وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

اقتدار کی منتقلی تشویشناک مرحلہ ہے ؟

جمعرات 19 نومبر 2020 اقتدار کی منتقلی تشویشناک مرحلہ ہے ؟

نکولس کرسٹوف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہمان کالم

صدارتی الیکشن کے بعد اقتدار کی منتقلی دنیا بھر میں ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ یہ بات اس وقت اور بھی صادق آتی ہے جب رخصت ہونے والا صدر جانے سے انکار کر دے اور الٹا جاتے جاتے امریکا کے محکمہ دفاع کے اعلی ترین حکام کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دے۔ صدر ٹرمپ نے وزیر دفاع مارک ایسپر اور قومی سلامتی کے کئی اعلیٰ حکام کو برطرف کر دیا ہے۔ پینٹاگون میں انہوں نے چار نئے اعلیٰ حکام کا تقرر بھی کر دیا ہے جن میں ایک ایسا شدت پسند بھی شامل ہے جس نے سر عام سابق صدر براک اوباما کو ایک ’’دہشت گرد لیڈر‘‘ قرار دیا تھا۔ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر کے اعتراض کے باوجود ایک اور سخت گیر افسر کا تقرر کر دیا گیا جبکہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے دو سینئر افسروں کو ملازمت چھوڑنے پر مجبور بھی کیا گیا ہے۔ یہ افواہیں بھی سرگرم ہیں کہ صفائی کا یہ عمل ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر ویرے اور سی آئی اے ڈائریکٹر جینا ہیسپل کی برطرفی تک جاری رہ سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کے سب سے بڑے بیٹے ٹرمپ جونیئر نے ہیسپل کو ’’تربیت یافتہ جھوٹا‘‘ قرار دیا تھا۔

ان نئی تقرریوں سے ایران کے خلاف جارحانہ اقدام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اقتدار کی منتقلی کے نازک مرحلے کے دوران اس طرح کی مہم جوئی سے قومی سلامتی کو یقینا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک ریٹائرڈ نیٹو کمانڈر ایڈمرل جیمز سٹاوریڈیز کہتے ہیں ’’صدر ٹرمپ نے پینٹا گون میں آپریشنل سویلین لیڈرشپ کا عملی طور پر دھڑن تختہ کر دیا ہے۔ یہ پانچوں اعلیٰ حکام عملی طور پر بیجنگ، ماسکو، تہران اور پیانگ یانگ کے نشانے پر ہیں۔ مجھے تشویش ہے کہ ایرانی یا شمالی کورین قیادت کسی کج فہمی کی شکار نہ ہو جائے کہ اس وقت جب امریکا کوئی مناسب رد عمل دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے‘ وہ خلیج سے گزرتے ہوئے کسی آئل ٹینکر پر قبضہ نہ کر لیں یا شمالی کوریا کوئی نیا بیلسٹک میزائل ٹیسٹ نہ کر گزرے تا کہ نئی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران اسے ایک نفسیاتی برتری حاصل ہو جائے۔ اسی طرح چین بھی ہانگ کانگ یا تائیوان کے معاملے میں زیادہ جارحانہ اقدام کر سکتا ہے جبکہ روس امریکا کے خلاف کوئی نیا سائبر حملہ کرنے کی کوشش کر سکتا ہے‘‘۔
سب سے زیادہ رسک ایشیا میں ہو سکتا ہے۔ شمالی کوریا نے ابھی تک اس بات کا عملی مظاہرہ نہیں کیا کہ اس کے پا س کوئی ایسا وار ہیڈ موجود ہے جو زمینی فضا میں داخل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور صدر کم جونگ آن یہ سوچ سکتے ہیں کہ ایسا کرنے کے لیے اس سے مناسب وقت کوئی نہیں ہے؛ چنانچہ جوبائیڈن کے پاس ان کے اس اقدام کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں ہو گا۔ شاید شمالی کوریا یہ سمجھتا ہے کہ جب تک وہ پْرامن رہے گا اور معقول رویے کا مظاہرہ کرے گا‘ کوئی اس کی طرف دھیان نہیں دے گا اور اسے اسی وقت ردعمل ملتا ہے جب وہ عالمی امن کو تباہ کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔

تائیوان کے خلاف کسی بھرپور جارحیت کا امکان نہیں ہے کیونکہ اسے وارننگ دینے کے لئے سمندرکی تہہ میں بچھی ہوئی ٹیلی کمیونیکیشن تاروں کو کاٹنا ہی کافی ہے جو تائیوان تک انٹرنیٹ لے کر جاتی ہیں۔ سائبر اٹیک کے ذریعے اس کی لائٹس کو بجھا کر یا آئل ٹینکرز کا راستہ روک کر بھی کام نکالا جا سکتا ہے جس سے انویسٹرز کو وارننگ مل جائے گی اور ا سٹاک مارکیٹ بھی بری طرح متاثر ہو گی۔ چینی صدر کے نقطہ نظر سے تائیوان کو سبق بھی مل جائے گا؛ تاہم تصادم میں تیزی سے اضافہ بھی ہو سکتا ہے اور تائیوان چاہے گا کہ چین کو ایسی مہم جوئی کی بھاری قیمت چکانا پڑے۔ سٹینفورڈ کی چینی امور کی ماہر ایلزبتھ کہتی ہیں ’’چین یہ سوچ سکتا ہے کہ تائیوان کے ایک بیرونی جزیرے پر چڑھائی کرنے کے لیے اب موزوں وقت ہے لیکن اس کے لیے صدر جو بائیڈن کے منصب صدارت سنبھالنے کے بعد چین کی طرف امریکا کے اعتدال پسند موقف کی قربانی دینا پڑے گی‘‘۔

چین کو اس امر کو بھی پیش نظر رکھنا ہو گا کہ کسی قسم کی اشتعال انگیزی الٹا اس کے اپنے گلے بھی پڑ سکتی ہے جس کے نتیجے میں تائیوان امریکا کے مزید قریب ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ 2022ء میں بیجنگ میں ہونے والے موسم سرما اولمپکس کے بائیکاٹ کے لیے بھی اس پر دبائو بڑھ جائے گا۔ ایک اور حوصلہ شکن اشارہ یہ بھی ہے کہ حال ہی میں چین ایک سرحدی تنازع پر بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کی قربانی دینے پر بھی آمادہ نظر آیا۔جہاں تک ایران کی بات ہے تو زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ اگر پینٹاگون میں حال ہی میں مقرر کیے گئے حکام کی طرف سے کسی قسم کی اشتعال انگیزی نہ کی گئی تو وہ جو بائیڈن کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات کی شروعات کرنے کی امید پر مثبت رویے کا مظاہرہ کرے گا۔ بالفاظ دیگر خطر ناک اشتعال انگیزی شروع ہونے کا زیادہ امکان ایران کے بجائے امریکا کی طرف سے ہے۔ایک اور خطرہ اسرائیل کی طرف سے ہے‘ جو یہ سوچ سکتا ہے کہ ا مریکا کی مدد سے ایران کے ایٹمی ہتھیاروں پر حملہ کرنے کے لیے اس کے پاس یہ آخری دو مہینے بچے ہیں۔ ایسے کسی بھی ممکنہ اقدام سے خطے کا امن تہ و بالا ہو جائے گا اور پھر جوبائیڈن کے لیے ایران کے ساتھ کسی قسم کا جوہری معاہدہ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے صدر رابرٹ مالے کہتے ہیں کہ ایک عمومی خطرہ یہ ہے کہ اب حکومتیں کوئی بھی جارحانہ اقدام کرنے کو ترجیح دے سکتی ہیں جبکہ امریکا کو اپنے حالات کی سنگینی کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر ایتھوپیا کے صدر نے اپنے طور پر ایک خانہ جنگی کا آغاز کر دیا ہے، دوسری طرف آذربائیجان کا نگورنو کاراباخ کے علاقے میں آرمینائی لوگوں کے خلاف مسئلہ چل رہا ہے؛

دوسری جانب دنیا کے 15 ممالک نے مل کر دنیا کا سب سے بڑا تجارتی اتحاد قائم کیا ہے جو عالمی معیشت کا تقریباً ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔ ریجنل کمپری ہینسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) میں جنوبی کوریا، چین، جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت 10 جنوب مشرقی ایشیائی ممالک شامل ہیں۔ اس معاہدے کو چین کے خطے میں بڑھتے اثر و رسوخ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس معاہدے میں امریکا کو شامل نہیں کیا گیا جس نے 2017ء میں ایک مخالف ایشیا پیسفک تجارتی معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے 2016ء میں منصبِ اقتدار سنبھالنے کے کچھ ہی عرصے بعد ٹرانس پیسفک پارٹنرشپ سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا۔ اس معاہدے میں 12 ممالک شامل تھے اور اسے سابق امریکی صدر براک اوباما کی حمایت حاصل تھی‘ وہ اس اتحاد کے ذریعے چین کی خطے میں بڑھتی طاقت کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے۔

آزاد معیشت کا یہ نیا اتحاد امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے اتحاد کے علاوہ یورپی یونین سے بھی بڑا تجارتی اتحاد ہے۔ آر سی ای پی کے اراکین ممالک عالمی آبادی کا تقریباً ایک تہائی ہیں جبکہ ان کی کل پیداوار مجموعی عالمی پیداوار کا 29 فیصد ہے؛ تاہم ہمارے پاس اس طرح کے کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں کہ ان تمام واقعات کی ٹائمنگ واشنگٹن کے حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے وضع کی گئی تھی لیکن اگر آپ کوئی آمرانہ ذہنیت کے حامل ہوں تو جنگ شروع کرنے کے لیے یہ اتنا برا وقت بھی نہیں ہے۔ رابرٹ مالے کہتے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی کا وقت خارجہ پالیسی کے لیے سنگین خطرات لے کر آتا ہے مگر اقتدار کی جس منتقلی میں ڈونلڈ ٹرمپ جیسا شخص ملو ث ہو تو وہا ں یہ خطرات مزید کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں