وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

نزاکت کا ادراک

هفته 10 اکتوبر 2020 نزاکت کا ادراک

موسمی حدت میں کمی کے باوجود سیاسی حالات میں گرمی اور تلخی بڑھ رہی ہے حالانکہ ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز کا تقاضا سیاسی استحکام ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کو اپنے مفادات کے تحفظ کے سوا کچھ کرنا ہی نہیں آتا ،پاکستان کے بعد آزادی حاصل کرنے والے کئی ممالک آج ترقی کی دوڑ میں ہم سے آگے نکل گئے ہیں لیکن ہم قرضے لیکر گزارا کرنے پر مجبور ہیں ۔اِس حالت کی ذمہ دار بہرحال عوام نہیں ،مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں۔ لسانی ،صوبائی اور مذہبی تفریق بڑھانے میں دلچسپی ہے ۔مسائل حل کرنے کے لیے جس حکمت وتدبر کی ضرورت ہے، اُس کا کہیں نام و نشان نظر نہیں آتا۔ حکومت ہو یا اپوزیشن سبھی جنگ و جدل پر آمادہ و تیار ہیں۔ حالانکہ بڑھک بازی کے بجائے بات سلیقے سے کی جائے تو بھی عوام تک مطمع نظر پہنچایا جا سکتا ہے لیکن متوازن طرزِ عمل کے فقدان سے بات ایک دوسرے کے گریبان تک ہاتھ ڈالنے پر جا پہنچی ہے الزامات وجوابی الزامات کی بوچھاڑ ہورہی ہے ایسا طریقہ کار کسی طور مستحسن قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
مدتِ اقتدار گزارنے کے بعد جب کامیابیوں و ناکامیوں کی بات ہوگی تو موجودہ حکومت کی ایک کامیابی کا تذکرہ ضرور ہوگا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت نے اپوزیشن قیادت کو عسکری قیادت کے خلاف متفقہ لائحہ عمل اپنانے میں اہم کردار ادا کیا حالانکہ اِس سے قبل چند ایک چھوٹی جماعتوں میں یہ قباحت تھی مگر ذہانت وفطانت کا ایسا مظاہرہ کیا گیا جس سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن جیسی بڑی جماعتیں بھی دشنام طرازی کی طرف مائل ہوچکی ہیں۔ یہ کامیابی کسی طور ملک وقوم کے مفاد میں نہیں بلکہ اِس کے مضمرات کا جائزہ لیا جائے تو بھیانک صورتحال دکھائی دیتی ہے قوم کو اپنی محافظ سپاہ سے متنفر کرنے کی ایسی سازش ہے جس کا بروقت توڑ نہ کیا گیا تو ملک و قوم کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے دائو میں بیٹھی سازشی قوتیں اپنے ناپاک اِرادوں میں کامیاب ہو سکتی ہیں اِس لیے بہتر یہ ہے کہ سیاسی قیادت متوازن رویہ اپنائے اور سیاسی لڑائی کو سیاسی رکھے اِداروں کو متنازع بنانے جیسی حرکتوں سے گریز کرے۔
نوازشریف تین بار ملک کے وزیرِ اعظم اور تین بار پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ رہے ہیں ۔ اُن سے توقع تھی کہ وہ سوچ سمجھ کربات کریں گے۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہورہا عمران خان کے بجائے اُنھیں لانے والوں سے لڑائی کی بات کرکے انھوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ بات کرتے ہوئے جذبات کی رو میں بہہ جاتے ہیں ۔غلام بن کر نہیں رہ سکتا ،عزت سے جینے کا فیصلہ کر لیا، جیسی باتیں جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف
ہے۔ میزائل سازی کی بونگی اورپھر اسحاق ڈار کی طرف سے کروز کا لفظ یادکرانے سے اُن کا امیج بہتر نہیں ہوا۔
احتساب کیسوں کا سامنا اگر دلیل اور ثبوتوں کے ساتھ کرتے تو عین ممکن ہے آج صورتحال مختلف ہوتی مگر عدالتوں میں جاری قانونی لڑائی کو جلسوں کے ذریعے دبائو ڈال کر لڑنے کی روش اپنائی گئی جس سے معاملات بگڑے اور آج حالات اِس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ واپسی سے بچنے کے لیے وارنٹ کی وصولی سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے ۔ہائیکورٹ میں اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع ہوچکی ہے اور عدالتی ریمارکس، نوازشریف نے لندن جانے کے لیے دھوکا دیا، یہ نظام کی تضحیک ،مجرم کا رویہ انتہائی شرمناک اب باہر بیٹھ کر وفاقی حکومت اور عوام پر ہنستا ہوگا ،سے شریف خاندان کی عزت میں اضافہ نہیں ہورہا۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب انھیں بھی کسی کی پرواہ نہیں رہی بلکہ فوری وطن آنے کی بجائے کچھ عرصہ بیرونِ ملک رہ کر سیاست کرنے کافیصلہ کرلیا ہے ۔یہ فیصلہ کسی طور قانون پسند رہنما کے شایانِ شان نہیں اگر علاج نہیں کرارہے تو واپس آکر قانون کا سامنا کرنا اوربے گناہی ثابت کرنا ہی قانون پسندی ہے ۔
پاناماکیس کے فیصلہ پر اثرانداز ہونے میں کسی اِدارے کا ہاتھ نہیں بلکہ عدالتوں نے فیصلہ کرتے ہوئے کسی کی مقبولیت دیکھنے کی بجائے دستیاب شواہد اور گواہوں کے تناظر میں فیصلہ کرنا ہوتا ہے جہاں تک پاناما تفصیلات کا تعلق ہے ،وہ بھی غیر ملکی صحافیوں نے طشت ازبام کیں پھر اپنے اِداروں پر چڑھائی کاکیاجواز ہے؟ اِس میں شائبہ نہیں کہ بدعنوانی نے نظام کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ملک کے بہتراورروشن مستقبل کو گہنا دیا ہے۔ جس کے لیے بدعنوانی کا خاتمہ وقت کی ضرورت ہے مگر قوم نے جس شخص کو محبوب جان کر عزت دی اور بہتر مستقبل کے لیے اعلیٰ ترین منصب سونپے اُس کا اپنی اولاد کو کسی غیر ملک بسانے اور کاروبار کرانے میں پوشیدہ حکمت سمجھ سے باہر ہے ۔ ہر خاص و عام میں یہ بات ہونے لگی ہے کہ دوبرس کی خاموشی اور سیاسی معاملات سے لاتعلقی کی وجہ مقدمات سے گلو خلاصی کی آس تھی ۔ مگر جب کوئی اِدارہ مدد کو نہ آیا تو مردے کی طرح کفن پھاڑ کر چلاتے ہوئے اِداروں سے محاذ آرائی شروع کر دی ۔
بغاوت جیسے مقدمات سیاسی تلخیوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں لیکن وزرا کی روزوشب کی پریس کانفرنسوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُنھیں لُطف آرہا ہے۔ اِداروں کے دفاع کی آڑ میں وہ دراصل دل کی بھڑاس نکالنے اور سیاسی لڑائی کے بجائے غداری کے الزامات لگاکر فضامکدر کررہے ہیں جس سے سیاسی استحکام کی منزل دور اورنفاق میں اضافہ ہورہا ہے قبل ازیں بھٹو خاندان پر بھی اسی نوعیت کے الزامات لگتے رہے لیکن قوم نے بے نظیر بھٹو کو دوبار ملک کا وزیرِ اعظم بنایا۔ سندھ میں آج بھی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اِس لیے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ غداری اور حب الوطنی کی اسناد تقسیم کرنے سے کسی کی سیاسی ساکھ ختم نہیں ہوتی لیکن کسے سمجھایا جائے کوئی سمجھنے پر تیار نہیں سندھ ،کے پی کے اور بلوچستان کے چند سیاسی رہنما ئوں پر غداری کے الزامات لگائے جاتے رہے لیکن اِس کے باوجوداُنھیں انتخابات میں کامیابیا ں ملتی رہیں۔ اب غداری سرٹیفکیٹ پنجاب میں بھی بڑے پیمانے پر تقسیم کرنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس میں احتیاط اشد ضروی ہے ۔حالات کی نزاکت کااحساس کرنے میں عافیت ہے۔ لیکن اپوزیشن اور حکومت کے شہ سوار جس طرح بیان بازی سے ایک دوسرے کو رگیدنے میں توانائیاں صرف کر رہے ہیں، اِس سے سبھی کو نقصان ہو سکتا ہے ۔بلکہ سیاسی نظام کو بھی زک پہنچنے کا ندیشہ ہے۔ اِس لیے حالات کی نزاکت کا ادراک کرنا ہی دانشمندی ہے ۔جہاں تک کچھ اِداروں کی طرف سے آمریت کے ادوار میں چند چہروں کو سایۂ عاطفت میں لینے کی بات ہے تو موجودہ زہرناکی کی فضا نے اُنھیں بھی موقع دیا ہے کہ اپنی خامیوں کا جائزہ لیںاور پسند ناپسند پر کسی کو گرانے اور کسی کو آگے لانے کی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ کیونکہ سیاست بہت بے رحم ہے جس میں اخلاق ،مروت اور اصول کے بجائے انتخابی کامیابی عزیز جانی جاتی ہے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ سیاسی امور میں مداخلت کے بجائے فرائض تک محدود رہاجائے تاکہ آئندہ کسی کو اُنگلی اُٹھانے کا موقع نہ ملے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں