وجود

... loading ...

وجود
وجود
ashaar

’’عید البستر‘‘

جمعرات 28 مئی 2020 ’’عید البستر‘‘

دوستو،عیدآئی اور چلی بھی گئی۔۔عیدالفطر عام طور سے مردحضرات کے لیے ’’عیدالبستر‘‘ کیوں کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ جو چند چھٹیاں ملی ہیں انہیں زیادہ سے زیادہ سو کر اور آرام کرکے گزاری جائے، لیکن اس بار تو مارچ سے چھٹیاں ہی چل رہی ہیں، لاک ڈاؤن کی وجہ سے مردحضرات کی اکثریت گھروں میں ہی ہے اور آرام ہی آرام چل رہا ہے۔۔ہمارے پیارے دوست کا کہناہے کہ لاک ڈاؤن ختم ہوجائے تو آفس سے دس دن کی چھٹیاں لے کر لاک ڈاؤن کی تھکن مٹاؤں گا۔۔جب کہ باباجی فرماتے ہیں کہ ۔۔ لاک ڈاؤن ختم ہوتے ہی وہ پاکستان ٹور پر نکل جائیں گے اور ایک ماہ تک گھر کی شکل تک نہیں دیکھیں گے۔۔ پورے رمضان باوجود کوشش کہ ہم آپ کے چہرے پر مسکراہٹ نہ لاسکے۔۔ کیوں کہ اوٹ پٹانگ باتوں کا دل ہی نہیں چاہتا تھا۔۔ چلیں آج اگلی پچھلی کسر نکالتے ہیں۔۔
عیدکے چاند پر اس بار پھر بحث چلی، فواد چودھری نے پہلے ہی بتادیاتھا کہ عید چوبیس مئی کو ہوگی، مفتی صاحب چونکہ رویت ہلال والے ہیں اس لیے جب تک چاند کو آنکھوں سے نہیں دیکھ لیتے یا اس کی شہادت نہیں مل جاتی وہ اعلان کرسکتے ہیں نہ کوئی پیش گوئی۔۔ پھر سنا ہے کہ رات دس بجے کے قریب کسی ’’جنرل‘‘ نے شہادت دی تو چاند کا فوری اعلان ہوگیا۔۔ ہمارے پیارے دوست جو فواد چودھری کے بڑے پنکھے (فین) ہیں ایموشنل ہوکر بولے ۔۔دیکھا سائنس کی فتح۔۔باباجی نے برجستہ کہا۔۔ نہ پتر یہ ’’جنرل سائنس‘‘ کا کمال ہے۔۔پھر مزید فرمایا کہ۔۔شکر کرو’’لڈن جعفری‘‘ ہلال کمیٹی کے چیئرمین نہیں تھے ورنہ وہ چاند دیکھ بھی لیتے تو کہتے۔۔ میں نہیں بتاؤں گا۔۔
عید سے پہلے کرنل کی بیوی سوشل میڈیا اسٹار بنی ہوئی تھی۔۔ باباجی نے وہ جھگڑے والی وڈیو دیکھ کر فکرانگیز جملہ کہا، فرمانے لگے۔۔ گرتی ہوئی قلفی، بڑھتے ہوئے پیٹ اور کرنل کی بیوی کو کوئی مائی کا لعل نہیں روک سکتا۔۔ویسے بلاشبہ یہ سوشل میڈیا کا ہی کمال ہے کہ اتنی مشہور تو جنرل رانی نہیں ہوئی تھی جتنی مشہور ایک دن میں ’’کرنل رانی‘‘ ہوگئی۔۔عورتوں کو اب نیا طعنہ ہاتھ لگ گیاہے،اب وہ شوہروں کو یہ طعنہ بھی دینے لگی ہیں کہ۔۔ اگر ملتی ناں کرنل جیسی بیوی تو لگ پتہ جاتا۔۔باباجی نے تو کرنل صاحب کے لیے اظہارہمدردی کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ۔۔کرنل صاحب حقیقت میں نشان حیدر کے مستحق ہیں جس نے اتنا اہم مورچہ اتنے عرصے سے تن تنہا سنبھالا ہوا ہے۔۔وہ مزید فرمانے لگے۔۔ پورے ملک کو کرنل کی بیوی کی پڑی ہوئی ہے،کسی نے کرنل کی زندگی کے بارے میں سوچا وہ کیسی گزررہی ہوگی؟؟جس پر ہمارے دوست نے لقمہ دیا۔۔ سوشل میڈیا پر اداروں کو بدنام کیا جارہا ہے بیویاں سب کی ’’ کرنل‘‘ ہی ہوتی ہیں۔۔ ہم پیچھے کہاں رہنے والے تھے، ہم بھی بول اٹھے۔۔دنیا میں تین چیزیں اپنا رستہ خود بناتی ہیں۔۔ ایک بہتاہوا پانی ، دوسرا بس کا کنڈیکٹر اور تیسری کرنل کی بیوی۔۔۔
اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا میں ذہین صرف دو قسم کے ہی لوگ پائے جاتے ہیں، ایک لاہوری۔۔اور دوسرے وہ جو۔۔ پائین تسی سیدھے جا کے کھبے مڑنافیر تھوڑا جیا اگے جا کے کھمبا آئے گا فیر اوں نوں ہو جانا فیر تسی مڑنا نئیں اگے پہلا چوک آئے گا اوتھوں ایں نوں مڑ کے فیر پہلی گلی جیہڑی ایں نوں جا ری اے مڑ جانا سیدھے بھاٹی گیٹ۔۔۔جو یہ سمجھ جاتے ہیں۔۔ہم نے ایک بار لاہور میں ایک کافی عمر کے باباجی سے پوچھا، باباجی، کوئی ایسا حل بتائیں کہ بندہ دن رات اے سی بھی خوب چلائے اور بجلی کا بِل بھی نہ آئے۔ ۔باباجی نے ہمیں غور سے دیکھا، پھر گھورا، پھر کان پہ لگی سگریٹ نکالی،اسے ایک ہاتھ سے پکڑا اور دوسرے ہاتھ کے انگوٹھے پر ٹھونکنے لگے، پھر سگریٹ منہ سے لگائی، جیب سے ماچس نکالی، تین تیلیاں ضائع کرنے کے بعد چوتھی ٹرائی میں سگریٹ جلائی، لمبا کش کھینچا،پھر سارا دھواں ہمارے منہ پہ چھوڑتے ہوئے بڑے اطمینان سے فرمانے لگے۔۔ پْتر۔اے سی تھلے دو ٹا ئر لَوا لے۔ تے چلا کے جتھے مرضی لے جا۔ بل نئیں آئے گا۔۔ہم پاکستانی بھی عجیب ہی قوم ہیں،بغیر پڑھے پاس ہونا چاہتے ہیں۔ بغیر کام کیئے تنخواہ لینا چاہتے ہیں، بلکہ چاہتے ہیں کام پر نہ جائیں اور نوکری چلتی رہے، ورزش نہ کر کے بھی فٹ فاٹ رہنا چاہتے ہیں۔۔ خود جیسے ہوں بیوی حسینہ عالم مانگتے ہیں۔ان سب سے بڑھ کر، نماز نہیں پڑھیں گے اور خواہش کریں گے کہ موت سجدے میں آئے۔۔
استادنے کلاس میں سوال کیا، شادی سے پہلے مرد کیا ہوتا ہے ؟ایک شاگرد نے جواب دیا، انسان۔۔استاد نے اگلا سوال داغا، اور بعد میں؟؟۔۔شاگرد نے فوری جواب دیا۔۔شوہر۔۔ایک خاتون ٹیچر نے کلاس میں بچے سے پوچھا، تم بڑے ہوکرکیا کروگے؟؟بچے نے جواب دیا، نکاح۔۔لیڈی ٹیچر نے سوال کی وضاحت کی میرا مطلب ہے کیا بنوگے؟،بچے نے کہا، دلہا۔۔لیڈی ٹیچر نے پھرسوال کیا، میرا مطلب بڑے ہو کر کیا حاصل کرو گے؟بچے نے جلدی سے کہا، دلہن۔۔ٹیچر کو غصہ آگیا، کہنے لگیں، بدتمیز، بڑے ہوکر اپنے امی،ابو کے لیے کیا کروگے؟بچے نے معصومانہ انداز میں کہا، بہو لاؤں گا۔۔ٹیچر نے پھر کہا، ارے بے وقوف، تمہارے ابوتم سے کیا چاہتے ہیں؟ بچے نے جلدی سے کہا، پوتا۔۔ٹیچر کا غصہ اپنے عروج پر پہنچ گیا، ابے نالائق،تمہاری زندگی کا مقصد کیا ہے؟، بچے نے شرماتے ہوئے کہا،شادی۔۔
کہتے ہیں کہ شوہر وہ واحدہستی ہے، جسے اسلام کے ارکان کا کچھ پتہ ہو یا نہ ہو، یہ ضرور پتہ ہوتا ہے کہ چار شادیاں ان کا حق ہے۔۔۔ ایک صاحب بڑی خوشی خوشی اپے گھر میں داخل ہوئے، بیوی کو تلاش کیا تو وہ کچن میں مصروف ملی، وہ بھی کچن میں داخل ہوگیا اور بیوی سے پوچھنے لگا۔۔ ہمارے چار بچوں میں سے تمہیں سب سے زیادہ کون محبوب ہے؟؟اس نے جواب دیا، سارے۔۔شوہرنے کہا ، تمہارا دل اتنا کشادہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔بیوی نے کہا، یہ اللہ کی تخلیق ہے، ماں کے دل میں سارے بچوں کے لیے کشادگی ہوتی ہے۔۔شوہر نے مسکرا کر کہا۔۔اب تم سمجھ سکتی ہو، مرد کے دل میں چار بیویوں کی کشادگی بیک وقت کیسے ہو سکتی ہے۔کیونکہ یہ بھی اللہ کی تخلیق ہے۔۔بیوی نے بیلن سے حملہ کیا اور شوہراسپتال پہنچ گیا۔۔اللہ شوہربے چارے پر رحم فرمائے۔اس کا اسلوب بھی اچھا تھا اورتکنیک بھی مزیدار۔بس کچن کی جگہ غلط چُن لی اس نے۔۔سیانے کہتے ہیں۔۔کسی بھی میدان جنگ میں اترنے سے پہلے میدان کے محل وقوع اور جغرافیائی صورتحال کو لازمی ذہن میں رکھنا چاہیے۔۔۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔عیداں تے شبراتاں آئیاں،سارے لوکی گھراں نو آئے۔او نئیں آئے محمد بخشا۔جہیڑے آپ ہتھوں دفنائے۔۔خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


متعلقہ خبریں