وجود

... loading ...

وجود

جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟

پیر 26 اکتوبر 2020 جیسنڈا آرڈرن کی جیت ،اسلاموفوبیا کی شکست ہے؟

شاید ہی اس دنیا میں بسنے والے کوئی مسلمان ایسا ہوگا جو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈاآرڈرن سے واقفیت نہ رکھتا ہو ۔ بلکہ ہمارا تو گمان ہے کہ اگر کسی مسلمان کو جیسنڈاآرڈرن کا نام بھی معلوم نہیں ہوگا تو وہ بھی یقینا جیسنڈاآرڈرن کی تصویر دیکھ کر ضرور پہچان لے گا کہ یہ ہی وہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم ہے۔ جس نے ایک غیر مسلم ملک کی غیر مسلم وزیراعظم ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں کے خلاف روا رکھے جانے والے امتیازی رویے ’’اسلامو فوبیا ‘‘ کے خلاف بھرپور انداز میں نہ صرف دنیا بھر میں آواز اُٹھائی بلکہ اپنے ملک میں رہائش پذیر مسلم کمیونٹی کے خلاف پنپنے والے اسلامو فوبیا کے موذی عفریت کا حکومتی طاقت سے خاتمہ بھی یقینی بنایاتھا۔یاد رہے کہ جسینڈا آرڈن نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مسجدوں میں 50 نمازیوں کو شہید اور 48 سے زائد معصوم افراد کو زخمی کرنے والے آسٹریلوی نژاد دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ کو منطقی انجام تک پہنچا کرعالمگیر شہرت حاصل کی تھی۔خاص طور پر اس اندوہناک واقعہ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے مسلمان شہداء کے لواحقین کی دل جوئی اور مثالی حسن سلوک کے مناظر نے جیسنڈاآرڈن کومسلمانوں میں زبردست مقبولیت اور پذیرائی بخشی تھی ۔
واضح رہے کہ جسینڈا آرڈن کا مکمل نام جسینڈا کیٹ لورل آرڈرن ہے ۔یہ 26 جولائی 1980 کو نیوزی لینڈ کے شہر ہیملٹن میں پیدا ہوئیں تھیں ۔ ان کے والد پولیس افسر تھے جبکہ ان کی والدہ ایک چھوٹے سے نجی اسکول میں کیٹرنگ اسسٹنٹ کا کام کرتی تھیں۔ جسینڈا آرڈن یونیورسٹی آف وائے کاٹو سے سیاست اور تعلقات عامہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد لندن منتقل ہوں گئیں تھیں ۔جہاں انہوں نے سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ پالیسی مشیر کے طور پر بھی کئی برس کام کیا تھا۔ برطانیا میں ٹونی بلیئر جیسے زیرک سیاست دان کی سرپرستی میں عالمی سیاست کے رموز کی عملی تربیت حاصل کرنے کے بعد جسینڈا آرڈن واپس اپنے وطن آگئیں اور نیوزی لینڈ کی معروف سیاسی جماعت لیبر پارٹی میں بطور کارکن شمولیت اختیار کرلی ۔ جسینڈا آرڈن نے 2008 میں نیوزی لینڈ کی سب سے کم عمر پارلیمانی رکن منتخب ہوکر ایک نئی تاریخ رقم کردی۔اس کے بعد جسینڈا آرڈن کی طویل سیاسی جدوجہد کا آغاز ہوگیااور کئی سالوں کی کڑی محنت کے بعد باالآخر جسینڈا آرڈن 26 اکتوبر 2017 کو نیوزی لینڈ فرسٹ اور لیبر پارٹی کے اتحاد سے بننے والی مخلوط حکومت کی وزایراعظم بننے میں کامیاب ہوگئیں۔ 38 سالہ آرڈرن نیوزی لینڈ کی 150 سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر رہنما اور وہ ملک کی تیسری خاتون وزیر اعظم ہیں۔دلچسپ با ت یہ ہے کہ جسینڈاآرڈن جون 2018 میں اپنے دور حکومت میں بچے کو جنم دینے والی دوسری حکمران خاتون بن گئیں۔ اس سے پہلے یہ اعزاز صرف پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے پاس تھا، جن کی بیٹی بختاور کی پیدائش اس وقت ہوئی تھی، جب وہ پاکستان کی وزیراعظم تھیں۔اس کے علاوہ جسینڈا آرڈن کو یہ منفرد اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ اپنے تین ماہ کے بچے کے ساتھ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے والی دنیا کی اولین رہنما بھی ہیں۔
دنیا بھر کی خواتین کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھنے والی خاتون سیاسی رہنما اور مسلمانوں کی ہردلعزیز شخصیت اِسی جیسنڈا آرڈرن کی سیاسی جماعت ’’لیبر پارٹی ‘‘ نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کر لی ہے جس کے بعد جیسنڈا آرڈرن کے دوسری بار وزیراعظم بننے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ اس مرتبہ نیوزی لینڈ کے پارلیمانی انتخابات میںجیسنڈا آرڈرن کا مقابلہ دائیں بازو کی ایک قدامت پسند اور مسلم مخالف سیاسی رہنما جوڈتھ کولنز سے تھا۔جنہوں نے اپنی انتخابی مہم میں جیسنڈا آرڈرن کی مسلم دوستی رویے کو انتہائی منفی انداز میں پیش کر کے نیوزی لینڈ کی عوام کونسل پرستی کے سیاسی نعرے کے تحت انتخابات میں لبھانے کی سر توڑ کوشش کی تھی ۔ لیکن نیوزی لینڈ کی عوام نے انتخابات میں قدامت پسندی کے مہلک نظریے کو یکسر مستردکرتے ہوئے اپنے سارے ووٹ جیسنڈا آرڈرن کے اسلامو فوبیا مخالف نظریے کے حق میں ڈال کر نیوزی لینڈ کے شاندار مستقبل کی نئے سرے سے بنیاد رکھ دی ہے۔
انتخابات کے ابھی تک آنے والے نتائج کے مطابق نیوزی لینڈ کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں جسینڈا آرڈن کی جماعت لیبر پارٹی نے 50 فیصد نشستیں حاصل کرلی ہیں اور ان کے مدمقابل جوڈتھ کولنز کی جماعت لیبر پارٹی نے 27 فیصد نشستیں حاصل کی ہیں ۔جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے مجموعی طور پر 8 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ اس طرح نیوزی لینڈ کی سیاسی وانتخابی تاریخ میں پہلی مرتبہ پارلیمان میں بائیں بازو کے اتحاد کو واضح اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ورنہ اس سے قبل ماضی میں ہمیشہ بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کو معمولی برتری سے ہی اقتدار ملتا رہاہے اور پچھلے انتخابات میں بھی جیسنڈا آرڈرن معمولی برتری حاصل کرکے چھوٹی سیاسی جماعتوں کے ملاپ سے بڑی مشکل سے ایک مخلوط حکومت قائم کرسکیں تھی۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ میں ہر تین سال کے بعد عام انتخابات ہوتے ہیں۔اِن انتخابات میں ایم ایم پی سسٹم کے تحت رائے دہندگان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی پارٹی اور اپنے انتخابی حلقے کے رکن اسمبلی کے لیے دو ووٹ ڈالیں۔نیوزی لینڈ میں حکومت سازی کے لیے پارلیمان کی 61 نشستوں پر کامیابی حاصل کرنا ضروری ہوتاہے ورنہ اکثریت نہ ملنے کی صورت میں دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانا پڑتی ہے۔چونکہ مخلوط حکومت سیاسی اتحادیوں کے راضی بہ رضا رکھے بغیر کامیابی کے ساتھ چلانا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔لہٰذا کچھ ایسی ہی مخدوش سیاسی و انتظامی صورت حال کا باربار سامنا اپنے دورِ اقتدار میں جیسنڈا آرڈرن کو بھی کرنا پڑا تھا۔ خوش قسمتی سے یہ پہلا موقع ہے کہ جب بائیں بازوسے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت کی رہنما دوسری بار بھی نہ صرف باآسانی سے وزیراعظم بن جائیں گی بلکہ جسینڈاآرڈن کو دیگر جماعتوں کی سیاسی بیساکھیوں کا سہار بھی مستعار لینا نہیں پڑے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں نیوزی لینڈ کی عوام اپنے پسندیدہ امیدوار کا انتخاب کرنے کے علاوہ دو عدد ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کے لیئے کہا گیا تھا۔ پہلا ریفرینڈم ’’مریض کو آرام دہ موت کا حق‘‘ اور دوسرا ’’بھنگ کو قانونی حیثیت دینا‘‘ تھے۔پہلے ریفرنڈم کا بنیادی مقصد ملک میں طویل عرصے سے بیمار یا لاعلاج مریضوں کی جانب سے موت کی درخواست پر انھیں مرنے کا قانونی اور آئینی اختیار دیا جانا ہے۔ اس سوال پر نیوزی لینڈ کے ہر باشندے کے لیئے ووٹ ڈالنا لازمی تھا۔ جس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ اگر 50 فیصد سے زیادہ لوگ ’’ہاں‘‘ میں ووٹ ڈالتے ہیں تو یہ نیوزی لینڈ کے قانون کا حصہ بن جائے گا اور اس پر عمل در آمد شروع ہو جائے گا۔ریفرنڈم کا دوسرا سوال یہ تھا کہ آیا بھنگ کو ملک بھر میں تفریح کے لیے استعمال کی عام اجازت دی جائے یا نہیں۔تاہم اس سوال پر ووٹ دینا نیوزی لینڈ کے ہر شہری کے لیے لازم نہیں تھا ۔ جس کا معنی یہ ہیں ہے کہ اگر لوگوں کی اکثریت ’’ہاں‘‘ پر ووٹ دے دیتی ہے تو بھی یہ فوری طور پر اُس وقت تک قانون نہیں بن سکتا ہے۔جب تک کے آنے والی نئی حکومت اس قانون کی پارلیمان سے توثیق نہ حاصل کر دے ۔انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے مگر دونوں ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کا اعلان 30 اکتوبر کو کیا جائے گا۔
نیوزی لینڈ کے حالیہ انتخابات میں جسینڈا آرڈن کی فقیدالمثال کامیابی کو عالمی ذرائع ابلاغ نے نمایاں شہہ سرخیوں میں جگہ دی ہے ۔ کیونکہ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جسینڈا آرڈن کے دوسری بار بھرپور سیاسی قوت کے ساتھ وزیراعظم بننے سے نیوزی لینڈ کے سیاسی مستقبل پر انتہائی دورَس اور مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ جبکہ اس جیت کے ساتھ ہی نیوزی لینڈ میں قدامت پسند سیاسی نظریات کی حامل جماعتوںکا مستقبل انتہائی مخدوش ہوگیا ہے اور انہیں آنے والے ایام میں مزید سیاسی و سماجی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتاہے۔ صرف یہ ہی نہیں دنیا بھر میں جسینڈا آرڈن کی انتخابی کامیابی کو عالمی نسل پرست سیاست کے خلاف جمہوریت پسند نظریات رکھنے والوں کی ایک بڑی فتح کے طور پر دیکھا جارہاہے۔یاد رہے کہ جسینڈا آرڈن نے سفید فام نسل پرست نظریے کی سیاسی پشت پناہی کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ایک بار کہا تھا کہ ’’دنیا میں نسل پرست نظریے رکھنے والوں کے لیئے کوئی جائے امان نہیں ہے‘‘۔ نیز جسینڈا آرڈن کے دوبارہ سے منصبِ اقتدار پر فائز ہونے سے تارکین وطن کو بھی نیوزی لینڈ میں بے شمار آسانیاں اور سہولیات میسرآجانے کی اُمید کی جارہی ہے۔ کیونکہ جسینڈا آرڈن نے ہمیشہ ہی سے نیوزی لینڈ میں تارکین وطن کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی ہے۔شاید یہ ہی وجہ کے نیوزی لینڈ کی سرزمین کو تارکین وطن کے لیے جنت بھی کہا جاتاہے۔بہرکیف جسینڈا آرڈن میں وہ سب خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں جو ایک عالمی سیاسی رہنما میں ضرور ہونی چاہئیں۔اس لیے توقع کی جاسکتی ہے کہ عالمی سیاست کامستقبل ترش و جارح مزاج ،نسل پرستانہ نظریات کے حامل سیاسی رہنماؤں جیسے ڈونلڈ ٹرمپ ،نریندر مودی اور نیتن یاہوکے بجائے، جسینڈا آرڈن ، جسٹن ٹروڈ اور عمران خان جیسے پرکشش، ہردلعزیز اور معتدل مزاج عالمی رہنماؤں کے ہاتھ میں زیادہ محفوظ و مامون ہوگا۔لہٰذا جسینڈا آرڈن کی جیت، اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ دنیا کا جھکاؤ ایک بار پھر سے اِمن پسند اور صلح جو سیاسی رہنماؤں کے حق میں پلٹ رہاہے اور اسلاموفوبیا جیسے نسل پرستانہ ،منفی نظریات کے حامل عالمی رہنما ؤں کا سیاسی مستقبل رفتہ رفتہ تاریک سے تاریک تر ہوتا جارہاہے۔ کرہ ارض کے بہتر مستقبل کے لیئے ضروری ہے کہ مثبت تبدیلی کا یہ عمل بدستور جاری رہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ وجود - پیر 09 مارچ 2026

جنگ کے نویں روز امریکی اور اسرائیلی کی جانب سے تہران کے نیلوفر اسکوائر پر بمباریم آئل ریفائنر اور آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا،اصفہان کے 8 شہروں پر فضائی حملے، نجف آباد پر بمباری،ایرانی میڈیا ایران نے اسرائیل پر نئے میزائل داغے،21 امریکی بحرین میں نیول اڈے پر مارے گئے،امریکی تی...

امریکا ، اسرائیل کی ایران تیل تنصیبات پر بمباری،20افراد شہید ، ایران کا 200امریکی فوجی مارنے کا دعویٰ

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ وجود - پیر 09 مارچ 2026

795زخمی ، 38 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانہ تباہ افغان طالبان کو بھاری جانی اور عسکری نقصان پہنچا ،وفاقی وزیر اطلاعاتعطا تارڑ پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن غضب للحق کے دوران اب تک 583افغان طالبان ہلاک جبکہ 795زخمی ہو گئے ہیں ۔وفاقی وزیر ا...

آپرپشن غضب للحق،583افغان طالبان ہلاک ،242چیک پوسٹیں تباہ

اسلام آباد میں عورت مارچ کی 11خواتین اور 3 مرد گرفتار وجود - پیر 09 مارچ 2026

دفعہ 144کی خلاف ورزی ، کوئی این او سی جاری نہیں کیا گیا تھا،ضلعی انتظامیہ ہم نے ایک ماہ قبل این او سی کیلئے ڈپٹی کمشنر کو درخواست دی تھی، عورت مارچ اسلام آباد پولیس نے دفعہ 144کی خلاف ورزی کرنے پر عورت مارچ کی 11 خواتین اور تین مردوں کو گرفتار کرلیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسل...

اسلام آباد میں عورت مارچ کی 11خواتین اور 3 مرد گرفتار

دبئی میں میزائل حملوں کے دوران 2پاکستانی جاں بحق وجود - پیر 09 مارچ 2026

میزائل ملبے تلے دب کر پاکستانی شہریوں کی موت پر دکھ ہوا ،وزیرِ اعظم پاکستان کا سفارتی مشن دبئی حکام سے رابطے میں ہے،ایکس اکاونٹ پر بیان حکومت پاکستان نے حالیہ دنوں میں دبئی میں ہونے والے میزائلوں حملوں میں 2پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے ۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ا...

دبئی میں میزائل حملوں کے دوران 2پاکستانی جاں بحق

پیٹرول مہنگا،موٹر سائیکل والوں کیلئے وجود - پیر 09 مارچ 2026

رجسٹرڈ 14 لاکھ موٹرسائیکلوں پر 55 روپے کا بوجھ نہیں پڑنے دیں گے، سہیل آفریدی پیٹرول میں اضافہ مسترد ، بی آر ٹی کا کرایہ نہیں بڑھائیں گے؛ وزیراعلیٰ کی پریس کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت پیٹرول میں اضافہ مسترد کرتی ہے، پیٹرول کی مد م...

پیٹرول مہنگا،موٹر سائیکل والوں کیلئے

امریکا نے اہداف بڑھا دیے،ایران پر زیادہ شدت سے حملوں کا اعلان وجود - اتوار 08 مارچ 2026

امریکی فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے،ایران نے معافی مانگی ہے، مشرق وسطیٰ کے پڑوسیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے وعدہ کیا اب ان پر حملہ نہیں کرے گا ، ڈونلڈٹرمپ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے ایران کو ’بہت زیادہ شدت سے نشانہ‘ بنایا جائے گا اور فوج نئے اہداف پر غور کر رہی ہے۔سوش...

امریکا نے اہداف بڑھا دیے،ایران پر زیادہ شدت سے حملوں کا اعلان

سرنڈر کرانے کی خواہش قبر تک لیجائے گی، ایران کا امریکا کو جواب وجود - اتوار 08 مارچ 2026

ہمسائیہ ممالک پر ایران کے حملے اپنے دفاع میں تھے اور نشانہ پڑوسی ممالک کی املاک نہیں بلکہ امریکی فوجی اڈّے اور تنصیبات تھیں،مسعود پزیشکیان کا سرکاری ٹی وی پر خطاب صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ جب تک ایران ہتھیار نہیں ڈال دیتا اُس وقت تک اس سے کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا جس پر ایرانی ...

سرنڈر کرانے کی خواہش قبر تک لیجائے گی، ایران کا امریکا کو جواب

ایران کے تل ابیب پر شدید حملے، 100 میٹر نیچے سرنگیں لرز گئیں وجود - اتوار 08 مارچ 2026

مشرق وسطیٰ میں حالات مزید سنگین، اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں سے ہر طرف تباہی پھیل گئی لاکھوں اسرائیلیرات بھر شیلٹرز میں چھپنے پر مجبور ،مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بج اٹھے مشرق وسطیٰ میں حالات مزید سنگین ہو گئے، امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کے تل ابیب پر شدید...

ایران کے تل ابیب پر شدید حملے، 100 میٹر نیچے سرنگیں لرز گئیں

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ گئے وجود - اتوار 08 مارچ 2026

عوام میٹرو اور گرین لائن میں سفر کرنے لگے، ایک اسٹاپ کا کرایہ 40 روپے ہوگیا کراچی سے پشاور مال بردار کنٹینرز ٹرالے کا کرایہ دو لاکھ 60 ہزار سے 4 لاکھ مقرر پٹرول ڈیزل قیمتوں میں اضافے کے بعد بعد ٹرانسپورٹرز نے کرایے میں بڑا اضافہ کردیا۔کراچی سے پشاور مال بردار کنٹینرز ٹرالے کا...

پیٹرولیم مصنوعات میں اضافہ، ٹرانسپورٹ کے کرایے بڑھ گئے

پیپلز پارٹی نے پیٹرول 55 روپے فی لیٹرمہنگا مسترد کردیا وجود - اتوار 08 مارچ 2026

پیٹرول قیمت میں اضافے کے خلاف پارلیمنٹ میں آوازاٹھائیں گے، راجا پرویز اشرف عوام کی عید کی خوشیاں ماند پڑ جائیں گی،حکومت نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا،بیان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ پیٹرول یکمشت 55 روپے فی لیٹرمہنگاکرنے کو پیپلز پارٹی مسترد کر...

پیپلز پارٹی نے پیٹرول 55 روپے فی لیٹرمہنگا مسترد کردیا

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں وجود - هفته 07 مارچ 2026

7 اسرائیلی ڈرونز مار گرائے، دشمن پر 500 سے زیادہ میزائل اور 2 ہزار ڈرونز فائر کیے،ڈرون ایرانی فضائی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، ایران لبنان پر اسرائیلی بمباری جاری، 123 شہادتیں، ہزاروں افراد گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے،تل ا...

ایرانی حملے جاری،امریکی ڈرون مار گرایا،اسرائیلی بمباری سے شہادتیں 1332 ہو گئیں

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ وجود - هفته 07 مارچ 2026

قیمتوں میں اضافے کا اثر براہِ راست صارفین تک منتقل کیا جائے بجٹ ، مالیاتی ہدف متاثر نہ ہو، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کے 30 جون تک 1468 ارب کے ہدف کو متاثر نہیں ہونا چاہیے، عالمی مالیاتی فنڈ مذاکرات میں اسکول اور کالجز کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے، دکانوں اور مارکیٹس کے اوقات مقر...

سبسڈی ختم کریں، آئی ایم ایف کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں فوری بڑھانے کا مطالبہ

مضامین
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار وجود پیر 09 مارچ 2026
بھارتی سیٹلائٹ مشن ناکامی سے دوچار

عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا! وجود پیر 09 مارچ 2026
عالمی منڈی کا بحران سنبھل نہیں پائے گا!

آر ایس ایس کی دہشت گردی وجود اتوار 08 مارچ 2026
آر ایس ایس کی دہشت گردی

سب ہارگئے ۔۔۔۔ وجود اتوار 08 مارچ 2026
سب ہارگئے ۔۔۔۔

جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی وجود اتوار 08 مارچ 2026
جدید جنگ، مصنوعی ذہانت اور عالمی طاقتوں کی حکمت ِعملی

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر