وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟

پیر 26 اکتوبر 2020 جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟

شاید ہی اس دنیا میں بسنے والے کوئی مسلمان ایسا ہوگا جو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈاآرڈرن سے واقفیت نہ رکھتا ہو ۔ بلکہ ہمارا تو گمان ہے کہ اگر کسی مسلمان کو جیسنڈاآرڈرن کا نام بھی معلوم نہیں ہوگا تو وہ بھی یقینا جیسنڈاآرڈرن کی تصویر دیکھ کر ضرور پہچان لے گا کہ یہ ہی وہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم ہے۔ جس نے ایک غیر مسلم ملک کی غیر مسلم وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی رویے ’’اسلامو فوبیا ‘‘ کے خلاف بھرپور انداز میں نہ صرف دنیا بھر میں آواز اُٹھائی بلکہ اپنے ملک میں رہائش پذیر مسلم کمیونٹی کے خلاف پنپنے والے اسلامو فوبیا کے موذی عفریت کا حکومتی طاقت سے خاتمہ بھی یقینی بنایاتھا۔یاد رہے کہ جسینڈا آرڈن نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مسجدوں میں 50 نمازیوں کو شہید اور 48 سے زائد معصوم افراد کو زخمی کرنے والے آسٹریلوی نژاد دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو منطقی انجام تک پہنچا کرعالمگیر شہرت حاصل کی تھی۔خاص طور پر اس اندوہناک واقعہ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مسلمان شہداء کے لواحقین کی دل جوئی اور مثالی حسن سلوک کے مناظر نے جیسنڈاآرڈن کومسلمانوں میں زبردست مقبولیت اور پذیرائی بخشی تھی ۔
واضح رہے کہ جسینڈا آرڈن کا مکمل نام جسینڈا کیٹ لورل آرڈرن ہے ۔یہ 26 جولائی 1980 کو نیوزی لینڈ کے شہر ہیملٹن میں پیدا ہوئیں تھیں ۔ ان کے والد پولیس افسر تھے جبکہ ان کی والدہ ایک چھوٹے سے نجی اسکول میں کیٹرنگ اسسٹنٹ کا کام کرتی تھیں۔ جسینڈا آرڈن یونیورسٹی آف وائے کاٹو سے سیاست اور تعلقات عامہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد لندن منتقل ہوں گئیں تھیں ۔جہاں انہوں نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ پالیسی مشیر کے طور پر بھی کئی برس کام کیا تھا۔ برطانیا میں ٹونی بلیئر جیسے زیرک سیاست دان کی سرپرستی میں عالمی سیاست کے رموز کی عملی تربیت حاصل کرنے کے بعد جسینڈا آرڈن واپس اپنے وطن آگئیں اور نیوزی لینڈ کی معروف سیاسی جماعت لیبر پارٹی میں بطور کارکن شمولیت اختیار کرلی ۔ جسینڈا آرڈن نے 2008 میں نیوزی لینڈ کی سب سے کم عمر پارلیمانی رکن منتخب ہوکر ایک نئی تاریخ رقم کردی۔اس کے بعد جسینڈا آرڈن کی طویل سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوگیااور کئی سالوں کی کڑی محنت کے بعد باالآخر جسینڈا آرڈن 26 اکتوبر 2017 کو نیوزی لینڈ فرسٹ اور لیبر پارٹی کے اتحاد سے بننے والی مخلوط حکومت کی وزایراعظم بننے میں کامیاب ہوگئیں۔ 38 سالہ آرڈرن نیوزی لینڈ کی 150 سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر رہنما اور وہ ملک کی تیسری خاتون وزیر اعظم ہیں۔دلچسپ با ت یہ ہے کہ جسینڈاآرڈن جون 2018 میں اپنے دور حکومت میں بچے کو جنم دینے والی دوسری حکمران خاتون بن گئیں۔ اس سے پہلے یہ اعزاز صرف پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے پاس تھا، جن کی بیٹی بختاور کی پیدائش اس وقت ہوئی تھی، جب وہ پاکستان کی وزیراعظم تھیں۔اس کے علاوہ جسینڈا آرڈن کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے تین ماہ کے بچے کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والی دنیا کی اولین رہنما بھی ہیں۔
دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھنے والی خاتون سیاسی رہنما اور مسلمانوں کی ہردلعزیز شخصیت اِسی جیسنڈا آرڈرن کی سیاسی جماعت ’’لیبر پارٹی ‘‘ نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے بعد جیسنڈا آرڈرن کے دوسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ اس مرتبہ نیوزی لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میںجیسنڈا آرڈرن کا مقابلہ دائیں بازو کی ایک قدامت پسند اور مسلم مخالف سیاسی رہنما جوڈتھ کولنز سے تھا۔جنہوں نے اپنی انتخابی مہم میں جیسنڈا آرڈرن کی مسلم دوستی رویے کو انتہائی منفی انداز میں پیش کر کے نیوزی لینڈ کی عوام کونسل پرستی کے سیاسی نعرے کے تحت انتخابات میں لبھانے کی سر توڑ کوشش کی تھی ۔ لیکن نیوزی لینڈ کی عوام نے انتخابات میں قدامت پسندی کے مہلک نظریے کو یکسر مستردکرتے ہوئے اپنے سارے ووٹ جیسنڈا آرڈرن کے اسلامو فوبیا مخالف نظریے کے حق میں ڈال کر نیوزی لینڈ کے شاندار مستقبل کی نئے سرے سے بنیاد رکھ دی ہے۔
انتخابات کے ابھی تک آنے والے نتائج کے مطابق نیوزی لینڈ کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں جسینڈا آرڈن کی جماعت لیبر پارٹی نے 50 فیصد نشستیں حاصل کرلی ہیں اور ان کے مدمقابل جوڈتھ کولنز کی جماعت لیبر پارٹی نے 27 فیصد نشستیں حاصل کی ہیں ۔جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر 8 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اس طرح نیوزی لینڈ کی سیاسی وانتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمان میں بائیں بازو کے اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ورنہ اس سے قبل ماضی میں ہمیشہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو معمولی برتری سے ہی اقتدار ملتا رہاہے اور پچھلے انتخابات میں بھی جیسنڈا آرڈرن معمولی برتری حاصل کرکے چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ملاپ سے بڑی مشکل سے ایک مخلوط حکومت قائم کرسکیں تھی۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں ہر تین سال کے بعد عام انتخابات ہوتے ہیں۔اِن انتخابات میں ایم ایم پی سسٹم کے تحت رائے دہندگان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی پارٹی اور اپنے انتخابی حلقے کے رکن اسمبلی کے لیے دو ووٹ ڈالیں۔نیوزی لینڈ میں حکومت سازی کے لیے پارلیمان کی 61 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ضروری ہوتاہے ورنہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانا پڑتی ہے۔چونکہ مخلوط حکومت سیاسی اتحادیوں کے راضی بہ رضا رکھے بغیر کامیابی کے ساتھ چلانا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔لہٰذا کچھ ایسی ہی مخدوش سیاسی و انتظامی صورت حال کا باربار سامنا اپنے دورِ اقتدار میں جیسنڈا آرڈرن کو بھی کرنا پڑا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ پہلا موقع ہے کہ جب بائیں بازوسے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت کی رہنما دوسری بار بھی نہ صرف باآسانی سے وزیراعظم بن جائیں گی بلکہ جسینڈاآرڈن کو دیگر جماعتوں کی سیاسی بیساکھیوں کا سہار بھی مستعار لینا نہیں پڑے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں نیوزی لینڈ کی عوام اپنے پسندیدہ امیدوار کا انتخاب کرنے کے علاوہ دو عدد ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے لیئے کہا گیا تھا۔ پہلا ریفرینڈم ’’مریض کو آرام دہ موت کا حق‘‘ اور دوسرا ’’بھنگ کو قانونی حیثیت دینا‘‘ تھے۔پہلے ریفرنڈم کا بنیادی مقصد ملک میں طویل عرصے سے بیمار یا لاعلاج مریضوں کی جانب سے موت کی درخواست پر انھیں مرنے کا قانونی اور آئینی اختیار دیا جانا ہے۔ اس سوال پر نیوزی لینڈ کے ہر باشندے کے لیئے ووٹ ڈالنا لازمی تھا۔ جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اگر 50 فیصد سے زیادہ لوگ ’’ہاں‘‘ میں ووٹ ڈالتے ہیں تو یہ نیوزی لینڈ کے قانون کا حصہ بن جائے گا اور اس پر عمل در آمد شروع ہو جائے گا۔ریفرنڈم کا دوسرا سوال یہ تھا کہ آیا بھنگ کو ملک بھر میں تفریح کے لیے استعمال کی عام اجازت دی جائے یا نہیں۔تاہم اس سوال پر ووٹ دینا نیوزی لینڈ کے ہر شہری کے لیے لازم نہیں تھا ۔ جس کا معنی یہ ہیں ہے کہ اگر لوگوں کی اکثریت ’’ہاں‘‘ پر ووٹ دے دیتی ہے تو بھی یہ فوری طور پر اُس وقت تک قانون نہیں بن سکتا ہے۔جب تک کے آنے والی نئی حکومت اس قانون کی پارلیمان سے توثیق نہ حاصل کر دے ۔انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے مگر دونوں ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کا اعلان 30 اکتوبر کو کیا جائے گا۔
نیوزی لینڈ کے حالیہ انتخابات میں جسینڈا آرڈن کی فقیدالمثال کامیابی کو عالمی ذرائع ابلاغ نے نمایاں شہہ سرخیوں میں جگہ دی ہے ۔ کیونکہ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جسینڈا آرڈن کے دوسری بار بھرپور سیاسی قوت کے ساتھ وزیراعظم بننے سے نیوزی لینڈ کے سیاسی مستقبل پر انتہائی دورَس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جبکہ اس جیت کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ میں قدامت پسند سیاسی نظریات کی حامل جماعتوںکا مستقبل انتہائی مخدوش ہوگیا ہے اور انہیں آنے والے ایام میں مزید سیاسی و سماجی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتاہے۔ صرف یہ ہی نہیں دنیا بھر میں جسینڈا آرڈن کی انتخابی کامیابی کو عالمی نسل پرست سیاست کے خلاف جمہوریت پسند نظریات رکھنے والوں کی ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھا جارہاہے۔یاد رہے کہ جسینڈا آرڈن نے سفید فام نسل پرست نظریے کی سیاسی پشت پناہی کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک بار کہا تھا کہ ’’دنیا میں نسل پرست نظریے رکھنے والوں کے لیئے کوئی جائے امان نہیں ہے‘‘۔ نیز جسینڈا آرڈن کے دوبارہ سے منصبِ اقتدار پر فائز ہونے سے تارکین وطن کو بھی نیوزی لینڈ میں بے شمار آسانیاں اور سہولیات میسرآجانے کی اُمید کی جارہی ہے۔ کیونکہ جسینڈا آرڈن نے ہمیشہ ہی سے نیوزی لینڈ میں تارکین وطن کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی ہے۔شاید یہ ہی وجہ کے نیوزی لینڈ کی سرزمین کو تارکین وطن کے لیے جنت بھی کہا جاتاہے۔بہرکیف جسینڈا آرڈن میں وہ سب خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو ایک عالمی سیاسی رہنما میں ضرور ہونی چاہئیں۔اس لیے توقع کی جاسکتی ہے کہ عالمی سیاست کامستقبل ترش و جارح مزاج ،نسل پرستانہ نظریات کے حامل سیاسی رہنماؤں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ ،نریندر مودی اور نیتن یاہوکے بجائے، جسینڈا آرڈن ، جسٹن ٹروڈ اور عمران خان جیسے پرکشش، ہردلعزیز اور معتدل مزاج عالمی رہنماؤں کے ہاتھ میں زیادہ محفوظ و مامون ہوگا۔لہٰذا جسینڈا آرڈن کی جیت، اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ دنیا کا جھکاؤ ایک بار پھر سے اِمن پسند اور صلح جو سیاسی رہنماؤں کے حق میں پلٹ رہاہے اور اسلاموفوبیا جیسے نسل پرستانہ ،منفی نظریات کے حامل عالمی رہنما ؤں کا سیاسی مستقبل رفتہ رفتہ تاریک سے تاریک تر ہوتا جارہاہے۔ کرہ ارض کے بہتر مستقبل کے لیئے ضروری ہے کہ مثبت تبدیلی کا یہ عمل بدستور جاری رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا وجود - پیر 23 نومبر 2020

ادارہ امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) میں مبینہ کرپشن پر سندھ حکومت کو لکھا گیا ایک خط سامنے آ گیا ہے ، جس میں چیف سیکریٹری سندھ سے درخواست کی گئی ہے کہ ادارے میں جاری کرپشن پر نوٹس لیا جائے ۔ذرائع کے مطابق کراچی میں امراض قلب کے لیے قائم اہم ادارے این آئی سی وی ڈی میں مبینہ کرپشن کے سلسلے میں 5 ماہ قبل چیف سیکریٹری سندھ کو ایک خط لکھا گیا تھا، جس میں کرپشن اور غیر قانونی بھرتیوں کی شکایت کی گئی تھی تاہم پانچ ماہ گزرنے کے باوجود ان شکایات پر ایکشن نہیں لیاگیا۔ذرائع نے بتایاکہ چی...

ادارہ امراض قلب ، کرپشن پرسندھ حکومت کو لکھا گیا خط سامنے آ گیا

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ وجود - پیر 23 نومبر 2020

پاکستان میں بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ ہوہیا۔ این جی او ساحل کے مطابق رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 1489 بچوں کو نشانہ بنایاگیا،جن میں 785 بچیاں اور 704 بچے شامل ہیں ۔ 38 واقعات میں زیادتی کے بعد قتل کردیاگیا۔331 بچے اغوا، 233 سے بدفعلی،104 سے اجتماعی زیادتی،168 لاپتہ، 160 بچیوں سے زیادتی، 134 سے دست درازی، 69 سے اجتماعی زیادتی کی گئی۔ 51 بچوں کی شادی کے واقعات رپورٹ ہوئے ۔ 490 متاثرین کی عمر 11 سے 15 سال اور 331 کی 6 سے 10 سال بتائی گئی۔پنجاب میں سب سے زیادہ 57 ف...

بچوں پرجنسی وجسمانی تشدد میں 14فیصد اضافہ

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم وجود - پیر 23 نومبر 2020

مقامی عدالت نے مزار قائد بے حرمتی کیس میں مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ہفتہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں قائد اعظم کے مزار کی مینجمنٹ بورڈ کی جانب سے مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے خلاف مزار قائد کی بے حرمتی پر مقدمے کے لیئے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزار کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل محمد ندیم خان اور ایڈووکیٹ محمد احمد پیش ہوئے ۔ عدالت نے گواہوں کو بیان کیلئے 10 دسمبر کو طلب کرلیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ موقع پر موجود مزار قائد کے ملازمین...

مزار قائد بے حرمتی کیس ، مزار قائد کے ملازمین کوبطور گواہ پیش کرنے کا حکم

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی وجود - پیر 23 نومبر 2020

شہرقائد کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی ہے ۔ذرائع کے مطابق کراچی کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑنا شروع ہوگئی جس کے بعد شہری نجی اسپتالوں میں جانے پرمجبورہوگئے جہاں داخلے سے قبل لاکھوں روپے وصول کئے جارہے ہیں۔انڈس اسپتال میں 16 بیڈزپرمشتمل وارڈ میں تمام بیڈزمریضوں سے بھرگئے ہیں۔ جناح اسپتال میں کورونا مریضوں کے لئے 90 بیڈز مختص ہیں، جناح میں 24 ایچ ڈی یوبیڈذ اور12 وینٹلیٹرزبھی موجود ہیں، سول اسپتال میں 141 بیڈزبشم...

کراچی کے اسپتالوں میں کورونا مریضوں کیلئے جگہ کم پڑنے لگی

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار وجود - پیر 23 نومبر 2020

اسلام قبول کر کے پسند کی شادی کرنے والی13سالہ آرزو فاطمہ بھی عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہوگئی ہے ۔پولیس نے آرزو کیس کا چالان عدالت میں پیش کردیا، چالان کے مطابق آرزو کی کورونا رپورٹ 16 نومبر کو موصول ہوئی تھی، پولیس نے کورونا کا شکار آرزو کو عدالت میں پیش کردیا۔پولیس نے بتایا کہ ملزم اظہر علی کا بھی کورونا ٹیسٹ کرایا گیا تھا جو کہ منفی آیا ہے ۔چالان میں کہا گیا ہے کہ آرزونے اپنے بیان میں بتایاکہ اس کی اظہرعلی سے طویل عرصہ سے دوستی ہے ، وہ اظہر کے ساتھ موٹر سائیکل پر وکیل ...

پسند کی شادی کرنے والی نو مسلم آرزو فاطمہ کورونا وائرس کا شکار

برطانیہ میں10برس کے سخت ترین موسم سرما کی پیش گوئی وجود - پیر 23 نومبر 2020

برطانیہ کے شمالی علاقوں میں طوفانی ہوائیں چلنے اور بارش کا امکان ہے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق محکمہ موسمیات نے دس برس کے سخت ترین موسم سرما کی پیش گوئی کردی جبکہ اسکاٹ لینڈ میں موسم زیادہ سرد رہے گا۔کرسمس کے موقع پر درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گرنے کا امکان ہے ۔محکمہ موسمیات کا کہنا تھا کہ رواں ہفتے کے آخر میں شمالی انگلینڈ میں برفانی طوفان آسکتے ہیں۔

برطانیہ میں10برس کے سخت ترین موسم سرما کی پیش گوئی

بھارت میں گائے کی پر اسرار ہلاکتیں،مزید 14ہلاکتوں کے بعد تعداد94ہوگئی وجود - پیر 23 نومبر 2020

بھارتی ریاست راجستھان میں ایسی پراسرار وبا پھیلنا شروع ہوگئی جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں گائے تیزی سے موت کے منہ میں جارہی ہیں۔پراسرار بیماری کی وجہ سے مزید 14 گائے ہلاک ہوئیں جس کے بعد مرنے والی گائے کی تعداد 94 تک پہنچ گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق مویشی پالنے والے مالکان کا ماننا ہے کہ گائے کی اموات زہریلا پانی پینے یا مضر صحت کھانے کی وجہ سے ہو رہی ہیں مگر ویٹنری ڈاکٹرز نے اس بات کو مسترد کردیا ہے ۔ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ مرنے والی گائے بالکل تندرست تھیں اور انہیں کوئی تکلیف یا ب...

بھارت میں گائے کی پر اسرار ہلاکتیں،مزید 14ہلاکتوں کے بعد تعداد94ہوگئی

ایران سے ڈیل میں تخریبی کردارسمیت تمام پہلووں کااحاطہ کیا جائے ،سعودی عرب وجود - پیر 23 نومبر 2020

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان آل سعود نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مستقبل میں کوئی ڈیل صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس میں اس کی خطے میں تخریبی سرگرمیوں کا بھی توڑ کیا جانا چاہیے ۔انھوں نے امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں کہا کہ ہمارا یہ یقین ہے کہ مسئلہ صرف جوہری پروگرام کا نہیں بلکہ ایران کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اس نے خطے پر اپنی مرضی مسلط کرنے اور اپنے ہمسایوں اور ان سے آگے کے ممالک میں انقلاب کو برآمد کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔انھوں ...

ایران سے ڈیل میں تخریبی کردارسمیت تمام پہلووں کااحاطہ کیا جائے ،سعودی عرب

موٹروے زیادتی کیس سے متاثر فلم ''شینوگئی''دسمبر میں ریلیز ہو گی وجود - پیر 23 نومبر 2020

چند ماہ قبل موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے متاثر ہو کر ہدایت کار ابو علیحہ نے فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ہدایت کار ابو علیحہ نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر متعدد پوسٹس شیئر کی جس میں انہوں نے بتایا کہ موٹر وے زیادتی حادثہ ہوا، اس حادثے سے متعلق سوشل میڈیا پر الباکستانی مجاہدین کے خیالات پڑھے تو جی میں آیا کہ اس پر کچھ نہ کچھ لکھا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ جب کہانی لکھ لی تو زیمیز پروڈکشنز کی بہن عابدہ احمد اور میٹرو لائیو موویز کے عمر خطاب بھائی سے بات ہوئی، دونوں نے کہا...

موٹروے زیادتی کیس سے متاثر فلم ''شینوگئی''دسمبر میں ریلیز ہو گی

برطانیا سزا یافتہ شخص کو ڈ ی پورٹ کرسکتا ہے ،شہزاد اکبر وجود - اتوار 22 نومبر 2020

مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ نوازشریف ایک سزا یافتہ مجرم ہے ۔ برطانوی قوانین کے مطابق سزا یافتہ شخص کو ڈیپورٹ کر سکتا ہے ۔مشیر داخلہ شہزاد اکبر نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا میاں صاحب ایک خاص اجازت سے برطانیہ گئے ۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سے تین افراد برطانیہ کے حوالے کئے جا چکے ہیں۔ شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ ہم ایکسٹرا ڈیشن ٹریٹی کے تحت بھی نوازشریف کو لاسکتے ہیں۔ عدالتیں بھی سمجھتی ہیں کہ نوازشریف کو واپس آنا چاہیے ۔مشیر داخلہ نے کہا ہے کہ برطانیہ ق...

برطانیا سزا یافتہ شخص کو ڈ ی پورٹ کرسکتا ہے ،شہزاد اکبر

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کا نئی کابینہ کے لیے ناموں پر غور وجود - اتوار 22 نومبر 2020

امریکی نو منتخب صدر جو بائیڈن آئندہ ہفتے تک اپنی کابینہ کے اہم ارکان کا اعلان کر سکتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ڈیموکریٹ جو بائیڈن نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے وزارت خزانہ کی سربراہی کے لیے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بائیڈن وزیر خارجہ سمیت دیگر اہم عہدوں کے لیے بہت جلد نام تجویز کرنے والے ہیں۔ جو بائیڈن آئندہ برس 20 جنوری کو امریکی صدر کے طور پر حلف اٹھائیں گے ۔ تاہم صدر ٹرمپ نے صدارتی انتخابات میں ابھی شکست تسلیم نہیں کی ہے اور انہوں ...

نومنتخب امریکی صدرجو بائیڈن کا نئی کابینہ کے لیے ناموں پر غور

کورونا ویکسینز بارے سازشی تھیوریز کیخلاف ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا اتحاد وجود - اتوار 22 نومبر 2020

فیس بک، ٹوئٹر اور گوگل نے آن لائن کورونا وائرس کی ویکسینز کے حوالے سے گمراہ کن تفصیلات کے پھیلا ئوکے لیے مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔تینوں کمپنیاں دنیا بھر میں حقائق جانچنے والے اداروں اور حکومتی ایجنسیوں کے ساتھ ملکر جلد متعارف ہونے والی کورونا ویکسینز کے بارے میں غلط اور گمراہ کن رپورٹس کی روک تھام کی جائے گی۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس مقصد کے لیے تینوں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے ایک نئی شراکت داری کی ہے جس کے تحت محققین اور حکومتی اداروں کے ساتھ مل کر اینٹی ویکسین...

کورونا ویکسینز بارے سازشی تھیوریز کیخلاف ٹوئٹر، فیس بک اور گوگل کا اتحاد