وجود

... loading ...

وجود

جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟

پیر 26 اکتوبر 2020 جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟

شاید ہی اس دنیا میں بسنے والے کوئی مسلمان ایسا ہوگا جو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈاآرڈرن سے واقفیت نہ رکھتا ہو ۔ بلکہ ہمارا تو گمان ہے کہ اگر کسی مسلمان کو جیسنڈاآرڈرن کا نام بھی معلوم نہیں ہوگا تو وہ بھی یقینا جیسنڈاآرڈرن کی تصویر دیکھ کر ضرور پہچان لے گا کہ یہ ہی وہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم ہے۔ جس نے ایک غیر مسلم ملک کی غیر مسلم وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی رویے ’’اسلامو فوبیا ‘‘ کے خلاف بھرپور انداز میں نہ صرف دنیا بھر میں آواز اُٹھائی بلکہ اپنے ملک میں رہائش پذیر مسلم کمیونٹی کے خلاف پنپنے والے اسلامو فوبیا کے موذی عفریت کا حکومتی طاقت سے خاتمہ بھی یقینی بنایاتھا۔یاد رہے کہ جسینڈا آرڈن نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مسجدوں میں 50 نمازیوں کو شہید اور 48 سے زائد معصوم افراد کو زخمی کرنے والے آسٹریلوی نژاد دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو منطقی انجام تک پہنچا کرعالمگیر شہرت حاصل کی تھی۔خاص طور پر اس اندوہناک واقعہ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مسلمان شہداء کے لواحقین کی دل جوئی اور مثالی حسن سلوک کے مناظر نے جیسنڈاآرڈن کومسلمانوں میں زبردست مقبولیت اور پذیرائی بخشی تھی ۔
واضح رہے کہ جسینڈا آرڈن کا مکمل نام جسینڈا کیٹ لورل آرڈرن ہے ۔یہ 26 جولائی 1980 کو نیوزی لینڈ کے شہر ہیملٹن میں پیدا ہوئیں تھیں ۔ ان کے والد پولیس افسر تھے جبکہ ان کی والدہ ایک چھوٹے سے نجی اسکول میں کیٹرنگ اسسٹنٹ کا کام کرتی تھیں۔ جسینڈا آرڈن یونیورسٹی آف وائے کاٹو سے سیاست اور تعلقات عامہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد لندن منتقل ہوں گئیں تھیں ۔جہاں انہوں نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ پالیسی مشیر کے طور پر بھی کئی برس کام کیا تھا۔ برطانیا میں ٹونی بلیئر جیسے زیرک سیاست دان کی سرپرستی میں عالمی سیاست کے رموز کی عملی تربیت حاصل کرنے کے بعد جسینڈا آرڈن واپس اپنے وطن آگئیں اور نیوزی لینڈ کی معروف سیاسی جماعت لیبر پارٹی میں بطور کارکن شمولیت اختیار کرلی ۔ جسینڈا آرڈن نے 2008 میں نیوزی لینڈ کی سب سے کم عمر پارلیمانی رکن منتخب ہوکر ایک نئی تاریخ رقم کردی۔اس کے بعد جسینڈا آرڈن کی طویل سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوگیااور کئی سالوں کی کڑی محنت کے بعد باالآخر جسینڈا آرڈن 26 اکتوبر 2017 کو نیوزی لینڈ فرسٹ اور لیبر پارٹی کے اتحاد سے بننے والی مخلوط حکومت کی وزایراعظم بننے میں کامیاب ہوگئیں۔ 38 سالہ آرڈرن نیوزی لینڈ کی 150 سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر رہنما اور وہ ملک کی تیسری خاتون وزیر اعظم ہیں۔دلچسپ با ت یہ ہے کہ جسینڈاآرڈن جون 2018 میں اپنے دور حکومت میں بچے کو جنم دینے والی دوسری حکمران خاتون بن گئیں۔ اس سے پہلے یہ اعزاز صرف پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے پاس تھا، جن کی بیٹی بختاور کی پیدائش اس وقت ہوئی تھی، جب وہ پاکستان کی وزیراعظم تھیں۔اس کے علاوہ جسینڈا آرڈن کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے تین ماہ کے بچے کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والی دنیا کی اولین رہنما بھی ہیں۔
دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھنے والی خاتون سیاسی رہنما اور مسلمانوں کی ہردلعزیز شخصیت اِسی جیسنڈا آرڈرن کی سیاسی جماعت ’’لیبر پارٹی ‘‘ نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے بعد جیسنڈا آرڈرن کے دوسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ اس مرتبہ نیوزی لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میںجیسنڈا آرڈرن کا مقابلہ دائیں بازو کی ایک قدامت پسند اور مسلم مخالف سیاسی رہنما جوڈتھ کولنز سے تھا۔جنہوں نے اپنی انتخابی مہم میں جیسنڈا آرڈرن کی مسلم دوستی رویے کو انتہائی منفی انداز میں پیش کر کے نیوزی لینڈ کی عوام کونسل پرستی کے سیاسی نعرے کے تحت انتخابات میں لبھانے کی سر توڑ کوشش کی تھی ۔ لیکن نیوزی لینڈ کی عوام نے انتخابات میں قدامت پسندی کے مہلک نظریے کو یکسر مستردکرتے ہوئے اپنے سارے ووٹ جیسنڈا آرڈرن کے اسلامو فوبیا مخالف نظریے کے حق میں ڈال کر نیوزی لینڈ کے شاندار مستقبل کی نئے سرے سے بنیاد رکھ دی ہے۔
انتخابات کے ابھی تک آنے والے نتائج کے مطابق نیوزی لینڈ کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں جسینڈا آرڈن کی جماعت لیبر پارٹی نے 50 فیصد نشستیں حاصل کرلی ہیں اور ان کے مدمقابل جوڈتھ کولنز کی جماعت لیبر پارٹی نے 27 فیصد نشستیں حاصل کی ہیں ۔جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر 8 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اس طرح نیوزی لینڈ کی سیاسی وانتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمان میں بائیں بازو کے اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ورنہ اس سے قبل ماضی میں ہمیشہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو معمولی برتری سے ہی اقتدار ملتا رہاہے اور پچھلے انتخابات میں بھی جیسنڈا آرڈرن معمولی برتری حاصل کرکے چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ملاپ سے بڑی مشکل سے ایک مخلوط حکومت قائم کرسکیں تھی۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں ہر تین سال کے بعد عام انتخابات ہوتے ہیں۔اِن انتخابات میں ایم ایم پی سسٹم کے تحت رائے دہندگان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی پارٹی اور اپنے انتخابی حلقے کے رکن اسمبلی کے لیے دو ووٹ ڈالیں۔نیوزی لینڈ میں حکومت سازی کے لیے پارلیمان کی 61 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ضروری ہوتاہے ورنہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانا پڑتی ہے۔چونکہ مخلوط حکومت سیاسی اتحادیوں کے راضی بہ رضا رکھے بغیر کامیابی کے ساتھ چلانا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔لہٰذا کچھ ایسی ہی مخدوش سیاسی و انتظامی صورت حال کا باربار سامنا اپنے دورِ اقتدار میں جیسنڈا آرڈرن کو بھی کرنا پڑا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ پہلا موقع ہے کہ جب بائیں بازوسے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت کی رہنما دوسری بار بھی نہ صرف باآسانی سے وزیراعظم بن جائیں گی بلکہ جسینڈاآرڈن کو دیگر جماعتوں کی سیاسی بیساکھیوں کا سہار بھی مستعار لینا نہیں پڑے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں نیوزی لینڈ کی عوام اپنے پسندیدہ امیدوار کا انتخاب کرنے کے علاوہ دو عدد ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے لیئے کہا گیا تھا۔ پہلا ریفرینڈم ’’مریض کو آرام دہ موت کا حق‘‘ اور دوسرا ’’بھنگ کو قانونی حیثیت دینا‘‘ تھے۔پہلے ریفرنڈم کا بنیادی مقصد ملک میں طویل عرصے سے بیمار یا لاعلاج مریضوں کی جانب سے موت کی درخواست پر انھیں مرنے کا قانونی اور آئینی اختیار دیا جانا ہے۔ اس سوال پر نیوزی لینڈ کے ہر باشندے کے لیئے ووٹ ڈالنا لازمی تھا۔ جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اگر 50 فیصد سے زیادہ لوگ ’’ہاں‘‘ میں ووٹ ڈالتے ہیں تو یہ نیوزی لینڈ کے قانون کا حصہ بن جائے گا اور اس پر عمل در آمد شروع ہو جائے گا۔ریفرنڈم کا دوسرا سوال یہ تھا کہ آیا بھنگ کو ملک بھر میں تفریح کے لیے استعمال کی عام اجازت دی جائے یا نہیں۔تاہم اس سوال پر ووٹ دینا نیوزی لینڈ کے ہر شہری کے لیے لازم نہیں تھا ۔ جس کا معنی یہ ہیں ہے کہ اگر لوگوں کی اکثریت ’’ہاں‘‘ پر ووٹ دے دیتی ہے تو بھی یہ فوری طور پر اُس وقت تک قانون نہیں بن سکتا ہے۔جب تک کے آنے والی نئی حکومت اس قانون کی پارلیمان سے توثیق نہ حاصل کر دے ۔انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے مگر دونوں ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کا اعلان 30 اکتوبر کو کیا جائے گا۔
نیوزی لینڈ کے حالیہ انتخابات میں جسینڈا آرڈن کی فقیدالمثال کامیابی کو عالمی ذرائع ابلاغ نے نمایاں شہہ سرخیوں میں جگہ دی ہے ۔ کیونکہ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جسینڈا آرڈن کے دوسری بار بھرپور سیاسی قوت کے ساتھ وزیراعظم بننے سے نیوزی لینڈ کے سیاسی مستقبل پر انتہائی دورَس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جبکہ اس جیت کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ میں قدامت پسند سیاسی نظریات کی حامل جماعتوںکا مستقبل انتہائی مخدوش ہوگیا ہے اور انہیں آنے والے ایام میں مزید سیاسی و سماجی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتاہے۔ صرف یہ ہی نہیں دنیا بھر میں جسینڈا آرڈن کی انتخابی کامیابی کو عالمی نسل پرست سیاست کے خلاف جمہوریت پسند نظریات رکھنے والوں کی ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھا جارہاہے۔یاد رہے کہ جسینڈا آرڈن نے سفید فام نسل پرست نظریے کی سیاسی پشت پناہی کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک بار کہا تھا کہ ’’دنیا میں نسل پرست نظریے رکھنے والوں کے لیئے کوئی جائے امان نہیں ہے‘‘۔ نیز جسینڈا آرڈن کے دوبارہ سے منصبِ اقتدار پر فائز ہونے سے تارکین وطن کو بھی نیوزی لینڈ میں بے شمار آسانیاں اور سہولیات میسرآجانے کی اُمید کی جارہی ہے۔ کیونکہ جسینڈا آرڈن نے ہمیشہ ہی سے نیوزی لینڈ میں تارکین وطن کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی ہے۔شاید یہ ہی وجہ کے نیوزی لینڈ کی سرزمین کو تارکین وطن کے لیے جنت بھی کہا جاتاہے۔بہرکیف جسینڈا آرڈن میں وہ سب خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو ایک عالمی سیاسی رہنما میں ضرور ہونی چاہئیں۔اس لیے توقع کی جاسکتی ہے کہ عالمی سیاست کامستقبل ترش و جارح مزاج ،نسل پرستانہ نظریات کے حامل سیاسی رہنماؤں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ ،نریندر مودی اور نیتن یاہوکے بجائے، جسینڈا آرڈن ، جسٹن ٹروڈ اور عمران خان جیسے پرکشش، ہردلعزیز اور معتدل مزاج عالمی رہنماؤں کے ہاتھ میں زیادہ محفوظ و مامون ہوگا۔لہٰذا جسینڈا آرڈن کی جیت، اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ دنیا کا جھکاؤ ایک بار پھر سے اِمن پسند اور صلح جو سیاسی رہنماؤں کے حق میں پلٹ رہاہے اور اسلاموفوبیا جیسے نسل پرستانہ ،منفی نظریات کے حامل عالمی رہنما ؤں کا سیاسی مستقبل رفتہ رفتہ تاریک سے تاریک تر ہوتا جارہاہے۔ کرہ ارض کے بہتر مستقبل کے لیئے ضروری ہے کہ مثبت تبدیلی کا یہ عمل بدستور جاری رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی وجود - هفته 11 اپریل 2026

امریکی وفد کی قیادت جے ڈی وینس کریں گے، امریکی ،ایرانی حکام کی بالمشافہ ملاقات کا امکان ایران کا وفد وزیر خارجہ عراقچی اور اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں شریک ہوگا اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی سے متعلق اہم مذاکرات کا پہلا دور آج ہوگا، دونوں ممالک ے ا...

اسلام آباد دنیا کی توجہ کا مرکز ، ایران امریکا مذاکرات کی میز بچھ گئی

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات وجود - هفته 11 اپریل 2026

فول پروف سکیورٹی کے انتظامات ،ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع ، نئی چوکیاں بن گئیں،گاڑیوں کے داخلے پر پابندی ،اسکول بند وفاقی دارالحکومت میں بڑی بیٹھک کی بڑی تیاری، فول پروف سکیورٹی کے انتظامات کئے گئے ہیں۔ریڈزون سرکل میں پانچ کلومیٹر کی توسیع کر دی گئی، نئی چوکیاں بھی ب...

ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں پولیس، فوج، رینجرز تعینات

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ وجود - هفته 11 اپریل 2026

حکومت سندھ نے مارکیٹس، ہوٹلز، شادی ہالز کے نئے اوقات کار نافذکر دیے ،کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو سندھ پولیس کی مدد سے اپنے علاقوں میں احکامات پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت شادی ہالزکو رات 8 سے 12 بجے تک تقریبات کی اجازت ، ہوٹلز اور فوڈ آؤٹ لیٹس شام 7 سے رات 11:30بجے تک کھلے ...

کفایت شعاری پالیسی نافذ،سندھ میںدکانیں اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کا فیصلہ

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی وجود - هفته 11 اپریل 2026

جماعت اسلامی کی پی پی رکن کی نشست اپوزیشن لیڈر سے آگے رکھنے پر تنقید جھگڑے پر اجلاس کچھ دیر کیلئے روکنا پڑا،میئر کراچیکی اراکین کو روکنے کی کوشش کراچی میں کے ایم سی سٹی کونسل اجلاس کے دوران جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی کے ارکان میں ہاتھا پائی ہوگئی، جھگڑے کے باعث اجلاس کچھ دی...

سٹی کونسل اجلاس ، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی ارکان میں ہاتھا پائی

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان وجود - هفته 11 اپریل 2026

ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے، پیٹرول کی نئی قیمت 366 روپے مقرر کردی پاکستان میں پیٹرول 55 روپے، ڈیزل 100 روپیفی لیٹر سستا ہو سکتا تھا، ذرائع وزیر اعظم کا پٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا کرنے کا اعلان، ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 385 روپے مقرر، پٹرول کی نئی فی لیٹر قیمت 36...

پیٹرول 12 روپے، ڈیزل 135 روپے سستا ،وزیر اعظم کا اعلان

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی وجود - هفته 11 اپریل 2026

مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا پوری دنیا مجھے جانتی ہے، اب دہشتگرد اسمگلر سے بات کرپشن پر آگئی ہے، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اگر کرپشن کے ثبوت ہوتے تو ابھی تک میرے ہاتھ میں ہتھکڑیاں لگ چکی ہوتیں، جلسہ ڈیلے کرنے کے سوال پر ردعمل وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پ...

عمران خان کو اڈیالہ جیل سے شفٹ کیاتوپورا پاکستان جام کردیں گے، سہیل آفریدی

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی وجود - هفته 11 اپریل 2026

حزب اللہ طبی گاڑیوں،سہولیات کو وسیع پیمانے پر فوجی مقاصد کیلئے استعمال کر رہا ہے اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اس دعوے کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا اسرائیلی فوج کے ترجمان ایویچی ادری نے لبنان میں ایمبولینسوں کو نشانہ بنانے کا عندیہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ طب...

لبنان میںاسرائیلی فوج کی ایمبولینسوں پر حملوں کی دھمکی

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبلدونوں ممالک کو رضا مند کر لیا،ٹرمپ کا ایران پر حملے مؤخر کرنے کا اعلان، دو ہفتوں کی جنگ بندی پر آمادگی امریکا اور ایران نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسلام آباد میں مذاکرات پر رضامند ہو گئے۔ واضح رہے کہ امریکا...

امریکا ، ایران میں2ہفتے کی جنگ بندی،مذاکرات 10 اپریل سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

محمود اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس،ملکی سیاسی صورتحال، مشرقِ وسطیٰ کشیدگی اور بلوچستان پر تفصیلی غور ، ایران اور امریکا جنگ بندی کا خیر مقدم ،لبنان، شام اور غزہ مسائل کا حل ناگزیر قرار بلوچستان میں آپریشن بند کرنے، بلوچ رہنماؤں کی رہائی، عمران خان سے ملاقاتوں کی بحالی،مقدمات پر س...

اپوزیشن اتحاد کا 25 اپریل کو ملک گیر جلسوں کا اعلان

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

ایرانی و امریکی قیادت سے رابطے میں رہے، اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم نے انتھک محنت کی ہم نے اور دوست ممالک نے امن معاہدے کیلئے کوششیں کیں،کابینہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں ایران امریکا مذاکرات میں اہم کردار پر فیلڈ مارشل کے ...

فیلڈ مارشل جنگ بندی کیلئے کئی راتیں جاگے، وزیراعظم

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم) وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

جنگ بندی پر اسلام آباد کے کردار کو سراہتے ہیں، پاکستان کسی طرف جھکاؤ کے بغیر ثالثی کرے ایران کا ایٹمی و میزائل پروگرام تباہ کرنے کے بلند و بانگ دعوے دھرے رہ گئے،ویڈیو پیغام امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے امریکہ-اسرائیل اور ایران جنگ بندی معاہدہ پر ایرانی قیاد...

امریکا کو جنگ میں سفارتی، فوجی شکست ہوگئی(حافظ نعیم)

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری وجود - جمعرات 09 اپریل 2026

مکابرہ میں اسرائیلی فضائی حملہ جبکہ خیام میں شدید گولہ باری کی اطلاعات سامنے آئی ہیں حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان شدید جھڑپیں، فضائی حملہ اسپتال کے قریب ہوا امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان پر حملے جاری رہنے کی اطلاعات ...

اسرائیل نے جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا، لبنان پر فضائی حملے جاری

مضامین
دربار انڈسٹری وجود هفته 11 اپریل 2026
دربار انڈسٹری

برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی وجود هفته 11 اپریل 2026
برکس کاوشوگرو:امن عالم کے قیام کاخاموش تماشائی

پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات وجود هفته 11 اپریل 2026
پاکستان کے داخلی تنازعات پر بیرونی طاقتوں کے اثرات

کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین وجود هفته 11 اپریل 2026
کشمیری مساجد و مدارس کے مالی معاملات کی چھان بین

ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان وجود جمعه 10 اپریل 2026
ہندوستان میں اسمبلی انتخابات:وفاقی ڈھانچے اور ملک کے کثیر جہتی کردار کا امتحان

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر