... loading ...
شاید ہی اس دنیا میں بسنے والے کوئی مسلمان ایسا ہوگا جو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈاآرڈرن سے واقفیت نہ رکھتا ہو ۔ بلکہ ہمارا تو گمان ہے کہ اگر کسی مسلمان کو جیسنڈاآرڈرن کا نام بھی معلوم نہیں ہوگا تو وہ بھی یقینا جیسنڈاآرڈرن کی تصویر دیکھ کر ضرور پہچان لے گا کہ یہ ہی وہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم ہے۔ جس نے ایک غیر مسلم ملک کی غیر مسلم وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی رویے ’’اسلامو فوبیا ‘‘ کے خلاف بھرپور انداز میں نہ صرف دنیا بھر میں آواز اُٹھائی بلکہ اپنے ملک میں رہائش پذیر مسلم کمیونٹی کے خلاف پنپنے والے اسلامو فوبیا کے موذی عفریت کا حکومتی طاقت سے خاتمہ بھی یقینی بنایاتھا۔یاد رہے کہ جسینڈا آرڈن نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مسجدوں میں 50 نمازیوں کو شہید اور 48 سے زائد معصوم افراد کو زخمی کرنے والے آسٹریلوی نژاد دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو منطقی انجام تک پہنچا کرعالمگیر شہرت حاصل کی تھی۔خاص طور پر اس اندوہناک واقعہ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مسلمان شہداء کے لواحقین کی دل جوئی اور مثالی حسن سلوک کے مناظر نے جیسنڈاآرڈن کومسلمانوں میں زبردست مقبولیت اور پذیرائی بخشی تھی ۔
واضح رہے کہ جسینڈا آرڈن کا مکمل نام جسینڈا کیٹ لورل آرڈرن ہے ۔یہ 26 جولائی 1980 کو نیوزی لینڈ کے شہر ہیملٹن میں پیدا ہوئیں تھیں ۔ ان کے والد پولیس افسر تھے جبکہ ان کی والدہ ایک چھوٹے سے نجی اسکول میں کیٹرنگ اسسٹنٹ کا کام کرتی تھیں۔ جسینڈا آرڈن یونیورسٹی آف وائے کاٹو سے سیاست اور تعلقات عامہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد لندن منتقل ہوں گئیں تھیں ۔جہاں انہوں نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ پالیسی مشیر کے طور پر بھی کئی برس کام کیا تھا۔ برطانیا میں ٹونی بلیئر جیسے زیرک سیاست دان کی سرپرستی میں عالمی سیاست کے رموز کی عملی تربیت حاصل کرنے کے بعد جسینڈا آرڈن واپس اپنے وطن آگئیں اور نیوزی لینڈ کی معروف سیاسی جماعت لیبر پارٹی میں بطور کارکن شمولیت اختیار کرلی ۔ جسینڈا آرڈن نے 2008 میں نیوزی لینڈ کی سب سے کم عمر پارلیمانی رکن منتخب ہوکر ایک نئی تاریخ رقم کردی۔اس کے بعد جسینڈا آرڈن کی طویل سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوگیااور کئی سالوں کی کڑی محنت کے بعد باالآخر جسینڈا آرڈن 26 اکتوبر 2017 کو نیوزی لینڈ فرسٹ اور لیبر پارٹی کے اتحاد سے بننے والی مخلوط حکومت کی وزایراعظم بننے میں کامیاب ہوگئیں۔ 38 سالہ آرڈرن نیوزی لینڈ کی 150 سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر رہنما اور وہ ملک کی تیسری خاتون وزیر اعظم ہیں۔دلچسپ با ت یہ ہے کہ جسینڈاآرڈن جون 2018 میں اپنے دور حکومت میں بچے کو جنم دینے والی دوسری حکمران خاتون بن گئیں۔ اس سے پہلے یہ اعزاز صرف پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے پاس تھا، جن کی بیٹی بختاور کی پیدائش اس وقت ہوئی تھی، جب وہ پاکستان کی وزیراعظم تھیں۔اس کے علاوہ جسینڈا آرڈن کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے تین ماہ کے بچے کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والی دنیا کی اولین رہنما بھی ہیں۔
دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھنے والی خاتون سیاسی رہنما اور مسلمانوں کی ہردلعزیز شخصیت اِسی جیسنڈا آرڈرن کی سیاسی جماعت ’’لیبر پارٹی ‘‘ نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے بعد جیسنڈا آرڈرن کے دوسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ اس مرتبہ نیوزی لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میںجیسنڈا آرڈرن کا مقابلہ دائیں بازو کی ایک قدامت پسند اور مسلم مخالف سیاسی رہنما جوڈتھ کولنز سے تھا۔جنہوں نے اپنی انتخابی مہم میں جیسنڈا آرڈرن کی مسلم دوستی رویے کو انتہائی منفی انداز میں پیش کر کے نیوزی لینڈ کی عوام کونسل پرستی کے سیاسی نعرے کے تحت انتخابات میں لبھانے کی سر توڑ کوشش کی تھی ۔ لیکن نیوزی لینڈ کی عوام نے انتخابات میں قدامت پسندی کے مہلک نظریے کو یکسر مستردکرتے ہوئے اپنے سارے ووٹ جیسنڈا آرڈرن کے اسلامو فوبیا مخالف نظریے کے حق میں ڈال کر نیوزی لینڈ کے شاندار مستقبل کی نئے سرے سے بنیاد رکھ دی ہے۔
انتخابات کے ابھی تک آنے والے نتائج کے مطابق نیوزی لینڈ کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں جسینڈا آرڈن کی جماعت لیبر پارٹی نے 50 فیصد نشستیں حاصل کرلی ہیں اور ان کے مدمقابل جوڈتھ کولنز کی جماعت لیبر پارٹی نے 27 فیصد نشستیں حاصل کی ہیں ۔جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر 8 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اس طرح نیوزی لینڈ کی سیاسی وانتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمان میں بائیں بازو کے اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ورنہ اس سے قبل ماضی میں ہمیشہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو معمولی برتری سے ہی اقتدار ملتا رہاہے اور پچھلے انتخابات میں بھی جیسنڈا آرڈرن معمولی برتری حاصل کرکے چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ملاپ سے بڑی مشکل سے ایک مخلوط حکومت قائم کرسکیں تھی۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں ہر تین سال کے بعد عام انتخابات ہوتے ہیں۔اِن انتخابات میں ایم ایم پی سسٹم کے تحت رائے دہندگان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی پارٹی اور اپنے انتخابی حلقے کے رکن اسمبلی کے لیے دو ووٹ ڈالیں۔نیوزی لینڈ میں حکومت سازی کے لیے پارلیمان کی 61 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ضروری ہوتاہے ورنہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانا پڑتی ہے۔چونکہ مخلوط حکومت سیاسی اتحادیوں کے راضی بہ رضا رکھے بغیر کامیابی کے ساتھ چلانا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔لہٰذا کچھ ایسی ہی مخدوش سیاسی و انتظامی صورت حال کا باربار سامنا اپنے دورِ اقتدار میں جیسنڈا آرڈرن کو بھی کرنا پڑا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ پہلا موقع ہے کہ جب بائیں بازوسے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت کی رہنما دوسری بار بھی نہ صرف باآسانی سے وزیراعظم بن جائیں گی بلکہ جسینڈاآرڈن کو دیگر جماعتوں کی سیاسی بیساکھیوں کا سہار بھی مستعار لینا نہیں پڑے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں نیوزی لینڈ کی عوام اپنے پسندیدہ امیدوار کا انتخاب کرنے کے علاوہ دو عدد ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے لیئے کہا گیا تھا۔ پہلا ریفرینڈم ’’مریض کو آرام دہ موت کا حق‘‘ اور دوسرا ’’بھنگ کو قانونی حیثیت دینا‘‘ تھے۔پہلے ریفرنڈم کا بنیادی مقصد ملک میں طویل عرصے سے بیمار یا لاعلاج مریضوں کی جانب سے موت کی درخواست پر انھیں مرنے کا قانونی اور آئینی اختیار دیا جانا ہے۔ اس سوال پر نیوزی لینڈ کے ہر باشندے کے لیئے ووٹ ڈالنا لازمی تھا۔ جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اگر 50 فیصد سے زیادہ لوگ ’’ہاں‘‘ میں ووٹ ڈالتے ہیں تو یہ نیوزی لینڈ کے قانون کا حصہ بن جائے گا اور اس پر عمل در آمد شروع ہو جائے گا۔ریفرنڈم کا دوسرا سوال یہ تھا کہ آیا بھنگ کو ملک بھر میں تفریح کے لیے استعمال کی عام اجازت دی جائے یا نہیں۔تاہم اس سوال پر ووٹ دینا نیوزی لینڈ کے ہر شہری کے لیے لازم نہیں تھا ۔ جس کا معنی یہ ہیں ہے کہ اگر لوگوں کی اکثریت ’’ہاں‘‘ پر ووٹ دے دیتی ہے تو بھی یہ فوری طور پر اُس وقت تک قانون نہیں بن سکتا ہے۔جب تک کے آنے والی نئی حکومت اس قانون کی پارلیمان سے توثیق نہ حاصل کر دے ۔انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے مگر دونوں ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کا اعلان 30 اکتوبر کو کیا جائے گا۔
نیوزی لینڈ کے حالیہ انتخابات میں جسینڈا آرڈن کی فقیدالمثال کامیابی کو عالمی ذرائع ابلاغ نے نمایاں شہہ سرخیوں میں جگہ دی ہے ۔ کیونکہ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جسینڈا آرڈن کے دوسری بار بھرپور سیاسی قوت کے ساتھ وزیراعظم بننے سے نیوزی لینڈ کے سیاسی مستقبل پر انتہائی دورَس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جبکہ اس جیت کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ میں قدامت پسند سیاسی نظریات کی حامل جماعتوںکا مستقبل انتہائی مخدوش ہوگیا ہے اور انہیں آنے والے ایام میں مزید سیاسی و سماجی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتاہے۔ صرف یہ ہی نہیں دنیا بھر میں جسینڈا آرڈن کی انتخابی کامیابی کو عالمی نسل پرست سیاست کے خلاف جمہوریت پسند نظریات رکھنے والوں کی ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھا جارہاہے۔یاد رہے کہ جسینڈا آرڈن نے سفید فام نسل پرست نظریے کی سیاسی پشت پناہی کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک بار کہا تھا کہ ’’دنیا میں نسل پرست نظریے رکھنے والوں کے لیئے کوئی جائے امان نہیں ہے‘‘۔ نیز جسینڈا آرڈن کے دوبارہ سے منصبِ اقتدار پر فائز ہونے سے تارکین وطن کو بھی نیوزی لینڈ میں بے شمار آسانیاں اور سہولیات میسرآجانے کی اُمید کی جارہی ہے۔ کیونکہ جسینڈا آرڈن نے ہمیشہ ہی سے نیوزی لینڈ میں تارکین وطن کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی ہے۔شاید یہ ہی وجہ کے نیوزی لینڈ کی سرزمین کو تارکین وطن کے لیے جنت بھی کہا جاتاہے۔بہرکیف جسینڈا آرڈن میں وہ سب خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو ایک عالمی سیاسی رہنما میں ضرور ہونی چاہئیں۔اس لیے توقع کی جاسکتی ہے کہ عالمی سیاست کامستقبل ترش و جارح مزاج ،نسل پرستانہ نظریات کے حامل سیاسی رہنماؤں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ ،نریندر مودی اور نیتن یاہوکے بجائے، جسینڈا آرڈن ، جسٹن ٹروڈ اور عمران خان جیسے پرکشش، ہردلعزیز اور معتدل مزاج عالمی رہنماؤں کے ہاتھ میں زیادہ محفوظ و مامون ہوگا۔لہٰذا جسینڈا آرڈن کی جیت، اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ دنیا کا جھکاؤ ایک بار پھر سے اِمن پسند اور صلح جو سیاسی رہنماؤں کے حق میں پلٹ رہاہے اور اسلاموفوبیا جیسے نسل پرستانہ ،منفی نظریات کے حامل عالمی رہنما ؤں کا سیاسی مستقبل رفتہ رفتہ تاریک سے تاریک تر ہوتا جارہاہے۔ کرہ ارض کے بہتر مستقبل کے لیئے ضروری ہے کہ مثبت تبدیلی کا یہ عمل بدستور جاری رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہنگائی بتدریج کم ہوئی، شرحِ نمو 3۔7 فیصد تک پہنچ گئی، پچھلے 4 سال کی سب سے بہترین معاشی ترقی، تجارتی غیر یقینی کے بعد پھر سیلاب آیا، مارچ میں خطے میں عدم استحکام ہوا، وفاقی وزیر خزانہ تمام چیلنجز سے درست نبردآزما ہوئے،مالی سال کے دوران 3 بڑے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹا گیا،اکنا...
امریکا مستقبل میں خارگ جزیرے سمیت ایران کے اہم تیل اور گیس کے انفراسٹرکچر پر قبضہ کرکے ان کی توانائی منڈیوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لے گا، پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان یہ حکمت عملی اسی طرز پر ہوگی جس طرح امریکا نے وینزویلا میں توانائی کے شعبے سے متعلق اقدامات کیے تھے، اامریکا...
منصوبہ اپنی تکمیل کے بعد روزانہ تین لاکھ تک مسافروں کو سفری سہولت فراہم کرے گا 21 کلومیٹر طویل مخصوص بی آر ٹی کوریڈور داؤد چورنگی سے نمائش تک قائم کیا جائے گا کراچی کے یلو لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے کے لئے 256 الیکٹرک بسیں خریدی جائیں گی جبکہ منصوبہ اپنی تکمیل ک...
اسٹاف پر ہاتھ اٹھایا، ڈی جی میڈیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی جو ناقابل قبول ہے (ن) لیگ کی رکن فرح ناز اکبر نے رکنیت معطل کرنے کی تحریک پیش جسے منظور کرلیا گیا اسپیکر قومی اسمبلی نے اسٹاف اور سیکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اقبال ...
صومالی سفیر دفتر خارجہ طلب ، یرغمالیوں کی رہائی کیلئے جاری کوششوں پر تبادلہ خیال دو روز قبل وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے صومالیہ کے وزیر خارجہ عبدالسلام علی سے رابطہ کیا ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ صومالیہ میں ایک بحری جہاز پر سوار پاکستانی شہری گزشتہ 15 روز سے یرغمال ہیں اور پ...
ایم آئی 17ہیلی کاپٹر مظفر آباد کے قریب حادثے کی درست تکنیکی وجوہات جاننے کیلئے بورڈ آف انکوائری بنانے کا حکم دے دیا گیا ہے جو اپنی تفصیلی رپورٹ مرتب کرے گا،آئی ایس پی آر فیلڈ مارشل ، صدر مملکت و وزیراعظم کا حادثے میں شہید تمام اہلکاروں کو خراجِ عقیدت ،پوری قوم اپنے بہادر سپوتو...
9جون کو موسی درہ میں فیڈرل کانسٹیبلری کی چوکی پر دہشتگرد حملہ ہوا ،2جون کو شمالی وزیرستان میں فوجی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملہ ہوا ،9مئی کو بنوں کے پولیس اسٹیشن پر خودکش حملہ کیا گیا دہشتگردکیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کوانتہائی درستگی اور احتیاط سے نشانہ بنایا گیا، تباہ کیے ...
سزائے موت کا فیصلہ کالعدم، ایم کیو ایم کے بیرسٹر فروغ نسیم اور حسان صابر ایڈوکیٹ بطور وکیل عدالت میں پیش استغاثہ کے پاس ایسا کوئی ٹھوس ثبوت یا چشم دید گواہ موجود نہیں جس نے ملزمان کو آگ لگاتے دیکھا ہو،وکیل صفائی سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس کے مرکزی ملزمان رحما...
فریقین نے تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو یہ کشیدگی بڑے بحران میں بدل سکتی ہے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا سلامتی کونسل میں اجلاس سے خطاب اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں عدم پھیلاؤ سے متعلق اجلاس کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر عالمی امن، علاقائی استحکام ...
کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں سروسز عوامی سہولت کیلئے جمعہ کو کھلی رہیں گی ملک بھر میں اوقات کار رات 10 بجے تک بڑھا دییگئے،ہفتہ اتوار کھلے رہیں گے توانائی بچت مہم کے دور ان کریانہ اسٹورز کے اوقات بڑھانے کا فیصلہ کرلیا گیا ۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسح...
گلگت بلتستان میں 22 امیدوار میدان میں تھے،پوری جمع تفریق کے بعد 15 نشستوں پر جیتے ہیں،ہمیں دو نشستیں دے کر ہماری 13 نشستیں کسی اور کو دیں گے تو ہم اس کو نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر بجٹ سیشن میں شریک ہوں نہ ہوں عوام کو ریلیف ملنا چاہیے، کشمیر پر ہمارا واضح مؤقف ہے، مسائل کو افہام و ...
28ویں ترمیم کا شوشہ چھوڑ کر سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے، عوامی مسائل بدستور حل طلب ہیں، پریس کانفرنس امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مکمل بااختیار بنایا جائے اور آئندہ و...