وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

درویش کی سرگوشی

بدھ 09 ستمبر 2020 درویش کی سرگوشی

کراچی کی حالت ایک جاں بلب مریض کی مانند ہے۔ اودے اودے ، نیلے نیلے ،پیلے پیلے معالج ’’ گردوں‘‘ سے قطار اندر قطار اُترے چلے آتے ہیں۔ سب کے نسخے اور نیتیں الگ الگ ۔ مریض بھلے ہی سخت جان ہو، مگر معالج لڑنے جھگڑنے میں مصروف ہیں، ہر ایک موقع سمجھ کر مریض کا جو حصہ ہاتھ لگے جھپٹ پڑنے کو تیار ہے۔ گاہے سمجھ نہیں آتا کہ یہ معالج ہیں یا بھیڑئیے؟ مختار مسعود کی آخری کتاب ’’حرفِ شوق‘‘ سے اِس ’’شوقِ علاج‘‘ کی گتھی سلجھتی ہے۔ مرحوم نے اپنے علی گڑھ کو یاد کرنے کے لیے کتاب لکھی ۔ کبھی رسول حمزہ توف نے اپنے داغستان کو اسی طرح یاد کیا تھا۔ سب کے دلوں میں ایک مخملی ڈبیا ہوتی ہے جہاں اُن کا بچین ، لڑکپن اور جوانی، بڑھاپے سے ہم آغوش ہو کر رومان انگیز چادریں اورڑھتی ہیں۔ حافظہ ،علامہ اقبال کا شعر مستعار لیتا ، فریاد کناں رہتا ہے:

ہاں دکھا دے اے تصور پھر وہ صبح و شام تو

دوڑ پیچھے کی طرف اے گردشِ ایام تو

مختار مسعود کی حیات کے’’ سفرِ نصیب‘‘ میں علیگڑھ کا پڑاؤ منزل کی مانند ہے، وہ اپنا وجود نوزائیدہ ملک میں سمیٹ لائے تھے ، مگر دل وہیں چھوڑ آئے تھے۔زندگی نے فراغت پائی تو دل کی مصروفیت بڑھ گئی۔ علیگڑھ یاد آیا اور بے طرح یاد آیا۔اہلِ کراچی کا معاملہ ذرا سا مختلف رہا۔ وہ قائدِ اعظم کے نقشِ پا پر چلتے چلتے وجود ہی نہیں دل بھی کراچی اُٹھا لائے تھے۔ علیگڑھ نے آخری تین برسوں میں قائدِ اعظم کو یاد کرنا چھوڑ دیا تھا۔ تقسیم کے بعد ادارے پر کیا بیتے گی، انتہا پسند ہندو انتقام پر اُتر سکتے تھے۔ مگر اہلِ کراچی ’’مہاجر‘‘ بنے تو یہ نہیں سوچا کہ جو وہ لے جارہے ہیں، اُس کے ساتھ کیا ہوگا اور جو چھوڑ جائیں گے ، اُس کے ساتھ کیا بیتے گی؟ہجرت کا راستاماتمی رنگ سے پیراستہ اور درد والم کے مرثیوں سے گونجتا ہے۔ مولانا عبدالماجد دریابادی سے تو اپنی کتابیں ہاتھ سے نہ چھوٹتی تھیں، زندگی بڑھاپے کی دہلیز پہ پہنچی تو کتابوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا ، ایک حصہ دارالعلوم ندوہ کے نام ،تو دوسرا علیگڑھ کے لیے مخصوص کیا۔ ٹرک بھر کتابیں جارہی تھیں، دوڑتے ہوئے جاتے، ایک کتاب اُٹھاتے، کھولتے، پڑھتے واپس رکھ دیتے۔ یہ کتابیں نہیں ایک پوری زندگی تھی۔ اہل ِ کراچی پر یہ واقعہ بار بار بیتا۔ وہ جس گاڑی میں سوار ہوئے پیچھے رہ جانے والے دوڑے ہوئے آتے، گلے لگتے اور گلے لگائے رخصت کرتے ۔دونوں طرف زندگیا ں تھیں۔ دونوں کو امتحان سے گزرنا تھا۔ ہندوستان میں رہ جانے والوں کو باربار ہندؤںسے پاکستان جانے کا طعنہ سننا تھا۔ اور پاکستان آنے والوں کو’’ دھرتی کے بیٹوں‘‘ سے اپنے وجود کی سچائی منواتے منواتے اس طعنے کا بار بار سامنا کرنا تھا کہ کراچی ہمارا ہے تمہارا نہیں۔ اردو کے پروفیسر ، مرحوم شاعر راحت اندوری نے تو بھارت میں یہ کہنے کی ہمت جمع کرلی تھی کہ ’’کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے‘‘۔اہلِ کراچی کا معاملہ مختلف ہے، اُن پر قیادت کے نام پر ایسے قاتل ، خونی ، وحشی اور چنگیزی مزاج کے رہنما مسلط کیے گئے کہ وہ اس نوع کا مصرعہ کہیں تو ’’دہشت گرد‘‘ کہلانے لگیں۔
بات مختار مسعود کے ’’حرفِ شوق‘‘سے چلی تھی، سمتوں کا ٹوٹتے فسوں اور کراچی کے آوارہ رستوں کی طرح یہ بات بھی تہمتِ بے راہ روی کا شکار ہوسکتی ہے۔ سو’’ شوقِ آوارگی‘‘ سے کچھ دیر کو راہِ فرار لیتے ہیںاور’’ حرفِ شوق ‘‘کو پڑھتے ہیں، شاید کراچی کی گتھی سلجھ جائیـ، مختار مسعود علیگڑھ کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’سالہا سال سے جمعرات کے روز ہمارے یہاں ایک پیر مرد آواز لگاتے ہیں۔ آواز پُراثر شخصیت تاثر پزیر۔
ان کے لیے خیرات پہلے سے نکال کر رکھی جاتی ہے۔ میں انہیں اسکول کے دنوں سے جانتا ہوں اور ایم اے کے
سالِ آخر میں بھی میری خواہش یہی ہوتی ہے کہ ان سے ہفتہ واری ملاقات میں ناغہ نہ ہو جائے۔ایک بار پانچ
چھے ہفتے تک وہ غیر حاضر رہے۔ گھر میں دبی زبان سے اس خدشے کا اظہار ہورہا ہے کہ شاید وہ پردہ کرگئے ہیں۔
جب اُن کی آواز دوبارہ سننے کو ملی تو سب کو بہت خوشی ہوئی ۔ انہوں نے سوال پوچھنے سے پہلے ہی وضاحت کردی
کہ وہ پاکستان گئے ہوئے تھے۔ وہاں دیکھا کہ کیا امیر اور کیا غریب، کیا مقامی اور کیا مہاجر، کیا حاکم اور کیا محکوم،
سب مانگنے میں مصروف ہیں۔ جہاں اتنے سائل اور طلب گار جمع ہوجائیں وہاں کسی درویش کا کیا کام ، چنانچہ
واپس آگئے‘‘۔

کراچی کو دیکھ لیں، منظر وہی ہے جو درویش نے ابتدا میں دیکھا تھا۔ ایسا نہیں کہ کچھ فرق واقع نہ ہوا ہو۔ تب پاکستان نوازئیدہ تھا، ابتدا تھی لوگ مانگ لیتے تھے، اب انتہا ہے مانگتے نہیںلوٹ لیتے ہیں۔لوٹنے والوں میں جھگڑا’’ حصہ بقدر جثہ‘‘ کا ہے۔ تب مانگنے والوں میں کوئی فرق نہیں تھا، اب لوٹنے والوں میں کوئی فرق نہیں۔ فرق ہے تو بس اتنا کہ امیر غریب ، مقامی مہاجر اور حاکم محکوم سے چلتے ہوئے بات وفاقی، صوبائی تک بھی نہیں ٹہری ۔ان کو ساتھ بٹھانے والے بھی ان کے ساتھ ہی بیٹھ گئے ہیں۔کبھی محمود وایاز نماز کے لیے ایک صف میں کھڑے ہوجاتے تھے، اب دسترخوان پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ جی اُچاٹ ہوتا ہے تو اس میں کچھ حساب کتاب کی باتیں ’’چومنے چاٹنے‘‘ والے لے آتے ہیں۔ پھر اقتدار کی گھمن گھیریوں میں کھینچا تانی شروع ہوتی ہے تو ’’حساب کتاب ‘‘ کی باتیںاقتدار کے ’’ سہولت کاروں‘‘ کی ذمہ داری بن جاتی ہیں۔ جیل سے لندن کے راستے بن جاتے ہیں۔ بلاول ہاؤس کے راحت کدوں میںعلاج معالجے شروع ہوجاتے ہیں۔ کراچی کا حرفِ شوق، لوٹ مار ہے۔ ہاں اس غم کو بانٹنے کے لیے کچھ’’ ردالی عورتیں‘‘ بھی رکھی گئی ہیں جو اس لوٹ مار پر گریہ زاری کرتی ہیں۔وفاقی وزراء کے مردانہ چہروں پر نہ جائیں، ان کی حرکتوں کو ٹٹولیں، یہ ’’ردالی عورتیں‘‘ان میں مل جائیں گی۔
آہ علیگڑھ پلٹنے والا درویش کہاں ہے؟ کراچی لوٹنے والے اہلِ کراچی کو خبر دیتے ہیں کہ وہ اس کی ترقی پر کمربستہ ہیں۔ بستۂ قفلِ ستم سے بندشوں کی داد ِ تمنا شاعر کی خواہش تو ہوسکتی ہے، مگر ڈوبنے والے ڈبونے والوں کو پیار سے دیکھنے لگیں تو موت پر زندگی کی تہمت دھری جائے گی، ہر اُلٹی چیز سیدھی نظر آئے گی۔ زوال کی ایک علامت فلسفۂ تاریخ میں یہ بھی ملتی ہے کہ قیدی اپنی زنجیروں سے پیا رکرنے لگتا ہے۔ وہی ڈوبنے والے ڈبونے والوں کو نگاہِ محبت سے دیکھتے ہیں۔ابھی لندن میں اینٹھتا ڈکراتا وہ شمر صفت کراچی کی جان چھوڑنے پر تیار نہیںکہ دوسرے کراچی کی جان کو آگئے۔کیا یہی ہمارا مقدر ہے؟ لندن کا عفریت انسانی جانوں کو لقمہ تر بناتا تھا، جوبچ گئے، اُن جانوں سے یہ اپنا سامان زندگی جمع کرنے پر تُلے ہیں۔ کراچی کے ہاتھ پہلے بھی کچھ نہیں آیا، اب بھی نہیں آئے گا۔مگر اہلِ کراچی پر ایک جبر مسلط ہے ، اُنہیں اپنی’’ ایسٹ انڈیا کمپنی‘‘ سے پیار کرنا ہے۔بات کہاں ختم ہوتی ہے، بس ورق تمام ہوتا ہے، مجھے ایسا لگا کہ علیگڑھ کا درویش میرے کان میں سرگوشی کررہا ہے، آپ بھی سن لیں، غارت گروں کا اتفاق خوشخبری نہیں ہوتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں


مضامین
دوگززمین وجود پیر 06 دسمبر 2021
دوگززمین

سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی! وجود پیر 06 دسمبر 2021
سجدوں میں پڑے رہناعبادت نہیں ہوتی!

چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے! وجود پیر 06 دسمبر 2021
چین کی عسکری صلاحیت’’عالمی رونمائی‘‘ کی منتظر ہے!

دوگززمین وجود اتوار 05 دسمبر 2021
دوگززمین

یورپ کا مخمصہ وجود هفته 04 دسمبر 2021
یورپ کا مخمصہ

اے چاندیہاں نہ نکلاکر وجود جمعه 03 دسمبر 2021
اے چاندیہاں نہ نکلاکر

تاریخ پررحم کھائیں وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
تاریخ پررحم کھائیں

انوکھی یات۔ٹو وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
انوکھی یات۔ٹو

وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
وفاقی محتسب واقعی کام کرتاہے

ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ڈی سی کی گرفتاری اور سفارشی کلچر

ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔ وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
ماں جیسی ر یاست اور فہیم۔۔۔

انسانیت کی معراج وجود اتوار 28 نومبر 2021
انسانیت کی معراج

اشتہار

افغانستان
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ وجود اتوار 05 دسمبر 2021
طالبان کے خواتین سے متعلق حکم نامے کا خیرمقدم کرتے ہیں، تھامس ویسٹ

15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل وجود هفته 04 دسمبر 2021
15 سالہ افغان لڑکی برطانوی اخبار کی 2021 کی 25 با اثر خواتین کی فہرست میں شامل

طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت وجود جمعه 03 دسمبر 2021
طالبان کی خواتین کو جائیداد میں حصہ دینے،شادی مرضی سے کرانے کی ہدایت

جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان وجود جمعه 03 دسمبر 2021
جھڑپ میں ایران کے 9سرحدی گارڈز ہلاک ہوئے،طالبان

افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
افغان طالبان اور ایرانی بارڈر گارڈز کے درمیان شدید جھڑپیں، بھاری اسلحہ کا استعمال

اشتہار

بھارت
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا وجود جمعرات 02 دسمبر 2021
بھارت ، ٹیکس میں کمی، پیٹرول 8روپے فی لیٹرسستا ہوگیا

بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی وجود بدھ 01 دسمبر 2021
بھارت میں مشتعل ہجوم کی چرچ میں تھوڑ پھوڑ ،عمارت کو نقصان،ایک شخص زخمی

بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین وجود پیر 29 نومبر 2021
بھارت میں نفرت جیت گئی، فنکار ہار گیا،مسلم کامیڈین

بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی وجود هفته 27 نومبر 2021
بھارت میں ہندوانتہا پسندوں کی نماز جمعہ کے دوران ہلڑ بازی

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا وجود جمعرات 25 نومبر 2021
چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بھارتی دعوت نامہ مسترد کر دیا
ادبیات
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام وجود منگل 26 اکتوبر 2021
جرمن امن انعام زمبابوے کی مصنفہ کے نام

پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام وجود پیر 25 اکتوبر 2021
پکاسو کے فن پارے 17 ارب روپے میں نیلام

اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا وجود بدھ 13 اکتوبر 2021
اسرائیل کا ثقافتی بائیکاٹ، آئرش مصنف نے اپنی کتاب کا عبرانی ترجمہ روک دیا

بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف وجود جمعه 01 اکتوبر 2021
بھارت میں ہندوتوا کے خلاف رائے کو غداری سے جوڑا جاتا ہے، فرانسیسی مصنف کا انکشاف

اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب وجود پیر 20 ستمبر 2021
اردو کو سرکاری زبان نہ بنانے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
شخصیات
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی وجود اتوار 05 دسمبر 2021
نامور شاعر ، مزاح نگار پطرس بخاری کی 63 ویں برسی آج منائی جائیگی

سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے وجود پیر 29 نومبر 2021
سینئر صحافی ضیاءالدین ا نتقال کر گئے

پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل وجود جمعرات 25 نومبر 2021
پاکستانی سائنسدان مبشررحمانی مسلسل دوسری بار دنیا کے بااثرمحققین میں شامل

سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز وجود جمعه 19 نومبر 2021
سکھ مذہب کے بانی و روحانی پیشواباباگورونانک کے552ویں جنم دن کی تین روزہ تقریبات کا آغاز

صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام وجود جمعه 19 نومبر 2021
صحافتی بہادری کا ایوارڈ، چینی اور فلسطینی خواتین صحافیوں کے نام