئے کہ اگر مولانا فضل الرحمن کی موجودگی میں بے نظیر بھٹو کے مزار پر جے یو آئی ف کی مقامی قیادت کی جانب سے احتجاجی مظاہر ہوجاتا تو پی ڈی ایم کا مردہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دفن ہونے میں کتنی دیر لگنا تھی؟۔

 

بظاہر مولانا فضل الرحمن نے سیاسی بصیرت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو کی برسی میں شرکت نہ کرکے اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کو یقینی سیاسی موت سے فی الحال تو بچالیا ہے۔ لیکن دوسری جانب اُن کے اس اقدام سے بلاول بھٹو زرداری کے دل میں بداعتمادی کی ایک سخت گرہ ضرور لگ گئی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام ف ایک چھوٹے سے سیاسی و انتظامی معاملے پر اُن کی والدہ مرحومہ کے مزار پر احتجاجی مظاہرہ کی دھمکی دے سکتی ہے تو وہ مستقبل میں سیاسی مفادات کے لالچ میں پیپلزپارٹی کے ساتھ کیا کچھ نہیں کرسکتی؟۔جبکہ پیپلزپارٹی کے جملہ کارکنان اور رہنماؤں میں بھی اس دھمکی کو لے کر جمعیت علمائے اسلام ف کی مقامی و مرکزی قیادت کے خلاف شدید ترین غم و غصہ پایا جاتاہے ۔پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں کا تو یہ بھی خیال ہے کہ پی ڈی ایم کو قائم رکھنے کے لیے اَب ضروری ہوگیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اتحاد کی صدارت سے علیحدہ کردیا جائے ۔جبکہ سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت بھی یہ ہی رائے رکھتی ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن کی اپنی جماعت میں انہیں قیادت سے ہٹانے کے لیئے کوئی ’’سیاسی کوششیں‘‘ تیز ہوجاتی ہے تو پھر مولانا کا پی ڈی ایم کی صدارت پر فائز رہنا بھی انتہائی مشکل ہوجائے گا۔

اپوزیشن الیون کی سیاسی خستہ حالی اور بدحالی دیکھ کر صاف نظر آرہاہے کہ سینٹ الیکشن سے پہلے پہلے پی ڈی ایم اتحاد پارہ پارہ ہوکر راہی ملک عدم ہوجائے گا اور مولانا فضل الرحمن ماضی میں کیے گئے آزادی مارچ کی طرح مستقبل کے لانگ مارچ کرنے کے لیے بھی’’ ٹک ٹک دیدم ،دم نہ کشیدم ‘‘ کے مصداق حکومت کے خلاف اکیلے ہی کھڑے رہ جائیں گے۔ پچھلی بار تو پھر بھی مولانا نے امانت کا ’’سیاسی وعدہ ‘‘لے کر اپنی عزتِ سادات بچالی تھی لیکن اِس بار مولانا خود کو نیب کی ممکنہ حراست سے ہی بچالیں تو بڑی سیاسی بات ہوگی ۔ اس لیے مولانا فضل الرحمن کے لیے مخلصانہ مشورہ تو وہی ہے جو وفاقی وزیر علی زیدی نے دیا ہے کہ اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کی قیادت سے ازخود ہی’’کنفرم استعفا ‘‘دے کر مفت میں عمرہ کا ٹکٹ حاصل کرلیا جائے ۔کیونکہ لاڑکانہ کے جلسے کے بعد تو بچہ بچہ جان گیا ہے کہ ’’اَب خطرہ ہے مولاناکو، خطرے میں عمران نہیں ‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں