وجود

... loading ...

وجود

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا

بدھ 01 اپریل 2020 کورونا وائرس سے دنیا بھر میں طبی آلات کی قلت ،طبی عملہ بھی کم پڑ گیا

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں جہاں طبی آلات کی قلت پیدا ہوگئی ہے ، وہیں طبی عملہ بھی کم پڑ گیا ہے جب کہ ہسپتالوں سمیت کئی دیگر جگہوں کو عارضی آئسولیشن سینٹرز اور قرنطینہ میں تبدیل کردیا گیا ہے لیکن اس باوجود کئی ممالک میں کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے ۔عام ہسپتالوں میں قرنطینہ سینٹرز بنانے اور وہاں پر دیگر مریضوں کے علاوہ زیادہ تر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے سمیت دنیا بھر میں دیگر بیماریوں میں مبتلا مریض پریشانیوں کا شکار ہیں، یہاں تک کہ امریکا اور برطانیہ جیسے ممالک میں حاملہ خواتین بھی سخت مشکلات کا شکار ہیں۔برطانیہ اور امریکا کے ہسپتالوں کے گائنی وارڈز اور لیبر رومز کو کورونا وائرس قرنطینہ میں تبدیل کرنے اور طبی عملے کی جانب سے وبا کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے سے وہاں پر حاملہ خواتین سخت مشکلات کا شکار ہیں اور متعدد ہسپتالوں نے ڈیلیوری کرنے والی خواتین کو ہسپتال میں داخل کرنے سے ہی انکار کردیا۔برطانیہ اور امریکا کے متعدد ہسپتال جہاں حاملہ خواتین کو گھر میں بچے پیدا کرنے کے مشورے دے کر انہیں ہسپتالوں میں داخل کرنے سے انکار کر رہے ہیں، وہیں متعدد خواتین کو صرف ایک ہی شخص کے ساتھ بچے پیدا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسی خواتین آپریشن کے بغیر ہی بچے پیدا کریں۔برطانوی اخبار دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق برطانیہ کے محکمہ صحت نے طبی عملے کی قلت اور ہسپتالوں میں کورونا وائرس کے خصوصی سینٹرز قائم کرنے کے بعد حاملہ خواتین کو تجویز دی ہے کہ وہ گھروں میں ہی بچوں کی پیدائش کریں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جہاں خواتین کو بچوں کی پیدائش کے لیے ہسپتال نہ آنے کا کہا جا رہا ہے ، وہیں اگر کوئی خاتون ہسپتال آ رہی ہے تو اسے صرف ایک ہی شخص کے ساتھ ڈیلیوری کرنے پر اکسایا جا رہا ہے جب کہ انہیں زیادہ تر طبی سہولیات بھی نہیں دی جا رہیں۔رپورٹ کے مطابق ماہرین صحت نے پہلے ہی کہہ رکھا تھا کہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے اور ہسپتالوں میں کورونا کے بہت سارے مریض ہونے اور طبی عملے کی جانب سے کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے سے ان کے متاثر ہونے کے بعد حاملہ خواتین ٹارگٹ پر ہیں، اس لیے وہ ہسپتالوں کا رخ نہ کریں تو بہتر ہے ۔اس ضمن میں بچوں کی پیدائش اور حاملہ خواتین کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی ایک تنظیم کی عہدیدار ماریہ بکر کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں کی جانب سے متعدد خواتین کو داخل کرنے سے منع کردیا گیا اور انہیں گھر جاکر سیزر کے بغیر ہی بچے پیدا کرنے کی تجویز دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ کئی ہسپتالوں نے بچے پیدا کرنے والی خواتین کو صرف ایک ہی شخص فراہم کیا اور ایسی کئی خواتین کو اپنے ہی شوہر یا اہل خانہ کی مدد سے ہسپتال میں بچے پیدا کرنے پر اکسایا گیا۔ماریہ بکر نے حاملہ خواتین کے ساتھ ایسے رویے کو نئی مائیں بننے والی خواتین کے لیے صدمہ قرار دیا اور حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ بچوں کی پیدائش کرنے والی خواتین کو پہلے جیسی مکمل سہولیات فراہم کی جائیں۔برطانیہ کی طرح امریکا کے بھی متعدد ہسپتالوں سے ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ وہاں بھی بچوں کی پیدائش کرنے والی خواتین کو داخل نہیں کیا جا رہا اور انہیں گھر جاکر محفوظ ڈیلیوری کا مشورہ دیا جا رہا ہے ۔ ایک امریکی ٹی وی چینل نے بتایا کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان فرانسسکو کے ہسپتالوں میں بچوں کی پیداش کرنے والی خواتین کو زیادہ تر سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں اور انہیں اس عمل میں ساتھ دینے کے لیے صرف ایک ہی شخص فراہم کیا جا رہا ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اگرچہ اس عمل سے دوسری یا تیسری مرتبہ مائیں بننے والی خواتین زیادہ پریشان نہیں دکھائی دے رہیں، تاہم جن کے ہاں پہلی بار بچے کی پیدائش ہو رہی ہے وہ ذہنی اذیت اور مسائل کا سامنا کر رہی ہیں۔سی بی ایس نیوز نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا کی وجہ سے ہسپتالوں نے ایک ہفتہ قبل ہی اعلان کردیا تھا کہ وہ حاملہ خواتین کو ڈیلیوری کے لیے داخل نہیں کرسکتے ۔رپورٹ کے مطابق ہسپتال انتطامیہ نے خواتین کو گھروں میں ہی بچوں کی پیدائش کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے انہیں پابند کیا کہ وہ کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلا کے حالیہ دنوں میں ہسپتال نہ آئے کیوں کہ ایسا ان کی اور آنے والے بچے کی صحت کے لیے فائدہ مند ہے ۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ریاست نیویارک، میساچوٹس اور نیوجرسی سمیت دیگر ریاستوں کے ہسپتالوں اور بڑے شہروں کے معروف ہسپتالوں نے بھی حاملہ خواتین کو سیزر کے بغیر گھر پر ہی بچے پیدا کرنے کی تجویز دی تھی۔ہسپتالوں کی جانب سے بچوں کی پیدائش کرنے والی خواتین کو طبی سہولیات فراہم نہ کرنے اور انہیں گھروں میں ہی بچوں کی پیدائش کرنے پر مجبور کرنے کے بعد امریکا و برطانیہ میں نوزائدہ ماں اور بچوں کی صحت سے متعلق خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔حاملہ خواتین کو ہسپتالوں میں داخل نہ کرنے کے اعلان کے بعد 2 دن قبل ہی امریکی ریاست نیویارک کے گورنر نے ہسپتالوں کو اپنا اعلان واپس لینے اور خواتین کو طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات بھی کیں۔نیویارک کے گورنر نے ہسپتالوں کو تاکید کی کہ بچوں کی پیدائش کرنے والی تمام خواتین کو یکساں اور مناسب طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور کسی کی بھی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالا جائے۔


متعلقہ خبریں


صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ وجود - منگل 31 مارچ 2026

صدر مملکت کی زیر صدارت اجلاس، شہباز شریف کی ملاقات، قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی غور، مشکل وقت میں معاشی طور پر کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، آصف زرداری ایندھن کے کم استعمال، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ اور مشترکہ سفری سہولیات کیلئے عوام میں آگاہی پھیلائی جائے،...

صوبوں کی مخالفت ، حکومت کا اسمارٹ لاک ڈاؤن نہ لگانے کا فیصلہ

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی وجود - منگل 31 مارچ 2026

ایران کو 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا الٹی میٹم،بصورت دیگر امریکا ایرانی تیل کے کنوؤں ،بجلی گھروں اور ڈی سیلینائزیشن پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، امریکی صدرکاسوشل میڈیا پر بیان ٹرمپ نے ایران کے ایندھن اور توانائی ڈھانچے پر حملہ کیا تو خطے میں امریکی توانائی کے انفراسٹرک...

ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں، تیل کے کنوئوں پر حملوں کی دھمکی

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے وجود - منگل 31 مارچ 2026

حالیہ ایران پر امریکی فوجی حملے کی وجہ سے پینٹاگون پر بھاری مالی بوجھ آن پڑا ہے 800 سے زائد ٹوماہاک میزائلوں پر 3۔06 ارب ڈالر خرچ ہوئے،سینٹ کام ایران کیخلاف جنگ میں امریکہ نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے، اس ایک ماہ کی جنگ کے دوران اخراجات آسمان سے باتیںکرنے لگے جس کی وجہ سے یہ تاری...

ایران کیخلاف جنگ میں امریکا نے 26 ارب ڈالر اڑا دیے

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم وجود - منگل 31 مارچ 2026

خطے میں کشیدگی کے فوری خاتمے کیلئے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں، شہبازشریف جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے،پیغام وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ہیں، جنگ سے ایران سمیت کئی مسلم ممالک میں جان...

ایران اور امریکا کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے پرعزم ،وزیراعظم

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی وجود - پیر 30 مارچ 2026

ہمارے جوان زمین پر امریکی فوجیوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ انہیں آگ لگا کر نشانہ بنائیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کیلئے سزا دیں،ترجمان خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز ایسا اقدام امریکی افواج کے لیے شدید ذلت آمیز نتائج کا باعث بنے گا،ٹرمپ نے امریکی افواج کو دلدل میں دھکیل ...

امریکا کی زمینی فوج بھیجنے کی تیاری،امریکی فوج شارک کی خوراک بنے گی، ایران کی تباہ کن نتائج کی دھمکی

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق وجود - پیر 30 مارچ 2026

پاکستان کی میزبانی میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان بات چیت کا پہلا راؤنڈ ختم،اگلا راؤنڈ جلد ہوگا جس میںتجاویز پر پیش رفت سے ایک دوسرے کو آگاہ کیا جائے گا اسحاق ڈار کی سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں، ایران کی موجودہ صورتحال پر تبادل...

اسلام آباد میں چار فریقی وزرائے خارجہ اجلاس، مشرق وسطی کا تنازع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی وجود - پیر 30 مارچ 2026

گفتگو کا اردو ترجمہ کروایا ہے ،یہ ایک بیٹے کے باپ کیلئے احساسات تھے جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفتگو کو جی ایس پی پلس کے ساتھ جوڑ کر غلط بیانی کی جا رہی ہے،نیوز کانفرنس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹے کی گفت...

وفاقی حکومت نے قاسم خان کی گفتگو کوخود متنازع بنایا، سہیل آفریدی

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف وجود - پیر 30 مارچ 2026

حکومت نے 125 ارب کی خطیر رقم، مختلف بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کر کے دی وزیراعظم کا ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات پرجائزہ اجلاس سے خطاب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی فیصلوں کی بدولت پٹرولیم مصنوعات کی ملکی ضروریات کیلئے مناسب مقدار موجود ہے۔وزیراعظم ...

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں، شہباز شریف

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی وجود - پیر 30 مارچ 2026

خان یونس میںتین پولیس اہلکار، تین شہری،ایک بچیشہید ہونے والوں میں شامل غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران سے جنگ کے دوران اسرائیلی حملے جاری اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پرحملوں میں تین اہلکاروں سمیت7 فلسطینی شہید اور 4زخمی ہو گئے۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں ایران کے...

اسرائیل کے غزہ میں پولیس چوکیوں پربمباری،7فلسطینی شہید،4زخمی

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم وجود - اتوار 29 مارچ 2026

8ویں ترمیم کے مستقبل پر بحث شدت اختیار کر گئی، بعض حکومتی حلقوں میں ترمیم کے اہم حصوں کو ختم یا محدود کرنے پر غور ،فیصلے دوبارہ وفاقی بیوروکریسی کے ہاتھ میں جانے کے امکانات چیف سیکرٹری اور وفاقی افسران کا اثر و رسوخ بڑھے گا،18ویں ترمیم پرسیاسی جماعتوں میں اختلاف ، کئی صوبائی رہن...

18ویں ترمیم کے خاتمے کی تیاری، اختیارات بیوروکریسی کے پاس، صوبائی خودمختاری ختم

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ وجود - اتوار 29 مارچ 2026

خلیجی ممالک نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف جنگ بندی کافی نہیں بلکہ ایران کی جنگی صلاحیتوں کو لگام دی جائے جس کے جواب میں ایرانی صدر کا سوشل میڈیا پربیان سامنے آگیا اگر آپ ترقی اور سلامتی چاہتے ہیں تو جنگ میں دشمنوں کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں،جارحیت پر ...

خطے کے ممالک ہمارے دشمنوں کوجگہ نہ دیں ورنہ نشانہ بنائیں گے ، ایران کی تنبیہ

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے وجود - اتوار 29 مارچ 2026

پاکستان کو 1 ارب ڈالر ملیں گے،موسمیاتی فنڈ سے مزید 21 کروڑ ڈالر ملنے کا امکان اسٹیٹ بینک مہنگائی کنٹرول کیلئے سخت پالیسی جاری رکھے گا،عالمی مالیاتی ادارہ کا اعلامیہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پاگیا،منظوری کے بعد پاکستان کو توسیعی فنڈ سہولت کے 1 ارب ڈالر اور ...

پاکستان، آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے

مضامین
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی وجود منگل 31 مارچ 2026
ایرانی حملوں سے خوفزدہ امریکی فوجی

اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟ وجود منگل 31 مارچ 2026
اسلامی یا روایتی میوچل فنڈز:سرمایہ کار کس کو چُنیں؟

ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال! وجود منگل 31 مارچ 2026
ایران دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال!

بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب وجود پیر 30 مارچ 2026
بھارتی اقلیتوں سے امتیازی سلوک اور تعصب

انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے! وجود پیر 30 مارچ 2026
انسان کا دشمن ا س کا اپنا شعور ہے!

اشتہار

تجزیے
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ وجود بدھ 01 مئی 2024
نریندر مودی کی نفرت انگیز سوچ

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ وجود منگل 27 فروری 2024
پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ

ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے! وجود هفته 24 فروری 2024
ایکس سروس کی بحالی ، حکومت اوچھے حربوں سے بچے!

اشتہار

دین و تاریخ
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ وجود جمعه 22 نومبر 2024
مجاہدہ، تزکیہ نفس کا ذریعہ

حقیقتِ تصوف وجود جمعه 01 نومبر 2024
حقیقتِ تصوف

معلم انسانیت مربی خلائق وجود بدھ 25 ستمبر 2024
معلم انسانیت مربی خلائق
تہذیبی جنگ
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی وجود اتوار 19 نومبر 2023
یہودی مخالف بیان کی حمایت: ایلون مسک کے خلاف یہودی تجارتی لابی کی صف بندی، اشتہارات پر پابندی

مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت وجود جمعه 27 اکتوبر 2023
مسجد اقصیٰ میں عبادت کے لیے مسلمانوں پر پابندی، یہودیوں کو اجازت

سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے وجود منگل 15 اگست 2023
سوئیڈش شاہی محل کے سامنے قرآن پاک شہید، مسلمان صفحات جمع کرتے رہے
بھارت
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی وجود جمعرات 22 اگست 2024
بھارتی ایئر لائن کا طیارہ بم سے اڑانے کی دھمکی

بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف وجود بدھ 21 اگست 2024
بھارت میں روزانہ 86 خواتین کوجنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا انکشاف

قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا وجود پیر 11 دسمبر 2023
قابض انتظامیہ نے محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو گھر وں میں نظر بند کر دیا

بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی وجود پیر 11 دسمبر 2023
بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کی توثیق کردی
افغانستان
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے وجود بدھ 11 اکتوبر 2023
افغانستان میں پھر شدید زلزلے کے جھٹکے

افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں وجود اتوار 08 اکتوبر 2023
افغانستان میں زلزلے سے تباہی،اموات 2100 ہوگئیں

طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا وجود بدھ 23 اگست 2023
طالبان نے پاسداران انقلاب کی نیوز ایجنسی کا فوٹوگرافر گرفتار کر لیا
شخصیات
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے وجود اتوار 04 فروری 2024
معروف افسانہ نگار بانو قدسیہ کو مداحوں سے بچھڑے 7 سال بیت گئے

عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
معروف شاعرہ پروین شاکر کو دنیا سے رخصت ہوئے 29 برس بیت گئے
ادبیات
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے وجود منگل 26 دسمبر 2023
عہد ساز شاعر منیر نیازی کو دنیا چھوڑے 17 برس ہو گئے

سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر وجود پیر 04 دسمبر 2023
سولہویں عالمی اردو کانفرنس خوشگوار یادوں کے ساتھ اختتام پزیر

مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر وجود پیر 25 ستمبر 2023
مارکیز کی یادگار صحافتی تحریر